محمد کاظم خراسانی

ویکی شیعہ سے
(محمدکاظم خراسانی سے رجوع مکرر)
آخوند خراسانی
کوائف
مکمل ناممحمد کاظم خراسانی
تاریخ ولادت1255 ہجری
آبائی شہرمشہد
تاریخ وفات20 ذی الحجہ 1329 ھ
مدفنروضہ امام علی، نجف
علمی معلومات
اساتذہشیخ انصاری، میرزای شیرازی، ملا ہادی سبزواری، سید علی شوشتری
شاگردسید ابو الحسن اصفہانی، آقا ضیاء عراقی، محمد حسین کاشف الغطاء، حسین طباطبائی بروجردی، میرزا محمد حسین نائینی
تالیفاتکفایۃ الاصول
خدمات
سماجیمرجع تقلید، رہبر تحریک مشروطہ


محمد کاظم خراسانی (1255۔1329ھ) آخوند خراسانی کے نام سے معروف، چودہویں صدی ہجری کے شیعہ مراجع تقلید اور اصولی علماء میں سے تھے۔ کفایۃ الاصول جیسی اہم کتاب کے مولف اور ایران میں تحریک مشروطہ کے اصلی حامیوں میں سے تھے۔ وہ مشروطہ تحریک کو عوام پر ہونے والے مظالم کو روکنے کا ذریعہ سمجھتے تھے لہذا تمام مسلمانوں پر اس تحریک میں شرکت کرنے کو واجب مانتے تھے۔ 13 جمادی الاول سنہ 1326ھ میں محمد علی شاہ کے حکم پر پارلمینٹ پر توپوں سے حملہ کرنے کے بعد آخوند نے جہاد اور ان سے مقابلہ کرنے کا حکم صادر کیا۔

آخوند خراسانی نے اپنی زندگی میں بہت سے شاگردوں اور مجتہدین کی تربیت کی۔ آپ نے سنہ 1329ھ میں 74 سال کی عمر میں وفات پائی۔ بعض نے ان کی طبیعی موت کو مشکوک قرار دیا ہے۔

سوانح حیات

محمد کاظم خراسانی سنہ 1255ھ میں مشہد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ملا حسین ہروی خراسانی ہرات کے رہنے والے عالم دین تھے جنہوں نے اپنے بیٹے محمد کی ولادت سے پہلے مشہد کی طرف ہجرت کی۔[1]

ملا محمد کاظم خراسانی نے 20 ذی الحجہ 1329ھ میں منگل کے روز سحر کے وقت اپنے گھر میں نماز صبح پڑھانے کے بعد 74 سال کی عمر میں وفات پائی۔[2] بعض نے ان کی موت کا سبب زہر ذکر کیا ہے۔[3]

عبد اللہ مازندرانی نے آپ کے جسد خاکی پر نماز جنازہ پڑھائی اور روضہ امام علیؑ کے صحن میں واقع مقبرہ میرزا حبیب اللہ رشتی میں دفن کر دیا گیا۔[4]

علمی زندگی

تعلیم

ملا محمد کاظم خراسانی نے دینی علوم مشہد میں اپنے والد اور دوسرے اساتذہ سے حاصل کئے۔ اس کے بعد سنہ1277ھ میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے نجف اشرف کا رخ کیا۔[5]

نجف جانے سے پہلے آخوند خراسانی نے تین ماہ تک سبزوار میں ملا ہادی سبزواری کے فلسفہ کے درس میں شرکت کی۔ تہران پہچنے کے بعد کچھ عرصہ مدرسہ صدر میں قیام کیا اور میرزا ابو الحسن جلوہ اور ملا حسین خوئی سے حکمت اور فلسفہ پڑھا۔[6]

اساتذہ

آخوند خراسانی نے دو سال سے زیادہ عرصہ شیخ مرتضی انصاری کے حضور کسب فیض کیا۔[7] ان کے دوسرے استاد میرزائے شیرازی تھے؛ آخوند ان کے عمومی دروس کے ساتھ ساتھ خصوصی دروس میں بھی شرکت کرتے تھے۔ انہوں نے چند سال تک استاد اخلاق سید علی شوستری[8] کے درس فقہ میں بھی شرکت کی۔ آخوند کے فقہ و اصول کے دوسرے اساتذہ میں شیخ راضی نجفی بھی شامل ہیں۔[9]

تدریس

آخوند خراسانی کا درس خارج (نجف اشرف)

جس وقت میرزای شیرازی نے سامرا ہجرت کی اس وقت آخوند خراسانی کا شمار نجف کے مشہور اساتذہ میں ہوتا تھا۔[10] لہذا میرزا کے وہ شاگرد جو نجف میں ہی رک گئے تھے؛ میرزا نے انہیں آخوند کے درس میں شرکت کرنے کا حکم دیا۔ جو میرزا کے جانشین کے طور پر سمجھے جاتے تھے۔[11]

سنہ 1312ھ میں محمد حسن شیرازی کے انتقال کے بعد اور بہت سے افراد کے حوزہ سامرا سے نجف لوٹ آنے اور ان میں سے زیادہ تر افراد کے آخوند کے درس میں ملحق ہو جانے اور اسی دوران عتبات میں ان کے معاصر علماء کے انتقال کے سبب، حوزہ علمیہ نجف میں بتدریج آپ ایک برجستہ استاد کے طور پر مشہور ہونے لگے اور حوزہ علمیہ نجف میں ان کا حلقہ درس بزرگ ترین درس میں شمار ہونے لگا۔[12]

سنہ 1323ھ میں لکھے گئے ایک سفر نامہ کے مطابق، مسجد ہندی میں منعقدہ آپ کے درس خارج فقہ میں چھ سات سو طلبا و علما شرکت کرتے تھے اور مسجد طوسی میں منعقدہ درس خارج اصول میں تقریبا ایک ہزار کے قریب افراد شریک ہوتے تھے۔[13]

تدریسی خصوصیات

آخوند خراسانی جلسات درس کو بے اہمیت دیتے تھے اور کسی بھی صورت اپنے دروس کو تعطیل نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ نجف میں وباء پھیل جانے کے بعد بھی اپنے تدریسی عمل کو جاری رکھا جبکہ دوسرے اساتذہ نے ان دنوں اپنے دروس کا سلسلہ روک لیا تھا۔ آخوند خراسانی نے اپنے تین قریبی افراد کے انتقال پر بھی تدریسی سلسلے کو معطل نہونے نہیں دیا۔[14]

آخوند خراسانی جب ماہ رجب کے درمیانی ایام میں زیارت کے لئے کربلا جاتے تھے تو وہاں پر بھی درس کا سلسلہ جاری رکھتے تھے اور ماہ رمضان میں آپ پڑھایا کرتے تھے حالانکہ ان دنوں حوزات علمیہ میں دروس کا سلسلہ جاری نہیں ہوتا تھا۔ آپ فقہ اور اصول کے علاوہ عقائد، اخلاق اور دیگر موضوعات کی بھی تدریس کیا کرتے تھے۔[15]

آخوند خراسانی فقہ کا درس فارسی زبان میں جبکہ اصول فقہ کا عربی زبان میں درس دیتے تھے۔[16]

میرزای شیرازی کے انتقال کے بعد اور ان کے بعض مقلدین کے آخوند کی طرف رجوع کرنے اور استفتاء کے جوابات دینے کے سلسلہ میں اپنے شاگردوں کی مشاورتی نشست تشکیل دے کر ان سے مشورہ لیتے تھے۔ اس مشاورتی کمیٹی میں سید ابوالحسن اصفہانی، محمد حسین غروی اصفہانی، سید حسین طباطبائی بروجردی، عبد الکریم حائری، آقا ضیاء الدین عراقی، آقا حسین قمی، میرزا محمد حسین نائینی شامل تھے۔[17]

شاگردان

آخوند خراسانی کے درس اصول فقہ میں شرکت کرنے والے شاگردوں کی تعداد 1200 سے زیادہ ہوا کرتی تھی کہ جن میں سے 500 کے قریب شاگرد اجتہاد کے رتبے پر فائز تھے یا اجتہادی مراحل طے کرنے والے تھے۔[18]

آپ کے بعض شاگرد درج ذیل ہیں: [19]

آثار علمی

آخوند خراسانی نے اپنی عمر کے آخری لمحات میں بھی مرجعیت اور تحریک مشروطہ میں فعالیت جیسی سنگین ذمہ داریاں ادا کرنے کے ساتھ ساتھ قیمتی قلمی آثار چھوڑے ہیں۔ ان کے آثار و تالیفات تین طرح کے ہیں: استدلالی تصانیف، فتوائی تالیفات اور دورس کی تقریرات۔

استدلالی تصنیفات

یہ تصنیفات فقہ، اصول فقہ اور فلسفہ کے مباحث پر مشتمل ہیں جو مستقل طور پر یا دوسروں کی تالیفات پر حاشیہ اور شرح کے طور پر تصنیف کی گئی ہیں۔

آخوند خراسانی کی مشہور کتاب کفایۃ الاصول
  • ان میں سب سے مشہور کتاب کفایۃ الاصول ہے جو (سنہ 1321ھ کے بعد) دو سال کی مدت میں تالیف کی گئی ہے۔[20]کفایۃ الاصول زمان تالیف سے لیکر آج تک مدارس علمیہ کے سطوح عالی کی مہم ترین نصابی کتابوں میں شامل رہی ہے۔ اسی طرح حوزات علمیہ اور مدارس دینیہ میں منعقدہ دروس خارج کے مباحث کا محور اور متن کے طور بھی اس کتاب کی تدریس کی جاتی ہے۔ اس کتاب پر بہت سے حاشیے اور شرحیں لکھی جاچکی ہیں۔ اس کتاب کی تالیف کے بعد آپ کی شہرت صاحب کفایہ کے نام سے بھی ہوگئی اور آپ کی اولاد کفائی کے نام سے مشہور ہوگئیں یا انہوں نے خود اپنے لئے اس لقب کو اختیار کر لیا ہے۔[21]
  • آپ کی ایک دوسری تصنیف شیخ انصاری کی کتاب فرائد الاصول پر حواشی و تعلیقات کی صورت میں ہے۔
  • آپ کی دیگر تصنیفات میں سے ایک "الفوائد" یا "رسالۃ الفوائد" ہے جو 15 موضوعات پر مشتمل ہے جس میں دو مورد فقہی، گیارہ مورد اصولی اور دو مورد اصولی و کلامی ہیں۔
  • آپ کے فقہی آثار میں سے ایک شیخ انصاری کی کتاب المکاسب کے زیادہ تر حصے پر لکھے گئے ان کے حواشی و تعلیقات ہیں جس کی تالیف محرم 1319ھ میں مکمل ہوئی.[22] یہ کتاب بارہا طبع ہو چکی ہے۔
  • آپ کی تالیفات میں سے ایک کتاب "التبصرہ" پر لکھا گیا تکملہ ہے[23] جو آپ کا مہم ترین رسالہ فتوائی ہے جسے آپ نے علامہ حلی کی مشہور کتاب "تَبصِرَةُ المُتَعلِّمین فی اَحکامِ الدین" کی بنیاد پر تحریر کی ہے۔
  • آپ نے کئی فقہی۔استدلالی رسالے بھی مختلف موضوعات پر تحریر کئے ہیں جن میں سے بعض کو ایک جلد میں جمع آوری کرکے الرسالۃ الفقہیۃ کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے۔
  • آپ کی فقہی تالیفات میں سے ایک "کتاب الاجارہ" ہے(رسالۃ فی مسئلۃ الاجارۃ)۔ البتہ یہ ایک غیر مکمل تالیف ہے۔[24]
  • نہج البلاغہ کے خطبہ اول پر ایک مبسوط و مفصل شرح بھی آپ کی تصنیفات میں سے ایک ہے[25] جو غلطی سے شریعت اصفہانی کے نام سے طبع ہوگئی ہے۔

فتوائی تالیفات

  • علامہ محمد حسن نجفی (صاحب جواہر) کی کتاب "نجات العباد" پر تعلیقات تحریر کی جو "روح الحیات فی تلخیص نجات العباد" کے نام سے شائع ہوئی۔
  • شیخ انصاری کے رسالہ مناسک حج پر حاشیہ لکھا۔
  • ذخیرۃ العباد فی یوم المعاد

کتاب تقریرات

  • القضاء و الشہادات (تقریرات القضاء)؛ آپ کے بیٹے میرزا محمد آقا زادہ کی تحریر ہے۔[26]
  • آپ کے بہت سے شاگردوں نے آپ کے فقہ اور اصول فقہ کے دروس پر تقریرات لکھی ہیں کہ جن میں سے بعض کے اسماء واضح نہیں ہیں۔[27]

سیاسی زندگی

آخوند خراسانی اسلامی ممالک خاص طور پر شیعہ ملک ایران کے سماجی و سیاسی مسائل کے بارے میں حساس تھے۔ ایران کی مشروطہ تحریک کی حمایت میں آپ کا واضح موقف، ایران کے بعض علاقوں پر غاصبانہ قبضہ کے خلاف آواز اٹھانا اور استبداد و استعمار کے خلاف ڈٹ جانے کی کوشش؛ یہ ساری چیزیں آپ کے اسلامی ممالک کے مختلف امور میں حساس ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ملا محمد کاظم کے سیاسی نظریات اور موقف کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کے اقدامات کو چار محاذوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  1. آپ کا مستبد حکمرانوں کے ساتھ مقابلہ اور ظالم حکومت کے خلاف لڑ کر اسے مشروطہ میں تبدیل کرنے کی سعی کرنا۔
  2. ایسے لوگوں سے مقابلہ جو مشروعیت کی فکر لاحق ہونے کے بموجب مشروطہ کے خلاف تھے۔
  3. مشروطہ کے بعض رہبروں کے ساتھ مقابلے کا محاذ، جو مشروطہ کو بہانہ بنا کر احکام شرعی کو نظر انداز کر رہے تھے۔
  4. غیر ملکیوں سے مقابلے کا محاذ اور ملک ایران پر قبضۃ کرنے والوں کے خلاف صدا بلند کرنا۔[28]
ٗ

آخوند و مشروطہ

آخوند خراسانی تحریک مشروطہ کے بارے میں مکمل شناخت رکھتے تھے۔ آپ کو اس بات پر یقین تھا کہ مشروطہ انقلاب کامیاب ہوگا لہذا اسے دینی تعلیمات سے متصادم ہونے سے بچانے کے لیے اس میں فعالیت انجام دینے کا پکا ارادہ کیا تاکہ اس انقلاب میں بھی یورپ میں رنسانس سے پہلے کے انقلابات کی طرح دین مخالف رجحانات پیدا نہ ہونے پائے۔ یہی وجہ ہے آپ اس میں مکمل ہوشیاری اور حکمت عملی کے ساتھ داخل ہوگئے۔[29]

ان کا مشروطہ تحریک کی ابتداء اور اس کی تاسیس میں کوئی دخل نہیں تھا۔ ایران کے اقتصادی، سماجی و سیاسی حالات کے بگڑنے کے ساتھ اور تہران میں حکومت اور اس کے مخالفین کے درمیان نااتفاقی و ناامنی بڑھنے کے بعد سے آخوند سے اس سلسلے میں قدم اٹھانے اور اس تحریک کی حمایت کرنے کی درخواست کی گئی۔ منجملہ ان علماء کی طرف سے بھی درخواست کی گئی جنہوں نے بعد میں مشروطہ کی مخالفت میں قیام کیا۔

اس سلسلہ میں آخوند کے پہلا اقدام ان کا تین اور بزرگ علماء محمد شربیانی، محمد حسن مامقانی و میرزا حسین خلیلی تہرانی کی ہمراہی میں 21 جمادی الثانی 1321ھ میں مشترکہ اعلامیہ شائع کرنا ہے جس میں صدر اعظم مظفر الدین شاہ اور میرزا علی اصغر خان امین السلطان کے اقدامات پر شدید تنقید کی گئی اور انہیں تمام خرابیوں اور ملک پر غیر ملکیوں کو مسلط کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور ان کی تکفیر کی گئی۔[30]

آخوند خراسانی مشروطہ تحریک کو عوام پر ہونے والے ظلم و ستم کو روکنے کا وسیلہ سمجھتے تھے اور لہذا اس تحریک میں شرکت کو تمام مسلمانوں کے لئے واجب اور ضروری مانتے تھے۔ آپ نے تہران کے ایک واعظ کو ایک خط میں لکھا: ہماری تمام تر کوششوں کا اصلی مقصد عوام کو راضی کرنا اور ان پر ڈھائے گئے ظلم و ستم کو کم کرنا اور ان کی مدد کرنا ہے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر وغیرہ ان اسلامی قوانین میں سے ہیں جو عوام کی دنیاوی اور اخروی سعادت کے لیے ضروری ہیں۔

البتہ بعض مشہور علماء نے مشروطہ تحریک کی مخالفت کی۔ جیسے سید محمد کاظم طباطبایی یزدی، یا شیخ فضل اللہ نوری جو اس تحریک کی ابتداء میں انقلابیوں کے ہمراہ تھے مگر بعد میں جب انہوں نے دیکھا کہ یہ تحریک منحرف ہوگئی ہے تو انہوں نے اس کے ساتھ اپنی مخالفت کا اعلان کر دیا۔

آخوند خراسانی کے شاگرد میرزا نائینی نے مشروطہ کے مخالفین کے جواب میں ایک کتاب "تنبیہ الامہ و تنزیہ الملہ" کے نام سے تالیف کی جس پر آخوند نے ایک تقریظ بھی لکھی۔

انقلاب مشروطہ کامیاب ہوا اور مظفر الدین شاہ نے جمادی الثانی 1324ھ میں اسے قبول کر لیا اور حکم دیا کہ جلد ایک مجلس تشکیل دی جائے جس کا پہلا اجلاس 7 اکتوبر سنہ 1906ء میں منعقد ہوا۔

کئی موارد میں آخوند خراسانی سے مشروطہ کے قانون کے بارے میں سوال کیا گیا ہے۔ جیسے پبلک ڈیوٹی سسٹم اور روس اور برطانیہ کے درمیان اگست1907ء میں ہونے والے معاہدے کے بارے سوال کیا گیا تو آخوند نے مجلس کے نمائندوں کو ایک خط لکھا جس میں اسلامی قوانین کو اجرا کرنے، ملک کے قرضوں کو ادا کرنے اور عوام کے درمیان سے فقر و تنگدستی دور کرنے کا حکم صادر کیا۔

23 جمادی الاول 1326ھ میں محمد علی شاہ کی جانب سے پارلیمنٹ پر توپوں سے حملہ کے بعد آخوند خراسانی نے جہاد اور مقابلہ کا حکم دیا اور سر انجام انقلابیوں کی حکومت کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ لیکن بعد میں قائدین مشروطہ کے غلط کاموں کی وجہ سے آخوند مشروطہ کے خلاف قدم اٹھانے پر مجبور ہوگئے۔ جیسے شیخ فضل اللہ نوری کو پھانسی دینا، مجلہ حبل المتین میں اسلام اور علماء کی توہین کی گئی۔ جس کے بعد آخوند نے ٹیلی گرام کے ذریعہ اس مجلہ پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔ مجتہد شخصیت ملا قربان علی زنجانی کو جلا وطن کرنا، اور سید عبداللہ بہبہانی پر جان لیوا حملہ جس کے بارے میں کہا گیا کہ ایسا تقی زادہ کے حکم سے کیا گیا۔

ایک اور مورد جس سے آخوند خراسانی نے مقابلہ کیا اور جب تک وہ زندہ رہے اس سلسلے می فکرمند رہے وہ ایران میں روس کی افواج کی موجودگی تھا، دوسری بار پارلیمنٹ کی تشکیل کے تقریبا دس مہینے گزر جانے کے باوجود روس کی فوج کو ملک سے باہر نکالنے کے سلسلہ میں کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ لہذا آخوند خراسانی نے ایک پیغام دے کر ایران کی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ روسی اشیاء کی خریدادی سے پرہیز کریں۔

آخرکار جب اراکین مجلس روس کے مقابلہ میں کھڑے ہوگئے تو سنہ 1328ھ کے اواخر میں روس نے شمال ایران سے قزوین تک قبضہ کر لیا۔ آخوند نے اپنے تمام دروس تعطیل کر دیئے اور ان کی پیروی میں نجف میں بھی دروس بند کر دیئے گئے اور فیصلہ کیا گیا کہ روسی اشیاء پر پابندی لگا دی جائے اور طلاب اور عشایر نجف کو ایران بھیج کر روسیوں کے خلاف جہاد کرنے کی تیاری کی جائے۔

نجف، کربلا اور کاظمین کے بہت سے علماء نے خود کو سفر کے لئے آمادہ کر لیا تھا اور یہ طے پایا کہ سب 21 ذی الحجہ 1329ھ بدھ کی رات دعا و مناجات کے لئے نجف سے مسجد سہلہ جائیں اور پھر وہاں سے ایران کے لئے روانہ ہو جائیں کہ اسی دن آخوند خراسانی کی موت کی خبر نے اس اقدام کو عملی ہونے نہیں دیا۔

سماجی کارنامے

نجف اشرف میں آخوند نے تین دینی مدارس کی بنیاد رکھی جو مدرسہ آخوند کے نام سے مشہور ہوگئے۔ مدرسہ بزرگ (تاریخ بناء1321ھ) مدرسہ متوسط (تاریخ بناء 1326ھ) مدرسہ کوچک (تاریخ بناء 1328ھ)[31] اسی طرح آپ نے نجف، کربلا اور بغداد میں جدید طرز کے دینی مدارس کی بنیاد رکھی۔ جن میں زیادہ تر ایرانی طلاب زیر تعلیم تھے اور ان مدارس کے درسی نصاب میں فارسی زبان کا مضمون بھی شامل تھا۔[32]

ملا محمد کاظم آخوند خراسانی نے دینی تعلیم کی ترویج کے لئے نجف میں کئی مجلہ جات کے اجراء اور ان کی نشر و اشاعت میں بہت مدد کی۔ ان مجلہ جات میں سید ہبۃ اللہ شہرستانی کے زیر نگرانی مجلہ "العلم" عربی زبان میں شائع ہوتا تھا جبکہ آپ کے بعض شاگردوں کے توسط سے نجف اشرف میں ایک مجلہ فارسی زبان میں شائع ہوتا تھا۔[33]

اخلاقی سیرت

آخوند خراسانی اعلیٰ اخلاق کے مالک انسان تھے۔ لوگ آپ کی پرہیز گاری، شجاعت، فطانت اور نیک کرداری کے معترف تھے۔ آپ خندہ پیشانی اور سعہ صدری، سلامت نفس اور عفو و در گذشت جیسی خوبیوں میں زبان زد عام و خاص تھے۔

طالب علمی کے دور میں ان کی زندگی مالی پریشانیوں میں گذری۔ بعد میں بھی آپ نے زاہدانہ زندگی گزاری۔ کہا جاتا ہے کہ آپ دوسروں کے لئے حتی اپنے مخالفین کی بھی مدد کیا کرتے تھے لیکن اپنے اور اپنے گھر والوں کے مالی امور میں سختی سے پیش آتے تھے۔ آپ اپنی ذات اور گھر والوں کے لیے وجوہات شرعیہ استعمال نہیں کرتے تھے۔[34]

ازواج و اولاد

آخوند خراسانی نے مشہد میں طالب علمی کے زمانہ ہی میں 17 سال کی عمر میں شادی کی۔ ان کے یہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی مگر اس کا کم سنی میں ہی انتقال ہوگیا۔ آپ کی زوجہ بھی دوسرے بچے کی پیدائش کے دوران انتقال کرگئی۔ اس کے بعد ایک لمبا عرصہ تجرد کی زندگی گزاری۔ بعد میں اپنے استاد میرزای شیرازی کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے دوبارہ رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے۔ آپ کی دوسری اہلیہ سے چار بچے ہوئے۔ سنہ 1315ھ میں آپ کی دوسری اہلیہ کا ایک طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ تب آپ نے تیسری بار شادی کی۔ اس کے نتیجے میں دو بیٹے ہوئے۔ سنہ 1322ھ میں ان کی تیسری زوجہ ایک وبا میں مبتلا ہوئی اور اسی میں انتقال کر گئی۔ آپ کی چوتھی اور آخری بیوی آپ کی رحلت کے سالہا بعد تک زندہ رہیں اور 90 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔

ان کی اولاد

  1. مہدی کفایی خراسانی: آپ کا پہلا بیٹا ہے جن کا ان کے سماجی کاموں میں موثر کردار رہا ہے۔
  2. محمد کفایی خراسانی: یہ آپ کا دوسرا بیٹا ہے۔ جو آخوند زادہ کے نام سے معروف تھا، وہ نجف کے علماء میں سے تھے۔ 1325ھ میں انہوں نے نجف سے مشہد ہجرت اختیار کی اور خراسان کے حوزہ علمیہ میں محور و مرکز کی حیثیت حاصل کی۔ مسجد گوہر شاد کے واقعہ میں انہیں گرفتار کیا گیا اور مشکوک طور پر تہران میں ان کا انتقال ہوگیا۔
  3. احمد کفایی خراسانی: یہ آخوند کے تیسرے بیٹے ہیں، جن کا شمار محمد تقی شیرازی کے سب سے قریبی مشاورین میں سے ہوتا تھا۔ وہ عراق میں برطانیہ کے استعمار کے خلاف مقابلہ کرنے والوں میں شامل تھا اور اسی سبب سے انہیں دو بار پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ انہوں نے سنہ 1342ھ میں مشہد ہجرت اختیار کی اور اپنے بھائی کی موت کے بعد خراسان کے حوزہ علمیہ کی زعامت اپنے ذمہ لے لی۔
  4. حسین کفایی خراسانی: ان کے چوتھے فرزند ہیں، اپنے بڑے بھائی مہدی خراسانی کی رحلت کے بعد انہوں نے نجف میں اپنے والد کے تینوں مدرسوں کی ذمہ داری سنبھالی۔
  5. حسن کفایی خراسانی: آخوند کی پانچویں اولاد ہیں، جو مجلس موسسان اول میں موجود تھے۔ وہ چھ بار مجلس شورای ملی میں مشہد کے نمائندہ کے طور پر منتخب ہوئے اور خراسان کی نمایندگی کرتے ہوئے سنیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔[35]
  6. ان کی اکلوتی بیٹی زہرا میرزا اسماعیل رشتی کی زوجہ اور میرزا حبیب اللہ رشتی کی بہو تھیں۔[36]
ٗ

سیمینار

آخوند خراسانی کی 100 ویں برسی کے موقع پر 14 دسمبر 2011ء میں ان کی یاد میں ایک بین الاقوامی سیمینار شہر قم میں دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم کے ایک ادارہ پژوہش گاہ علوم و فرہنگ اسلامی کی جانب سے منعقد کیا گیا۔[37]

حوالہ جات

  1. کفایی، مرگی در نور زندگانی آخوند خراسانی،۱۳۵۹شمسی، ص۷۸.
  2. عاقلی، روز شمار تاریخ ایران، ۱۳۷۰شمسی، ج۱، ص۶۰.
  3. کفایی، مرگی در نور زندگانی آخوند خراسانی، ۱۳۵۹شمسی، ص۲۷۸ـ۲۸۱.
  4. آقا بزرگ تہرانی، طبقات ‌اعلام الشیعہ، ۱۳۸۸ شمسی، قسم۵، ص۶۶.
  5. عبد الرحیم، المصلح المجاہد الشیخ محمد کاظم الخراسانی، ۱۳۹۲ھ، ص۲۵.
  6. کفایی، مرگی در نور زندگانی آخوند خراسانی، ۱۳۵۹شمسی، ص۳۵- ۳۸.
  7. حرز الدین، معارف الرجال، ۱۴۰۵ھ، ج۲، ص۳۲۴.
  8. کفایی، عبد الرضا، «شرح و بیانی مختصر و موجز از حیات و شخصیت آخوند ملا محمد کاظم خراسانی»، ۱۳۸۶ش، ص۱۵، ۳۰.
  9. نجفی قوچانی، برگی از تاریخ معاصر، ۱۳۷۸شمسی، ص۱۱.
  10. آقا بزرگ تہرانی، طبقات ‌اعلام الشیعہ، ۱۳۸۸شمسی، قسم۵، ص ۶۵.
  11. کفایی، «شرح و بیانی مختصر و موجز از حیات و شخصیت آخوند ملا محمد کاظم خراسانی»، ۱۳۸۶شمسی، ص۷۲-۷۳.
  12. شہرستانی، فاجعہ حضرة آیت ‌اللّه الخراسانی،۱۳۳۰ھ، ص۳۴۱.
  13. بریری، نجف در سیزده سفر نامہ، ۱۳۹۰شمسی، ص ۱۸۰.
  14. کفایی، «شرح و بیانی مختصر و موجز از حیات و شخصیت آخوند ملا محمد کاظم خراسانی»، ۱۳۸۶شمسی، ص۲۹.
  15. کفایی، «شرح و بیانی مختصر و موجز از حیات و شخصیت آخوند ملا محمد کاظم خراسانی»، ۱۳۸۶شمسی، ص۱۹.
  16. کفایی، مرگی در نور زندگانی آخوند خراسانی، ۱۳۵۹شمسی، ص۱۰۳-۱۰۴.
  17. کفایی، مرگی در نور زندگانی آخوند خراسانی، ۱۳۵۹شمسی، ص۱۰۴.
  18. آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ، ۱۴۰۳ھ، ج۱۴، ص۳۳ و ج۲، ص۱۱۱.
  19. عبد الرحیم، المصلح المجاہد الشیخ محمد کاظم الخراسانی، ۱۳۹۲ھ، ص۳۵-۳۶.
  20. مختاری، نقد تصحیح فوائد الاصول آخوند خراسانی، ۱۳۶۷شمسی، ص۱۵۳.
  21. بامداد، شرح حال رجال ایران، ۱۳۵۷شمسی، ج۴، ص۱.
  22. آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ، ۱۴۰۳ھ، ج۶، ص۲۲۰.
  23. آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ، ۱۴۰۳ھ، ج۴، ص۴۱۲.
  24. آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ،۱۴۰۳ھ، ج۱، ص۱۲۲.
  25. آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ، ۱۴۰۳ھ، ج۷، ص۱۹۹ و ج۱۳، ص۲۱۷ و ج۱۴، ص۱۴۴.
  26. آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ، ۱۴۰۳ھ، ج۱۷، ص۱۴۲ـ ۱۴۳.
  27. آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ، ۱۴۰۳ھ، ج۴، ص۳۶۷.
  28. حائری، تشیع و مشروطیت در ایران، ۱۳۶۴ھ، ص۱۲۳.
  29. کفایی، «شرح و بیانی مختصر و موجز از حیات و شخصیت آخوند ملا محمد کاظم خراسانی»، ۱۳۸۶شمسی، ص۴۱۴۵.
  30. کسروی، تاریخ مشروطہ ایران، ۱۳۶۳شمسی، ج۱، ص۳۲۳۳.
  31. عبد الرحیم، المصلح المجاہد الشیخ محمد کاظم الخراسانی، ۱۳۹۲ھ، ص۱۳۵-۱۳۹.
  32. عبد الرحیم، المصلح المجاہد الشیخ محمد کاظم الخراسانی، ۱۳۹۲ھ، ص۱۳۹ـ ۱۴۳.
  33. عبد الرحیم، المصلح المجاہد الشیخ محمد کاظم الخراسانی، ۱۳۹۲ھ، ص۱۴۳-۱۴۵.
  34. کفایی، مرگی در نور زندگانی آخوند خراسانی، ۱۳۵۹ش، ص۳۷۶ـ ۴۰۱.
  35. رجوع کریں: کفایی، سیری در سیره علمی و عملی آخوند خراسانی، ۱۳۹۰شمسی، ص ۷۳، ۱۰۰
  36. گفتگو با نوه آخوند خراسانی
  37. کنگره آخوند خراسانی

مآخذ

  • آقا بزرگ طہرانی، محمد محسن‌، الذریعہ الی تصانیف‌ الشیعہ، بیروت، دار الاضواء، ۱۴۰۳ق.
  • آقا بزرگ طہرانی، محمد محسن‌، طبقات‌ اعلام الشیعہ نقباء البشر فی‌ القرن الرابع عشر، مشہد، آستان قدس رضوي بنياد پژوہش‌ های اسلامی، ۱۳۸۸شمسی.
  • بامداد، مہدی، شرح حال رجال ایران در قرن ۱۲ و ۱۳ و ۱۴ هجری، تهران، زوار، ۱۳۵۷شمسی.
  • بریری، ابوذر، «نجف در سیزده سفر نامہ، برشی از سفر نامہ های علما و مشاہیر دوره قاجار»، فصل نامہ فرہنگ زیارت، سال سوم، شماره 7، تابستان ۱۳۹۰شمسی.
  • حائری، عبد الہادی، تشیع و مشروطیت در ایران و نقش ایرانیان مقیم عراق، تہران، امیر کبیر، ۱۳۶۴شمسی.
  • حرز الدین، محمد حسین، معارف الرجال فی تراجم العلماء و الادباء، قم، مكتبہ آيت الله العظمي المرعشي النجفي، ۱۴۰۵ھ.
  • شہرستانی، ہبة‌ الدین، فاجعہ حضرت آیت اللّه الخراسانی، العلم، شماره ۷، ۱۳۳۰ھ.
  • عاقلی، باقر، روز شمار تاریخ ایران از مشروطہ تا انقلاب اسلامی، تہران، نامک، ۱۳۷۰شمسی.
  • عبد الرحیم، محمد علی، المصلح المجاہد الشیخ محمد کاظم الخراسانی، نجف، مطبعہ النعمان، ۱۳۹۲ھ.
  • کسروی، احمد، تاریخ مشروطہ ایران، تہران، امیر کبیر، ۱۳۶۳شمسی.
  • کفایی خراسانی، عبد الرضا، سیری در سیره علمی و عملی آخوند خراسانی، قم، بوستان کتاب، ۱۳۹۰شمسی.
  • کفایی، عبد الحسین، مرگی در نور زندگانی آخوند خراسانی، تہران، زوار، ۱۳۵۹شمسی.
  • کفایی، عبد الرضا، «شرح و بیانی مختصر و موجز از حیات و شخصیت آخوند ملا محمد کاظم خراسانی»، نشریہ دانشکده الہیات دانشگاه فردوسی، مشہد، ۱۳۸۶شمسی.
  • مختاری، رضا، نقد تصحیح فوائد الاصول آخوند خراسانی، حوزه، سال ۵، ش ۱، ۱۳۶۷شمسی.
  • نجفی قوچانی، محمد حسن، برگی از تاریخ معاصر، تہران، چاپ رمضان علی شاکری، ۱۳۷۸شمسی.