مسودہ:مسجد ابوذر (تہران)
| ابتدائی معلومات | |
|---|---|
| استعمال | عبادی، سیاسی، ثقافتی ، سماجی |
| محل وقوع | تہران (ایران) |
| مربوط واقعات | سنہ 1981ء میں ایران کے دوسرے رہبر سید علی حسینی خامنہ ای پر ناکام قاتلانہ حملہ |
| مشخصات | |
| موجودہ حالت | فعال |
| سہولیات | مسجد • دینی درسگاہ • کتب خانہ • بچوں کا تربیتی مرکز |
| معماری | |
| ویب سائٹ | https://abozar.net |
جامع مسجد ابوذر جنوب مغربی تہران کی ایک مسجد ہے جو فلاح (ابوذر) نامی محلے میں واقع ہے۔[1] یہ محلہ ایران میں سب سے زیادہ شہداء رکھنے کا ریکارڈ رکھتا ہے؛ 4200 سے زائد شہداء کا تعلق اسی محلے سے ہے، اسی وجہ سے اسے دار الشہداءِ تہران کا نام دیا گیا ہے۔[2]
27 جون سنہ 1981ء کو اسی مسجد میں تہران کے امام جمعہ سید علی حسینی خامنہ ای کے خلاف ایک ناکام قاتلانہ حملہ کیا گیا۔[3] ایک ٹیپ ریکارڈر کے اندر نصب کیا گیا بم، سید علی خامنہ ای کی تقریر کے دوران پھٹ گیا اور وہ زخمی ہوگئے۔[4] دعویٰ کیا گیا کہ یہ حملہ ’’رہروانِ فرقان‘‘ نامی گروہ (گروہِ فرقان کے باقی ماندہ ارکان) نے کیا تھا،[5] تاہم بعض لوگوں نے اس حملے کی نسبت مجاہدینِ خلق تنظیم کی طرف بھی کی ہے۔[6]

اس مسجد کی امامتِ جماعت کی ذمہ داری سنہ 1975ء سے رضا مطلبی نامی عالم دین کے پاس تھی۔ ان کی کوششوں سے مسجد کے ساتھ ایک ایمفی تھیٹر، کتب خانہ، حوزہ علمیہ ابوذر اور بچوں کا ایک تربیتی مرکز بھی قائم کیا گیا۔[7] امام جماعت مطلبی کے مطابق، سید علی حسینی خامنہ ای کی قرآن کی اہمیت اور مساجد میں اس کے مطالعے کی ضرورت کے بارے میں ایک تقریر کے بعد، اس مسجد میں ہر ہفتے چار راتیں قرآن اور تفسیر کے جلسے منعقد ہوتے ہیں۔[8]
ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی مسجدِ ابوذر اپنی ثقافتی، سماجی اور قرآنی سرگرمیوں کا مرکز رہی اور تہران میں اس علاقے کی مذہبی اور سرکاری تقریبات اسی مسجد میں منعقد ہوتی ہیں۔[9] مطلبی کے مطابق، سید علی خامنہ ای مسجدِ ابوذر کو ’’ہماری اپنی جامع مسجد‘‘ کے عنوان سے یاد کرتے ہیں۔[10]
ایران میں دسمبر 2025ء کے واقعات کے دوران اس مسجد اور اس میں موجود قرآنی نسخوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا، تاہم مسجد کی سرگرمیاں بند نہیں ہوئیں۔[11]
حوالہ جات
- ↑ «مستند نگاری، مسجد جامع ابوذر (فلاح)»، پایگاہ تخصصی مسجد۔
- ↑ «روایتی از مسجد ابوذر در مسیر انقلاب»، شبستان؛ «صفحہ نخست»، مسجد جامع ابوذر منطقہ ۱۷ تہران۔
- ↑ «آقا از مسجد جامع ابوذر با عنوان مسجد جامع خودمان یاد کردند»، سازمان تبلیغات اسلامی۔
- ↑ «مستند نگاری، مسجد جامع ابوذر (فلاح)»، پایگاہ تخصصی مسجد۔
- ↑ «مستند نگاری، مسجد جامع ابوذر (فلاح)»، پایگاہ تخصصی مسجد۔
- ↑ «درنگی بر چرایی حادثہ تروریستی ششم تیر ماہ مسجد ابوذر»، مؤسسہ مطالعات و پژوہشہای سیاسی۔
- ↑ «مستند نگاری، مسجد جامع ابوذر (فلاح)»، پایگاہ تخصصی مسجد؛ «صفحہ نخست»، مسجد جامع ابوذر منطقہ ۱۷ تہران۔
- ↑ «روایتی از مسجد ابوذر در مسیر انقلاب»، شبستان؛ «شبہہای کہ رہبری قبل از ترور برطرف کرد»، جماران۔
- ↑ «روایتی از مسجد ابوذر در مسیر انقلاب»، شبستان۔
- ↑ «آقا از مسجد جامع ابوذر با عنوان مسجد جامع خودمان یاد کردند»، سازمان تبلیغات اسلامی۔
- ↑ «روایتی از ابوذر، مسجد نیمہسوختہای کہ ہمچنان پابرجاست»، ایرنا۔
مآخذ
- «آقا از مسجد جامع ابوذر با عنوان مسجد جامع خودمان یاد کردند»(آقا (رہبر) نے مسجدِ جامع ابوذر کو ’’ہماری اپنی مسجدِ جامع‘‘ کے عنوان سے یاد کیا)، ادارہ تبلیغات اسلامی، تاریخ درج مطلب: 27 جون 2022ء، تاریخ مشاہدہ: 10 فروری 2026ء۔
- «درنگی بر چرایی حادثہ تروریستی ششم تیر ماہ مسجد ابوذر»(مسجدِ ابوذر میں 1981ء کے دہشت گردانہ واقعے کی وجوہات پر گفتگو)، سیاسی مطالعات و تحقیقات کا ادارہ، تاریخ مشاہدہ: 10 فروری 2026ء۔
- «روایتی از ابوذر، مسجد نیمہسوختہای کہ ہمچنان پابرجاست»(فلم: مسجد ابوذر کی داستان؛ آدھی جلی ہوئی مسجد جو اب بھی قائم ہے)، ایرنا، تاریخ درج مطلب: 16 جنوری 2026ء، تاریخ مشاہدہ: 10 فروری 2026ء۔
- «روایتی از مسجد ابوذر در مسیر انقلاب»(انقلاب کے سفر میں مسجدِ ابوذر کی ایک داستان)، شبستان، تاریخ درج مطلب: 27 جون 2018ء، تاریخ مشاہدہ: 10 فروری 2026ء۔
- «شبہہای کہ رہبری قبل از ترور برطرف کرد»(وہ شبہہ جسے رہبرِ انقلاب نے دہشت گردانہ حملے سے پہلے دور کر دیا، اصلی بمب نہیں پھٹا)، جماران، تاریخ درج مطلب: 27 جون 2014ء، تاریخ مشاہدہ: 10 فروری 2026ء۔
- «صفحہ نخست»، مسجد جامع ابوذر منطقہ ۱۷ تہران، تاریخ مشاہدہ مطلب: 10 فروری 2026ء۔.
- «مستند نگاری، مسجد جامع ابوذر (فلاح)»(مستندنگاری مسجدِ جامع ابوذر (فلاح))، مسجد کا خصوصی تحقیقی مرکز، تاریخ درج مطلب: 19 نومبر 2024ء، تاریخ مشاہدہ: 10 فروری 2026ء۔