سجدہ تلاوت

ویکی شیعہ سے

سجده تلاوت، سے مراد وہ سجدہ ہے جو قرآن مجید کی سجدہ والی آیت کی قرائت یا اسے سننے کے بعد مستحب یا واجب ہوجاتا ہے۔[1] شیعہ فقہاء کے فتوا کے مطابق سورہ سجدہ کی آیت15، سورہ فصلت کی آیت37، سورہ نجم کی آیت 62 اور سورہ علق کی آیت19 کی قرائت یا اسے سننے کے بعد سجدہ کرنا واجب ہے۔[2] اسی طرح صاحب جواہر کےمطابق قرآن کی کل 11 آیات کی قرائت کے بعد سجدہ کرنا مستحب ہے۔[3] مستحب والے سورے اور آیات یہ ہیں: سورہ اعراف آیت206، سورہ رعد، سورہ نحل آیت 49،50، سورہ اسراء آیت 109، سورہ مریم آیت58، سورہ حج آیت 18،77، سورہ فرقان آیت60، سورہ نمل آیت26، سورہ ص آیت24 اورسورہ انشقاق آیت21.[4] جو بات شیخ صدوق سے منسوب ہے اس کے مطابق مذکورہ سورتوں کی آیات میں میں لفظ «سجده» موجود ہونے کی وجہ سے ان آیات کی تلاوت یا انہیں سننے کے بعد سجدہ کرنا مستحب ہوجاتا ہے۔[5]


ذکر سجده قرآن

«لا اِلهَ اِلَّا اللهُ حَقًّا حَقًّا، لا اِلهَ اِلَّا اللهُ ایماناً وَ تَصْدیقاً، لا اِلهَ اِلَّا اللهُ عُبُودِیةً وَرِقّاً، سَجَدْتُ لَک یا رَبِّ تَعَبَّداً وَرِقّاً، لا مُسْتَنْکفاً وَ لا مُسْتَکبِراً، بَلْ اَنَا عَبْدٌ ذَلیلٌ ضَعیفٌ خائفٌ مُسْتَجیرٌ»

طباطبایی یزدی، العروة الوثقی، 1419ھ، ج2، ص584

سجدہ تلاوت اوراس کے احکام کے بارے میں کتب فقہی کے باب طہارت[6] اور باب نماز[7] میں بحث ہوتی ہے۔ اس کے بعض احکام یہ ہیں:

  • قرآن مجید کا سجدہ واجب فورا ادا کرنا واجب ہے؛ اس لیے سُوَر عزائم کی سجدہ والی آیات کی تلاوت یا انہیں سننے کے بعد بغیر فاصلے کے سجدہ کرنا واجب ہے۔[8]
  • سجدہ تلاوت انجام دیتے وقت وضو، غسل کے ساتھ ہونا، قبلہ رخ ہونا اور کوئی خاص ذکر پڑھنا شرط نہیں؛ لیکن پیشانی کو اس جگہے پر رکھنا ضروری جس پر سجدہ کرنا صحیح ہو۔[9] البتہ بعض احادیث میں کچھ خاص اذکار نقل ہوئے ہیں۔[10]
  • اگر مجنب شخص اور حائض عورت سجدہ والی آیات کی تلاوت سن لیں تب بھی سجدہ کرنا واجب ہے۔[11] البتہ فقہاء کے فتوا کے مطابق مجنب[12] اور حائض عورت پر سور عزائم[13] پڑھنا حرام ہے۔
  • اگر کوئی شخص بھول کر سور عزائم میں سے کسی ایک سورے کی تلاوت شروع کرے، اس صورت میں اگر سجدہ والی آیت پر پہنچنے سے پہلے یا آدھا سورہ پڑھنے سے پہلے یاد آجائے تو اس صورت میں سجدہ کیسے کیا جائے اور نماز کے باقی حصوں کو کیسا پڑھا جائے؛ فقہاء کے مابین اختلاف ہے۔[14] امام خمینیؒ کا فتوا یہ ہے کہ اس صورت میں اشارے سے سجدہ کیا جائے اور سجدہ والا سورہ پڑھنے پر اکتفا کیا جائے۔[15] اسی طرح آیت‌ اللہ سیستانی اور سید موسی شبیری زنجانی کے فتوا کےمطابق اگر نمازی سجدہ واجب کو بجا نہ لائے تو اس کی نماز صحیح ہے البتہ وہ گناہ کار محسوب ہوگا۔[16] شیعہ فقہاء کے فتوا کے مطابق اگر کوئی جان بوجھ کر عزائم والے سوروں میں سے کسی ایک کو واجب نمازوں میں پڑھ لے تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی۔[17]

حوالہ جات

  1. مؤسسه دائرة المعارف فقه اسلامی بر مذهب اهل‌بيت(ع)، فرهنگ فقه مطابق مذهب اهل‌بیت علیهم السلام، 1392–1395ہجری شمسی، ج4، ص391.
  2. طباطبایی یزدی، العروة الوثقی، 1419ھ، ج2، ص566.
  3. نجفی، جواهرالکلام، 1362ہجری شمسی، ج10، ص216.
  4. طباطبایی یزدی، العروة الوثقی، 1419ھ، ج2، ص566-568.
  5. نجفی، جواهرالکلام، 1362ہجری شمسی، ج10، ص216.
  6. ملاحظہ کریں: طباطبایی یزدی، العروة الوثقی، ج1، ص510 و ص603
  7. ملاحظہ کریں: طباطبایی یزدی، العروة الوثقی، 1419ھ، ج2، ص568.
  8. طباطبایی یزدی، العروة الوثقی، 1419ھ، ج2، ص568.
  9. طباطبایی یزدی، العروة الوثقی، 1419ھ، ج2، ص582-583.
  10. طباطبایی یزدی، العروة الوثقی، 1419ھ، ج2، ص584.
  11. طباطبایی یزدی، العروة الوثقی، 1419ھ، ج2، ص583.
  12. طباطبایی یزدی، العروة الوثقی، 1419ھ، ج1، ص510.
  13. طباطبایی یزدی، العروة الوثقی، 1419ھ، ج1، ص603.
  14. امام خمینی، توضیح المسائل(محشی)، 1424ھ، ج1، ص546-545، حواشی م984.
  15. امام خمینی، توضیح المسائل(محشی)، 1424ھ، ج1، ص545، م984.
  16. امام خمینی، توضیح المسائل(محشی)، 1424ھ، ج1، ص546، حواشی م984.
  17. طباطبایی یزدی، العروة الوثقی، 1419ھ، ج2، ص580؛ امام خمینی، توضیح المسائل(محشی)، 1424ھ، ج1، ص545، م983.

مآخذ

  • امام خمینی، سید روح‌الله، توضیح المسائل(محشی)، تصحیح سید محمدحسین بنی هاشمی خمینی، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابسته به جامعه مدرسین حوزه علمیه قم، 1424ھ.
  • بنی‌هاشمی خمینی، سید محمدحسن، توضیح المسائل مراجع، قم، دفتر نشر اسلامی، 1368ہجری شمسی.
  • طباطبایی یزدی، سید محمدکاظم، العروة‌الوثقی، مؤسسة النشر الاسلامی، 1419ھ.
  • طریحی، فخرالدین، مجمع‌البحرین، تحقیق سید احمد حسینی، تهران، کتاب‌فروشی مرتضوی، 1416ھ.
  • طوسی، محمد بن حسن، تهذیب‌الاحکام، تحقیق حسن خرسان موسوی، تهران، دارالکتب العلمیه، 1406ھ.
  • نجفی، محمدحسن، جواهرالكلام فی شرح شرائع‎ الاسلام، تحقیق عباس قوچانی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1362ہجری شمسی.
  • مؤسسه دائرة المعارف فقه اسلامی بر مذهب اهل‌بیت(ع)، فرهنگ فقه مطابق مذهب اهل‌بیت علیهم السلام، قم، مؤسسه دائرة المعارف فقه اسلامی بر مذهب اهل‌بيت(ع)، 1392–1395ہجری شمسی.