مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:سورہ بقرہ آیت نمبر 120

ویکی شیعہ سے
سورہ بقرہ آیت نمبر 120
آیت کی خصوصیات
سورہبقرہ
آیت نمبر120
پارہپہلا
محل نزولمدینہ
موضوعاہل کتاب کی جانب سے دین اسلام کی عدم پیروی


سورہ بقرہ کی آیت نمبر 120 میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ یہود و نصاریٰ پیغمبر اکرمؐ سے اس وقت تک راضی نہیں ہوں گے جب تک آپؐ ان کے دین کی پیروی نہ کرلیں۔ مفسرین نے اس آیت کو اہل کتاب کے اپنے دین سے تعصب اور اسلام قبول کرنے کے سلسلے میں ان کی مخالفت کا اظہار قرار دیا ہے۔[1] نیز اسے پیغمبرؐ کی ان کے ایمان لانے سے مایوس ہونے کی ایک قسم کی مبالغہ آمیز تعبیر بھی بتایا گیا ہے۔[2]

وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَىٰ ۗ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ ‎﴿١٢٠﴾‏‎
"اے رسول یہود و نصاریٰ اس وقت تک آپ سے راضی نہیں ہوں گے جب تک آپ ان کے دین و مذہب کے پیرو نہ ہو جائیں۔ کہہ دیجئے کہ اللہ کی ہدایت ہی حقیقی ہدایت ہے (جو اس نے بتائی ہے) اور اگر آپ نے (اللہ کی طرف سے) علم آجانے کے بعد بھی ان لوگوں کی خواہشات و خیالات کی پیروی کی۔ تو پھر اللہ (کی گرفت) سے آپ کو بچانے والا نہ کوئی سرپرست ہوگا اور نہ کوئی یار و مددگار۔"



سورہ بقرہ آیت نمبر 120

یہ آیت سورہ بقرہ کی آیت نمبر 118 اور اس سے پہلے کی آیات کے تسلسل میں اہل کتاب سے متعلق ہے۔[3] شیعہ مفسر قرآن عبد اللہ جوادی آملی کے مطابق ان آیات میں مشرکین کے شرک سے متعلق بات کی گئی ہے کیونکہ اہل کتاب اور مشرکین کے بعض عقائد و اعمال میں کچھ مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔[4]

بعض مفسرین نے اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے حقیقی ہدایت کو صرف اللہ کی ہدایت تک محدود قرار دیا ہے[5]نیز ادیان سابقہ کی تحریف یا منسوخ شدہ تعلیمات کی پیروی کو ان کے نفسانی خواہشات کے تابع ہونے کی مثال قرار دیا ہے۔[6] اس آیت میں مذکور "علم" سے مراد اہل کتاب کے عقائد کی نادرستی کا علم، اسلام کی حقانیت کی پہچان اور پیغمبر اکرمؐ پر نازل کردہ وحیانی معارف ہیں۔[7]

اس آیت کے دوسرے حصے میں بتایا گیا ہے کہ اہل کتاب کا خواہشات کی پیروی کرنا انسان کو اللہ کی ولایت اور نصرت سے محروم کر دیتا ہے۔[8] بعض مفسرین آیت کے اس حصے کو ایک فرضی اور انتباہی بیان قرار دیتے ہیں جو کسی خارجی واقعہ کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔[9] مفسرین کے مطابق اگرچہ آیت کا خطاب ظاہراً پیغمبر اکرمؐ کی طرف ہے لیکن اصل مقصد امت مسلمہ کو متنبہ کرنا ہے۔[10]

اس آیت کے شأن نزول میں مختلف روایات ملتی ہیں۔ شیخ طبرسی نے مجمع البیان فی تفسیر القرآن میں نقل کیا ہے کہ یہود و نصاریٰ کے ایک گروہ نے پیغمبر اکرمؐ سے صلح کی درخواست کی اور کہا کہ اس کے بعد وہ اسلام قبول کر لیں گے تب یہ آیت نازل ہوئی۔[11] ایک دوسری روایت کے مطابق، پیغمبرؐ اہل کتاب کو راضی کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے تھے لیکن اس آیت کے نزول نے اس امید کے بے نتیجہ ہونے کو ظاہر کر دیا۔[12] اہل سنت کی بعض کتب میں یہ بھی آیا ہے کہ مدینہ کے یہودی اور نجران کے مسیحی یہ توقع رکھتے تھے کہ پیغمبر خداؐ قبلہ کے معاملے میں ان سے اتفاق کریں گے، لیکن جب قبلہ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف تبدیل ہوا تو وہ مایوس ہوگئے اور اسی تناظر میں یہ آیت نازل ہوئی۔[13]

یہ آیت اہل کتاب کے ساتھ مسلمانوں کی جنگوں بالخصوص جنگ رمضان کے تجزیوں میں بھی مورد استناد واقع ہوئی ہے اور اس سے یہ نتیجہ لیا گیا ہے کہ مسلمانوں سے اہل کتاب کی رضامندی کا دارومدار ان کے دین کی پیروی پر منحصر ہے۔[14]

حوالہ جات

  1. جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 1389شمسی، ج6، ص366۔
  2. فیض کاشانی، تفسیر الصافی، 1415ھ، ج‏1، ص185۔
  3. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج‏1، ص263۔
  4. جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 1389شمسی، ج6، ص365۔
  5. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج‏1، ص265.
  6. مشکینی اردبیلی، تفسیر روان، 1392شمسی، ج1، ص134۔
  7. بن‌عدوی، التسہیل لتأویل التنزیل: سورہ البقرہ، 1416ھ، ج2، ص251۔
  8. ہاشمی رفسنجانی، تفسیر راہنما، 1386شمسی، ص306۔
  9. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج1، ص430۔
  10. فیض کاشانی، تفسیر الصافی، 1415ھ، ج‏1، ص185، اشکوری، تفسیر شریف لاہیجی، 1373شمسی، ج1، ص107۔
  11. طبرسی، مجمع البيان، 1372شمسی، ج‏1، ص373۔
  12. طبرسی، مجمع البيان، 1372شمسی، ج‏1، ص373۔
  13. سیوطی، الدر المنثور، 1404ھ، ج1، ص111۔
  14. «جنگ ایران و آمریکا تا چہ زمانی ادامہ دارد؟»(ایران اور امریکہ کے مابین جنگ کب تک جاری رہے گی؟) حوزہ نیوز۔

مآخذ

  • اشکوری، محمد بن علی، تفسیر شریف لاہیجی، تصحیح: جلال‌الدین محدث، تہران، دفتر نشر داد، چاپ اول، 1373ہجری شمسی۔
  • بن‌عدوی، مصطفی، التسہیل لتأویل التنزیل: سورہ البقرہ، بی‌جا، مکتبہ الہدی، 1416ھ۔
  • «جنگ ایران و آمریکا تا چہ زمانی ادامہ دارد؟» (ایران اور امریکہ کے مابین جنگ کب تک جاری رہے گی؟) حوزہ نیوز، تاریخ درج مطلب: 1 مئی 2026ء، تاریخ مشاہدہ: 17 مئی 2026ء۔
  • جوادی آملی، عبداللہ، تسنیم، تفسیر قرآن کریم، قم، اسراء، آٹھویں اشاعت، 1389ہجری شمسی۔
  • سیوطی، عبدالرحمن بن ابی‌بکر، الدر المنثور فی التفسیر بالماثور، قم، کتابخانہ عمومی حضرت آیت‌اللہ العظمی مرعشی نجفی، پہلی اشاعت، 1404ھ۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، دوسری اشاعت، 1390ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تصحیح: فضل‌اللہ یزدی طباطبایی، ہاشم رسولی، تہران، ناصر خسرو، تیسری اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
  • فیض کاشانی، محمد بن شاہ مرتضی. تفسیر الصافی. تصحیح حسین اعلمی، تہران، مکتبۃ الصدر، دوسری اشاعت، 1415ھ۔
  • مشکینی اردبیلی، علی، تفسیر روان، قم، مؤسسہ علمی فرہنک دار الحدیث، 1392ہجری شمسی۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، دسویں اشاعت، 1371ہجری شمسی۔
  • ہاشمی رفسنجانی، اکبر، تفسیر راہنما، قم، بوستان کتاب، 1386ہجری شمسی۔