مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:سورہ لقمان آیت نمبر 19

ویکی شیعہ سے

سورۂ لقمان آیت نمبر 19 میں لقمان کی اپنے بیٹے کو کی گئی نصیحتوں میں سے دو نصیحتیں بیان ہوئی ہیں: چلنے میں میانہ روی اختیار کرنا اور گفتگو کے دوران آواز دھیمی رکھنا۔

وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ ۚ إِنَّ أَنكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ ‎﴿١٩﴾‏‏‏
اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو اور اپنی آواز پست رکھو۔ بے شک سب آوازوں میں سب سے ناگوار آواز گدھوں کی ہے۔



سورۂ لقمان، آیت 19

پہلی نصیحت میں لقمان اپنے بیٹے کو چلنے میں اعتدال اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں؛ یعنی نہ بہت تیز چلے اور نہ اس قدر آہستہ کہ سستی کا شکار ہو۔[1] بعض مفسرین نے اس نصیحت کا مفہوم چلنے میں تواضع اختیار کرنا اور تکبر سے بچنا بیان کیا ہے۔[2] بعض دوسرے مفسرین کے نزدیک یہ ہدایت صرف چلنے تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے تمام معاملات میں اعتدال اختیار کرنے کے ایک عمومی اصول کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس لحاظ سے چلنے میں میانہ روی، اعتدال کے مظاہر میں سے ایک ہے۔[3]

دوسری نصیحت گفتگو کے دوران آواز دھیمی رکھنے سے متعلق ہے۔ اس آیت میں گدھوں کی آواز کو سب سے ناگوار آواز قرار دیا گیا ہے۔[4] بعض مفسرین کے مطابق اس تعبیر سے اس تصور کی تردید ہوتی ہے جس کے مطابق بلند آواز کو انسان کی عظمت اور بلند مرتبے کی علامت سمجھا جاتا تھا۔[5] تفسیر المراغی میں بھی ذکر ہوا ہے کہ عربوں میں بلند آواز سے بولنے کو فخر اور برتری کا اظہار سمجھا جاتا تھا۔[6]

امام صادقؑ سے منقول ایک روایت میں بلند اور ناگوار آواز کے ساتھ چھینکنے کو بھی اس آیت کے مصادیق میں شمار کیا گیا ہے۔[7] ایک دوسری روایت میں آپؑ نے دعا اور تلاوت قرآن کے دوران آواز بلند کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔[8]

حوالہ جات

  1. ↑ لاہیجی، تفسیر لاہیجی، ج3، ص582۔
  2. ↑ شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج8، ص281؛ سیوطی، الدر المنثور، ج5، ص167۔
  3. ↑ فخر رازی، تفسیر الکبیر، ج25، ص122؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج17، ص56–58۔
  4. ↑ نجفی خمینی، تفسیر آسان، ج16، ص12۔
  5. ↑ کاشانی، منہج الصادقین، ج7، ص212۔
  6. ↑ مراغی، تفسیر المراغی، دار احیاء التراث العربی، ج21، ص87۔
  7. ↑ کلینی، الکافی، ج2، ص656۔
  8. ↑ طبرسی، مجمع البیان، ج8، ص501؛ نجفی خمینی، تفسیر آسان، ج16، ص12۔

مآخذ

  • سیوطی، جلال‌الدین، الدر المنثور فی تفسیر المأثور، قم، کتابخانہ آیۃ اللہ مرعشی نجفی، 1404ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، تحقیق: قصیرعاملی، احمد، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بے تا۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ: بلاغی‏، محمد جواد، تہران، ناصر خسرو، تیسری اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق و مصحح: غفاری، علی اکبر، آخوندی، محمد، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
  • لاہیجی، محمد بن علی، تفسیر شریف لاہیجی، تحقیق: حسینی ارموی، میر جلال الدین، تہران، دفتر نشر داد، پہلی اشاعت، 1373ہجری شمسی۔
  • مراغی، احمد بن مصطفی، تفسیر المراغی، بیروت، داراحیاء التراث العربی، بے تا۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔
  • نجفی خمینی، محمد جواد، تفسیر آسان، انتشارات تہران، اسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1398ھ۔