سید صفدر حسین نجفی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سید صفدر حسین نجفی
Safdar najafi3.jpg
کوائف
مکمل نام سید صفدر حسین نقوی
لقب/کنیت نجفی
نسب سادات
تاریخ ولادت سنہ 1932ء
آبائی شہر علی پور، مظفرگڑھ
رہائش لاہور
تاریخ وفات 3 دسمبر 1989ء
مدفن جامعۃ المنتظر لاہور
اولاد چار بیٹے اور چھ بیٹیاں
جانشین سید حافظ ریاض حسین نجفی
علمی معلومات
مادر علمی نجف اشرف
اجازہ روایت از آقا بزرگ تہرانی
تالیفات ترجمہ تفسیر نمونہ، منشور جاوید، پیام قرآن
خدمات
سیاسی تحریک جعفریہ کے نائب صدر
سماجی مصباح القران ٹرسٹ اور امامیہ پبلکیشنز کی تاسیس

سید صفدر حسین نجفی (1932_1989ء) پاکستان کے مؤثر اور مشہور شیعہ علما میں سے ہیں جنہوں نے پاکستان کے مختلف مدارس اور حوزہ علمیہ نجف اشرف سے کسب فیض کیا۔ جامعہ المنتظر لاہور میں تدریسی فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ مختلف کتابوں کی تالیف اور ترجمہ بھی کیا جن میں تفسیر نمونہ، پیامِ قرآن، منشورِ جاوید، سیرتِ آئمہ اور احسن المقال قابلِ ذکر ہیں۔ پاکستان اور بعض دیگر ممالک میں دینی مدرسے بھی قائم کئے۔ شیعہ قوم کو مفتی جعفر حسین اور ان کے بعد شہید عارف حسین الحسینی کی قیادت پر متفق کرنے میں آپ کا بڑا کردار رہا۔ جبکہ آپ نے دینی کتابوں کی تالیف اور ترجمہ کو قیادت پر ترجیح دیتے ہوئے اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پاکستان میں امام خمینی کو متعارف کرانے میں بڑا کردار رہا اور ان کو انقلابی تحریک کے ایام میں پاکستان آنے کی دعوت بھی دی۔ پاکستان کی بعض شیعہ مذہبی تنظیموں کے بانیوں میں سے شمار ہوتے ہیں۔ سنہ 1989ء کو 57 سال کی عمر میں آپ وفات پاگئے اور جامعہ المنتظر لاہور میں ہی آپ دفن ہوئے۔ آپ کی وفات پر تشییع جنازہ میں شرکت کے لئے آیت اللہ خامنہ ای نے ایران سے ایک وفد بھی بھیجا۔ وفات کے بعد سے آپ کو محسن ملت کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

زندگی نامہ

ولادت اور نسب

صفدر حسین نجفی سنہ 1932ء میں پاکستان ضلع مظفر گڑھ کے علاقہ علی پور میں پیدا ہوئے۔[1] آپ کا شجرہ نسب سید جلال الدین سرخ پوش بخاری سے جا کر ملتا ہے، جو حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔[2]آپ کے والد سید غلام سرور اپنے شہر کے معروف شیعہ علما میں شمار ہوتے تھے۔[3]

شریک حیات اور اولاد

سنہ 1953ء میں نجف میں ایک پاکستانی سادات گھرانے میں آپ نے شادی کی، جو شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان کی پھوپھی اور علامہ امیر حسین نقوی کی ہمشیرہ تھیں۔ جن سے آپ کی کوئی اولاد نہ ہوئی اور سنہ 1979ء میں فوت ہوئیں۔ آپ نے دوسری شادی 1967ء میں ساہیوال کی سبزواری سادات فیملی میں کی، جو علامہ سید بختیارالحسن سبزواری اور ڈاکٹر غلام شبیر سبزواری سابق مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان کی ہمشیرہ تھیں۔ جن سے آپ کی چار بیٹیاں اور چھ فرزند پیدا ہوئے۔ اور سب اسلامی علوم سے منسلک ہیں۔[4]

وفات

سید صفدر حسین نجفی کی نماز جنازہ ادا کی جارہی ہے۔

3 دسمبر سنہ 1989ء کو 57 سال کی عمر میں آپ وفات پاگئے اور جامعہ المنتظر لاہور میں ہی آپ دفن ہوئے۔ آپ کی وفات پر آیت اللہ خامنہ ای کی طرف سے تسلیت کے پیغام کے علاوہ [5] تشییع جنازہ میں شرکت کے لئے ایک وفد بھی بھیجا گیا جسمیں حجج اسلام سید ہاشم رسولی محلاتی اور سید حسن طاہری خرم آبادی شامل تھے۔[6] آپ کی نماز جنازہ سید محمد یارشاہ نجفی نے پڑھائی[حوالہ درکار] وفات کے بعد سے آپ کو محسن ملت کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔[7]

علمی زندگی نامہ

سید صفدر حسین نجفی نے دینی علوم کے حصول کا آغاز سات سال کی عمر میں حوزہ علمیہ ملتان سے کیا۔[8] جہاں آپ کے چچا، نامور عالم دین سید محمد یار شاہ نقوی نجفی سے کسب فیض کرنے کے علاوہ[9] مختلف دینی مدارس سے بھی آپ نے استفادہ کیا جن میں مدرسہ خانیوال اور مدرسہ باب العلوم کے علاوہ ملتان میں اہل سنت کا ایک مدرسہ بھی شامل ہے۔[10] سنہ 1947ء سے 1950ء تک درسِ نظامی کیلئے مدرسہ صادقیہ خانپور مظفر گڑھ، مدرسہ خان گڑھ اور مدرسہ باب النجف جاڑا، ڈی آئی خان میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔[11] اسی دوران تفسیر انوار النجف کے مصنف، حجت الاسلام حسین بخش جاڑا نجفی سے تفسیر کا درس بھی پڑھا۔[12] سنہ 1950ء کو آپ اعلی تعلیم کے حصول کے لئے نجف اشرف چلے گئے۔[13] نجف اشرف میں آپ نے مختصر عرصے میں حوزہ علمیہ نجف کے اساتذہ سے کسب فیض کیا جن میں آیت اللہ محسن الحکیم اور آیت اللہ خوئی سر فہرست ہیں۔[14]

وطن واپسی

سنہ 1956ء میں 23 یا 24 سال کی عمر میں آپ نجف اشرف سے پاکستان کے شہر لاہور واپس آئے[15] تو اس وقت شیخ الجامعہ اختر عباس موچی دروازہ، حسینیہ ہال میں جامعہ المنتظر کی بنیاد رکھ چکے تھے جہاں آپ نے مدرس کی حیثیت سے دینی خدمات شروع کیا۔[16] یہ مدرسہ بعد میں وسن پورہ منتقل ہوا جہاں پر آپ نے تدریس کے علاوہ نماز باجماعت کا بھی اہتمام کیا اور لوگوں کو گھر گھر جاکر نماز جماعت میں شرکت کی دعوت کی۔[17] کچھ عرصہ بعد علامہ اختر عباس نجفی کے نجف جانے پر سنہ 1966ء کو آپ اس مدرسہ کے پرنسپل بن گئے اور مدرسہ کو وسن پورہ سے ماڈل ٹاؤن لاہور منتقل کیا جو آج کل پاکستان کی قدیمی ترین دینی درسگاہ سمجھی جاتی ہے۔[18]

اساتذہ

آپ نے پاکستان میں حجج اسلام سید یار شاہ نقوی، سید محمد باقر نقوی چکڑالوی المعروف علامہ باقر ہندی اور سید حسین بخش جاڑا نجفی سے کسب فیض کیا[19]اور نجف اشرف میں وہاں کے نامور اساتذہ جیسے: محمدعلی افغانی، اختر عباس نجفی، سید ابوالقاسم رشتی، شیخ محمد تقی آل راضی اور آیات عظام: محسن الحکیم اور سید ابوالقاسم خوئی سے کسب فیض کیا۔[20]

شاگرد

آپ سے کسب فیض کرنے والوں میں پاکستان کے بہت سارے علما شامل ہیں لیکن میں سے مندرجہ ذیل شخصیات قابل ذکر ہیں:[21]

اجازت نامہ

سید صفدر حسین نجفی نے آقا بزرگ تہرانی سے نقل حدیث کی اجازت حاصل کی[22] اور اسی طرح امام خمینی سے وجوہات شرعیہ صرف کرنے کی اجازت بھی حاصل کی۔[23]

تالیفات اور تصنیفات

سید صفدر حسین نجفی نے تصنیف و تالیف اور نیز مختلف دینی کتابوں کا اردو زبان میں ترجمہ کیا جن میں سے بعض کا ہم یہاں ذکر کرتے ہیں۔[24]

تراجم

  • احسن المقال: ترجمہ کتاب منتہی الامال، تالیف محدث قمی (4 جلدیں)
  • ارشاد القلوب، تالیف شیخ محمد علی دیلمی
  • الارشاد، تالیف شیخ مفید
  • پیام قرآن، تالیف مکارم شیرازی (15 جلدیں)
  • تاریخ طبری
  • تذکرۃ الخواص، تالیف علامہ سید بن جوزی
  • ترجمہ قرآن
  • تفسیر نمونہ: تالیف آیت اللہ مکارم شیرازی (27 جلدیں)
  • توضیح المسائل امام خمینی
  • حدود و تعزیرات: ترجمہ تکملۃ المنہاج سید ابو القاسم خوئی
  • حکومت اسلامی: دروس امام خمینی
  • دائمی منشور: ترجمہ منشور جاوید تالیف جعفر سبحانی (14 جلدیں)
  • رسالۃ المواعظ: تالیف شیخ عباس قمی
  • سعادت الابدیہ، ترجمہ کتاب بنام مقامات العلیاء، تالیف خاتم المحدثین علامہ شیخ عباس قمی؛ موضوع اخلاق
  • السقیفہ
  • شیعہ دوازدہ امامی و اہل بیت، تالیف علامہ شیخ محمد جواد
  • عقائد امامیہ، تالیف علامہ شیخ محمد رضا مظفر (ترجمہ)
  • معادن الجواہر، ترجمہ کتاب تالیف علامہ شیخ محمد علی کراجکی[25]

تصانیف

  • عرفان المجالس، جلداول و جلد دوم
  • اسلامی جمہوریہ ایران پر اعتراضات دین و عقل کی روشنی میں
  • حدود و تعزیرات
  • یزیدی فرقہ
  • مناسک حج
  • کتاب زیارات
  • جہاد اکبر
  • انتخاب طبری
  • مبادی حکومت اسلامی
  • دین حق عقل کی روشنی میں
  • سیرت ائمہ، 12 جلد تاریخ امامان معصومان
  • حقوق و اسلام
  • چہل حدیث[26]

سیاسی سرگرمیاں

سید صفدر حسین نجفی، آیت اللہ خامنہ ای اور سید عارف حسین الحسینی کے ہمراہ
  • صفدر حسین نجفی امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، اور تحریک جعفریہ کے بانی علما میں سے تھے[27] جبکہ امامیہ آرگنائزیشن، وفاق علما شیعہ پاکستان اور دیگر قومی تنظیموں کو محسن ملت کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔[28] انہوں نے قائدین ملت جعفریہ مفتی جعفرحسین، شہید عارف حسین الحسینی اور ساجد علی نقوی کے انتخاب میں کلیدی کردار ادا کیا۔[29]
  • مفتی جعفر حسین کے دور قیادت میں آپ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے مرکزی نائب صدر رہے۔[30]
  • تحریک جعفریہ کا سیاسی امور میں حصہ لینے یا نہ لینے کے بارے میں تجاویز پر مشتمل کتابچہ «تحریک کا سیاسی سفر» کے تدوین میں آپ کا کلیدی کردار رہا[31] اور تبدیلی کا منشور بھی آپ نے پیش کیا جسے «ہمارا راستہ» کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔[32]
  • وفاق العلما الشیعہ پاکستان کی بنیاد رکھی ملک بھر میں صوبہ ڈویژن ضلع اور تحصیل تک یونٹ قائم کیے مرکزی کابینہ تشکیل دی گی۔[33]

امام خمینی سے عقیدت

سید صفدر حسین نجفی کو امام خمینی سے خاص عقیدت تھی اور آپ کا شمار ان علما میں ہوتا ہے جنہوں نے امام خمینی کو پاکستان میں ایسے دور میں معرفی کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا جب امام خمینی کو پاکستان میں کوئی نہیں جانتا تھا۔[34]یہاں تک کہ اپنے گھر کو بیچ دیا اور فرانس جاکر گھر کی قیمت امام خمینی کے حوالے کردیا۔[35] سنہ 1970ء میں آیت اللہ محسن الحکیم کی وفات کے بعد جب مرجع تقلید کے عنوان سے کسی شخص کا نام سامنے آنے لگا تو صفدر حسین نجفی نے بعض دیگر علماء کے ساتھ ملکر امام خمینی کی تقلید کا اعلان کرتے ہوئے فوراً امام خمینی کی توضیح المسائل کا اردو ترجمہ کر کے شائع کروایا۔[36] انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد آپ پھر سے امام خمینی کی خدمت میں پہنچے اور پاکستان میں شیعہ فقہ کے درس خارج دینے کے لیے ایک مجتہد کا مطالبہ کرتے ہوئے وہاں پر موجود آیت اللہ نوری کو بھیجنے کی درخواست کی اور انہیں پاکستان لانے میں کامیاب ہوگئے۔[37] ان کے بعد پھر آیت اللہ حسن طاہری خرم آبادی کو بھی اسی سلسلے میں پاکستان لے گئے لیکن حکومت پاکستان نے انہیں پاکستان رہنے کی اجازت نہیں دی۔[38]

سماجی خدمات

دینی مدارس کا قیام

سید صفدر حسین نجفی کی کاوشوں سے پاکستان کے مختلف شہروں میں دینی مدارس کا قیام عمل وجود میں آیا ان میں سے بعض مدارس کے نام مندرجہ ذیل ہیں:[39]

  • جامعہ علمیہ (کراچی)
  • جامعۃ الرضا (روھڑی، سکھر)
  • جامعہ امام حسین (خانقاہ ڈوگراں شیخوپورہ)
  • جامعہ نقویہ (آزاد کشمیر)
  • جامعہ فاطمیہ (رینالہ خورد، اوکاڑہ)
  • مدرسہ رضویہ (صالح پٹ، سکھر)
  • جامعہ قرآن و عترت (نارووال)
  • جامعہ مھدویہ (ٹوبہ ٹیک سنگھ)
  • جامعہ الزہراء برائے طالبات (ٹوبہ ٹیک سنگھ)
  • جامعہ آل محمد (جن پور، رحیم یار خان)
  • جامعہ رضویہ عزیز المدارس (چیچہ وطنی، ساہیوال)
  • جامعہ مرتضویہ (وہاڑی)
  • جامعہ امام سجاد (جھنگ)
  • جامعہ آیت اللہ خوئی (شورکوٹ، جھنگ)
  • مدرسہ مدینۃ العلم (قلعہ ستار شاہ، شیخوپورہ)
  • حوزہ علمیہ بقیۃ اللہ (لاہور)
  • جامعۃالزہراء۔ طالبات (لاہور)
  • مدرسہ ولی عصر (سکردو)
  • جامعہ مدینۃالعلم (چوھنگ، لاہور)
  • جامعہ مدینۃالعلم (بھارہ کہو، اسلام آباد)
  • مدرسہ محمدیہ (جلال پور جدید، سرگودھا)
  • دار الہدٰی محمدیہ (علی پور، ضلع مظفر گڑھ)
  • مدرسہ امام المنتظر (جتوئی، ضلع مظفر گڑھ)
  • جامعہ خاتم النبیین (کوئٹہ)
  • مدرسہ جعفریہ (جنڈ، ضلع اٹک)
  • جامعہ اہل بیت (ڈیرہ مراد جمالی، بلوچستان)
  • مدرسہ فیضیہ (جعفر آباد، بلوچستان)
  • مدرسہ علویہ نعیم الواعظین (ساہیوال)
  • جامعہ مدینۃ العلم (تریٹ، مری)

ان مدارس کے علاوہ جامعۃ المنتظر کے نام سے برطانیہ، امریکہ اور ایران کے شہر قم اور مشہد میں بھی مدارس قائم ہوئے ہیں۔

دیگر خدمات

  • امامیہ پبلیکیشنز کے ادارے کی تشکیل[40]
  • ماہنامہ المنتظر کی اشاعت[41]
  • علوم قرآنیات بالخصوص “ تفسیر نمونہ “ کی اشاعت اور ترویج کے لیے ادارہ “ مصباح القران ٹرسٹ “ کی تاسیس[42]

تصویری گیلری

حوالہ جات

  1. ترجمان وحی ویب سائٹ، تاریخ درج 2015-01-25، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019
  2. مُحسن مِلّت، علّامہ سیّد صفدر حُسین نجفی،اسلام ٹائمزتاریخ درج 9 دسمبر 2016، تاریخ اخذ، 5 مئی 2019
  3. ترجمان وحی ویب سائٹ، تاریخ درج 2015-01-25، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019
  4. مُحسن مِلّت، علّامہ سیّد صفدر حُسین نجفی،اسلام ٹائمزتاریخ درج 9 دسمبر 2016، تاریخ اخذ، 5 مئی 2019ء
  5. آیت اللہ خامنہ کی طرف سے سید صفدر حسین نجفی کی رحلت پر تسلیت کا پیغامآیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آفیشل ویب سائٹ تاریخ درج، 30/9/1368ہجری شمسی تاریخ اخذ، 5 مئی 2019
  6. آفیشل ویب سائٹ، تاریخ درج 4 دسمبر 1989، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019
  7. آشنایی با روحانی پاکستانی کہ پیام رسان انقلاب و یار امام خمینی در روزہای سخت بود سایت آئندہ روشن تاریخ درج، ۱۸ آذر ۱۳۹۷ ہجری شمسی تاریخ اخذ، 10 مئی 2019
  8. سید صفدر حسین نجفی،ترجمان وحی ویب سائٹ تاریخ درج 2015-01-25، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019
  9. سید صفدر حسین نجفی،ترجمان وحی ویب سائٹ تاریخ درج 2015-01-25، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019
  10. مُحسن مِلّت، علّامہ سیّد صفدر حُسین نجفی،اسلام ٹائمز، تاریخ درج 9 دسمبر 2016، تاریخ اخذ، 5 مئی 2019
  11. مُحسن مِلّت، علّامہ سیّد صفدر حُسین نجفی،اسلام ٹائمز، تاریخ درج 9 دسمبر 2016، تاریخ اخذ، 5 مئی 2019
  12. سید صفدر حسین نجفی،ترجمان وحی ویب سائٹ تاریخ درج 2015-01-25، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019
  13. سید صفدر حسین نجفی،ترجمان وحی ویب سائٹ تاریخ درج 2015-01-25، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019
  14. سید صفدر حسین نجفی،ترجمان وحی ویب سائٹ تاریخ درج 2015-01-25، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019
  15. علامہ صفدر حسین نجفی کی زندگی پر ایک تبصرہ شیعہ نیوز تاریخ درج، 03 دسمبر 2018؛ تاریخ اخذ:29/4/2019
  16. سید صفدر حسین نجفی،ترجمان وحی ویب سائٹ تاریخ درج 2015-01-25، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019
  17. علامہ صفدر حسین نجفی کی زندگی پر ایک تبصرہ شیعہ نیوز تاریخ درج، 03 دسمبر 2018؛ تاریخ اخذ:29/4/2019
  18. علامہ صفدر حسین نجفی کی زندگی پر ایک تبصرہ شیعہ نیوز تاریخ درج، 03 دسمبر 2018؛ تاریخ اخذ:29/4/2019
  19. مُحسن مِلّت، علّامہ سیّد صفدر حُسین نجفی،اسلام ٹائمز، تاریخ درج 9 دسمبر 2016، تاریخ اخذ، 5 مئی 2019
  20. سید صفدر حسین نجفی،ترجمان وحی ویب سائٹ تاریخ درج 2015-01-25، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019
  21. مُحسن مِلّت، علّامہ سیّد صفدر حُسین نجفی،اسلام ٹائمز، تاریخ درج 9 دسمبر 2016، تاریخ اخذ، 5 مئی 2019
  22. سید صفدر حسین نجفی،ترجمان وحی ویب سائٹ تاریخ درج 2015-01-25، تاریخ اخذ، 4 مئی 2019
  23. صحیفہ امام خمینی، 1279ھ - 1368ہجری شمسی ، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی ج 19 ص 142
  24. آشنایی با روحانی پاکستانی که پیام رسان انقلاب و یار امام خمینی در روزهای سخت بود حوزه نیوز تاریخ درج، 21 اردیبہشت 1398شمسی، تاریخ اخذ، 11 مئی 2019
  25. آشنایی با روحانی پاکستانی که پیام رسان انقلاب و یار امام خمینی در روزهای سخت بود حوزه نیوز تاریخ درج، 21 اردیبہشت 1398 شمسی، تاریخ اخذ، 11 مئی 2019
  26. آشنایی با روحانی پاکستانی که پیام رسان انقلاب و یار امام خمینی در روزهای سخت بود حوزه نیوز تاریخ درج، 21 اردیبہشت 1398شمسی، تاریخ اخذ، 11 مئی 2019
  27. مُحسن مِلّت۔علّامہ سیّدصفدرحُسین نجفی طاہرعبداللہ جعفریہ پریس تاریخ درج 9 دسمبر 2016، تاریخ اخذ 11 مئی 2019
  28. مُحسن مِلّت، علّامہ سیّد صفدر حُسین نجفی،اسلام ٹائمزتاریخ درج 9 دسمبر 2016، تاریخ اخذ، 5 مئی 2019
  29. روزنامہ پاکستان تاریخ درج، 01 دسمبر 2015؛ تاریخ اخذ: 04/05/2019
  30. مُحسن مِلّت، علّامہ سیّد صفدر حُسین نجفی،اسلام ٹائمزتاریخ درج 9 دسمبر 2016، تاریخ اخذ، 5 مئی 2019
  31. علامہ صفدر حسین نجفی کی زندگی پر ایک تبصرہ شیعہ نیوز تاریخ درج، 03 دسمبر 2018؛ تاریخ اخذ:29/4/2019
  32. علامہ صفدر حسین نجفی کی زندگی پر ایک تبصرہ شیعہ نیوز تاریخ درج، 03 دسمبر 2018؛ تاریخ اخذ:29/4/2019
  33. مدافع مذھب جعفریہ ،مفسر قرآن محسن الملت حضرت سرکار علامہ سید صفدر حسین نجفی حجت مشن پاکستانتاریخ درج، 13 آذر 1395؛ تاریخ اخذ:29/4/2019
  34. آشنایی با روحانی پاکستانی که پیام رسان انقلاب و یار امام خمینی در روزهای سخت بود حوزه نیوز تاریخ درج، 21 اردیبہشت 1398شمسی، تاریخ اخذ، 11 مئی 2019
  35. آشنایی با روحانی پاکستانی که پیام رسان انقلاب و یار امام خمینی در روزهای سخت بود حوزه نیوز تاریخ درج، 21 اردیبہشت 1398شمسی، تاریخ اخذ، 11 مئی 2019
  36. علامہ صفدر حسین نجفی کی زندگی پر ایک تبصرہ شیعہ نیوز تاریخ درج، 03 دسمبر 2018؛ تاریخ اخذ:29/4/2019
  37. صحیفہ امام خمینی، ج11 ص ۴۳۲
  38. علامہ صفدر حسین نجفی کی زندگی پر ایک تبصرہ شیعہ نیوز تاریخ درج، 03 دسمبر 2018؛ تاریخ اخذ:29/4/2019
  39. مدافع مذھب جعفریہ ،مفسر قرآن محسن الملت حضرت سرکار علامہ سید صفدر حسین نجفی حجت مشن پاکستانتاریخ درج، 13 آذر 1395؛ تاریخ اخذ:29/4/2019
  40. علامہ صفدر حسین نجفی کی زندگی پر ایک تبصرہ شیعہ نیوز تاریخ درج، 03 دسمبر 2018؛ تاریخ اخذ:29/4/2019
  41. علامہ صفدر حسین نجفی کی زندگی پر ایک تبصرہ شیعہ نیوز تاریخ درج، 03 دسمبر 2018؛ تاریخ اخذ:29/4/2019
  42. علامہ صفدر حسین نجفی کی زندگی پر ایک تبصرہ شیعہ نیوز تاریخ درج، 03 دسمبر 2018؛ تاریخ اخذ:29/4/2019


مآخذ