بخت النصر

ویکی شیعہ سے

بخت نصر بابل کا بادشاہ تھا جس نے یوروشلم کو فتح کیا اور معبد سلیمان ، گھروں اور شہر کی دیوار کو ویران کیا۔ وہ یہودیوں کو قیدی بنا کر بابل لے گیا۔ قرآن میں آیا ہے کہ بنی اسرائیل دو بار انحراف کا شکار ہوئے اسی لیے دو بار ان کو سزا ہوئی۔ مفسرین کا ماننا ہے کہ پہلی سزا بخت نصر کے ذریعے ہوئی۔ بعض مآخذ بخت نصر کو حضرت یحیی کا انتقام لینے والا سمجھتے ہیں۔ بعض علما اس بات کو رد کرتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق حضرت یحییؑ بخت نصر کے صدیوں بعد آئے تھے اور بعض اس کی توجیہ میں بخت نصر کو ایسا لقب سمجھتے ہیں جس کا مطلب یہودیوں کو نابود کرنے والا ہے۔

بابل کا بادشاہ

بخت نصر[1] [2] بابل کا بادشاہ تھا۔ یہ نام اصل میں بابلی ہے۔ بعض مآخذ میں بخت النصر اور عبری زبان میں نبو کد نصر [2] بیان ہوا ہے۔ اس کی تاریخ پیدائش کے بارے میں صحیح معلومات فراہم نہیں ہیں۔[3] [2] بخت نصر بابل کا دوسرا کلدانی بادشاہ تھا[4] اور اس نے 564 سے 605 قبل مسیح حکومت کی ہے۔[3] اس نے تقریبا 612 قبل مسیح بادشاہ ماد کی بیٹی سے شادی کی [1] بابل کے معلق باغات جو کہ قدیم عجوبوں میں سمجھے جاتے ہیں[5] بخت نصر کے حکم سے تعمیر ہوئے۔[6]

بخت نصر اور بنی اسرائیل کو سزا

قرآن میں بخت نصر کا نام نہیں آیا ہے [7] لیکن قرآن میں کچھ آیات ہیں جو اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ بنی اسرائیل دو بار انحراف کا شکار ہوئے[8] اور انہوں زمین میں فساد برپا کیا اور برتری کے دعوے دار ہوئے۔[9] اسی لیے دو بار ان کو سزا ہوئی اور سخت قسم کے بادشاہ ان پر مسلط ہوئے۔[10] بعض مفسرین کے مطابق ان کی پہلی سزا [11]، بخت نصر کے ذریعے ہوئی۔[12] یہودیوں کی مقدس کتاب میں بھی بخت نصر کے حملے اور یوروشلم اور معبد سلیمان کی نابودی میں بنی اسرائیل کے گناہوں کو تسلیم کیا گیا ہے۔[13] قرآن کریم نے بنی اسرائیل کو سزا دینے والوں کے لئے بَعَثْنَا: ہم نے بھیجا اور عِبَادًا: بندوں کی تعبیر استعمال کی ہے۔[14] بعض مفسرین کے مطابق اس طرح کے الفاظ کا استعمال اس بات کی نشانی نہیں ہے کہ بخت نصر جیسے افراد صالح اور نیک تھے، کیونکہ صالح اور فاسد دونوں کو خدا کا بندہ کہا جاتا ہے اور ایک ظالم انسان بھی خدا کی طرف انتقام کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ [12] علامہ طباطبائی نے أُولِی بَأْسٍ شَدِیدٍ کی تعبیر کو اس نقطہ نظر کی تائید کے طور پر پیش کیا ہے۔[15]

یوروشلم پر حملہ اور معبد سلیمان کا انہدام

بخت نصر نے یوروشلم پر تین بار حملہ کیا اور ہر بار اس کو فتح کیا اور ایک شخص کو وہاں کا بادشاہ مقرر کیا لیکن کچھ عرصے بعد بادشاہ پھر سے بغاوت کر بیٹھتا تھا۔ [16] آخر کار بخت نصر نے تیسری بار 587 قبل مسیح [17] یا ۵۸۶[16] یا 586 میں یوروشلم کو فتح کیا [18] شہر کے حصار کو ویران اور بادشاہ کو قتل کیا [16] اس نے یہودیوں کے بادشاہ کو قید کیا اور اس کے بیٹوں کو اس کے سامنے قتل کیا اسے دونوں آنکھوں سے اندھا کیا اور اسے قیدی بنا کر بابل لے گیا۔[19] اس نے معبد سلیمان اور یوروشلم کے بہت سے گھروں کو آگ لگا دی[20] بہت سے لوگوں کو قتل اور اسیر بنا کر اپنے ساتھ بابل لے گیا۔ [17] عہد عتیق میں بہت بار بخت نصر کا تذکرہ ہوا ہے۔ [21] جیسے یوروشلم کی بربادی کی داستان، یہودیوں کی زبردستی ہجرت اور اسیری [22]۔ توریت کے مطابق یوروشلم کے جنگجو سے لے کر استاد تک کو بابل لے گئے۔ صرف مسکین ہی اس شہر میں رہ گئے۔[23]

حضرت یحییؑ کے خون کا انتقام اور بخت نصر

بعض روایات بخت نصر کے یوروشلم پر حملے کو حضرت یحییٰؑ کے خون کا انتقام سمجھتی ہیں۔[24] اسی طرح بعض تایخی مآخذ کے مطابق حضرت یحییؑ کے خون کا انتقام بخت نصر کے ذریعے ہوا[25] اور کہا جاتا ہے کہ عیسائیوں نے یہودیوں کے خلاف بخت نصر کی مدد کی۔[26]

حضرت یحییؑ حضرت عیسیؑ کے ہم عصر تھے اور بخت نصر کے صدیوں بعد پیدا ہوئے تھے۔[27]اسی وجہ سے بعض علما اس روایت کو غلط سجھتے ہیں۔[27] بعض محقیقن نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ معبد سلیمان کی دوسری بار تباہی رومیوں کے ذریعے 70 عیسوی میں ہوئی۔ ان کا خیال ہے کہ یہودی ادبیات میں بخت نصر ایک بدنام یہودیوں کے ایک بڑے قاتل کے عنوان سے سمجھا جاتا ہے اور معبد کی 70 عیسوی میں تباہی بھی یہودیوں نے بخت نصر سے منسوب کی ہے۔[28]

حوالہ جات

  1. 1.0 1.1 دهخدا، واژه «بختنصر»، سایت واژه‌یاب.
  2. 2.0 2.1 2.2 ربیعی، «بختنصر»، ج۲، ص۳۹۸۔
  3. 3.0 3.1 ربیعی، «بختنصر»، ج۲، ص۳۹۸۔
  4. زرین‌ کوب، «بختنصر»، ج۱۱، ص۴۸۰۔
  5. «عجایب هفتگانہ جهان»، خبرگزاری صدا و سیما۔
  6. زرین‌ کوب، «بختنصر»، ج۱۱، ص۴۸۱۔
  7. ربیعی، «بختنصر»، ج۲، ص۳۹۹۔
  8. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۱۲، ص۲۷۔
  9. سوره اسراء، آیه۴۔
  10. سوره اسراء، آیہ ۵۔
  11. فراء، معانی القرآن، مصر، ج۲، ص۱۱۶۔
  12. 12.0 12.1 مدرسی، من ہدی القرآن، ۱۴۱۹ھ، ج۶، ص۲۰۱۔
  13. پادشاہان۲؛ ۲۴:۳-۴۔
  14. سوره اسراء، آیہ ۵۔
  15. طباطبائی، المیزان، ۱۴۱۷ھ، ج۱۳، ص۳۰-۴۰۔
  16. 16.0 16.1 16.2 زرین‌ کوب، «بخت نصر»، ج۱۱، ص۴۸۰۔
  17. 17.0 17.1 توفیقی، آشنائی با ادیان بزرگ، ۱۳۸۹ش، ص۹۶۔
  18. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۱، ص۵۳۸۔
  19. رال، از عدن تا تبعید، ۱۳۹۶ش، ص۵۲۰۔
  20. پادشاهان۲؛ ۲۵: ۸-۹۔
  21. زرین‌ کوب، «بخت نصر»، ج۱۱، ص۴۸۰۔
  22. نگاه کنید بہ پادشاهان۲۔
  23. پادشاہان۲؛ ۲۴: ۱۳-۱۴۔
  24. شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، ۱۳۹۵ھ، ج‏۱، ص۲۲۵-۲۲۶۔
  25. تاریخ سیستان، ۱۳۶۶ش، ص۳۵۔
  26. فخر رازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ھ، ج۴، ص۱۰۔
  27. 27.0 27.1 فخر رازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ھ، ج۴، ص۱۰۔
  28. «بخت‌نصر قرن‌ها قبل از حضرت یحیی بوده، پس چگونہ در روایات او را منتقم خون یحیی(ع) دانستہ اند؟»، سایت اسلام کوئست۔

مآخذ

  • تاريخ سيستان، تحقيق: ملک الشعراى بہار، تہران، كلالہ خاور، ۱۳۶۶ش۔
  • توفیقی، حسین، آشنائی با ادیان بزرگ، تہران،‌سمت، ۱۳۸۹ش۔
  • دہخدا، علی‌ اکبر، واژه «بختنصر»،،سایت واژه‌یاب۔
  • ربیعی، منیژه، «بخت نصر»، دانشنامہ جہان اسلام، زیرنظر: غلامعلی حداد عادل، تہران، بنیاد دایرۃ المعارف اسلامی، ۱۳۸۶ش۔
  • زرین‌ کوب، روزبہ، «بخت نصر»، دایرة المعارف بزرگ اسلامی، زیرنظر کاظم موسوی بجنوردی، تہران، مرکز دایرة المعارف بزرگ اسلامی، ۱۳۸۱ش۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمہ، محقق و مصحح: علی‌ اکبر غفاری، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۹۵ھ۔
  • طباطبائی، سید محمد حسین‏، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی‏، ۱۴۱۷ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، تحقیق: محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، دارالتراث، ۱۳۸۷ھ۔
  • «عجایب ہفتگانہ جہان»، خبرگزاری صدا و سیما، تاریخ بازدید: ۱۳ تیر ۱۴۰۰ش۔
  • فخر رازی، محمد بن عمر، مفاتیح الغیب، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۲۰ھ۔
  • فراء، یحیی بن زیاد، معانی القرآن، تحقیق: احمد یوسف نجاتی، محمد علی نجار، عبدالفتاح اسماعیل شلبی‏، مصر، دارالمصریہ، بے تا۔
  • مدرسی، سید محمد تقی، من ہدی القرآن، تہران، دارمحبی الحسین، ۱۴۱۹ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الإسلامی، ۱۳۷۴ش۔
  • «نبوکدنصر (بخت‌نصر) قرن‌ها قبل از حضرت یحیی بوده، پس چگونه در روایات او را منتقم خون یحیی(ع) دانسته‌اند؟»، سایت اسلام کوئست، تاریخ بازدید: ۱۳ تیر ۱۴۰۰ش۔