زقوم

ویکی شیعہ سے
(شجرة الزقوم سے رجوع مکرر)

زَقّوم جہنم میں موجود ایک درخت کا نام ہے جس کا مزہ بہت برا اور عذاب دینے والی بد بو کا حامل ہے۔ قرآن میں اسے گناہگاروں کے عذاب کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن میں اس کے پھول اور پھل کو شیاطین کے سروں سے تشبیہ دی گئی ہے۔

زقوم کے معنی

زقوم کے مختلف معانی ذکر ہوئے ہیں:

  • زقوم کا درخت

زقوم کی تعبیر قرآن میں تین دفعہ آئی ہے ان میں "شَجَرَۃَ الزَّقُّوم"[1] یا "شَجَرٍ مِنْ زَقُّومٍ"[2] درخت زقوم کے معنی میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے بارے میں ذکر ہونے والی وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد جہنم میں موجود ایک درخت ہے جو بہت برے ذایقے اور عذاب دینے والی بو کا جامل ہے۔[3] بعض مفسرین اس سوال کے جواب میں کہ جنہم کی آگ میں جلے بغیر ایک درخت کیسے باقی رہ سکتا ہے؟ کہتے ہیں کہ: " خدا کی قدرت مطلقہ کو مد نظر رکھتے ہوئی یہ بعید نہیں ہے کہ خدا نے اس درخت کو آگ یا ایک ایسی جنس سے بنایا ہو جس پر آگ کا اثر نہیں ہوتا"۔[4]

اس درخت سے لوگوں کی آشنائی کے بارے میں دو نظریات پائے جاتے ہیں:

  1. دنیوی درختوں میں سے نہیں ہے اس لئے لوگ اس سے آشنا نہیں ہیں۔[5]
  2. ایک تلخ، بدبو اور بد مزہ بوٹی کا نام ہے جو چھوٹے چھوٹے پتوں پر مشتمل ہے اور جزیرہ العرب میں تہامہ نامی جگہے پر موجود ہے جس سے مشرکین آشنا تھے۔[6]
  • آٹا اور کھجور

جب زقوم کے بارے میں سورہ صافات کی آیت نمبر 62 نازل ہوئی اور مشرکین کو اس بارے میں تذکر دیا گیا؛ تو بعض مشرکین نے کہا: زقوم افریقی زبان میں کھجور اور آٹے کو کہا جاتا ہے اور محمدؐ ہمیں ایسی چیزوں سے ڈراتے ہیں۔ اس وقت ابوجہل نے اپنی کنیز سے کہا ہمارے لئے زقوم لے آؤ تو وہ کھجور اور آٹا لے آئی۔[7] اس بنا پر بعض ماہرین لغت کھجور اور آٹے کی بنائی ہوئی روٹی کو زقوم کہتے ہیں[8] البتہ قرآن نے صراحتا جن خصوصیات کو زقوم کے لئے ذکر کیا ہے[9] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی مراد زقوم سے ایسی چیز نہیں ہے۔[حوالہ درکار]


خصوصیات

قرآن میں زقوم کی بعض خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ جس کی بنا پر زقوم ایک درخت ہے جو جہنم کے آخری درجے میں واقع ہے،[10] مجرمین اور گناہگار اس کا پھل کھاتے ہیں۔[11] اور وہ ان کے پیٹ میں گرم لوہے اور ابلتے ہوئے پانی کی طرح ہوتا ہے۔[12]

زقوم کا پھل

قرآن میں زقوم کے پھول اور پھل کو شیاطین کے سروں سے تشبیہ دی گئی ہے۔[13] بعض مفسرین اس بات کے معتقد ہیں کہ زقوم کے پھول ارو پھل کو شیاطین کے سروں سے تشبیہ دینا اس وجہ سے ہے کہ سب سے بری چیز جس کا تصور کیا جا سکتا ہے وہ شیاطین کے سر ہیں۔[14]

حوالہ جات

  1. سورہ صافات، آیہ۶۲؛ سورہ دخان، آیہ۴۳۔
  2. سورہ واقعہ، آیہ۵۲۔
  3. فخر رازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ق،‌ ج۲۶،‌ ص۳۳۶۔
  4. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۸، ص۶۹۶۔
  5. نجفی خمینی، تفسیر آسان، ۱۳۹۸ق، ج۱۶، ص۳۴۴۔
  6. مکارم شیرازی،‌ تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش،‌ ج۲۱،‌ ص۲۰۳۔
  7. ثعلبی نیشابوری، الکشف و البیان، ۱۴۲۲ق، ج۸، ص۱۴۶۔
  8. ابن منظور، لسان العرب، ۱۴۱۴ق، ج۱۲، ص۲۶۸۔
  9. سورہ صافات،‌ آیہ۶۲-۶۷۔
  10. سورہ صافات،‌ آیہ۶۴۔
  11. سورہ صافات،‌ آیہ۶۶۔
  12. سورہ دخان، آیات۴۵-۴۶۔
  13. سورہ صافات،‌ آیہ۶۵۔
  14. فخر رازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ق،‌ ج۲۶،‌ ص۳۳۷۔

مآخذ

  • ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، محقق و مصحح: میر دامادی، جمال الدین، بیروت،‌دار الفکر للطباعۃ و النشر و التوزیع،‌ دار صادر، چاپ سوم، ۱۴۱۴ھ۔
  • ‌ثعلبی نیشابوری، ابو اسحاق احمد بن ابراہیم، الکشف و البیان عن تفسیر القرآن، بیروت،‌ دار إحیاء التراث العربی، چاپ اول، ۱۴۲۲ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ: بلاغی، محمد جواد، تہران، ناصر خسرو، چاپ سوم، ۱۳۷۲ہجری شمسی۔
  • ‌ فخر رازی، ابوعبداللہ محمد بن عمر، مفاتیح الغیب، بیروت،‌ دار احیاء التراث العربی، چاپ سوم، ۱۴۲۰ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران،‌ دار الکتب الإسلامیۃ، چاپ اول، ۱۳۷۴ہجری شمسی۔
  • نجفی خمینی، محمد جواد، تفسیر آسان، تہران، انتشارات اسلامیۃ، چاپ اول، ۱۳۹۸ھ۔