سید ضیاء الدین رضوی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سید ضیاء الدین رضوی
Syed Zeya ud din razavi.jpg
کوائف
مکمل نام سید ضیاء الدین
لقب/کنیت رضوی
نسب رضوی سادات
تاریخ ولادت 1960ء
آبائی شہر گلگت
رہائش گلگت
تاریخ شہادت 2 ذی الحجہ 1425ھ بمطابق 14جنوری 2005
کیفیت شہادت دہشتگردوں کی فائرنگ
مدفن گلگت امامیہ جامع مسجد کے صحن میں
نامور اقرباء سید فاضل شاہ رضوی والد گرامی
اولاد 5 فرزند
جانشین سید راحت حسین الحسینی
علمی معلومات
مادر علمی حوزہ علمیہ قم
اساتذہ آیات عظام فاضل لنکرانی، میرزا جواد تبریزی
تالیفات مطبوعہ کتابیں تین
خدمات
سیاسی تحریک جعفریہ کے رکن
سماجی تعمیر ملت پروگرام کا قیام


سید ضیاء الدین رضوی (شہادت: 2005ء) پاکستان کے نامور شیعہ عالم دین، گلگت امامیہ جامع مسجد کے امام جمعہ و الجماعت اور علاقے کے شیعہ مذہبی سربراہ تھے۔ آپ نے پاکستان اور قم کے دینی مدارس میں مشہور علما اور فقہاء سے کسب فیض کیا۔ گلگت بلتستان میں دینی، ثقافتی اور علمی و فلاحی خدمات انجام دیں۔ پاکستان کے سکول اور کالجز کے نصاب کی مختلف کتابوں میں شیعہ کے لئے غیر قابل قبول مواد کو حذف کرنے کے لیے آپ نے تحریک چلائی اور کئی بار اسی سلسلے میں جیل میں چلا گیا۔ آپ 9 جنوری 2005ء کو اپنے گھر سے نماز ظہر پڑھانے کیلئے مسجد کی طرف جاتے ہوئے نامعلوم افراد کے حملے میں زخمی ہوئے اور 14 جنوری 2005ء کو شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔

تعارف

سید ضیا الدین رضوی بن سید فاضل شاہ رضوی پاکستان کے صوبہ گلگت بلتستان کے مرکزی شہر گلگت کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔[1][نوٹ 1]

آپ کے والد سید فاضل شاہ رضوی ایک شیعہ عالم دین تھے۔ آپ کی والدہ بھی گلگت کے رضوی سادات خاندان سے تھیں اور آپ کے نانا شیعہ اور اہل سنت دونوں کے نزدیک قابل احترام تھے۔ اسی طرح آپ کے والد بھی ایک متقی اور پرہیزگار شخص تھے۔[2]

شہید سید ضیاء الدین رضوی نے دو شادیاں کیں۔ پہلی شریک حیات سے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا (حسین) پیدا ہوئے مگر ان کی وفات کے بعد دوسری شادی کی کہ جن سے دو بیٹے علی اور حسن پیدا ہوئے۔ [3]

تعلیمی سفر

سید ضیاء الدین رضوی نے ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے گھر سے کیا اور میٹرک تک کی تعلیم اپنے آبائی شہر گلگت کے ہائی سکول سے حاصل کی۔ 1974ء میں آپ نے دینی تعلیم کے حصول کے لیے شیعہ دینی درسگاہ جامعۃ المنتظر لاہور میں داخلہ لیا کہ جس کے بانی اور پرنسپل سید صفدر حسین نجفی تھے۔[4] یہاں پر آپ کے اساتذہ میں شیخ اختر عباس نجفی، سید صفدر حسین نجفی، محمد شفیع نجفی، حافظ ریاض حسین نجفی اور موسیٰ بیگ نجفی تھے کہ جن سے آپ نے کسب فیض کیا۔ 1980ء میں مقدمات کی تکمیل کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری بھی حاصل کی۔ اس کے بعد مزید دینی تعلیم کے حصول کیلئے حوزہ علمیہ قم روانہ ہو گئے۔[5]

حوزہ علمیہ قم

سید ضیاء الدین رضوی 1980ء کو حوزہ علمیہ قم میں تشریف لائے۔ یہاں آپ نے مختلف اساتذہ سے کسب فیض کیا کہ جن میں آیت اللہ فاضل لنکرانی، آیت اللہ میرزا جواد تبریزی اور آیت اللہ سید حسن طاہری خرم آبادی سر فہرست ہیں۔ آپ دس سال تک حوزہ علمیہ قم میں تحصیل علم میں مشغول رہے اور اس دوران تدریس کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔[6]آپ کو امام خمینیؒ کی جانب سے وجوہات شرعیہ کو صَرف کرنے کا اجازہ بھی عطا کیا گیا تھا۔[7]

فلاحی اور سماجی خدمات

سیاسی سرگرمیاں

سید ضیاء الدین یوں تو گلگت شہر کے شیعوں کا مذہبی اور سیاسی رہنما سمجھے جاتے تھے لیکن تحریک جعفریہ پاکستان گلگت بلتستان کی ذمہ داری اہم سیاسی فعالیتوں میں سے شمار کی جاتی ہے۔ [حوالہ درکار]

تدریس اور تبلیغ

آپ نے اپنی طالب علمی کے دور سے ہی تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تھا اور مولانا صفدر حسین نجفی کے حکم پر دو سال تک لندن میں بھی تدریس و تبلیغ کے فرائض انجام دئیے۔ پھر اپنے علاقے گلگت شہر میں واپس آ کر مدرسہ جعفریہ میں پرنسپل کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ گلگت کی مرکزی جامع مسجد میں امامت کے فرائض بھی انجام دینے لگے۔ اسی طرح علاقے میں اہل تشیع کی قیادت بھی آپ کے ہاتھ میں تھی۔[8] ایران میں اسلامی انقلاب آنے کے بعد آپ امام خمینیؒ کے نظریہ ولایت فقیہ کے حامی اور مروج تھے اور خود کو ولی فقیہ کا تابعدار قرار دیتے تھے۔[9] جب 1979ء میں اسلامی انقلاب کامیاب ہوا تو آپ حوزہ علمیہ قم میں داخل ہوئے تھے۔ اس دوران ولایت فقیہ کی اطاعت میں آپ نے ایران عراق جنگ میں بھی شرکت کی۔[10]

دینی مکاتب اور مدرسوں کا قیام

گلگت امامیہ جامع مسجد جو سید ضیاء الدین رضوی نے تعمیر کروائی

آپ نے گلگت، ہنزہ، جلال آباد اور دیگر بہت سے علاقوں اور دیہاتوں میں دینیات سنٹرز قائم کئے تاکہ وہاں کے بچے قرآن مجید اور اہل بیتؑ کی تعلیمات سے محروم نہ رہیں۔ جامعۃ الزہرا کا قیام اور دیگر دینی مدارس کی سرپرستی بھی آپ کی خدمات میں سے ہیں۔ آپ نے 8 دینی مدرسے اور 20 سے زیادہ مکاتب کی تاسیس کی۔ گلگت کی جامع مسجد کی تعمیر کے علاوہ مختلف علاقوں میں مساجد بھی تعمیر کروائیں۔[11]

تعمیر ملت پروگرام

سید ضیاء الدین رضوی کی جانب سے جامع مسجد گلگت کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے وہاں کے سابقہ امام جماعت سید عباس علی شاہ حسینی نجفی نے مذہب اہل بیتؑ کی تبلیغ اور ترویج اور لوگوں کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کے لئے بہت سے امور انجام دئیے تھے۔ ان امور میں سے ایک اقتصادی نظام کا قیام تھا۔ یہ اقتصادی نظام بغیر کسی خاص نام کے چل رہا تھا لیکن سید ضیاء الدین رضوی نے 1989ء میں مرکزی امامیہ مسجد گلگت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد باقاعدہ طور پر انتخابات کے ذریعے مسجد کمیٹی بنائی۔ اس نظام کو تعمیر ملت پروگرام کا نام دیا۔ جس میں ہر گھرانے کا سربراہ روزانہ ایک روپیہ جمع کرتا تھا اور اس کے ذریعے آپ نے بہت سے فلاحی ادارے قائم کیے۔ سید کی شہادت کے بعد اس منصوبے کو اس وقت سید راحت حسین الحسینی چلا رہے رہیں۔[12]

شادی بیاہ کے رسومات کی اصلاح

سید ضیاء الدین رضوی کے گلگت آنے سے پہلے علاقے میں شادی بیاہ کی تقریبات میں دین اسلام کے منافی بعض رسومات رائج تھیں۔ اسی طرح پرتکلف ولیموں کا اہتمام کیا جاتا تھا کہ جو غریب گھرانوں کے بس میں نہیں تھا۔ اسی لیے آپ نے ان سب کو ختم کر کے شادیوں کو سادہ طریقے سے کرنے کے لیے صرف نکاح پڑھ کر ازدواجی زندگی شروع کرنے کا رواج عام کیا جس کی بنا پر مالی مشکلات سے دوچار افراد صرف نکاح پر ہی اکتفاء کرنے لگے۔[13]

متنازعہ نصاب تعلیم کے خلاف تحریک

آپ نے اپنی عمر کے آخری سالوں میں پاکستان کے درسی نصاب کی کتابوں میں شیعہ تاریخ اور عقائد کے منافی مطالب کو الگ سے ایک پمفلٹ میں درج کیا اور پاکستانی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ یہ مواد یا کتابوں سے ہٹا دیا جائے اور تمام مسالک کا متفقہ نصاب تدوین کیا جائے، ورنہ شیعوں کے لیے سکولوں میں ایک الگ نصاب منظور کیا جائے کیونکہ پاکستان کے آئین کے مطابق ہر شخص اپنے عقیدے کے تحت تعلیم حاصل کرنے اور جینے کا حق رکھتا ہے۔بالآخر 3 جون سنہ 2004ء کو عوام نے آغا ضیاء الدین رضوی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حکومت کی اس سازشی پالیسی کے خلاف زبر دست احتجاج کیا اور اس احتجاج کو روکنے کے لئے فورسز نے طلباء پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجہ میں واجد حسین نامی ایک جوان شہید ہو گیا۔ آپ نے اسی سلسلے میں تحریک شروع کی اور کئی سال تک اس تحریک کے تحت جدوجہد کی اور بعض کامیاب مذاکرات بھی انجام پائے۔ اسی طرح اہل سنت کے بعض افراد نے بھی آپ کے مطالبات کی حمایت کی مگر پاکستان کے دوسرے علاقوں کے شیعہ اکابر وعلماء نے کھلے لفظوں آپ کی حمایت نہیں کی اور یہی تحریک آپ کے قتل کا سبب بھی بنی۔[14]

تالیفات

امامیہ جامع مسجد گلگت کے صحن میں شہید سید ضیاء الدین رضوی کا مقبرہ

آپ کی تحریر کردہ کتابوں میں سے مندرجہ ذیل تین کتابیں زیور طبع سے آراستہ ہوچکی ہیں:[15]

عبد اللہ ابن سبا ایک افسانوی کردار۔ 2۔ صحابہ در سایہ آیات و روایات۔ 3۔ آئینہ حقیقت۔

شہادت

9 جنوری 2005ء کو دن کے تقریبا 12 بجے آپ نماز ظہر پڑھانے کیلئے گلگت جامع مسجد کی طرف روانہ ہونے کیلئے اپنے گھر سے نکلے۔ راستے میں اچانک آپ کی گاڑی پر حملہ ہوا کہ جس کے نتیجے میں آپ کے دو باڈی گارڈ حسین اکبر اور عباس علی موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ تیسرا گارڈ شدید زخمی ہوا۔ آپ کو وہاں سے راولپنڈی لایا گیا لیکن آپ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 14 جنوری کو اپنے گارڈ سمیت شہید ہو گئے۔ آپ کو جامع مسجد گلگت کے صحن میں سپرد خاک کیا گیا ہے۔[16]

حوالہ جات

  1. انجم، غلام حسین، شیعیت گلگت میں، ص 150۔
  2. رجائی، محمد علی حسن، بررسی شخصیت شہید ضیاء الدین، ص 10۔
  3. قیصر، محبت حسین، شہدائے گلگت بلتستان، ص 502۔
  4. ماہنامہ ہادی، 2008، ص 8۔
  5. رجائی، محمد علی حسن، بررسی شخصیت شہید ضیاء الدین، ص13۔
  6. رجائی، محمد علی حسن، بررسی شخصیت شہید ضیاء الدین، ص17۔
  7. خمینی، روح الله، صحیفہ امام، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی،1367ش۔ جلد 21، ص243۔
  8. انجم،غلام حسین، شیعیت گلگت میں، ص153۔
  9. زندگی نامہ شہید سید ضیاء الدین رضوی، طلاب شمالی علاقہ جات حوزہ علمیہ قم، ص 13۔
  10. حوزہ ویب سائٹ مشاہدہ کی تاریخ 25 دسمبر 2018
  11. رجائی، محمد علی حسن، بررسی شخصیت شہید ضیاء الدین، ص 52۔
  12. زندگی نامہ سید ضیاءالدین رضوی،طلاب شمالی علاقہ جات حوزہ علمیہ قم،ص7
  13. عین الحیات، مقالہ،شہید علامہ سید ضیاءالدین کی مختصر سوانح حیات، جامعہ روحانیت بلتستان کی ویب سائٹ مشاہدہ کی تاریخ،23 دسمبر 2018
  14. رجائی، محمد علی حسن، بررسی شخصیت شہید ضیاء الدین، ص 83 و 84۔
  15. عین الحیات، مقالہ، شہید علامہ سید ضیاءالدین کی مختصر سوانح حیات، جامعہ روحانیت بلتستان کی ویب سائٹ۔
  16. http://rondu.org/index.php/60-2011-02-27-10-34-55/923-zeya-ud-din-razavi
  1. گلگت کا علاقہ پاکستان کے شمال میں واقع دنیا کے تین معروف بلند پہاڑی سلسلوں؛ کوہ ہمالیہ، کوہ ہندوکش اور کوہ قراقرم کے وسط میں ہے اور اسے گلگت بلتستان کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ گلگت کے شمال مغرب میں افغانستان اور شمال مشرق میں چین کا بارڈر ہے۔

مآخذ

  • انجم،غلام حسین ،شیعیت گلگت میں ،ناشر،خیرالناس ویلفیرٹرسٹ دنیور گلگت۔
  • خمینی، روح الله، صحیفہ امام، تہران: مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی،1367شمسی ہجری۔پورتال امام خمینی
  • رجائی، محمد علی حسن، بررسی شخصیت شہید ضیاء الدین؛
  • زندگی نامہ سید ضیاءالدین رضوی،طلاب شمالی علاقہ جات حوزہ علمیہ قم،ص7موسسہ امام زمانہ نگر کی ویب سائٹ
  • سخنرانی حجت الاسلام سید راحت حسینی، مدرسہ امام علی علیہ السلام قم، سال 2010؛
  • عین الحیات، مقالہ،شہید علامہ سید ضیاءالدین کی مختصر سوانح حیات، جامعہ روحانیت بلتستان کی ویب سائٹ
  • ماہنامہ ہادی، کراچی، 2008ء؛
  • شہداء گلگت بلتستان ،محبت علی قیصر ، R.S پبلی کیشنز راولپنڈی
  • مجمع علماء روندو بلتستان کی ویب سائٹ