مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:امام علی نقیؑ کا اہل اہواز کے نام خط

ویکی شیعہ سے
امام علی نقیؑ کا اہل اہواز کے نام خط
دیگر اسامیرسالة فی الرد على أهل الجبر و التفويض و اثبات العدل و المنزلة بين المنزلتين • مِمَّا أَجابَ بِهِ أَبُو الْحسنِ عليُّ بْنُ مُحَمَّدٍ العسكَرِیُّ(ع) فی رسالَتِهِ إِلى أَهْلِ الْأَهوازِ حِينَ سَأَلُوهُ عَنِ الْجَبْرِ وَ التَّفْوِيضِ
زمان صدورتیسری صدی ہجری
صادرہ ازامام علی نقیؑ
مخاطباہالیان شہر اہواز
زبانعربی
موضوعنظریہ جبر و تفویض کا رد اور امر بین الامرین کا اثبات
سندمرسل
شیعہ منابعتحف العقول • الاحتجاج

امام علی نقیؑ کا اہل اہواز کے نام خط ایک کلامی رسالہ ہے جس میں جبر و اختیار کے مسئلے پر گفتگو کی گئی ہے اور اسے امام علی نقیؑ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ خط دو کتابوں تُحَفُ العقول اور الاِحتجاج میں نقل ہوا ہے۔ اس میں قرآن مجید اور اہل بیتؑ کی روایات پر مبنی عقلی دلائل پیش کرتے ہوئے جبر اور تفویض دونوں نظریات پر تنقید کی گئی ہے اور امر بین الامرین کو مکتبِ امامیہ کا نظریہ قرار دے کر اس کی وضاحت کی گئی ہے۔

آقا بزرگ تہرانی کے مطابق، یہ رسالہ اس موضوع پر شیعہ مکتبِ فکر کی ابتدائی مستقل تصانیف میں شمار ہوتا ہے اور بعد کے شیعہ علماء کے لیے جبر و تفویض کی تردید اور امر بین الامرین کی تشریح کے سلسلے میں متعدد کتابیں تحریر کرنے کے سلسلے میں زمینہ فراہم کرنے کا سبب بنا۔

اہمیت اور پس منظر

امام علی نقیؑ کا اہلِ اہواز کے نام خط، جبر و اختیار کے مسئلے میں ائمہؑ کے نظریے کو بیان کرتا ہے۔[1] اس خط میں قرآن و عترت سے ماخوذ عقلی دلائل کے ذریعے جبر اور تفویض دونوں نظریات کو رد کیا گیا ہے اور امامیہ کے نظریے، یعنی امر بین الامرین کو واضح کیا گیا ہے۔[2]

شیعہ کتاب شناس آقا بزرگ تہرانی (متوفی: 1389ھ) کے مطابق، اسلامی تاریخ میں امام علی نقیؑ وہ اولین شخصیت ہیں جن سے جبر و اختیار کے بارے میں سوال کیا گیا اور آپؑ نے اس کے جواب میں ایک مستقل رسالہ تحریر فرمایا۔[3] اس خط کی تحریر ہونے کا پس منظر یہ تھا کہ امام علی نقیؑ کے دور میں جبر و اختیار کے مسئلے سے متعلق شبہات میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اس کی ایک وجہ اشاعرہ اور معتزلہ کی فکری سرگرمیاں تھیں، جبکہ دوسری طرف نہضت ترجمہ کے دوران غیر مسلم مفکرین کی انسان کے مقدر اور اختیار سے متعلق کتابوں کے عربی میں تراجم بھی بڑی تعداد میں ہونے لگے تھے۔ ان فکری مباحث کا شیعہ حلقوں پر اثر پڑ رہا تھا۔[4]

آقا بزرگ تہرانی کے مطابق، امام علی نقیؑ کی جانب سے اس رسالے کی تحریر کے بعد شیعہ علماء کی ایک جماعت نے جبر اور تفویض کے رد اور امر بین الامرین کے اثبات کے لیے مختلف علمی آثار تحریر کیے۔[5] انہوں نے خلیل بن اشرف قائنی اصفہانی (متوفیٰ: 1136ھ) کی کتاب «نور البصر بحلِّ مسألة الجبر والقدر» کا بھی ذکر کیا ہے، جس میں امام علی نقیؑ کے اس رسالے کی شرح و توضیح کی گئی ہے۔[6]

امام علی نقیؑ کے اہلِ اہواز کے نام خط میں عقیدہ تفویض کا رد:
اگر خداوندِ متعال نے لوگوں کو یوں ہی آزاد چھوڑ کر، بغیر کسی ذمہ داری اور تکلیف کے، تمام معاملات ان کے سپرد کر دیے ہوتے تو پھر اس پر لازم آتا کہ وہ ان کے اختیار کردہ ہر کام پر راضی ہو، انہیں اپنی طرف سے اجر و ثواب کا مستحق قرار دے اور ان کے جرائم پر بھی کوئی سزا نہ دے؛ کیونکہ اس صورت میں اس نے انہیں خود ہی ان کے حال پر چھوڑ دیا ہوتا۔ اس بات کے دو ہی ممکنہ مفہوم ہیں: ایک یہ کہ بندے خداوندِ متعال پر غالب آگئے اور اسے مجبور کر دیا کہ وہ ان کی خواہش اور رائے کے مطابق، چاہے وہ اسے پسند ہو یا نہ ہو، ان کے انتخاب کو قبول کرے۔ اس صورت میں خداوندِ متعال کے لیے کمزوری اور بے بسی لازم آئے گی۔ دوسرا یہ کہ خداوندِ عزوجل اپنے بندوں کو بندگی کی طرف لانے اور اپنے احکام و اوامر و نواہی کو ان پر نافذ کرنے سے، خواہ وہ اسے چاہیں یا نہ چاہیں، عاجز و بے بس ہو۔۔۔[7]

حدیث شناسی کے حوالے سے معلومات

یہ خط چوتھی صدی ہجری کی حدیثی کتاب تحف العقول اور چھٹی صدی ہجری کی حدیثی کتاب الاحتجاج میں نقل ہوا ہے۔ بعد کی کتابوں، مثلاً بحارالانوار میں بھی اسے انہی دونوں کتابوں سے نقل کیا گیا ہے۔[8] تحف العقول میں یہ خط اس عنوان کے تحت نقل ہوا ہے: «رسالةٌ فی الرّد علی أہل الجبر و التفویض و اثبات العدل و المنزلة بین المنزلتین»۔[9] جبکہ الاحتجاج میں اسے اس عنوان سے نقل کیا گیا ہے: «مما أجاب بہ أبو الحسن علي بن محمد العسکري علیہ السلام في رسالتہ إلى أہل الأہواز حين سألوہ عن الجبر والتفويض»۔[10]

امام علی نقیؑ کے اہلِ اہواز کے نام خط میں جبر پسندی کا رد:
وہ جبر جس کا عقیدہ رکھنے والا شخص خطا پر ہے، یہ ہے کہ کوئی شخص یہ گمان کرے کہ خداوندِ عزوجل نے اپنے بندوں کو گناہوں اور نافرمانیوں پر مجبور کیا ہے اور پھر انہی گناہوں کی وجہ سے انہیں سزا بھی دیتا ہے۔ جو شخص ایسا عقیدہ رکھتا ہے وہ درحقیقت خداوندِ متعال کو اس کے فیصلے میں ظالم اور اس کے وعدے میں جھوٹا قرار دیتا ہے۔[11]

علی اکبر غفاری (متوفیٰ: 2004ء) نے تحف العقول پر اپنے حاشیے میں لکھا ہے کہ اس خط کا متن الاحتجاج میں تحف العقول کے مقابلے میں مختصر ہے۔[12] اسی طرح یہ وضاحت بھی کہ خط کے مخاطب اہلِ اہواز تھے، صرف الاحتجاج 'کی روایت میں موجود ہے؛ جبکہ تحف العقول میں اس کی صراحت نہیں کی گئی۔[13]

یہ خط دونوں کتابوں میں مرسل روایت کے طور پر نقل ہوا ہے، یعنی اس کی مکمل اور متصل سند بیان نہیں کی گئی۔[14] بعض محققین نے تحف العقول اور الاحتجاج کی شیعہ علماء کے ہاں علمی حیثیت[15] کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عقلی اور کلامی مباحث سے متعلق روایات میں بالخصوص روایت کے متن اور اس کے مفہوم پر توجہ دی جاتی ہے اور اس نوعیت کی روایات کے لیے سند کی تحقیق کو ضروری نہیں سمجھا جاتا۔[16]

خط کا مرکزی مضمون

از نامه امام هادی به مردم اهواز درباره امر بین الامرین

لیکن ہمارا مؤقف یہ ہے کہ خداوندِ عزوجل نے اپنی قدرت سے مخلوقات کو پیدا کیا، اپنی عطا کردہ طاقت کے ذریعے انہیں اپنی عبادت کی قدرت دی، پھر جس چیز کا اس نے ارادہ فرمایا، اس کا انہیں حکم دیا اور جس چیز سے منع فرمایا، اس سے انہیں روکا۔ اس نے ان سے اپنی اطاعت قبول کی اور انہیں نافرمانی سے منع فرمایا۔ جو شخص اس کی نافرمانی کرے، اسے ملامت اور سزا دی جائے گی۔ خداوندِ متعال کو اپنے امر و نہی میں مکمل اختیار حاصل ہے؛ وہ جس چیز کو چاہتا ہے اختیار کرتا اور اس کا حکم دیتا ہے، اور جس چیز کو ناپسند کرتا ہے اس سے منع کرتا اور اس پر سزا دیتا ہے۔ یہ سب اس قدرت اور توانائی کی بنیاد پر ہے جو اس نے اپنے بندوں کو اپنی اطاعت کرنے اور اپنی نافرمانیوں سے بچنے کے لیے عطا فرمائی ہے۔[17]

یہ خط دراصل اہلِ اہواز کے درمیان انسان کے اختیار کے مسئلے پر پیدا ہونے والے اختلاف کے پس منظر میں تحریر ہوا۔ امام علی نقیؑ نے ان کے خط سے محسوس فرمایا کہ ان میں سے ایک گروہ جبر کا قائل ہے، جبکہ دوسرا گروہ تفویض کی طرف مائل ہے۔ اس اختلاف نے ان کے درمیان تفرقہ، دشمنی اور باہمی کشمکش پیدا کر دی تھی۔ اہلِ اہواز نے امام علی نقیؑ سے درخواست کی کہ آپؑ اس اہم اعتقادی مسئلے کے بارے میں اپنا واضح موقف بیان فرمائیں۔ خط کے آغاز میں اس بات کی اہمیت بیان کی گئی ہے کہ جبر و تفویض جیسے اعتقادی اور پیچیدہ مسائل کا حل اہل بیتؑ کی طرف رجوع کرکے حاصل کیا جائے۔ اس سلسلے میں اہل بیتؑ کی علمی مرجعیت ثابت کرنے کے لیے قرآن کی آیتِ ولایت اور متعدد احادیث، جیسے حدیث ثقلین، حدیث غدیر اور حدیث منزلت سے استدلال کیا گیا ہے۔[18]

اس کے بعد امام جعفر صادقؑ سے منقول «منزلۃ بین المنزلتین» کے تصور کی بنیاد پر جبر اور تفویض کو الگ الگ زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ دونوں نظریات پر عقلی اور نقلی دلائل، یعنی قرآن کی آیات اور روایات کی روشنی میں ان دونوں نظریات پر نقد کیا گیا ہے۔ پھر منزلۃ بین المنزلتین کی وضاحت کرتے ہوئے اس کے پانچ بنیادی عناصر بیان کیے گئے ہیں: تندرستی، آزادی، مہلت، توشہ اور محرک و انگیزہ۔ اس نظریے کی تائید میں قرآن مجید کی مختلف آیات سے استدلال کیا گیا ہے، جن میں سورہ اسراء کی آیت نمبر 15 بھی شامل ہے۔ اس کے بعد خط میں چند اہم سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں، مثلاً؛ خداوندِ متعال کو اپنے بندوں کے مستقبل اور انجام کا علم ہونے کے باوجود انہیں آزمائش میں کیوں ڈالتا ہے؟ خدا کا کسی شخص کو ہدایت دینا یا گمراہی سے نسبت دینا کس معنی میں ہے؟ انسان کے اعمال میں اس کا اپنا اختیار کس حد تک ہے؟ تقدیرِ الٰہی اور انسانی اختیار کے درمیان کیا تعلق ہے؟ آخر میں امام علی نقیؑ مخاطبین کے لیے دعا فرماتے ہیں کہ خداوندِ متعال انہیں ایسے گفتار اور کردار کی توفیق عطا فرمائے جو اس کی رضا کے مطابق ہو۔ خط کا اختتام حمدِ الٰہی اور درود و صلوات پر ہوتا ہے۔[19]

خط کا متن اور ترجمہ

امام علی نقیؑ کا اہل اہواز کے نام خط
متن ترجمہ

مِنْ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ وَ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى وَ رَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَإِنَّهُ وَرَدَ عَلَيَّ كِتَابُكُمْ وَ فَهَمْتُ مَا ذَكَرْتُمْ مِنَ اخْتِلَافِكُمْ فِي دِينِكُمْ وَ خَوْضِكُمْ فِي الْقَدْرِ وَ مَقَالَةِ مَنْ يَقُولُ مِنْكُمْ بِالْجَبْرِ وَ مَنْ يَقُولُ بِالتَّفْوِيضِ وَ تَفَرُقِكُمْ فِي ذَلِكَ وَ تَقَاطُعِكُمْ وَ مَا ظَهَرَ مِنَ الْعَدَاوَةِ بَيْنَكُمْ ثُمَّ سَأَلْتُمُونِي عَنْهُ وَ بَيَانِهِ لَكُمْ وَ فَهَمْتُ ذَلِكَ كُلَّهُ۔

علی بن محمد کی طرف سے، تم پر اور ہر اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرے اور اس پر اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، پس بے شک تمہارا خط میرے پاس پہنچا اور میں نے وہ سب سمجھ لیا جو تم نے اپنے دین میں اختلاف، تقدیر میں بحث، تم میں سے بعض کا جبر کہنا اور بعض کا تفویض کہنا، اس میں تمہارا تفرقہ اور ایک دوسرے سے قطع تعلق اور تمہارے درمیان ظاہر ہونے والی دشمنی کے بارے میں ذکر کیا، پھر تم نے مجھ سے اس کے بارے میں اور اس کی وضاحت کے سلسلے میں پوچھا اور میں نے یہ سب کچھ سمجھ لیا۔

اعْلَمُوا رَحِمَكُمُ اللَّهُ أَنَّا نَظَرْنَا فِي الْآثَارِ وَ كَثَرَةِ مَا جَاءَتْ بِهِ الْأَخْبَارُ فَوَجَدْنَاهَا عِنْدَ جَمِيعِ مَنْ يَنْتَحِلُ الإِسْلامَ مِمَّنْ يَعْقِلُ عَنِ اللهِ جَلَّ وَ عَزَّ لَا تَخْلُو مِنْ مَعْنَيَيْنِ إِمَّا حَقٌّ فَيُتَبَعُ وَ إِمَّا بَاطِلٌ فَيُجْتَنَبُ، وَ قَدِ اجْتَمَعَتِ الْأُمَّةُ قَاطِبَةً لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ أَنَّ الْقُرْآنَ حَقٌّ لَا رَيْبَ فِيهِ عِنْدَ جَمِيعِ أَهْلِ الْفِرَقِ وَ فِي حَالِ اجْتِمَاعِهِمْ مُقِرُونَ بِتَصْدِيقِ الْكِتَابِ وَ تَحْقِيقِهِ مُصِيبُونَ مُهْتَدُونَ، وَ ذَلِكَ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ لَا تَجْتَمِعُ أُمَّتِي عَلَى ضَلالَةٍ، فَأَخْبَرَ أَنَّ جَمِيعَ مَا اجْتَمَعَتْ عَلَيْهِ الْأُمَّةُ كُلَهَا حَقٌ هَذَا إِذَا لَمْ يُخَالِفُ بَعْضُهَا بَعْضاً وَ الْقُرْآنُ حَقٌّ لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ فِي تَنْزِيلِهِ وَ تَصْدِيقِهِ،

جان لو، اللہ تم پر رحم کرے، کہ ہم نے روایات اور بکثرت خبروں میں غور کیا تو ہم نے پایا کہ وہ تمام لوگوں کے نزدیک جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور اللہ عزوجل کی طرف سے عقل رکھتے ہیں، دو معنوں سے خالی نہیں: یا حق ہے تو اس کی پیروی کی جائے، یا باطل ہے تو اس سے بچا جائے اور تمام امت نے بغیر کسی اختلاف کے اتفاق کیا کہ قرآن حق ہے، اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں، تمام فرقوں کے لوگوں کے نزدیک اور ان کے اتفاق کی حالت میں وہ کتاب کی تصدیق اور اس کے حقیقی ہونے کا اقرار کرتے ہیں، درست کہنے والے اور ہدایت یافتہ ہیں اور یہ رسولؐ خداؐ کے اس قول کی بنا پر ہے: ’’میری امت گمراہی پر متفق نہیں ہوسکتی۔‘‘ تو آنحضرتؐ نے خبر دی ہے کہ وہ سب کچھ جس پر تمام امت متفق ہو، حق ہے، یہ اس وقت جب ان میں سے بعض بعض سے اختلاف نہ کرے اور قرآن حق ہے، ان کے درمیان اس کے نزول اور تصدیق میں کوئی اختلاف نہیں۔

فَإِذَا شَهِدَ الْقُرْآنُ بِتَصْدِيقِ خَبَرٍ وَ تحْقِيقِهِ وَ أَنْكَرَ الْخَبَرَ طَائِفَةٌ مِنَ الْأُمَّةِ لَزِمَهُمُ الإِقْرَارُ بِهِ ضَرُورَةً حِينَ اجْتَمَعَتْ فِي الْأَصْلِ عَلَى تَصْدِيقِ الْكِتَابِ، فَإِنْ هِيَ جَحَدَتْ وَ أَنْكَرَتْ لَزِمَهَا الْخُرُوجُ مِنَ الْمِلَّةِ، فَأَوَّلُ خَبَرٍ يُعْرَفُ تَحْقِيقُهُ مِنَ الْكِتَابِ وَ تَصْدِيقُهُ وَ الْتِمَاسُ شَهَادَتِهِ عَلَيْهِ خَبَرٌ وَرَدَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ وُجِدَ بِمُوَافَقَةِ الْكِتَابِ وَ تَصْدِيقِهِ بِحَيْثُ لَا تُخَالِفُهُ أَقَاوِيلَهُمْ، حَيْثُ قَالَ إِنِّي مُخَلَّفٌ فِيكُمْ الثَّقَلَيْنِ كِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا وَ إِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، فَلَمَّا وَجَدْنَا شَوَاهِدَ هَذَا الْحَدِيثِ فِي كِتَابِ اللَّهِ نَصَاً مِثْلَ قَوْلِهِ جَلَّ وَ عَزَّ - إِنَّمَا وَلِيْكُمُ اللهُ وَرَسُولُهُ وَ الَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ، وَ مَنْ يَتَوَلَّ اللهَ وَرَسُولَهُ وَ الَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ، وَ رَوَتِ الْعَامَّةُ فِي ذَلِكَ أَخْبَاراً لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهُ تَصَدَّقَ بِخَاتَمِهِ وَ هُوَ رَاكِعٌ فَشَكَرَ اللهُ ذَلِكَ لَهُ وَ أَنْزَلَ الْآيَةَ فِيهِ۔

پس جب قرآن کسی خبر کی تصدیق اور اس کے حقیقی ہونے کی گواہی دے اور امت کا ایک گروہ اس خبر کا انکار کرے تو ان پر اس کا اقرار لازم آتا ہے، اس بنا پر کہ وہ اصل میں کتاب کی تصدیق پر متفق ہیں۔ پس اگر وہ جحد و انکار کرے تو اس پر ملت اسلامیہ سے خروج لازم آتا ہے۔ پہلی خبر جس کی تصدیق اور حقیقت قرآن سے پہچانی جاتی ہے اور اس پر قرآن کی گواہی طلب کی جاتی ہے، وہ خبر ہے جو رسولؐ خداؐ سے آئی اور قرآن کی موافقت اور تصدیق کے مطابق پائی گئی ہو اس طرح کہ ان کی کوئی بات اس کے خلاف نہیں۔ جہاں آپؐ نے فرمایا: ’’میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں: اللہ کی کتاب اور میری عترت اور میرے اہل بیتؑ، جب تک ان سے متسمک رہوگے تم گمراہ نہ ہونگے اور بے شک یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس آ پہنچیں۔‘‘ پس جب ہم نے اس حدیث کے گواہ قرآن میں نص کے طور پر پائے، جیسے اللہ عزوجل کا یہ قول: ’’تمہارا ولی تو اللہ ہے اور اس کا رسولؐؐ اور وہ ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور رکوع کی حالت میں زکات دیتے ہیں۔‘‘ ’’اور جو اللہ اور اس کے رسولؐؐ اور ایمان والوں کو دوست بنائے تو بے شک اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے۔‘‘ اور عامہ (اہل سنت) نے اس بارے میں امیر المؤمنینؑ کے لیے خبریں روایت کی ہیں کہ آپؑ نے رکوع کی حالت میں اپنی انگوٹھی صدقہ کی تو اللہ نے اسے آپؑ کی طرف سے قبول کیا اور یہ آیت آپ کے بارے میں نازل فرمائی۔

فَوَجَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ قَدْ أَتَى بِقَوْلِهِ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِي مَوْلَاهُ، وَ بِقَوْلِهِ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَ وَجَدْنَاهُ يَقُولُ عَلِيٌّ يَقْضِي دَيْنِي وَ يُنْجِزُ مَوْعِدِي وَ هُوَ خَلِيفَتِي عَلَيْكُمْ مِنْ بعدى، فَالْخَبَرُ الْأَوَّلُ الَّذِي اسْتَنْبِطَتْ مِنْهُ هَذِهِ الْأَخْبَارُ خَبَرٌ صَحِيحٌ مُجْمَعٌ عَلَيْهِ لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَهُمْ وَ هُوَ أَيْضاً مُوَافِقٌ لِلْكِتَابِ، فَلَمَّا شَهِدَ الْكِتَابُ بِتَصْدِيقِ الْخَبَرِ وَ هَذِهِ الشَّوَاهِدُ الْآخَرُ لَزمَ عَلَى الْأُمَّةِ الْإِقْرَارُ بِهَا ضَرُورَةً إِذْ كَانَتْ هَذِهِ الْأَخْبَارُ شَوَاهِدُهَا مِنَ الْقُرْآنِ نَاطِقَةٌ وَ وَافَقَتِ الْقُرْآنَ وَ الْقُرْآنُ وَافَقَهَا، ثُمَّ وَرَدَتْ حَقَائِقُ الْأَخْبَارِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ عَنِ الصَّادِقِينَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ وَ نَقَلَهَا قَوْمٌ ثِقَاتٌ مَعْرُوفُونَ فَصَارَ الاقْتِدَاء بِهَذِهِ الْأَخْبَارِ فَرْضاً وَاجِباً عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَ مُؤْمِنَةٍ لَا يَتَعَدَّاهُ إِلَّا أَهْلُ الْعِنَادِ، وَ ذَلِكَ أن أقاويل آل رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ مُتَّصِلَةٌ بِقَوْلِ اللَّهِ، وَ ذَلِكَ مِثْلَ قَوْلِهِ فِي مُحْكَمِ كِتَابِهِ -إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَاباً مُهِيناً۔

پس ہم نے پایا کہ رسولؐ خداؐ نے اپنے اس قول کے ساتھ تصدیق فرمائی: ’’جس کا میں مولا ہوں علیؑ اس کے مولا ہیں۔‘‘ اور آپؐ کے اس قول کے ساتھ: ’’تمہاری مجھ سے نسبت ایسی ہے جیسی ہارون کی موسیٰ سے نسبت تھی، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘ اور ہم نے پایا کہ آپؐ فرماتے ہیں: ’’علیؑ میرا قرض ادا کرے گا اور میرا وعدہ پورا کرے گا اور میرے بعد وہ تم پر میرا خلیفہ ہے۔‘‘ پس پہلی خبر جس سے یہ خبریں نکالی گئیں، صحیح اور متفق علیہ خبر ہے، اس میں ان کے نزدیک کوئی اختلاف نہیں اور یہ بھی قرآن کے موافق ہے۔ پس جب قرآن نے خبر کی تصدیق کی گواہی دی اور یہ دوسرے گواہ بھی، تو امت پر ان کا اقرار لازم آتا ہے، اس بنا پر کہ ان خبروں کے گواہ قرآن سے گویا ہیں اور یہ قرآن کے موافق ہیں اور قرآن ان کے موافق ہے۔ پھر رسولؐ خداؐ سے سچے اماموںؑ کے ذریعے خبروں کی حقیقتیں پہنچیں اور انہیں معروف ثقہ لوگوں نے نقل کیا تو ان خبروں کی پیروی ہر مومن مرد اور عورت پر فرض واجب ہوگئی، اس سے صرف ہٹ دھرم لوگ ہی تجاوز کرتے ہیں اور یہ اس لیے کہ رسولؐ خداؐ کے اہل بیتؑ کی باتیں اللہ کے قول سے جڑی ہوئی ہیں اور یہ اس کی مثال ہے جو اس نے اپنی کتاب کے محکم میں فرمایا: ’’بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐؐ کو تکلیف دیتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی اور ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کیا ہے۔‘‘

وَ وَجَدْنَا نَظِيرَ هَذِهِ الْآيَةِ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ مَنْ آذَى عَلِيًّا فَقَدْ آذَانِي وَ مَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ وَ مَنْ آذَى اللَّهَ يُوشِكُ أَنْ يَنْتَقِمَ مِنْهُ، وَ كَذَلِكَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ مَنْ أَحَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ أَحَبَّنِي وَ مَنْ أَحَبَّنِي فَقَدْ أَحَبَّ اللَّهَ، وَ مِثْلُ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ فِي بَنِي وَلِيعَةَ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْهِمْ رَجُلاً كَنَفْسِي يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ قُمْ يَا عَلِيٌّ فَسِرْ إِلَيْهِمْ، وَ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ يَوْمَ خَيْبَرَ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْهِمْ غَداً رَجُلاً يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ وَ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ كَرَاراً غَيْرَ قَرَارٍ لَا يَرْجِعُ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ،

اور ہم نے اس آیت کی نظیر رسولؐ خداؐ کا یہ قول پایا: ’’جس نے علی کو تکلیف پہنچائی، اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے اللہ کو تکلیف پہنچائی اور جس نے اللہ کو تکلیف پہنچائی قریب ہے کہ اللہ اس سے انتقام لے۔‘‘ اور اسی طرح آپؐ کا قول: ’’جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی‘‘ اور اس کی مثال آپؐ کا بنی ولیعہ کے بارے میں قول ہے: ’’میں ان کی طرف ایسے شخص کو بھیجوں گا جو میری طرح ہے وہ اللہ اور اس کے رسولؐؐ سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسولؐؐ اس سے محبت کرتے ہیں۔ اٹھو اے علیؑ! اور ان کی طرف چلو۔‘‘ اور آپؐ کا خیبر کے دن قول: ’’میں کل ان کی طرف ایسے شخص کو بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسولؐ اس سے محبت کرتے ہیں، حملہ کرنے والا ہے، بھاگنے والا نہیں، واپس نہیں ہوگا یہاں تک کہ اللہ اسے فتح عطا کرے۔‘‘

فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ بِالْفَتْحِ قَبْلَ التَّوْجِيهِ فَاسْتَشْرَفَ لِكَلَامِهِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ دَعَا عَلِيّاً عَلَيْهِ السَّلَامُ فَبَعَثَهُ إِلَيْهِمْ فَاصْطَفَاهُ بِهَذِهِ الْمَنْقَبَةِ وَ سَمَّاهُ كَرَاراً غَيْرَ فَرَارٍ فَسَمَّاهُ اللَّهُ مُحِبًا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فَأَخْبَرَ أَنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُحِبَّانِهِ، وَ إِنَّمَا قَدَّمْنَا هَذَا الشَّرْحَ وَ الْبَيَانَ دَلِيلاً عَلَى مَا أَرَدْنَا وَ قُوَّةً لِمَا نَحْنُ مُبَيِّنُوهُ مِنْ أَمْرِ الْجَبْرِ وَ التَّفْوِيضِ وَ الْمَنْزِلَةِ بَيْنَ الْمَنْزِلَتَيْنِ، وَ بِاللهِ الْعَوْنَ وَ الْقُوَّةُ وَ عَلَيْهِ نَتَوَكَّلْ فِي جَمِيع أمورِنَا، فَإِنَّا نَبْدَأُ مِنْ ذَلِكَ بِقَوْلِ الصَّادِقِ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَا جَبْرَ وَ لَا تَفْوِيضَ وَ لَكِنْ مَنْزِلَةٌ بَيْنَ الْمَنْزِلَتَيْنِ، وَ هِيَ صِحَةُ الْخِلْقَةِ وَ تَخْلِيَةٌ السَّرْبِ وَ الْمُهْلَةُ فِي الْوَقْتِ وَ الزَّادُ مِثْلُ الرَّاحِلَةِ وَالسَّبَبُ الْمُهَيِّجُ لِلْفَاعِلِ عَلَى فِعْلِهِ، فَهَذِهِ خَمْسَةٌ أَشْيَاءَ جمع بِهِ الصَّادِقُ عَلَيْهِ السَّلَامُ جَوَامِعَ الْفَضْلِ فَإِذَا نَقَصَ الْعَبْدُ مِنْهَا خَلَةٌ كَانَ الْعَمَلُ عَنْهُ مَطْرُوحاً بِحَسَبِهِ،

پس رسولؐ خدا نے روانگی سے پہلے فتح کا فیصلہ فرما دیا تو آپؐ کے اصحاب آپؐ کی بات کے منتظر ہوگئے۔ پس جب اگلا دن ہوا آپؐ نے علیؑ کو بلایا اور انہیں ان کی طرف بھیجا تو آپؐ نے انہیں اس منقبت سے خاص کیا اور انہیں کرار غیر فرار کہا تو اللہ نے انہیں اللہ اور اس کے رسولؐ کا محب قرار دیا، پس آپؐ نے خبر دی کہ اللہ اور اس کا رسولؐ ان سے محبت کرتے ہیں اور ہم نے یہ شرح اور بیان صرف اس لیے پیش کیا کہ یہ ہمارے مقصد پر دلیل ہو اور اس بات کے لیے قوت ہو جو ہم جبر و تفویض اور دونوں کے درمیان والے مقام کے بارے میں بیان کرنے والے ہیں اور مدد و قوت اللہ کی طرف سے ہے اور اسی پر ہم اپنے تمام امور میں بھروسہ کرتے ہیں۔ پس ہم اس میں امام جعفر صادقؑ کے اس قول سے شروع کرتے ہیں: ’’نہ جبر ہے اور نہ تفویض، بلکہ دونوں کے درمیان ایک مقام ہے‘‘ اور وہ (پانچ چیزیں ہیں): جسم کی صحت، راستہ کا کھلا ہونا، وقت کی مہلت، سواری جیسا زاد راہ اور وہ سبب جو فاعل کو اس کے فعل پر ابھارتا ہے۔ پس یہ پانچ چیزیں ہیں جن میں امام جعفر صادقؑ نے فضل کے جامع اصول جمع کیے، پس جب بندے سے ان میں سے کوئی ایک چیز کم ہو تو اس کے بقدر عمل اس سے ساقط ہوجاتا ہے۔

فَأَخْبَرَ الصَّادِقُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِأَصْلِ مَا يَجِبُ عَلَى النَّاسِ مِنْ طَلَبِ مَعْرِفَتِهِ وَ نَطَقَ الْكِتَابُ بِتَصْدِيقِهِ فشَهِدَ بِذَلِكَ مُحْكَمَاتٌ آيَاتِ رَسُولِهِ، لِأَنَّ الرَّسُولَ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ وَ آلَهُ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ لَا يَعْدُونَ شَيْئاً منْ قَوْلِهِ وَ أَقَاوِيلُهُمْ حُدُودُ الْقُرْآنِ، فَإِذَا وَرَدَتْ حَقَائِقُ الْأَخْبَارِ وَ الْتُمِسَتْ شَوَاهِدُهَا مِنَ التَّنْزِيلِ فَوْجِدَ لَهَا مُوَافِقاً وَ عَلَيْهَا دَلِيلاً كَانَ الاقْتِدَاء بِهَا فَرْضاً لَا يَتَعَدَّاهُ إِلَّا أَهْلُ الْعِنَادِ كَمَا ذَكَرْنَا فِي أَوَّلِ الْكِتَابِ، وَ لَمَّا الْتَمَسْنَا تَحْقِيقَ مَا قَالَهُ الصَّادِقُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ الْمَنْزِلَةِ بَيْنَ الْمَنْزِلَتَيْنِ وَ إِنْكَارِهِ الْجَبَّرَ وَ التَّفْوِيضَ وَجَدْنَا الْكِتَابَ قَدْ شَهِدَ لَهُ وَ صَدَّقَ مَقَالَتَهُ فِي هَذَا، وَ خَيْرٌ عَنْهُ أَيْضاً مُوَافِقٌ لِهَذَا أَنَّ الصَّادِقَ عَلَيْهِ السَّلَامُ سُئِلَ هَلْ أَجْبَرَ اللَّهُ الْعِبَادَ عَلَى الْمَعَاصِي فَقَالَ الصَّادِقُ عَلَيْهِ السَّلَامُ هُوَ أَعْدَلْ مِنْ ذَلِكَ، فَقِيلَ لَهُ فَهَلْ ففَوَّضَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ هُوَ أَعَزُّ وَ أَقْهَرُ لَهُمْ مِنْ ذَلِكَ،

پس امام جعفر صادقؑ نے اس اصل کی خبر دی جو لوگوں پر اس کی معرفت کے طلب کرنے میں واجب ہے اور قرآن نے اس کی تصدیق کی گویائی دی تو اس پر اللہ کے رسولؐ کی محکم آیات نے گواہی دی۔ کیونکہ رسولؐ اپنے قول سے کچھ تجاوز نہیں کرتے اور ان کی باتیں قرآن کی حدود ہیں۔ پس جب خبروں کی حقیقتیں آئیں اور قرآن سے ان کے گواہ طلب کیے جائیں تو ان کے لیے موافق اور ان پر دلیل پائی جائے تو ان کی پیروی فرض ہوجاتی ہے جس سے صرف ہٹ دھرم لوگ ہی تجاوز کرتے ہیں جیسا کہ ہم نے خط کے شروع میں ذکر کیا اور جب ہم نے امام جعفر صادقؑ کے دونوں مقامات کے درمیان والے مقام کے قول اور جبر و تفویض کے انکار کی تحقیق طلب کی تو ہم نے پایا کہ قرآن نے اس کی گواہی دی اور اس معاملے میں آپؐ کی بات کی تصدیق کی اور اس سے ایک اور خبر بھی اس کے موافق ہے کہ امام جعفر صادقؑ سے پوچھا گیا: کیا اللہ نے بندوں کو گناہوں پر مجبور کیا؟ تو آپؑ نے فرمایا: ’’وہ اس سے زیادہ عادل ہے۔‘‘ تو آپؑ سے کہا گیا: تو کیا انہیں کوئی کام سونپ دیا گیا ہے؟ آپؑ نے فرمایا: ’’وہ اس سے زیادہ غالب اور قہر والا ہے۔‘‘

وَ رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ النَّاسُ فِي الْقَدَرِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَوْجُهِ، رَجُلٍ يَزْعُمُ أَنَّ الْأَمْرَ مُفَوَّضٌ إِلَيْهِ فَقَدْ وَعَنَ اللَّهَ فِي سُلْطَانِهِ فَهُوَ هَالِكٌ، وَ رَجُلٍ يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَ عَزَّ أَجْبَرَ الْعِبَادَ عَلَى الْمَعَاصِي وَ كَلَّفَهُمْ مَا لَا يُطِيقُونَ فَقَدْ ظَلَمَ اللهَ فِي حُكْمِهِ فَهُوَ هَالِكٌ وَ رَجُلٍ يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ كَلَّفَ الْعِبَادَ مَا يُطِيقُونَ وَ لَمْ يُكَلِّفُهُمْ مَا لَايطيقُونَ فَإِذَا أَحْسَنَ حَمِدَ اللهَ وَ إِذَا أَسَاءَ اسْتَغْفَرَ اللهَ فَهَذَا مُسْلِمٌ بَالِغُ فَأَخْبَرَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّ مَنْ تَقَلَّدَ الْجَبْرَ وَ التَّفْوِيضَ وَ دَانَ بِهِمَا فَهُوَ عَلَى خِلَافِ الْحَقِّ فَقَدْ شَرَحْتُ الْجَبْرَ الَّذِي مَنْ دَانَ بِهِ يَلْزَمُهُ الْخَطَأَ وَ أَنَّ الَّذِي يَتَقَلَّدُ التَّفْوِيضَ يَلْزَمُهُ الْبَاطِلُ فَصَارَتِ الْمَنْزِلَةُ بَيْنَ الْمَنْزِلَتَيْنِ بَيْنَهُمَا۔

اور آپؑ سے روایت ہے کہ آپؑ نے فرمایا: ’’لوگ تقدیر کے بارے میں تین طرح کے ہیں:‘‘ ایک وہ جو گمان کرتا ہے کہ معاملہ اسے سونپ دیا گیا ہے، اس نے اللہ کو اس کی سلطنت میں کمزور کیا، پس وہ ہلاک ہونے والا ہے۔ دوسرا وہ جو گمان کرتا ہے کہ اللہ عزوجل نے بندوں کو گناہوں پر مجبور کیا اور انہیں ان کی طاقت سے زیادہ تکلیف دی، اس نے اللہ کو اس کے حکم میں ظالم کہا، پس وہ ہلاک ہونے والا ہے۔ تیسرا وہ جو گمان کرتا ہے کہ اللہ نے بندوں کو ان کی طاقت کے مطابق ذمہ داری دی اور ان کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں دی، پس جب نیکی کرے تو اللہ کی حمد کرے اور جب برائی کرے تو اللہ سے معافی مانگے، یہ مسلمان بالغ ہے۔ پس آپؑ نے خبر دی کہ جو جبر و تفویض کو اختیار کرے اور ان دونوں کا اعتقاد رکھے، وہ حق کے خلاف ہے۔ میں نے وہ جبر بیان کیا جس کا اعتقاد رکھنے والے پر خطا لازم آتی ہے اور یہ کہ جو تفویض اختیار کرے اس پر باطل لازم آتا ہے، پس دونوں کے درمیان والا مقام (منزلۃ بین المنزلتین) ان کے درمیان ہوگیا۔

ثُمَّ قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَ أَضْرِبُ لِكُلِّ بَابٍ مِنْ هَذِهِ الْأَبْوَابِ مَثَلاً يُقَرِّبُ الْمَعْنَى لِلطَّالِبِ وَ يُسَهِّلْ لَهُ الْبَحْثَ عَنْ شَرْحِهِ تَشْهَدُ بِهِ مُحْكَمَاتٌ آيَاتِ الْكِتَابِ وَ تَحَقَّقَ تَصْدِيقُهُ عِنْدَ ذَوِي الْأَلْبَابِ وَ بِاللَّهِ التَّوْفِيقُ وَ الْعِصْمَةُ۔ فَأَمَّا الْجَبْرُ الَّذِي يَلْزَمُ مَنْ دَانَ بِهِ الْخَطَأَ فَهُوَ قَوْلُ مَنْ زَعَمَ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَ عَزَّ أَجْبَرَ الْعِبَادَ عَلَى الْمَعَاصِي وَ عَاقَبَهُمْ عَلَيْهَا وَ مَنْ قَالَ بِهَذَا الْقَوْلِ فَقَدْ ظَلَّمَ اللهَ فِي حُكْمِهِ وَ كَذَّبَهُ وَ رَدَّ عَلَيْهِ قَوْلَهُ وَ لَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَداً وَ قَوْلُهُ ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ يَدَاكَ وَ أَنَّ اللهَ لَيْسَ بِظَلامِ لِلْعَبِيدِ وَ قَوْلُهُ إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْئًا وَ لكِنَّ النَّاسَ أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ مَعَ أَي كَثِيرَةٍ فِي ذِكْرِ هَذَا۔

پھر آپؑ نے فرمایا: ’’میں ان ابواب میں سے ہر باب کے لیے ایک مثال پیش کرتا ہوں جو طالب حق کے لیے معنی کو ذہن کے قریب کرے اور اس کی شرح کی بحث کو آسان کرے، جس کی گواہی قرآن کی محکم آیات دیں اور عقل والوں کے نزدیک اس کی تصدیق ہو اور توفیق اللہ کی طرف سے ہے اور حفاظت بھی اسی کی جانب سے ہے۔ اما وہ جبر جس کا اعتقاد رکھنے والے پر خطا لازم آتی ہے وہ اس شخص کا قول ہے جو گمان کرے کہ اللہ عزوجل نے بندوں کو گناہوں پر مجبور کیا اور پھر ان پر ان کی سزا دی اور جو یہ قول کہے، اس نے اللہ کو اس کے حکم میں ظالم کہا اور اسے جھٹلایا اور اس کے قول کو رد کیا، قول پروردگار: ’’اور تمہارا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرتا‘‘ اور اس کا قول: ’’یہ سب کچھ سزا ہے اس کی جو تیرے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور خدا ہرگز اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔‘‘ اور اس کا قول: ’’بے شک اللہ لوگوں پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا، لیکن لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔‘‘ اس طرح کی بہت سی آیات ہیں۔

فَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ مُجْبَرٌ عَلَى الْمَعَاصِي فَقَدْ أَحَالَ بِذَنْبِهِ عَلَى اللَّهِ وَ قَدْ ظَلَمَهُ فِي عُقُوبَتِهِ وَ مَنْ ظَلَمَ اللهَ فَقَدْ كَذَّبَ كِتَابَهُ وَ مَنْ كَذَّبَ كِتَابَهُ فَقَدْ لَزِمَهُ الْكُفْرُ بِاجْتِمَاعِ الْأُمَّةِ وَ مَثَلُ ذَلِكَ مَثَلُ رَجُلٍ مَلَكَ عَبْداً مَمْلُوكاً لَا يَمْلِكُ نَفْسَهُ وَ لَا يَمْلِكُ عَرَضَاً مِنْ عَرَضِ الدُّنْيَا وَ يَعْلَمُ مَوْلَاهُ ذَلِكَ مِنْهُ فَأَمَرَهُ عَلَى عِلْمٍ مِنْهُ بِالْمَصِيرِ إِلَى السُّوقِ لِحَاجَةٍ يَأْتِيهِ بِهَا وَ لَمْ يُمَلِّكُهُ ثَمَنَ مَا يَأْتِيهِ بِهِ مِنْ حَاجَتِهِ وَ عَلِمَ الْمَالِكُ أَنَّ عَلَى الْحَاجَةِ رَقِيباً لَا يَطْمَعُ أَحَدٌ فِي أَخْذِهَا مِنْهُ إِلَّا بِمَا يَرْضَى بِهِ مِنَ الثَّمَنِ وَ قَدْ وَصَفَ مَالِكُ هَذَا الْعَبْدِ نَفْسَهُ بِالْعَدْلِ وَالنَّصَفَةِ وَ إِظْهَارِ الْحِكْمَةِ وَ نَفْيِ الْجَوْرِ وَ أَوْعَدَ عَبْدَهُ إِنْ لَمْ يَأْتِهِ بِحَاجَتِهِ أَنْ يُعَاقِبَهُ عَلَى عِلْمٍ مِنْهُ بِالرَّقِيبِ الَّذِي عَلَى حَاجَتِهِ أَنَّهُ سَيَمْنَعُهُ۔

پس جو گمان کرے کہ وہ گناہوں پر مجبور ہے، اس نے اپنے گناہ کو اللہ کی طرف لوٹایا اور اس کی سزا میں اسے ظالم کہا اور جس نے اللہ پر ظلم کیا، اس نے اس کی کتاب کو جھٹلایا اور جس نے اس کی کتاب کو جھٹلایا اس پر امت کے اجماع سے کفر لازم آتا ہے اور اس کی مثال ایسے شخص کی طرح ہے جس کے پاس ایک غلام ہو جو خود کا مالک نہ ہو اور دنیا کے مال و متاع میں سے کچھ کا مالک نہ ہو اور اس کا مالک یہ جانتا ہو پھر اسے علم کے ساتھ بازار جانے کا حکم دے کہ وہ اس کے لیے کوئی ضرورت کی چیز لائے، لیکن اس چیز کی قیمت اس کے قبضے میں نہ دے اور مالک جانتا ہو کہ اس چیز پر ایک نگران ہے کہ کوئی اسے اس کی رضا کے بغیر قیمت ادا کیے بغیر نہیں لے سکتا اور اس غلام کا مالک خود کو عدل، انصاف، حکمت ظاہر کرنے اور ظلم کی نفی سے متصف کرتا ہو اور اپنے غلام کو دھمکی دے کہ اگر وہ ضرورت کی چیز نہ لایا تو اسے سزا دے گا، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ اس چیز پر نگران اسے روک دے گا۔

وَ عَلِمَ أَنَّ الْمَمْلُوكَ لَا يَمْلِكُ ثَمَنَهَا وَ لَمْ يُمَلِّكُهُ ذَلِكَ فَلَمَّا صَارَ الْعَبْدُ إِلَى السُّوقِ وَ جَاءَ لِيَأْخُذَ حَاجَتَهُ الَّتِي بَعَثَهُ الْمَوْلَى لَهَا وَجَدَ عَلَيْهَا مَانِعاً يَمْنَعُ مِنْهَا إِلَّا بِشِرَاءِ وَ لَيْسَ يَمْلِكُ الْعَبْدُ ثَمَنَهَا فَانْصَرَفَ إِلَى مَوْلَاهُ خَائِباً بِغَيْرِ قَضَاءِ حَاجَتِهِ فَاغْتَاظَ مَوْلَاهُ مِنْ ذَلِكَ وَ عَاقَبَهُ عَلَيْهِ أَلَيْسَ يَجِبُ فِي عَدْلِهِ وَ حُكْمِهِ أَنْ لَا يُعَاقِبَهُ وَ هُوَ يَعْلَمُ أَنَّ عَبْدَهُ لَا يَمْلِكُ عَرَضاً مِنْ عُرُوضِ الدُّنْيَا وَ لَمْ يُمَلَكُهُ ثَمَنَ حَاجَتِهِ فَإِنْ عَاقَبَهُ عَاقَبَهُ ظالِماً مُتَعَدِّياً عَلَيْهِ مُبْطِلاً لِمَا وَصَفَ مِنْ عَدْلِهِ وَ حِكْمَتِهِ وَ نَصَفَتِهِ وَ إِنْ لَمْ يُعَاقِبُهُ كَذَبَ نَفْسَهُ فِي وَعِيدِهِ إِيَّاهُ حِينَ أَوْعَدَهُ بِالْكَذِبِ وَ الظُّلْمِ اللَّذَيْنِ يَنْفِيَانِ الْعَدْلَ وَ الْحِكْمَةَ تَعَالَى عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوا كَبِيرًا فَمَنْ دَانَ بِالْجَبْرِ أَوْ بِمَا يَدْعُو إِلَى الْجَبْرِ فَقَدْ ظَلَمَ اللَّهَ وَ نَسَبَهُ إِلَى الْجَوْرِ وَالْعُدْوَانِ إِذْ أَوْجَبَ عَلَى مَنْ أَجْبَرَهُ الْعُقُوبَةَ وَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ اللَّهَ أَجْبَرَ الْعِبَادَ فَقَدْ أَوْجَبَ عَلَى قِيَاسِ قَوْلِهِ إِنَّ اللهَ يَدْفَعُ عَنْهُمُ الْعُقُوبَةَ۔

اور وہ جانتا ہے کہ غلام اس کی قیمت کا مالک نہیں اور اس نے اسے قیمت نہیں دی۔ پس جب غلام بازار گیا اور وہ چیز لینے آیا جس کے لیے مالک نے بھیجا تھا، تو اس پر ایک روکنے والا پایا جو اسے خریدنے کے بغیر لینے نہ دے اور غلام کے پاس قیمت نہ تھی، تو وہ مالک کی ضروت کو پورے کیے بغیر بے نتیجہ واپس مالک کے پاس آیا تو اس کا مالک غضبناک ہوا اور اس پر اسے سزا دی۔ کیا اس کے عدل اور حکم میں لازم نہیں کہ وہ اسے سزا نہ دے جبکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا غلام دنیا کے مال کا مالک نہیں اور اس نے اسے اس کی ضرورت کی قیمت نہیں دی؟ پس اگر وہ اسے سزا دے تو ظالم، متعدی اور اپنے بیان کردہ عدل و حکمت و انصاف کو باطل کرنے والا ہوگا اور اگر وہ اسے سزا نہ دے تو اپنے آپ کو اپنی دھمکی میں جھوٹا قرار دے گا، جبکہ جھوٹ اور ظلم دونوں عدل و حکمت کی نفی کرتے ہیں۔ اللہ ان کی باتوں سے بہت بلند ہے، بہت بڑی بلندی سے۔ پس جو جبر کا اعتقاد رکھے یا اس چیز کا جو جبر کی طرف بلائے، اس نے اللہ پر ظلم کیا اور اسے ظلم و تعدی کی طرف منسوب کیا، کیونکہ اس نے اس پر سزا لازم کی جسے خود مجبور کیا اور جو گمان کرے کہ اللہ نے بندوں کو مجبور کیا، تو اس کے قول کے مطابق لازم آتا ہے کہ اللہ ان سے سزا کو دور کرے۔

وَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ اللَّهَ يَدْفَعُ عَنْ أَهْلِ الْمَعَاصِي الْعَذَابَ فَقَدْ كَذَّبَ اللهَ فِي وَعِيدِهِ حَيْثُ يَقُولُ - بَلَى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً وَ أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ، وَ قَوْلَهُ إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْماً إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَاراً وَ سَيَصْلَوْنَ سَعِيراً وَ قَوْلَهُ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَاراً كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُوداً غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَزِيزاً حَكِيماً مَعَ أَي كَثِيرَةٍ فِي هَذَا الْفَنَّ مِمَّنْ كَذَّبَ وَعِيدَ اللَّهِ وَ يَلْزَمُهُ فِي تَكْذِيبِهِ آيَةٌ مِنْ كِتَابِ اللهِ الْكُفْرُ وَ هُوَ مِمَّنْ قَالَ اللَّهُ - أَفَتُؤْمِنُونَ بِبعض الكتاب وَ تَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَاء مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إلى أَشَدَّ الْعَذَابِ وَ مَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ۔

اور جو گمان کرے کہ اللہ گناہگاروں سے عذاب کو دور کرتا ہے، اس نے اللہ کو اس کی دھمکی میں جھٹلایا، جہاں وہ فرماتا ہے: ’’ہاں، جو برائی کمائے اور اس کی خطا اسے گھیر لے، تو یہی لوگ اہل جہنم ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ اور اس کا قول: ’’بے شک جو لوگ یتیموں کا مال کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں اور عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے‘‘ اور اس کا قول: ’’بے شک جو لوگ ہماری آیات کا انکار کرتے ہیں، ہم انہیں عنقریب آگ میں داخل کریں گے، جب بھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم انہیں دوسری کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھیں، بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ اس فن میں بہت سی آیات کے ساتھ، جو اللہ کے وعید کو جھٹلاتے ہیں اور ان کے جھٹلانے میں قرآن کی ایک آیت کا انکار کفر لازم آتا ہے اور وہ ان میں سے ہے جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا: ’’کیا تم کتاب کے بعض حصے پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو؟ تو جو تم میں سے ایسا کرے، اس کی سزا دنیا کی زندگی میں رسوائی کے سوا کیا ہوگی اور قیامت کے دن وہ سخت ترین عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے اور اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں۔‘‘

بَلْ نَقُولُ إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَ عَزَّ جَازَى الْعِبَادَ عَلَى أَعْمَالِهِمْ وَ يُعَاقِبُهُمْ عَلَى أَفْعَالِهِمْ بِالاسْتِطَاعَةِ الَّتِي مَلَكَهُمْ إِيَّاهَا فَأَمَرَهُمْ وَ نَهَاهُمْ بِذَلِكَ وَ نَطَقَ كِتَابُهُ - مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَ مَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لا يُظْلَمُونَ وَ قَالَ جَلَّ ذِكْرُهُ - يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً وَ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَ بَيْنَهُ أَمَداً بَعِيداً وَيُحَذِّرُكُمُ اللهُ نَفْسَهُ وَ قَالَ الْيَوْمَ تُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ لا ظُلْمَ الْيَوْمَ فَهَذِهِ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ تَنْفِي الْجَبْرَ وَ مَنْ دَانَ بِهِ وَ مِثْلُهَا فِي الْقُرْآنِ كَثِيرٌ اخْتَصَرْنَا ذَلِكَ لِئَلَّا يَطُولَ الْكِتَابُ وَ بِاللهِ التَّوْفِيقُ۔

بلکہ ہم کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل بندوں کو ان کے اعمال پر جزا دیتا ہے اور ان کے افعال پر سزا دیتا ہے، اس استطاعت کے ذریعے جو اس نے انہیں دی، پھر اسی کے ساتھ انہیں امر و نہی کیا اور اس کی کتاب نے کہا: ’’جو نیکی لے کر آئے، اس کے لیے اس جیسی دس ہیں اور جو برائی لے کر آئے اسے اس جیسی ہی سزا دی جائے گی اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔‘‘ اور اس نے فرمایا: ’’جس دن ہر نفس اپنے کیے ہوئے اچھے اور برے اعمال کو حاضر پائے گا اور آرزو کرے گا کہ کاش اس کے اور اس کے درمیان دور کی مسافت ہو اور اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے۔‘‘ اور فرمایا: ’’آج ہر نفس کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا، آج کوئی ظلم نہیں۔‘‘ پس یہ محکم آیات ہیں جو جبر اور اس کے معتقد کی نفی کرتی ہیں اور ان جیسی قرآن میں بہت ہیں، ہم نے اسے مختصر کیا تاکہ خط طولانی نہ ہو؛ بِاللهِ التَّوْفِيقُ۔

وَ أَمَّا التَّفْوِيضُ الَّذِي أَبْطَلَهُ الصَّادِقُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَ أَخْطَأَ مَنْ دَانَ بِهِ وَ تَقَلَّدَهُ فَهُوَ قَوْلُ الْقَائِلِ إِنَّ اللَّهَ جَلَّ ذِكْرُهُ فَوَّضَ إِلَى الْعِبَادِ اخْتِيَارَ أَمْرِهِ وَ نَهْيِهِ وَ أَهْمَلَهُمْ وَ فِي هَذَا كَلَامٌ دَقِيقٌ لِمَنْ يَذْهَبُ إِلَى تَحْرِيرِهِ وَ دِقْتِهِ وَ إِلَى هَذَا ذَهَبَتِ الْأَئِمَّةُ الْمُهْتَدِيَةُ مِنْ عِتْرَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ، فَإِنَّهُمْ قَالُوا لَوْ فَوَّضَ إِلَيْهِمْ عَلَى جِهَةِ الْإِهْمَال لَكَانَ لازماً لَهُ رِضَا مَا اخْتَارُوهُ وَ اسْتَوْجَبُوا مِنْهُ الثَّوَابَ وَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِمْ فِيمَا جَنَوْهُ الْعِقَابُ إِذَا كَانَ الْإِهْمَالُ وَاقِعاً، وَ تَنْصَرِفُ هَذِهِ الْمَقَالَةُ عَلَى مَعْنَيَيْنِ إِمَّا أَنْ يَكُونَ الْعِبَادُ تَظَاهَرُوا عَلَيْهِ فَأَلْزَمُوهُ قَبُولَ اخْتِيَارِهِمْ بِآرَائِهِمْ ضَرُورَةً كَرِهَ ذَلِكَ أَمْ أَحَبَّ فَقَدْ لَزِمَهُ الْوَهْنُ أَوْ يَكُونَ جَلَّ وَ عَزَّ عَجَزَ عَنْ تَعَبْدِهِمْ بِالْأَمْرِ وَ النَّهي عَلَى إِرَادَتِهِ كَرِهُوا أَوْ أَحَبُّوا فَفَوَّضَ أَمْرَهُ وَ نَهْيَهُ إِلَيْهِمْ وَ أَجْرَاهُمَا عَلَى مَحَبَّتِهِمْ إِذْ عَجَزَ عَنْ تَعَبْدِهِمْ بِإِرَادَتِهِ۔

اما وہ تفویض جسے امام جعفر صادقؑ نے باطل قرار دیا اور اس کے معتقد نے خطا کی اور جسے اس نے اختیار کیا، وہ اس کہنے والے کا قول ہے کہ اللہ جل ذکرہ نے بندوں کو اپنے امر و نہی کا اختیار سونپ دیا اور انہیں چھوڑ دیا اور اس میں باریک کلام ہے اس کے لیے جو اس کی تحقیق اور باریکی کی طرف جاتا ہے اور اسی کی طرف رسولؐ کی عترت کے ہدایت یافتہ امام گئے ہیں۔ پس انہوں نے کہا: اگر انہیں رہا چھوڑنے کے طور پر سونپ دیا ہوتا، تو اس پر لازم ہوتا کہ وہ ان کے منتخب کردہ سے راضی ہو اور انہیں اس سے ثواب ملے اور ان کے جرائم پر کوئی سزا نہ ہو، جب اہمال واقع ہو اور یہ قول دو معنوں پر محیط ہے: یا تو بندے اس پر غالب آئے اور انہوں نے اپنی رائے سے اپنے انتخاب کو قبول کرنے پر اسے مجبور کیا، خواہ اس نے ناپسند کیا یا پسند کیا، تو اس پر کمزوری لازم آتی ہے۔ یا اللہ عزوجل انہیں اپنے ارادے کے مطابق امر و نہی سے عبادت کرانے سے عاجز ہو، خواہ انہوں نے ناپسند کیا یا پسند کیا، تو اس نے اپنا امر و نہی انہیں سونپ دیا اور انہیں ان کی خواہش کے مطابق جاری کیا، کیونکہ وہ اپنے ارادے سے انہیں عبادت کرانے سے عاجز ہو۔

فَجَعَلَ الاخْتِيَارَ إِلَيْهِمْ فِي الْكُفْرِ وَ الْإِيمَانِ وَ مَثَلُ ذَلِكَ مَثَلُ رَجُلٍ مَلَكَ عَبْداً ابْتَاعَهُ لِيَخْدُمَهُ وَ يُعَرِّفَ لَهُ فَضْلَ وِلَايَتِهِ وَ يَقِفَ عِنْدَ أَمْرِهِ وَ نَهْيِهِ وَ ادَّعَى مَالِكُ الْعَبْدِ أَنَّهُ قَاهِرٌ عَزِيزٌ حَكِيمٌ فَأَمَرَ عَبْدَهُ وَ نَهَاهُ وَ وَعَدَهُ عَلَى اتَّبَاعِ أَمْرِهِ عَظِيمَ الثَّوَابِ وَ أَوْعَدَهُ عَلَى مَعْصِيَتِهِ أَلِيمَ الْعِقَابِ۔ فَخَالَفَ الْعَبْدُ إِرَادَةَ مَالِكَهِ وَ لَمْ يَقِفُ عِنْدَ أَمْرِهِ وَ نَهيهِ فَأَي أَمْرٍ أَمَرَهُ أَوْ أَي نَهي نَهَاهُ عَنْهُ لَمْ يَأْتِهِ عَلَى إِرَادَةِ الْمَوْلَى بَلْ كَانَ الْعَبْدُ يَتَّبِعُ إِرَادَةَ نَفْسِهِ وَ اتَّبَاعَ هَوَاهُ وَ لَا يُطِيقُ الْمَوْلَى أَنْ يَرُدَّهُ إِلَى اتَّبَاعِ أَمْرِهِ وَ نَهِيهِ وَ الْوُقُوفِ عَلَى إِرَادَتِهِ فَفَوَّضَ اخْتِيَارَ أَمره ونهيه إِلَيْهِ وَ رَضِيَ مِنْهُ بِكُلِّ مَا فَعَلَهُ عَلَى إِرَادَةِ الْعَبْدِ لَا عَلَى إِرَادَةِ الْمَالِكِ وَ بَعَثَهُ فِي بَعْضِ حَوَائِجِهِ وَ سَمَّى لَهُ الْحَاجَةَ فَخَالَفَ عَلَى مَوْلَاهُ وَ قَصَدَ الإِرَادَةِ نَفْسِهِ وَ اتَّبَعَ هَوَاهُ۔

پس اس نے کفر و ایمان میں انہیں اختیار دے دیا اور اس کی مثال ایسے شخص کی طرح ہے جس کے پاس ایک غلام ہو، اسے خریدا تاکہ وہ اس کی خدمت کرے اور اس کی سرپرستی کا فضل پہچانے اور اس کے امر و نہی پر قائم رہے اور غلام کا مالک دعویٰ کرے کہ وہ قاہر، عزیز، حکیم ہے، تو اس نے اپنے غلام کو امر و نہی کیا اور اس کے امر کی پیروی پر عظیم ثواب کا وعدہ کیا اور اس کی نافرمانی پر دردناک عذاب کی دھمکی دی تو غلام نے اپنے مالک کے ارادے کی مخالفت کی اور اس کے امر و نہی پر قائم نہ رہا۔ پس جو بھی امر اس نے کیا یا جو بھی نہی اس نے کی، غلام نے مالک کی رضا کے مطابق نہ کیا، بلکہ غلام اپنے نفس کی رضا اور اپنی خواہش کی پیروی کرتا رہا اور مالک اسے اپنے امر و نہی کی پیروی اور اپنے ارادے پر قائم رہنے کی طرف لوٹانے کی طاقت نہ رکھتا ہو، تو اس نے امر و نہی کا اختیار اسے سونپ دیا اور اس نے جو کچھ کیا، غلام کی رضا کے مطابق، مالک کی رضا کے مطابق نہیں، اس سے راضی ہوگیا اور اسے اپنی کسی ضرورت میں بھیجا اور اسے ضرورت بتائی، تو اس نے اپنے مالک کی مخالفت کی اور اپنی رضا کا قصد کیا اور اپنی خواہش کی پیروی کی۔

فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى مَوْلَاهُ نَظَرَ إِلَى مَا أَتَاهُ بِهِ فَإِذَا هُوَ خِلَافٌ مَا أَمَرَهُ بِهِ فَقَالَ لَهُ لِمَ أَتَيْتَنِي بِخِلَافِ مَا أَمَرْتُكَ فَقَالَ الْعَبْدُ الْكَلْتُ عَلَى تَفْوِيضِكَ الْأَمْرَ إِلَى فَاتَّبَعْتُ هَوَايَ وَ إِرَادَتِي لِأَنَّ الْمُفَوَّضَ إِلَيْهِ غَيْرُ مَحْطُورٍ عَلَيْهِ فَاسْتَحَالَ التَّفْوِيضُ وَ لَيْسَ يَجِبُ عَلَى هَذَا السَّبَبِ إِمَّا أَنْ يَكُونَ الْمَالِكُ لِلْعَبْدِ قَادِراً يَأْمُرُ عَبْدَهُ بِاتَّبَاعِ أَمْرِهِ وَ نَهْيهِ عَلَى إِرَادَتِهِ لَا عَلَى إِرَادَةِ الْعَبْدِ وَ يُمَلَكُهُ مِنَ الطَّاقَةِ بِقَدْرِ مَا يَأْمُرُهُ بِهِ وَيَنْهَاهُ عَنْهُ فَإِذَا أَمَرَهُ بِأَمْرٍ وَ نَهَاهُ عَنْ نَهْي عَرَّفَهُ الثَّوَابَ وَالْعِقَابَ عَلَيْهِمَا وَحَذَرَهُ وَ رَغَبَهُ بِصِفَةِ ثَوَابِهِ وَ عِقَابِهِ لِيَعْرِفَ الْعَبْدُ قُدْرَةَ مَوْلَاهُ بِمَا مَلَكَهُ مِنَ الطَّاقَةِ لِأَمْرِهِ وَ نَهِيهِ وَ تَرْغِيبِهِ وَ تَرْهِيبِهِ فَيَكُونَ عَدْلُهُ وَ إِنْصَافُهُ شَامِلاً لَهُ وَ حُجَّتُهُ وَاضِحَةً عَلَيْهِ لِلْإِعْذَارِ وَ الْإِنْذَارِ فَإِذَا اتَّبَعَ الْعَبْدُ أَمْرَ مَوْلَاهُ جَازَاهُ وَ إِذَا لَمْ يَزْدَجِرْ عَنْ نَهْيِهِ عَاقَبَهُ أَوْ يَكُونَ عَاجِزاً غَيْرَ قَادِرٍ فَفَوَّضَ أَمْرَهُ إِلَيْهِ أَحْسَنَ أَمْ أَسَاءَ أَطَاعَ أَمْ عَصَى عَاجِزٌ عَنْ عُقُوبَتِهِ وَ رَدَّهُ إِلَى اتَّبَاعِ أَمْرِهِ۔

پس جب وہ اپنے مالک کے پاس واپس آیا، اس نے دیکھا جو وہ لایا تھا، تو وہ اس کے خلاف تھا جو اس نے حکم دیا تھا، تو اس نے کہا: تم میرے حکم کے خلاف کیوں لے آئے؟ تو غلام نے کہا: میں نے تمہارے معاملہ کو میرے سپرد کرنے پر بھروسہ کیا، تو میں نے اپنی خواہش اور اپنی رضا کی پیروی کی، کیونکہ جسے سونپ دیا گیا ہو اس پر کوئی پابندی نہیں۔ پس تفویض محال ہوگئی اور اس سبب پر لازم نہیں آتا مگر یہ کہ غلام کا مالک قادر ہو، اپنے غلام کو اپنے امر و نہی کی پیروی کا حکم دے اپنی رضا کے مطابق، نہ کہ غلام کی رضا کے مطابق اور اسے اتنی طاقت دے جتنا وہ اسے امر و نہی کرتا ہے۔ پس جب اسے کسی امر کا حکم دے یا کسی نہی سے روکے، تو اسے دونوں پر ثواب و عذاب سے آگاہ کرے اور اسے ڈرائے اور اس کے ثواب و عذاب کی صفت سے اسے رغبت دلائے تاکہ غلام اپنے مالک کی قدرت کو پہچانے، اس طاقت کے ذریعے جو اس نے اسے امر و نہی اور ترغیب و ترہیب کے لیے دی تو اس کا عدل و انصاف اسے شامل ہو اور اس پر اس کی حجت واضح ہو، عذر اور انذار کے لیے، پس جب غلام اپنے مالک کے امر کی پیروی کرے تو اسے جزا دے اور جب اس کی نہی سے باز نہ آئے تو اسے سزا دے یا وہ عاجز اور ناتوان ہو، تو اس نے اپنا امر اسے سونپ دیا، خواہ اس نے اچھا کیا یا برا، اطاعت کی یا نافرمانی، وہ اسے سزا دینے سے عاجز ہو اور اسے اپنے امر کی پیروی کی طرف لوٹانے سے۔

وَ فِي إِثْبَاتِ الْعَجْزِ نَفْيُ الْقُدْرَةِ وَ التَّالِهِ وَ إِبْطَالُ الْأَمْرِ وَ النَّهْي وَ الثَّوَابِ وَ الْعِقَابِ وَ مُخَالَفَةُ الْكِتَابِ إِذْ يَقُولُ وَ لَا يَرْضَى لِعِبَادِهِ التكُفَرَ وَ إِنْ تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ وَ قَوْلُهُ عَزَّ وَ جَلَّ اِتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ وَ قَوْلُهُ وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ مَا أُرِيدُ مِنْهُمْ مِنْ رِزْقٍ وَ مَا أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِ، وَ قَوْلُهُ اعْبُدُوا اللهَ وَ لا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئاً وَ قَوْلُهُ أَطِيعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ۔

اور عجز کے اثبات میں قدرت اور الوہیت کی نفی، امر و نہی اور ثواب و عذاب کے ابطال، اور قرآن کی مخالفت ہے۔ جہاں وہ فرماتا ہے: ’’اور وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکر کرو تو وہ تمہارے لیے اسے پسند کرتا ہے‘‘ اور اس کا قول: ’’اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور نہ مرو مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو‘‘ اور اس کا قول: ’’اور میں نے جن اور انس کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں‘‘ اور اس کا قول: ’’اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو‘‘ اور اس کا قول: ’’اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اور اس سے منہ نہ پھیرو جبکہ تم سنتے ہو۔‘‘

فَمَنْ زَعَمَ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى فَوَّضَ أَمْرَهُ وَ نَهْيَهُ إِلَى عِبَادِهِ فَقَدْ أَثْبَتَ عَلَيْهِ الْعَجْزَ وَ أَوْجَبَ عَلَيْهِ قَبُولَ كُلِّ مَا عَمِلُوا مِنْ خَيْرٍ وَ شَرٌّ وَ أَبْطَلَ أَمْرَ اللهِ وَ نَهْيَهُ وَ وَعْدَهُ وَ وَعِيدَهُ لِعِلَّةٍ مَا زَعَمَ أَنَّ اللَّهَ فَوْضَهَا إِلَيْهِ لِأَنَّ الْمُفَوَّضَ إِلَيْهِ يَعْمَلُ بِمَشِيئَتِهِ فَإِنْ شَاءَ الْكُفْرَ أَوْ الْإِيمَانَ كَانَ غَيْرَ مَرْدُودٍ عَلَيْهِ وَ لَا مَحْظُورٍ فَمَنْ دَانَ بالتَّفْوِيضِ عَلَى هَذَا الْمَعْنَى فَقَدْ أَبْطَلَ جَمِيعَ مَا ذَكَرْنَا مِنْ وَعْدِهِ وَ وَعِيدِهِ وَ أَمْرِهِ وَ نَهْيِهِ وَ هُوَ مِنْ أَهْلِ هَذِهِ الْآيَةِ - أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الكِتَابِ وَ تَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَاء مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إلى أشَدَّ الْعَذَابِ وَ مَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ تَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يَدِينُ بِهِ أَهْلُ التَّفْوِيضِ عُلُوا كَبِيراً۔

پس جو گمان کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا امر و نہی بندوں کو سونپ دیا، اس نے اس پر عجز ثابت کیا اور اس پر لازم کیا کہ وہ ان کے ہر نیک و بد عمل کو قبول کرے اور اس نے اللہ کے امر و نہی، اس کے وعد و وعید کو باطل کیا، اس بنا پر کہ اس نے گمان کیا کہ اللہ نے انہیں سونپ دیا۔ کیونکہ جسے سونپ دیا گیا وہ اپنی مشیت سے عمل کرتا ہے، پس اگر وہ کفر یا ایمان چاہے تو اس پر کوئی رد یا پابندی نہیں۔ پس جو اس معنی پر تفویض کا اعتقاد رکھے، اس نے وہ سب باطل کیا جو ہم نے اس کے وعد و وعید، امر و نہی سے ذکر کیا اور وہ اس آیت والوں میں سے ہے: ’’کیا تم کتاب کے بعض پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو؟ تو جو تم میں سے ایسا کرے اس کی سزا دنیا کی زندگی میں رسوائی کے سوا کیا ہوگی اور قیامت کے دن وہ سخت ترین عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے، اور اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں۔‘‘ اللہ ان باتوں سے بہت بلند ہے جو تفویض والے اعتقاد رکھتے ہیں۔

لكِنْ تَقُولُ إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَ عَزَّ خَلَقَ الْخَلْقَ بِقُدْرَتِهِ وَ مَلَكَهُمْ اسْتِطَاعَةَ تَعَبدِهِمْ بِهَا فَأَمَرَهُمْ وَ نَهَاهُمْ بِمَا أَرَادَ فَقَبِلَ مِنْهُمُ اتَّبَاعَ أَمْرِهِ وَ رَضِيَ بِذَلِكَ لَهُمْ وَ نَهَاهُمْ عَنْ مَعْصِيَتِهِ وَ ذَمَّ مَنْ عَصَاهُ وَ عَاقَبَهُ عَلَيْهَا وَ لِلَّهِ الخيرة في الأمر والنهي يَخْتَارُ مَا يُرِيدُ وَ يَأْمُرُ بِهِ وَ يَنْهَى عَمَّا يَكْرَهُ وَ يُعَاقِبُ عَلَيْهِ بِالاسْتِطَاعَةِ الَّتِي ملكها عِبَادَهُ لاتباع أَمْرِهِ وَ اجْتِنَابِ مَعَاصِيهِ لِأَنَّهُ ظَاهِرُ الْعَدْلِ وَالنَّصَفَةِ وَالْحِكْمَةِ الْبَالِغَةِ بَالَغَ الْحُجَّةَ بالإعدارِ وَ الْإِنْدَارِ وَ إِلَيْهِ الصَّفْوَة يَصْطَفِي مِنْ عِبَادِهِ مَنْ يَشَاءُ لِتَبْلِيغ رِسَالَتِهِ وَ احْتِجَاجِهِ عَلَى عِبَادِهِ اصْطَفَى مُحَمَّداً صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ بَعَثَهُ بِرِسَالاتِه إِلَى خَلْقِهِ فَقَالَ مَنْ قَالَ مِنْ كُفَّارٍ قَوْمِهِ حَسَداً وَ استكباراً - لَوْ لَا نُزِّلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ يَعْنِي بِذَلِكَ أُمَيَّةَ بْنَ أَبِي الصَّلْتِ وَ أَبَا مَسْعُودٍ التَّقَفِي فَأَبْطَلَ اللهُ اخْتِيارَهُمْ وَ لَمْ يُجِزُ لَهُمْ آرَاءَهُمْ حَيْثُ يَقُولُ - أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضاً سُخْرِيًا وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ۔

لیکن ہم کہتے ہیں: بے شک اللہ عزوجل نے مخلوق کو اپنی قدرت سے پیدا کیا اور انہیں اپنی عبادت کی استطاعت عطا کی، پھر انہیں اپنی مرضی سے امر و نہی کیا تو اس نے ان سے اپنے امر کی پیروی قبول کی اور ان کے لیے اس سے راضی ہوا اور انہیں اپنی نافرمانی سے روکا اور جو اس کی نافرمانی کرے اسے ملامت کی اور اس پر سزا دی اور اللہ کے لیے امر و نہی میں اختیار ہے، وہ چاہے تو منتخب کرے اور اس کا حکم دے اور جسے ناپسند کرے اس سے روکے اور اس پر سزا دے، اس استطاعت کے ذریعے جو اس نے اپنے بندوں کو اپنے امر کی پیروی اور نافرمانی سے بچنے کے لیے دی کیونکہ وہ ظاہر عدل، انصاف اور کامل حکمت والا ہے، اس نے عذر اور ڈرانے کے ذریعے حجت کو پہنچا دیا اور اسی کی طرف چنیدہ ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے منتخب کرتا ہے اپنی رسالت پہنچانے اور اپنے بندوں پر حجت قائم کرنے کے لیے۔ اس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منتخب کیا اور انہیں اپنی رسالتوں کے ساتھ اپنی مخلوق کی طرف بھیجا تو ان کی قوم کے کافروں میں سے بعض نے حسد اور تکبر سے کہا: ’’یہ قرآن دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں ہوا؟‘‘ یعنی امیہ بن ابی الصلت اور ابو مسعود ثقفی۔ تو اللہ نے ان کے انتخاب کو باطل کیا اور ان کی رائے کو جائز نہ رکھا، جہاں وہ فرماتا ہے: ’’کیا وہ تمہارے رب کی رحمت تقسیم کرتے ہیں؟ ہم نے ان کے درمیان دنیا کی زندگی میں ان کی معیشت تقسیم کی اور ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر درجات میں بلند کیا تاکہ ان میں سے بعض بعض کو خدمت گار بنائیں، اور تمہارے رب کی رحمت ان کے جمع کردہ سے بہتر ہے۔‘‘

وَ لِذَلِكَ اخْتَارَ مِنَ الْأُمُورِ مَا أَحَبَّ وَ نَهَى عَمَّا كَرِهَ فَمَنْ أَطَاعَهُ أَثَابَهُ وَ مَنْ عَصَاهُ عَاقَبَهُ وَ لَوْ فَوَّضَ اخْتِيَارَ أَمْرِهِ إِلَى عِبَادِهِ لَأَجَازَ لِقُرَيْشِ اخْتِيَارَ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ وَ أَبِي مَسْعُودِ الثَّقَفِي إِذْ كَانَا عِنْدَهُمْ أَفْضَلَ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ۔ فَلَمَّا أَدْبَ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ بِقَوْلِهِ - وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَ لا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللهُ وَرَسُولُهُ أَمْراً أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أمرهم۔ فَلَمْ يُجِرُ لَهُمُ الاخْتِيارَ بِأَهْوَائِهِمْ وَ لَمْ يَقْبَلْ مِنْهُمْ إِلَّا اتَّبَاعَ أَمْرِهِ وَ اجْتِنَابَ نَهْيهِ عَلَى يَدَيَّ مَنِ اصْطَفَاهُ۔ فَمَنْ أَطَاعَهُ رَشَدَ وَ مَنْ عَصَاهُ ضَلَّ وَ غَوَى وَ لَزِمَتْهُ الْحُجَّةُ بِمَا مَلَكَهُ مِنَ الاستطاعة لاتباع أمره و اجتناب نهيهِ۔ فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ حَرَمَهُ ثَوَابَهُ وَ أَنْزَلَ بِهِ عِقَابَهُ وَ هَذَا الْقَوْلُ بَيْنَ الْقَوْلَيْنِ لَيْسَ بِخَيْرٍ وَلَا تَفْوِيضِ۔ وَ بِذَلِكَ أَخْبَرَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ عَبَايَةَ بْنَ رِبْعِيُّ الْأَسَدِي حِينَ سَأَلَهُ عَنِ الاسْتِطَاعَةِ الَّتِي بِهَا يَقُومُ وَ يَقْعُدُ وَ يَفْعَلْ فَقَالَ لَهُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلَامُ سَأَلْتَ عَنِ الاسْتِطَاعَةِ تَمْلِكُهَا مِنْ دُونِ اللهِ أَوْ مَعَ اللَّهِ فَسَكَتَ عَبَايَةُ فَقَالَ لَهُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قُلْ يَا عَبَايَةُ قَالَ وَ مَا أَقُولُ قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِنْ قُلْتَ إِنَّكَ تَمْلِكُهَا ممَعَ اللهِ قَتَلْتُكَ وَ إِنْ قُلْتَ تَمْلِكُهَا دُونَ اللهِ قَتَلْتُكَ۔

اور اسی لیے اس نے امور میں سے وہ چنا جو اسے پسند تھا اور جسے ناپسند کیا اس سے روکا، پس جو اس کی اطاعت کرے اسے ثواب دے اور جو نافرمانی کرے اسے سزا دے اور اگر اس نے اپنے امر کا اختیار بندوں کو سونپ دیا ہوتا، تو قریش کے لیے امیہ بن ابی الصلت اور ابا مسعود ثقفی کا انتخاب جائز کر دیتا، کیونکہ وہ ان کے نزدیک محمدؐ سے افضل تھے۔ پس جب اللہ نے مومنوں کو اپنے اس قول سے ادب سکھایا: ’’اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لیے یہ روا نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسولؐ کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو انہیں اپنے معاملے میں اختیار باقی رہے۔‘‘ تو اس نے انہیں ان کی خواہشات کے مطابق اختیار جائز نہ رکھا اور ان سے صرف اپنے امر کی پیروی اور اپنے نہی سے اجتناب قبول کیا، اس کے ہاتھوں پر جسے اس نے منتخب کیا۔ پس جو اس کی اطاعت کرے وہ ہدایت پائے اور جو نافرمانی کرے وہ گمراہ ہو اور بھٹک جائے اور اس پر حجت لازم ہو، اس استطاعت کے ذریعے جو اس نے اسے اپنے امر کی پیروی اور نہی سے اجتناب کے لیے دی۔ اسی لیے اس نے اسے اپنے ثواب سے محروم کیا اور اس پر اپنا عذاب نازل کیا اور یہ قول دونوں قولوں کے درمیان ہے، نہ جبر ہے اور نہ تفویض اور اسی کی خبر امیر المؤمنینؑ نے عبایہ بن ربعی اسدی کو دی جب اس نے ان سے اس استطاعت کے بارے میں پوچھا جس سے وہ اٹھتا، بیٹھتا اور کام کرتا ہے تو امیر المؤمنینؑ نے اس سے فرمایا: تم نے استطاعت کے بارے میں پوچھا، کیا تم اسے اللہ کے بغیر رکھتے ہو یا اللہ کے ساتھ؟ تو عبایہ خاموش ہوگیا تو امیر المؤمنینؑ نے اس سے فرمایا: کہو اے عبایہ۔ اس نے کہا: کیا کہوں؟ آپؑ نے فرمایا: اگر تم کہو کہ تم اسے اللہ کے ساتھ رکھتے ہو تو میں تمہیں قتل کر دوں گا، اور اگر کہو کہ تم اسے اللہ کے بغیر رکھتے ہو تو بھی تمہیں قتل کر دوں گا۔

قَالَ عَبَايَةُ فَمَا أَقُولُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ تَقُولُ إِنَّكَ تَمْلِكُهَا بِاللَّهِ الَّذِي يَمْلِكُهَا مِنْ دُونِكَ فَإِنْ يُمَلَكُهَا إِيَّاكَ كَانَ ذَلِكَ مِنْ عَطَائِهِ وَ إِنْ يَسْلُبُكَهَا كَانَ ذَلِكَ مِنْ بَلَائِهِ هُوَ الْمَالِكُ لِمَا مَلَكَكَ وَ الْقَادِرُ عَلَى مَا عَلَيْهِ أَقْدَرَكَ أَمَا سَمِعْتَ النَّاسَ يَسْأَلُونَ الْحَوْلَ وَ الْقُوَّةَ حِينَ يَقُولُونَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ قَالَ عَبَايَةُ وَ مَا تَأْوِيلُهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَا حَوْلَ عَنْ مَعَاصِي اللَّهِ إِلَّا بِعِصْمَةِ اللَّهِ وَ لَا قُوَّةَ لَنَا عَلَى طَاعَةِ اللَّهِ إِلَّا بِعَوْنِ اللَّهِ، قَالَ فَوَثَبَ عَبَايَةٌ فَقَبَّلَ يَدَيْهِ وَ رِجْلَيْهِ۔

عبایہ نے کہا: تو کیا کہوں اے امیر المؤمنین؟ آپؑ نے فرمایا: کہو کہ تم اسے اللہ کے ذریعے رکھتے ہو، وہ اللہ جو اسے تم سے پہلے رکھتا ہے۔ پس اگر وہ اسے تمہیں دے تو یہ اس کا عطیہ ہے اور اگر وہ تم سے چھین لے تو یہ اس کی آزمائش ہے۔ وہ اس کا مالک ہے جو تمہیں دیا اور اس پر قادر ہے جس پر اس نے تمہیں قادر کیا۔ کیا تم نے لوگوں کو نہیں سنا کہ وہ حول و قوت مانگتے ہیں جب وہ کہتے ہیں: ’’اللہ کے بغیر نہ کوئی حول ہے نہ قوت۔‘‘ عبایہ نے کہا: اس کی تفسیر کیا ہے اے امیر المؤمنین؟ آپؑ نے فرمایا: اللہ کی نافرمانی سے باز آنے کی طاقت اللہ کی عصمت کے بغیر نہیں اور اللہ کی اطاعت پر ہمیں قوت اللہ کی مدد کے بغیر نہیں۔ راوی کہتا ہے: عبایہ اچھل کر اٹھا اور آپؑ کے ہاتھ اور پاؤں چومنے لگا۔

وَ رُوِيَ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حِينَ أَتَاهُ نَجْدَةً يَسْأَلُهُ عَنْ مَعْرِفَةِ اللَّهِ قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا ذَا عَرَفْتَ رَبَّكَ قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالتَّمْيِيرُ الَّذِي خَوَّلَنِي وَ الْعَقْلِ الَّذِي دَلَّنِي قَالَ أَ فَمَجْبُولٌ أَنْتَ عَلَيْهِ قَالَ لَوْ كُنْتُ مَجْبُولاً مَا كُنْتُ مَحْمُوداً عَلَى إِحْسَانٍ وَ لَا مَذْمُوماً عَلَى إِسَاءَةِ وَ كَانَ الْمُحْسِنُ أَوْلَى بِاللَّائِمَةِ مِنَ الْمُسِيءِ فَعَلِمْتُ أَنَّ اللهَ قَائِمٌ بَاقِ وَ مَا دُونَهُ حَدَثٌ حَائِلٌ زَائِلٌ وَلَيْسَ الْقَدِيمُ الْبَاقِي كَالْحَدَثِ الزَّائِلِ قَالَ نَجْدَةُ أَجِدُكَ أَصْبَحْتَ حَكِيماً يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ أَصْبَحْتُ مُخَيَّراً فَإِنْ أَتَيْتُ السَّيِّئَةَ بِمَكَانِ الْحَسَنَةِ فَأَنَا الْمُعَاقَبُ عَلَيْهَا۔

اور امیر المؤمنینؑ سے روایت ہے جب نجدہ آپؑ کے پاس آیا اور اللہ کی معرفت کے بارے میں پوچھا، اس نے کہا: اے امیر المؤمنین، آپؑ نے نے اپنے رب کو کس چیز سے پہچانا؟ آپؑ نے فرمایا: اس تمیز سے جو اس نے مجھے عطا کی اور اس عقل سے جس نے مجھے ہدایت دی۔ اس نے کہا: کیا آپ اس پر مجبور ہیں؟ آپ نے فرمایا: اگر میں مجبور ہوتا تو نہ نیکی پر قابل تعریف ہوتا اور نہ برائی پر قابل ملامت اور نیکی کرنے والا برائی کرنے والے سے ملامت کا زیادہ حقدار ہوتا، تو میں نے جانا کہ اللہ قائم اور باقی ہے اور اس کے سوا سب حادث، متغیر اور زائل ہونے والا ہے، اور قدیم و باقی حادث و زائل کی طرح نہیں۔ نجدہ نے کہا: اے امیر المؤمنین، میں آپ کو حکیم پاتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: میں مختار ہو کر صبح کرتا ہوں، پس اگر میں نیکی کے بجائے برائی کروں تو میں اس پر سزا پانے والا ہوں۔

وَ رُوِيَ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهُ قَالَ لِرَجُلٍ سَأَلَهُ بَعْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الشَّامِ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَخْبِرْنَا عَنْ خُرُوجِنَا إِلَى الشَّامِ بِقَضَاءِ وَ قَدَرٍ قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَعَمْ يَا شَيْخُ مَا عَلَوْتُمْ تَلْعَةً ۚ وَلَا هَبَطْتُمْ وَادِياً إِلَّا بِقَضَاءٍ وَ قَدَرٍ مِنَ اللَّه، فَقَالَ الشَّيْخُ عِنْدَ اللَّهِ أَحْتَسِبُ عَنَائِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ۔ فَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَهُ يَا شَيْخُ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ عَظَمَ أَجْرَكُمْ فِي مَسِيرِكُمْ وَ أَنْتُمْ سَائِرُونَ وَ فِي مَقَامِكُمْ وَ أَنْتُمْ مُقِيمُونَ وَ فِي انْصِرَافِكُمْ وَأَنْتُمْ مُنْصَرِفُونَ وَ لَمْ تَكُونُوا فِي شَيْءٍ مِنْ أُمُورِكُمْ مُكْرَهِينَ وَ لَا إِلَيْهِ مُضْطَرِّينَ، لَعَلَّكَ ظننت أَنَّهُ قَضَاءً حَتَّمٌ وَ قَدَرٌ لازمٌ لَوْ كَانَ ذَلِكَ كَذَلِكَ لَبَطَلَ الثَّوَابُ وَ الْعِقَابُ وَ لَسَقَطَ الْوَعْدُ وَ الْوَعِيدُ۔ وَ لَمَا أَلْزِمَتِ الْأَشْيَاءُ أَهْلَهَا عَلَى الْحَقَائِقِ ذَلِكَ مَقَالَةٌ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَ أَوْلِيَاءِ الشَّيْطَانِ۔ إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَ عَزَّ أَمَرَ تخييراً وَ نَهَى تَحْذِيراً وَ لَمْ يُطَعْ مُكْرَها وَ لَمْ يُعْصَ مَغْلُوباً وَ لَمْ يَخْلُقِ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا بَاطِلاً - ذلِكَ ظَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ۔

اور امیر المؤمنینؑ سے روایت ہے کہ شام سے واپسی کے بعد ایک شخص نے آپ سے پوچھا: اے امیر المؤمنین، ہمیں بتائیں کہ ہمارا شام کی طرف نکلنا قضا و قدر سے تھا؟ آپؑ نے فرمایا: ہاں اے شیخ، تم کسی بلندی پر نہ چڑھے اور نہ کسی وادی میں اترے مگر اللہ کی قضا و قدر سے۔ تو شیخ نے کہا: اے امیر المؤمنین، میں اپنی مشقت کو اللہ کے پاس اجر کے طور پر شمار کرتا ہوں تو آپؑ نے فرمایا: رکو اے شیخ، بے شک اللہ نے تمہارا اجر عظیم کیا تمہارے سفر میں جب تم چل رہے تھے، تمہارے قیام میں جب تم ٹھہرے ہوئے تھے اور تمہاری واپسی میں جب تم واپس ہو رہے تھے اور تم اپنے کسی معاملے میں مجبور نہ تھے اور نہ اس کی طرف لاچار کیے گئے تھے۔ شاید تم نے گمان کیا کہ یہ حتمی قضا اور لازم قدر ہے، اگر ایسا ہوتا تو ثواب و عذاب باطل ہو جاتا اور وعدہ و وعید ساقط ہو جاتے اور چیزیں اپنے اہل پر حقیقتوں کے مطابق لازم نہ آتیں۔ یہ بت پرستوں اور شیطان کے دوستوں کا قول ہے۔ بے شک اللہ عزوجل نے اختیار کے ساتھ امر کیا اور ڈرانے کے ساتھ نہی کیا، اس کی اطاعت جبر سے نہیں ہوتی اور اس کی نافرمانی مغلوب ہو کر نہیں ہوتی اور اس نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو باطل پیدا نہیں کیا، یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا، پس کافروں کے لیے جہنم کی آگ سے ہلاکت اور عذاب ہے۔

فَقَامَ الشَّيْحُ فَقَبَّلَ رَأْسَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَ أَنْشَأَ يَقُولُ: أَنْتَ الْإِمَامُ الَّذِي تَرْجُو بِطَاعَتِهِ / يَوْمَ النَّجاة من الرَّحْمَن غفْراناً، أَوْصَحْتَ مِنْ دِينِنَا مَا كَانَ مُلْتَبِساً / جزاك ربك عنا فيه رضواناً، فَلَيْسَ مَعْذِرَةٌ فِي فِعْلِ فَاحِشَةٍ / قَدْ كُنْتُ رَاكِبَهَا ظُلْماً وَ عِصْيَانا، فَقَدْ دَلَّ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى مُوَافَقَةِ الْكِتَابِ وَ نَفْيِ الْجَبْرِ وَالتَّفْوِيضِ اللَّذَيْنِ يَلْزَمَانِ مَنْ دَانَ بِهِمَا وَ تَقَلَّدَهُمَا الْبَاطِلَ وَ الْكُفْرَ وَ تَكْذِيبَ الْكِتَابِ، وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الصَّلالَةِ وَ الْكُفْرِ وَ لَسْنَا نَدِينُ بِجَبْرٍ وَ لَا تَفْوِيضِ، لَكِنَّا نَقُولُ بِمَنْزِلَةِ بَيْنَ الْمَنْزِلَتَيْنِ وَ هُوَ الامْتِحَانُ وَالاخْتِبَارُ بِالاسْتِطَاعَةِ الَّتِي مَلَكْنَا اللَّهُ وَ تَعَبَّدَنَا بِهَا۔ عَلَى مَا شَهِدَ بِهِ الْكِتَابُ وَ دَانَ بِهِ الْأَئِمَّةُ الْأَبْرَارُ مِنْ آلِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ.

تو شیخ کھڑا ہوا اور امیر المؤمنینؑ کا سر چوما اور یہ اشعار پڑھنے لگا: آپؑ وہ امام ہیں جس کی اطاعت سے نجات کے دن رحمان سے بخشش کی امید رکھی جاتی ہے۔ آپ نے ہمارے دین میں جو مشتبہ تھا اسے واضح کیا، آپ کا رب آپ کو ہماری طرف سے رضوان کا بدلہ دے۔ پس کسی بے حیائی کے فعل میں کوئی عذر نہیں، جو میں نے ظلم اور نافرمانی سے کیا ہو۔پس امیر المؤمنینؑ نے قرآن کی موافقت اور جبر و تفویض کی نفی پر دلیل دی، جن کا اعتقاد رکھنے والے اور انہیں اختیار کرنے والے پر باطل، کفر اور قرآن کی تکذیب لازم آتی ہے اور ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں گمراہی اور کفر سے، اور ہم نہ جبر کا اعتقاد رکھتے ہیں نہ تفویض کا، بلکہ ہم دونوں کے درمیان والے مقام کا قول کرتے ہیں، اور وہ امتحان اور آزمائش ہے اس استطاعت کے ذریعے جو اللہ نے ہمیں دی اور اسی کے ساتھ ہمیں عبادت کا پابند کیا۔ جیسا کہ قرآن نے اس کی گواہی دی اور رسولؐ کے اہل بیت کے نیک اماموں نے اس کا اعتقاد رکھا۔

وَ مَثَلُ الاخْتِبَارِ بِالاسْتِطَاعَةِ مَثَلُ رَجُلٍ مَلَكَ عَبْداً وَ مَلَكَ مَالاً كَثِيراً أَحَبَّ أَنْ يَخْتَبِرَ عَبْدَهُ عَلَى عِلْمٍ مِنْهُ بِمَا يَقُولُ إِلَيْهِ فَمَلَكَهُ مِنْ مَالِهِ بَعْضَ مَا أَحَبَّ وَ وَقَفَهُ عَلَى أَمُورٍ عَرَفَهَا الْعَبْدَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَصْرِفَ ذَلِكَ الْمَالَ فِيهَا وَ نَهَاهُ عَنْ أَسْبَابٍ لَمْ يُحِبُّهَا وَ تَقَدَّمَ إِلَيْهِ أَنْ يَجْتَنِبَهَا وَ لَا يُنْفِقَ مِنْ مَالِهِ فِيهَا وَالْمَالُ يُتَصَرَّفُ فِي أَيِّ الْوَجْهَيْنِ فَصَرَفَ الْمَالَ أَحَدُهُمَا فِي اتَّبَاعِ أَمْرِ الْمَوْلَى وَ رِضَاهُ وَ الْآخَرُ صَرَفَهُ فِي اتَّبَاعِ نَهْيهِ وَ سَخَطِهِ وَ أَسْكَنَهُ دَارَ اخْتِبَارٍ أَعْلَمَهُ أَنَّهُ غَيْرُ دَائِمٍ لَهُ السُّكْنَى فِي الدَّارِ وَ أَنَّ لَهُ دَاراً غَيْرَهَا وَ هُوَ مُخْرِجُهُ إِلَيْهَا فِيهَا ثَوَابٌ وَ عِقَابٌ دَائِمَانِ فَإِنْ أَنْفَذَ الْعَبْدُ الْمَالَ الَّذِي مَلَكَهُ مَوْلاهُ فِي الْوَجْهِ الَّذِي أَمَرَهُ بِهِ جَعَلَ لَهُ ذَلِكَ الثَّوَابَ الدَّائِمَ فِي تِلْكَ الدَّارِ الَّتِي أَعْلَمَهُ أَنَّهُ مُخْرِجُهُ إِلَيْهَا وَ إِنْ أَنْفَقَ الْمَالَ فِي الْوَجْهِ الَّذِي نَهَاهُ عَنْ إِنْفَاقِهِ فيهِ جَعَلَ لَهُ ذَلِكَ الْعِقَابَ الدَّائِمَ فِي دَارِ الْخُلُودِ۔

اور استطاعت کے ذریعے آزمائش کی مثال ایسے شخص کی طرح ہے جس کے پاس ایک غلام ہو اور بہت مال ہو، اس نے چاہا کہ اپنے غلام کو آزمائے، اس علم کے ساتھ جو وہ اس سے کہتا ہے تو اس نے اپنے مال میں سے کچھ جو اس نے چاہا اسے دیا اور اسے ایسے امور پر کھڑا کیا جو غلام نے پہچانے، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اس مال کو ان میں خرچ کرے اور اسے ایسے اسباب سے روکا جو اسے پسند نہ تھے اور اسے حکم دیا کہ ان سے بچے اور ان میں اپنا مال خرچ نہ کرے اور مال دونوں طریقوں میں سے کسی ایک میں خرچ ہوتا ہے: ایک نے مال کو مالک کے امر اور اس کی رضا کی پیروی میں خرچ کیا اور دوسرے نے اس کے نہی اور ناراضی کی پیروی میں خرچ کیا اور اسے آزمائش کے گھر میں بسایا، اسے بتایا کہ اس گھر میں اس کی رہائش دائمی نہیں اور اس کا ایک اور گھر ہے جس کی طرف وہ اسے نکالے گا، جس میں دائمی ثواب اور عذاب ہیں۔ پس اگر غلام نے وہ مال جو اس کے مالک نے اسے دیا، اس طریقے میں خرچ کیا جس کا اسے حکم دیا تھا، تو اس نے اسے وہ دائمی ثواب اس گھر میں دیا جس کے بارے میں اسے بتایا تھا کہ وہ اسے وہاں نکالے گا اور اگر غلام نے مال اس طریقے میں خرچ کیا جس سے اسے منع کیا تھا، تو اس نے اسے وہ دائمی عذاب ہمیشگی کے گھر میں دیا۔

وَ قَدْ حَدَّ الْمَوْلَى فِي ذَلِكَ حَدَا مَعْرُوفًا وَ هُوَ الْمَسْكَنُ الَّذِي أَسْكَنَهُ فِي الدَّارِ الْأُولَى فَإِذَا بَلَغَ الْحَدَّ اسْتَبْدَلَ الْمَوْلَى بِالْمَالِ وَ بِالْعَبْدِ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَزَلْ مَالِكًا لِلْمَالِ وَ الْعَبْدِ فِي الْأَوْقَاتِ كُلَّهَا إِلَّا أَنَّهُ وَعَدَ أَنْ لَا يَسْلُبَهُ ذَلِكَ الْمَالَ مَا كَانَ فِي تِلْكَ الدَّارِ الْأُولَى إِلَى أَنْ يَسْتَتِمَّ سُكْنَاهُ فِيهَا فَوَفَى لَهُ لِأَنَّ مِنْ صِفَاتِ الْمَوْلَى الْعَدْلَ وَ الْوَفَاء وَ النِّصَفَةَ وَ الْحِكْمَةَ أَ وَ لَيْسَ يَجِبُ إِنْ كَانَ ذَلِكَ الْعَبْدُ صَرَفَ ذَلِكَ الْمَالَ فِي الْوَجْهِ الْمَأْمُور بِهِ أَنْ يَفِي لَهُ بِمَا وَعَدَهُ مِنَ الثَّوَابِ وَ تَفَضَّلَ عَلَيْهِ بِأَنِ اسْتَعْمَلَهُ فِي دَارٍ فَانِيَةٍ وَ أَثَابَهُ عَلَى طَاعَتِهِ فِيهَا نَعِيماً دَائِماً فِي دَارٍ بَاقِيَةِ دَائِمَةٍ وَ إِنْ صَرَفَ الْعَبْدُ الْمَالَ الَّذِي مَلَكَهُ مَوْلَاهُ أَيَّامَ سُكْنَاهُ تِلْكَ الدَّارَ الْأُولَى فِي الْوَجْهِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُ وَ خَالَفَ أَمْرَ مَوْلَاهُ كَذَلِكَ تَجِبْ عَلَيْهِ الْعُقُوبَةُ الدَّائِمَةُ الَّتِي حَذَرَهُ إِيَّاهَا غَيْرَ ظَالِمٍ لَهُ لِمَا تَقَدَّمَ إِلَيْهِ وَ أَعْلَمَهُ وَ عَرَّفَهُ وَ أَوْجَبَ لَهُ الْوَفَاءَ بِوَعْدِهِ وَ وَعِيدِهِ بِذَلِكَ يُوصَفُ الْقَادِرُ الْقَاهِرُ وَ أَمَّا الْمَوْلَى فَهُوَ اللَّهُ جَلَّ وَ عَزَّ وَ أَمَّا الْعَبْدُ فَهُوَ ابْنَ آدَمَ الْمَخْلُوقُ، وَ الْمَالُ قُدْرَةُ اللَّهِ الْوَاسِعَةُ وَ مِحْنَتُهُ إِظْهَارُهُ الْحِكْمَةَ وَ الْقُدْرَةَ وَالدَّارُ الْفَانِيَةُ هِيَ الدُّنْيَا وَ بَعْضُ الْمَالِ الَّذِي مَلَكَهُ مَوْلَاهُ هُوَ الاسْتِطَاعَةُ الَّتِي مَلَكَ ابْنَ آدَمَ۔

اور مالک نے اس میں ایک معروف حد مقرر کی، اور وہ وہ رہائش ہے جو اس نے پہلے گھر میں اسے دی، پس جب وہ حد پہنچ جائے تو مالک مال اور غلام کو بدل دے گا۔ باوجود یہ کہ وہ ہر وقت مال اور غلام کا مالک رہا، مگر اس نے وعدہ کیا کہ وہ اس مال کو اس سے نہ چھینے گا جب تک وہ پہلے گھر میں ہے، یہاں تک کہ اس کی رہائش وہاں پوری ہو جائے۔ تو اس نے اسے وفا دی، کیونکہ مالک کی صفات میں عدل، وفا، انصاف اور حکمت ہے۔ کیا لازم نہیں کہ اگر اس غلام نے وہ مال اس طریقے میں خرچ کیا جس کا اسے حکم دیا تھا، تو وہ اسے وہ ثواب دے جس کا اس سے وعدہ کیا تھا؟ اور اس پر فضل کرے کہ اس نے اسے فانی گھر میں کام پر لگایا اور اس کی اطاعت پر اسے دائمی نعمت، باقی اور دائمی گھر میں ثواب دے اور اگر غلام نے وہ مال جو اس کے مالک نے اسے پہلے گھر میں رہائش کے دوران دیا، اس طریقے میں خرچ کیا جس سے منع کیا گیا تھا اور اپنے مالک کے امر کی مخالفت کی، تو اسی طرح اس پر وہ دائمی عذاب واجب ہوگا جس سے اسے ڈرایا تھا، اور وہ اس پر ظلم نہیں کرے گا۔ کیونکہ اس نے اسے پہلے ہی بتا دیا، آگاہ کر دیا، پہچان کر دی اور اپنے وعد و وعید کی وفا اس پر واجب کی، اسی سے قادر و قاہر کی صفت کی جاتی ہے اور مالک اللہ عزوجل ہے اور غلام ابن آدم مخلوق ہے اور مال اللہ کی وسیع قدرت اور اس کی آزمائش ہے، اور اس کا امتحان حکمت اور قدرت کے ظاہر کرنے میں ہے اور فانی گھر دنیا ہے اور کچھ مال جو مالک نے اسے دیا، وہ استطاعت ہے جو ابن آدم کو دی گئی۔

وَ الْأُمُورُ الَّتِي أَمَرَ اللهُ بِصَرْفِ الْمَالِ إِلَيْهَا هُوَ الاسْتِطَاعَةُ لَاتَّبَاعِ الْأَنْبِيَاءِ وَ الْإِقْرَارُ بِمَا أَوْرَدُوهُ عَنِ اللَّهِ جَلَّ وَ عَزَّ وَ اجْتِنَابُ الْأَسْبَابِ الَّتِي نَهَى عَنْهَا هِيَ طُرُقُ إِبْلِيسَ وَ أَمَّا وَعْدُهُ فَالنَّعِيمُ الدَّائِمُ وَ هِيَ الْجَنَّةُ وَ أَمَّا الدَّارُ الْغَانِيَةُ فَهِيَ الدُّنْيَا وَ أَمَّا الدَّارُ الْأُخْرَى فَهِيَ الدَّارُ الْبَاقِيَةُ وَ هِيَ الْآخِرَةُ وَ الْقَوْلُ بَيْنَ الْجَبْرِ وَالتَّفْوِيضِ هُوَ الاخْتِبَارُ وَالامْتِحَانُ وَ الْبَلْوَى بِالاسْتِطَاعَةِ الَّتِي مَلَكَ الْعَبْدَ وَ شَرْحُهَا فِي الْخَمْسَةِ الْأَمْثَالِ الَّتِي ذَكَرَهَا الصَّادِقُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهَا جَمَعَتْ جَوَامِعَ الْفَضْلِ وَ أَنَا مُفَشِّرُهَا بِشَوَاهِدَ مِنَ الْقُرْآنِ وَ الْبَيَانِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ۔

اور وہ امور جن میں اللہ نے مال خرچ کرنے کا حکم دیا، وہ انبیاء کی پیروی اور جو کچھ وہ اللہ عزوجل کی طرف سے لائے اس کا اقرار ہے اور ان اسباب سے اجتناب جن سے منع کیا، وہ ابلیس کے راستے ہیں اور اس کا وعدہ دائمی نعمت ہے اور وہ جنت ہے، اور فانی گھر دنیا ہے اور دوسرا گھر باقی رہنے والا گھر ہے اور وہ آخرت ہے اور جبر و تفویض کے درمیان قول، وہ امتحان، آزمائش اور بلوا ہے اس استطاعت کے ذریعے جو بندے کو دی گئی اور اس کی شرح ان پانچ مثالوں میں ہے جو امام جعفر صادقؑ نے ذکر کیں کہ انہوں نے فضل کے جامع اصول جمع کیے، اور میں انہیں قرآن کے گواہوں اور بیان کے ساتھ تفسیر کروں گا ان شاء اللہ۔

تَفْسِيرُ صِحَّةِ الْخِلْقَةِ: أَمَّا قَوْلُ الصَّادِقِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِنَّ مَعْنَاهُ كَمَالُ الْخَلْقِ لِلْإِنْسَانِ وَ كَمَالُ الْحَوَاسُ وَ ثَبَاتُ الْعَقْلِ وَ التَّمْيِيزِ وَ إِطْلَاقُ اللِّسَانِ بِالنُّطْقِ وَ ذَلِكَ قَوْلُ اللهِ وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلاً فَقَدْ أَخْبَرَ عَزَّ وَ جَلَّ عَنْ تَفْضِيلِهِ بَنِي آدَمَ عَلَى سائِرِ خَلْقِهِ مِنَ الْبَهَائِمِ وَ السَّبَاعِ وَ دَوَابٌ الْبَحْرِ وَ الطَّيْرِ وَ كُلَّ ذِي حَرَكَةٍ تُدْرِكْهُ حَوَاسٌ بَنِي آدَمَ بِتَمْيِيزِ الْعَقْلِ وَ النُّطْقِ وَ ذَلِكَ قَوْلُهُ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ، وَ قَوْلُهُ يَا أَيُّهَا الْإِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَاكَ فَعَدَلَكَ فِي أَي صُورَةٍ مَا شَاءَ رَكَبَكَ الله وَ فِي آيَاتٍ كَثِيرَةٍ فَأَوَّلُ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَى الْإِنْسَانِ صِحَّةُ عَقْلِهِ وَ تَفْضِيلُهُ عَلَى كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِهِ بِكَمَالِ الْعَقْلِ وَ تَمْيِيزِ الْبَيَانِ وَ ذَلِكَ أَنَّ كُلَّ ذِي حَرَكَةٍ عَلَى بَسِيطِ الْأَرْضِ هُوَ قَائِمٌ بِنَفْسِهِ بِحَوَاسَهِ مُسْتَكْمِلٌ فِي ذَاتِهِ فَفَضَلَ بَنِي آدَمَ بِالنُّطْقِ الَّذِي لَيْسَ فِي غَيْرِهِ مِنَ الْخَلْقِ الْمُدْرِكِ بِالْحَوَاسَ فَمِنْ أَجْلِ النُّطْقِ مَلَكَ اللهُ ابْنَ آدَمَ غَيْرَهُ مِنَ الْخَلْقِ حَتَّى صَارَ آمراً نَاهِياً وَ غَيْرُهُ مُسَخَّرٌ لَهُ، كَمَا قَالَ اللَّهُ كَذلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ۔

تفسیر صحت خلقت: اما امام جعفر صادقؑ کا قول، اس کا معنی انسان کی خلقت کا کامل ہونا، حواس کا کامل ہونا، عقل و تمیز کا ثابت ہونا اور زبان کا نطق کے ساتھ کھلا ہونا ہے اور یہ اللہ کا قول ہے:’’اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت دی اور انہیں خشکی اور سمندر میں سواری کا اہتمام کیا اور انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور انہیں اپنی بہت سی مخلوقات پر بڑی برتری دی۔ پس اللہ عزوجل نے خبر دی کہ اس نے بنی آدم کو اپنی تمام مخلوقات یعنی چوپایوں، درندوں، سمندری جانوروں، پرندوں اور ہر متحرک چیز پر ترجیح دی، جسے بنی آدم کے حواس عقل و نطق کی تمیز سے ادراک کرتے ہیں اور یہ اس کا قول ہے: بے شک ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا اور اس کا قول:’’اے انسان، تجھے اپنے کریم رب کے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا؟ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر تجھے درست کیا، پھر تجھے متوازن کیا، جس صورت میں اس نے چاہا تجھے ترکیب دیا‘‘ اور بہت سی آیات میں۔ پس اللہ کی پہلی نعمت انسان پر اس کی عقل کی صحت اور اسے اپنی بہت سی مخلوقات پر عقل کی تکمیل اور بیان کی تمیز سے ترجیح دینا ہے اور یہ اس لیے کہ زمین کی سطح پر ہر متحرک چیز اپنے آپ پر اپنے حواس کے ساتھ قائم ہے اور اپنی ذات میں مکمل ہے، تو اس نے بنی آدم کو نطق سے ترجیح دی جو دوسری حساس مخلوقات میں نہیں۔ پس نطق کی وجہ سے اللہ نے ابن آدم کو دوسری مخلوقات کا مالک بنایا یہاں تک کہ وہ امر و نہی کرنے والا ہو گیا اور دوسرے اس کے تابع ہو گئے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا:’’اسی طرح اس نے انہیں تمہارے لیے مسخر کیا تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی‘‘

وَ قَالَ وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْماً طَرِيًّا وَ تَسْتَخْرِجُوا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَها وَ قَالَ وَ الْأَنْعَامَ خَلَقَهَا لَكُمْ فيهَا دِفْءٌ وَ مَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ وَلَكُمْ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسْرَحُونَ وَ تَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَمْ تَكُونُوا بِالغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ فَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ دَعَا اللهُ الْإِنْسَانَ إِلَى اتَّبَاعِ أَمْرِهِ وَ إِلَى طَاعَتِهِ بِتَفْضِيلِهِ إِيَّاهُ بِاسْتِوَاءِ الْخَلْقِ وَ كَمَالِ النُّطْقِ وَ الْمَعْرِفَةِ بَعْدَ أَنْ مَلَكَهُمْ اسْتِطَاعَةَ مَا كَانَ تَعَبَّدَهُمْ بِهِ بِقَوْلِهِ فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَ قَوْلِهِ لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا وَ قَوْلِهِ لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا و فِي آيَاتٍ كَثِيرَةٍ، فَإِذَا سَلَبَ مِنَ الْعَبْدِ حَاسَةَ مِنْ حَوَاسَهِ رَفَعَ الْعَمَلَ عَنْهُ بحَاشَتِهِ كَقَوْلِهِ لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ وَ لا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ؟ الآيَةَ؛ فَقَدْ رَفَعَ عَنْ كُلِّ مَنْ كَانَ بِهَذِهِ الصِّفَةِ الْجِهَادَ وَ جَمِيعَ الْأَعْمَالِ الَّتِي لَا يَقُومُ بِهَا وَ كَذَلِكَ أَوْجَبَ عَلَى ذِي الْيَسَارِ الْحَجَّ وَ الزَّكَاةَ لِمَا مَلَكَهُ مِنِ اسْتِطَاعَةِ ذَلِكَ وَلَمْ يُوجِبْ عَلَى الْفَقِيرِ الزَّكَاةَ وَ الْحَجَّ، قَوْلُهُ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً، وَ قَوْلُهُ في الظَّهَارِ وَ الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ إِلَى قَوْلِهِ فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِيناً۔ كُلُّ ذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَمْ يُكَلِّفُ عِبَادَهُ إِلَّا مَا مَلَكَهُمْ اسْتِطَاعَتَهُ بِقُوَّةِ الْعَمَلِ بِهِ وَ نَهَاهُمْ عَنْ مِثْلِ ذَلِكَ فَهَذِهِ صِحَةُ الْخِلْقَةِ۔

اور فرمایا:’’اور وہی ہے جس نے سمندر کو تمہارے لیے مسخر کیا تاکہ تم اس سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس سے زیور نکالو جو تم پہنتے ہو اور فرمایا:’’اور چوپایوں کو اس نے تمہارے لیے پیدا کیا، ان میں تمہارے لیے گرمی اور منافع ہیں اور ان میں سے تم کھاتے ہو، اور ان میں تمہارے لیے خوبصورتی ہے جب تم انہیں شام کو واپس لاتے ہو اور جب چرانے لے جاتے ہو، اور وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر ایسے شہر تک لے جاتے ہیں جہاں تم بغیر مشقت کے نہیں پہنچ سکتے۔ پس اسی لیے اللہ نے انسان کو اپنے امر کی پیروی اور اپنی اطاعت کی طرف بلایا، اس ترجیح کی بنا پر جو اس نے اسے خلقت کی درستی، نطق اور معرفت کی تکمیل سے دی۔ اس کے بعد کہ اس نے انہیں اس کی استطاعت دی جس کا انہیں پابند کیا، اپنے اس قول سے:’’اللہ سے ڈرو جتنا تم سے ہو سکے اور سنو اور اطاعت کرو اور اس کا قول:’’اللہ کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا‘‘ اور اس کا قول:’’اللہ کسی نفس کو اس سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا جو اس نے اسے دیا‘‘ اور بہت سی آیات میں۔ پس جب وہ بندے سے اس کے حواس میں سے کوئی حس چھین لے تو اس کے بقدر عمل اس سے اٹھا لیتا ہے، جیسا کہ اس کا قول:’’اندھے پر کوئی گناہ نہیں اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے؟" آیت۔ پس اس نے ہر اس شخص سے جس میں یہ صفت ہو جہاد اور وہ تمام اعمال اٹھا لیے جو وہ انجام نہیں دے سکتا اور اسی طرح اس نے مالدار پر حج اور زکات واجب کی، اس استطاعت کی بنا پر جو اسے دی، اور فقیر پر زکات اور حج واجب نہیں کیا۔ اس کا قول:’’اور اللہ کے لیے لوگوں پر بیت اللہ کا حج ہے، جو اس تک راستہ پا سکے اور اس کا قول ظہار میں:’’اور جو اپنی بیویوں سے ظہار کریں، پھر جو کہا تھا اس سے رجوع کریں، تو ایک گردن آزاد کرنا..." اس کے قول تک:’’...پس جو استطاعت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو صرف اتنی تکلیف دی جس کی استطاعت انہیں عمل کی قوت کے ساتھ دی اور اسی طرح سے انہیں روکا، پس یہ صحت خلقت ہے۔

أَمَّا قَوْلُهُ تَخْلِيَةُ السَّرْبِ؛ فَهُوَ الَّذِي لَيْسَ عَلَيْهِ رَقِيبٌ يَحْظُرُ عَلَيْهِ وَ يَمْنَعُهُ الْعَمَلَ بِمَا أَمَرَهُ اللهُ بِهِ وَ ذَلِكَ قَوْلُهُ فِيمَننِ اسْتُضْعِفَ وَ حُظِرَ عَلَيْهِ الْعَمَلُ فَلَمْ يَجِدُ حِيلَةً وَ لَا يَهْتَدِي سَبِيلاً كَمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى - إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَاءِ وَ الوِلْدَانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَ لا يَهْتَدُونَ سَبِيلاً فَأَخْبَرَ أَنَّ الْمُسْتَضْعَفَ لَمْ يُخَلَّ سَرْبُهُ وَ لَيْسَ عَلَيْهِ مِنَ الْقَوْلِ شَيْءٍ إِذَا كَانَ مُطْمَئِنَ الْقَلْبِ بِالْإِيمَانِ۔

اما اس کا قول’’راستہ کا کھلا ہونا"، تو وہ یہ ہے کہ اس پر کوئی نگران نہ ہو جو اسے روکے اور اللہ کے حکم پر عمل سے منع کرے اور یہ اس کا قول ہے ان کے بارے میں جو کمزور رکھے گئے اور ان پر عمل روک دیا گیا، تو انہوں نے کوئی چارہ نہ پایا اور نہ راستہ پا سکے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’مگر وہ کمزور مرد، عورتیں اور بچے جو نہ کوئی چارہ کر سکتے ہیں اور نہ راستہ پا سکتے ہیں۔ تو اس نے خبر دی کہ کمزور کا راستہ کھلا نہیں اور اس پر قول کا کچھ الزام نہیں جب اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔

أما المُهْلة في الوقت؛ فهُوَ الْعُمُرُ الَّذِي يُمَتَعُ الْإِنْسَانُ مِنْ حَدَ مَا تَجِبُ عَلَيْهِ الْمَعْرِفَةُ إِلَى أَجَلِ الْوَقْتِ وَ ذَلِكَ مِنْ وَقْتِ تَمْيِيرَهِ وَ بُلُوغِ الْحُلْمِ إِلَى أَنْ يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ فَمَنْ مَاتَ عَلَى طَلَبِ الْحَقِّ وَ لَمْ يُدْرِكْ كَمَالَهُ فَهُوَ عَلَى خَيْرٍ وَ ذَلِكَ قَوْلُهُ وَ مَنْ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِراً إِلَى اللهِ وَ رَسُولِهِ، الْآيَةَ؛ وَ إِنْ كَانَ لَمْ يَعْمَلْ بِكَمَالِ شَرَائِعِهِ لِعِلَّةِ مَا لَمْ يُمْهِلُهُ فِي الْوَقْتِ إِلَى اسْتِتَمَامِ أَمْرِهِ، وَ قَدْ حَظَرَ عَلَى الْبَالِغِ مَا لَمْ يَحْظُرْ عَلَى الطِّفْلِ إِذَا لَمْ يَبْلُغَ الْحُلْمَ فِي قَوْلِهِ - وَ قُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصارِهِنَّ؛ الْآيَةَ۔ فَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِنَّ حَرَجاً فِي إِبْدَاءِ الزِّينَةِ لِلطَّفْلِ وَ كَذَلِكَ لَا تَجْرِي عَلَيْهِ الْأَحْكَامُ۔

اما وقت کی مہلت، وہ عمر ہے جس سے انسان اس حد سے فائدہ اٹھاتا ہے جب اس پر معرفت واجب ہوتی ہے، وقت کی آخری حد تک اور وہ اس کے تمیز اور بلوغت کے وقت سے لے کر اس کی موت آنے تک ہے۔ پس جو حق کی طلب پر مر جائے اور اس کی تکمیل نہ پا سکے، وہ خیر پر ہے اور یہ اس کا قول ہے:’’اور جو اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کر کے نکلے..." آیت۔ اگرچہ اس نے اپنے شرائع کی تکمیل پر عمل نہ کیا ہو، اس بنا پر کہ وقت نے اسے اپنے امر کی تکمیل تک مہلت نہ دی اور اس نے بالغ پر وہ چیزیں حرام کیں جو بچے پر حرام نہیں کیں جب وہ بلوغت کو نہ پہنچا ہو، اپنے اس قول میں:’’اور مومن عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں..." آیت۔ تو اس نے ان پر بچے کے سامنے زیور ظاہر کرنے میں کوئی حرج نہیں رکھا، اور اسی طرح بچے پر احکام جاری نہیں ہوتے۔

وَ أَمَّا قَوْلُهُ الزَّادُ؛ فَمَعْنَاهُ الْجِدَةُ وَ الْبُلْغَةُ الَّتِي يَسْتَعِينُ بِهَا الْعَبْدُ عَلَى مَا أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ، وَ ذَلِكَ قَوْلُهُ مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ؛ الْآيَةَ۔ أَلَا تَرَى أَنَّهُ قَبِلَ عُذْرَ مَنْ لَمْ يَجِدُ مَا يُنْفِقُ وَ أَلْزَمَ الْحُجَّةَ كُلَّ مَنْ أَمْكَنَتُهُ الْبُلْغَةُ وَ الرَّاحِلَةُ لِلْحَجِّ وَالْجِهَادِ وَ أَشْبَاهِ ذَلِكَ وَ كَذَلِكَ قَبْلَ عُذْرَ الْفُقَرَاءِ وَ أَوْجَبَ لَهُمْ حَقًّا فِي مَالِ الْأَغْنِيَاءِ بِقَوْلِهِ - لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أَحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللهِ الْآيَةَ۔ فَأَمَرَ بِإِعْفَائِهِمْ وَ لَمْ يُكَلِّفُهُمُ الْإِعْدَادَ لِمَا لَا يَسْتَطِيعُونَ وَ لَا يَمْلِكُونَ۔

اما ’’زاد راہ‘‘ کے معنی: اس کا معنی وسعت اور وہ ذریعہ ہے جس سے بندہ اللہ کے حکم پر مدد لیتا ہے اور یہ اس کا قول ہے:’’نیکوکاروں پر کوئی راستہ نہیں..." آیت۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس نے اس کا عذر قبول کیا جس کے پاس خرچ کرنے کو نہ ہو اور ہر اس پر حجت لازم کی جس کے پاس حج، جہاد اور ان جیسے امور کے لیے ذریعہ اور سواری ممکن ہو اور اسی طرح اس نے فقیروں کا عذر قبول کیا اور ان کے لیے مالداروں کے مال میں حق واجب کیا، اپنے اس قول سے:’’(صدقہ) ان فقیروں کے لیے ہے جو اللہ کی راہ میں گھر گئے..." آیت۔ تو اس نے انہیں معاف کرنے کا حکم دیا اور انہیں تیاری کی تکلیف نہ دی، اس چیز کے لیے جو وہ نہ کر سکتے ہیں اور نہ ان کے پاس ہے۔

وَ أَمَّا قَوْلُهُ فِي السَّبَبِ الْمُهَتَجِ فَهُوَ النَّيَّةُ الَّتِي هِيَ دَاعِيَةُ الْإِنْسَانِ إِلَى جَمِيعِ الْأَفْعَالِ وَ حَاشَتُهَا الْقَلْبُ، فَمَنْ فَعَلَ فِعْلاً وَ كَانَ بِدِينِ لَمْ يُعْقَدْ قَلْبُهُ عَلَى ذَلِكَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ مِنْهُ عَمَلاً إِلَّا بِصِدْقِ النِّيَّةِ وَ لِذَلِكَ أَخْبَرَ عَنِ الْمُنَافِقِينَ بِقَوْلِهِ - يَقُولُونَ بأَفْوَاهِهِمْ مَا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ وَ اللهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ، ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ تَوْبِيحَاً لِلْمُؤْمِنِينَ - يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لا تَفْعَلُونَ الْآيَةَ۔ فَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ قَوْلاً وَ اعْتَقَدَ فِي قَوْلِهِ دَعَتْهُ النِّيَّةُ إِلَى تَصْدِيقِ الْقَوْلِ بِإِظْهَارِ الْفِعْلِ وَ إِ۔ذَا لَمْ يَعْتَقِدِ الْقَوْلَ لَمْ تَتَبَيَّنَ حَقِيقَتُهُ، وَ قَدْ أَجَازَ اللَّهُ صِدْقَ النَّيَّةِ وَ إِنْ كَانَ الْفِعْلُ غَيْرَ مُوَافِقِ لَهَا لِعِلَّةِ مَانِعِ يَمْنَعُ إِظْهَارَ الْفِعْلِ فِي قَوْلِهِ - إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَ قَلْبَهُ مُطْمَئِنٌ بالإِيمَانِ۔

اما اس کا قول’’سبب مہیج" (ابھارنے والا سبب)، وہ نیت ہے جو انسان کو تمام افعال کی طرف بلاتی ہے اور اس کا مرکز دل ہے۔ پس جو کوئی عمل کرے جو دین کے مطابق ہو لیکن اس کا دل اس پر قائم نہ ہو، اللہ اس سے کوئی عمل قبول نہیں کرتا مگر نیت کی سچائی کے ساتھ اور اسی لیے اس نے منافقوں کے بارے میں خبر دی، اپنے اس قول سے:’’وہ اپنے مونہوں سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں، اور اللہ ان کے چھپانے کو زیادہ جانتا ہے۔ پھر اس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مومنوں کی سرزنش کے لیے نازل کیا:’’اے ایمان والو، تم کیوں وہ کہتے ہو جو کرتے نہیں؟" آیت۔ پس جب آدمی کوئی بات کہے اور اس پر اعتقاد رکھے، تو نیت اسے قول کی تصدیق کی طرف بلاتی ہے، عمل ظاہر کر کے؛ اور جب وہ قول کا اعتقاد نہ رکھے، تو اس کی حقیقت ظاہر نہیں ہوتی اور اللہ نے نیت کی سچائی کو جائز رکھا، اگرچہ عمل اس کے موافق نہ ہو، اس رکاوٹ کی وجہ سے جو عمل ظاہر کرنے سے روکتی ہے، اپنے اس قول میں:’’مگر جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔

وَ قَوْلِهِ لا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ؛ فَدَلَّ الْقُرْآنُ وَ أَخْبَارُ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ أَنَّ الْقَلْبَ مَالِكٌ لِجَمِيعِ الْحَوَاسُ يُصَحَحُ أَفْعَالَهَا وَلَا يُبْطِلُ مَا يُصَلِّحُ الْقَلْبُ شَيْئاً۔ فَهَذَا شَرْحُ جَمِيعِ الْخَمْسَةِ الأَمْثَالِ الَّتِي ذَكَرَهَا الصَّادِقُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهَا تَجْمَعُ الْمَنْزِلَةَ بَيْنَ الْمَنْزِلَتَيْنِ وَ هُمَا الْجَبْرُ وَالتَّفْوِيضُ فَإِذَا اجْتَمَعَ فِي الْإِنْسَانِ كَمَالُ هَذِهِ الْخَمْسَةِ الْأَمْثَالِ وَجَبَ عَلَيْهِ الْعَمَلُ كَمَلاً لِمَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ بِهِ وَ رَسُولُهُ وَ إِذَا نَقَصَ الْعَبْدُ مِنْهَا خَلَّةَ كَانَ الْعَمَلُ عَنْهَا مَطْرُوحاً بِحَسَبٍ ذَلِكَ۔

اور اس کا قول:’’اللہ تمہیں تمہاری قسمون میں لغو پر نہیں پکڑتا‘‘ تو قرآن اور رسولؐ کی خبروں نے دلیل دی کہ دل تمام حواس کا مالک ہے، ان کے افعال کو درست کرتا ہے اور جو دل درست کرے اسے کوئی چیز باطل نہیں کرتی۔ پس یہ ان پانچ مثالوں کی مکمل شرح ہے جو امام جعفر صادقؑ نے ذکر کیں کہ وہ دونوں مقامات کے درمیان والا مقام جمع کرتی ہیں، اور وہ جبر و تفویض ہیں۔ پس جب انسان میں ان پانچ مثالوں کی تکمیل جمع ہو جائے، تو اس پر عمل کامل واجب ہوتا ہے، اس کے مطابق جو اللہ عزوجل اور اس کے رسول نے حکم دیا اور جب بندے سے ان میں کوئی چیز کم ہو، تو اس کے بقدر عمل اس سے ساقط ہوتا ہے۔

فَأَمَّا شَوَاهِدُ الْقُرْآنِ عَلَى الاخْتِبَارِ وَ الْبَلْوَى بِالاسْتِطَاعَةِ الَّتِي تَجْمَعُ الْقَوْلَ بَيْنَ الْقَوْلَيْنِ فَكَثِيرَةٌ وَ مِنْ ذَلِكَ قَوْلُهُ لَنَبْلُوَنَكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنْكُمْ وَ الصَّابِرِينَ وَنَبْلُوا أَخْبَارَكُمْ وَ قَالَ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لا يَعْلَمُونَ؛ وَقَالَ الم. أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَا وَهُمْ لا يُفْتَنُونَ وَ قَالَ فِي الْفِتَنِ الَّتِي مَعْنَاهَا الاخْتِبَارُ - وَلَقَدْ فَتَنَا سُلَيْمَانَ الْآيَةَ۔ وَقَالَ فِي قِصَّةِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِنَّا قَدْ فَتَنَا قَوْمَكَ مِنْ بَعْدِكَ وَ أَضَلَّهُمُ السَّامِرِي وَ قَوْلُ مُوسَى إِنْ هِيَ إِلَّا فِتْنَتُكَ أَي اخْتِبَارُكَ فَهَذِهِ الْآيَاتُ يُقَاسُ بَعْضُهَا بِبَعْضٍ وَ يَشْهَدُ بَعْضُهَا لِبَعْضٍ۔

پس قرآن کے گواہ امتحان اور استطاعت کے ذریعے بلوا پر، جو دونوں قولوں کے درمیان قول جمع کرتی ہے، بہت ہیں اور ان میں سے اس کا قول ہے:’’ہم تمہیں آزمائیں گے یہاں تک کہ ہم تم میں مجاہدین اور صابرین کو جان لیں اور تمہاری خبروں کو آزمائیں‘‘ اور فرمایا:’’ہم انہیں ایسے طریقے سے پکڑیں گے جسے وہ نہیں جانتے‘‘ اور فرمایا:’’الف لام میم۔ کیا لوگوں نے گمان کیا کہ وہ یہ کہہ کر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور انہیں آزمایا نہ جائے گا؟" اور فتنوں میں جن کا معنی امتحان ہے، فرمایا:’’اور بے شک ہم نے سلیمانؑ کو آزمایا..." آیت؛ اور موسیٰؑ کی کہانی میں فرمایا:’’بے شک ہم نے تمہارے بعد تمہاری قوم کو آزمایا اور سامری نے انہیں گمراہ کیا" اور موسیٰ کا قول:’’یہ تیری آزمائش کے سوا کچھ نہیں‘‘ یعنی تیرا امتحان۔ پس ان آیات کا ایک دوسرے سے مقایسہ کیا جاتا ہے اور ایک دوسرے کی گواہی دیتی ہیں۔

وَ أَمَّا آيَاتُ الْبَلْوَى بِمَعْنَى الاخْتِبَارِ قَوْلَهُ لِيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ وَ قَوْلُهُ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيكُمْ قَوْلُهُ إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا يَلَّوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ وَ قَوْلُهُ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلا وَ قَوْلُهُ وَ إِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتِ وَ قَوْلُهُ وَ لَوْ يَشَاءُ الله لَا نَتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لَكِنْ لِيَبْلُوا بَعْضَكُمْ ببَعْضٍ وَ قَوْلُهُ وَ لَوْ يَشَاءُ الله لَا نَتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لَكِنْ لِيَبْلُوا بَعْضَكُمْ ببَعْضٍ و كُلِّ مَا فِي الْقُرْآنِ مِنْ بَلْوَى هَذِهِ الْآيَاتِ الَّتِي شَرَحَ أَولَهَا فهي اخْتِبَارٌ وَ أَمْثَالُهَا فِي الْقُرْآنِ كثِيرَةً۔

اما بلوا کی آیات بمعنی امتحان، اس کا قول:’’تاکہ تمہیں آزمائے اس میں جو اس نے تمہیں دیا‘‘ اور اس کا قول:’’پھر اس نے تمہیں ان سے پھیر دیا تاکہ تمہیں آزمائے‘‘ اس کا قول:’’بے شک ہم نے انہیں آزمایا جیسا کہ باغ والوں کو آزمایا‘‘ اور اس کا قول:’’اس نے موت اور زندگی پیدا کی تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں کون عمل میں بہتر ہے‘‘ اور اس کا قول:’’اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ کلمات سے آزمایا‘‘ اور اس کا قول:’’اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا، لیکن تاکہ تم میں سے بعض کو بعض سے آزمائے‘‘ اور قرآن میں جو کچھ بلوا ہے، یہ آیات جن کی شرح شروع کی گئی، وہ امتحان ہیں اور ان جیسی قرآن میں بہت ہیں۔

فَهِيَ إِثْبَاتُ الاخْتِبَارِ وَ الْبَلْوَى إِنَّ اللهَ جَلَّ وَ عَزَّ لَمْ يَخْلُقِ الْخَلْقَ عَبَثاً وَ لَا أَهْمَلَهُمْ سُدًى وَ لَا أَظْهَرَ حِكْمَتَهُ لَعِباً وَ بِذَلِكَ أَخْبَرَ فِي قَوْلِهِ أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَنَا فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ فَلَمْ يَعْلَمِ اللَّهُ مَا يَكُونُ مِنَ الْعِبَادِ حَتَّى اخْتَبَرَهُمْ قُلْنَا بَلَى قَدْ عَلِمَ مَا يَكُونُ مِنْهُمْ قَبْلَ كَوْنِهِ وَ ذَلِكَ قَوْلُهُ وَ لَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَ إِنَّمَا اخْتَبَرَهُمْ لِيُعَلِّمَهُمْ عَدْلَهُ وَ لَا يُعَذِّبَهُمْ إِلَّا بِحُجَّةٍ بَعْدَ الْفِعْلِ وَ قَدْ أَخْبَرَ بِقَوْلِهِ وَ لَوْ أَنَا أَهْلَكْنَاهُمْ بِعَذَابٍ مِنْ قَبْلِهِ لَقَالُوا رَبَّنَا لَوْ لا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولاً وَ قَوْلِهِ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً، وَ قَوْلِهِ رُسُلاً مُبَشِّرِينَ وَ مُنْذِرِينَ، فَالاخْتِبَارُ مِنَ اللهِ بِالاسْتِطَاعَةِ الَّتِي مَلَكَهَا عَبْدَهُ وَ هُوَ الْقَوْلُ بَيْنَ الْجَبْرِ وَ التَّفْوِيضِ وَ بِهَذَا نَطَقَ الْقُرْآنُ وَ جَرَتِ الْأَخْبَارُ عَنِ الْأَئِمَّةِ مِنْ آلِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ۔

پس وہ امتحان اور بلوا کا اثبات ہے، بے شک اللہ عزوجل نے مخلوق کو عبث پیدا نہیں کیا، نہ انہیں بے مقصد چھوڑا، نہ اپنی حکمت کو کھیل کے طور پر ظاہر کیا اور اسی کی خبر اس نے اپنے قول میں دی:’’کیا تم نے گمان کیا کہ ہم نے تمہیں بے کار پیدا کیا؟‘‘ پس اگر کوئی کہے: تو کیا اللہ نہیں جانتا تھا جو بندوں سے ہوگا یہاں تک کہ انہیں آزمایا؟ ہم کہتے ہیں: ہاں، اس نے جانا جو ان سے ہوگا اس کے ہونے سے پہلے، اور یہ اس کا قول ہے:’’اور اگر وہ واپس بھیجے جائیں تو پھر وہی کریں گے جس سے منع کیے گئے تھے‘‘ اور اس نے انہیں صرف اس لیے آزمایا تاکہ انہیں اپنا عدل سکھائے اور انہیں سزا نہ دے مگر حجت کے بعد، فعل کے بعد۔ اور اس نے اپنے قول سے خبر دی:’’اور اگر ہم انہیں اس سے پہلے عذاب سے ہلاک کر دیتے تو وہ کہتے: اے ہمارے رب، تو نے ہماری طرف رسول کیوں نہ بھیجا؟‘‘ اور اس کا قول:’’اور ہم عذاب دینے والے نہیں تھے یہاں تک کہ رسول بھیجیں‘‘ اور اس کا قول:’’رسول خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے‘‘ پس اللہ کی طرف سے امتحان اس استطاعت کے ذریعے ہے جو اس نے اپنے بندے کو دی، اور یہی جبر و تفویض کے درمیان قول ہے اور اسی کے ساتھ قرآن گویا ہوا اور رسولؐ کے اہل بیت کے اماموںؑ سے خبریں جاری ہوئیں۔

فَإِنْ قَالُوا مَا الْحُجَّةُ فِي قَوْلِ اللَّهِ - يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ و مَا أَشْبَهَهَا قِيلَ مَجَازُ هَذِهِ الْآيَاتِ كُلَّهَا عَلَى مَعْنَنِيْنِ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَإِخْبَارٌ عَنْ قُدْرَتِه أَي إِنَّهُ قَادِرٌ عَلَى هِدَايَةِ مَنْ يَشَاءُ وَ ضَلَالِ مَنْ يَشَاءُ وَ إِذَا أَجْبَرَهُمْ بِقُدْرَتِهِ عَلَى أَحَدِهِمَا لَمْ يَجِبْ لَهُمْ ثَوَابٌ وَلَا عَلَيْهِمْ عِقَابٌ عَلَى نَحْوِ مَا شَرَحْنَا فِي الْكِتَابِ وَ الْمَعْنَى الْآخَرُ أَنَّ الْهَدَايَةَ مِنْهُ تَعْرِيفُهُ كَقَوْلِهِ وَ أَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَاهُمْ أَيْ عَرَّفْنَاهُمْ - فَاسْتَحَبُّوا العمى عَلَى الْهُدى فَلَوْ أَجْبَرَهُمْ عَلَى الْهُدَى لَمْ يَقْدِرُوا أَنْ يَضِلُّوا وَ لَيْسَ كُلَّمَا وَرَدَتْ آيَةٌ مُشْتَبِهَةٌ كَانَتِ الْآيَةُ حُجَّةً عَلَى مُحْكَمِ الْآيَاتِ اللَّوَاتِي أُمِرْنَا بِالْأَخْذِ بِهَا مِنْ ذَلِكَ قَوْلُهُ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أَمْ الكِتَابِ وَ أُخَرَ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَ مَا يَعْلَمُ الْآيَةَ۔

پس اگر وہ کہیں: اللہ کے اس قول میں کیا دلیل ہے:’’وہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے ہدایت دیتا ہے" اور ان جیسی آیات؟ کہا جائے گا: ان تمام آیات کا مفہوم دو معنوں پر ہے: ایک یہ کہ وہ اپنی قدرت کی خبر دے رہا ہے، یعنی وہ جسے چاہے ہدایت دینے اور جسے چاہے گمراہ کرنے پر قادر ہے اور اگر وہ اپنی قدرت سے انہیں ان میں سے ایک پر مجبور کرے، تو ان کے لیے نہ ثواب واجب ہوتا ہے نہ ان پر عذاب، جیسا کہ ہم نے خط میں شرح کی اور دوسرا معنی یہ ہے کہ اس کی طرف سے ہدایت کا مطلب پہچان کرانا ہے، جیسا کہ اس کا قول:’’اور اما ثمود، تو ہم نے انہیں ہدایت دی‘‘ یعنی پہچان کرائی۔’’تو انہوں نے اندھے پن کو ہدایت پر ترجیح دی‘‘ پس اگر اس نے انہیں ہدایت پر مجبور کیا ہوتا تو وہ گمراہ نہ ہو سکتے اور ایسا نہیں کہ جب بھی کوئی مشتبہ آیت آئے، وہ محکم آیات پر دلیل بن جائے جن کے اختیار کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا۔ اسی میں سے اس کا قول ہے:’’اس میں محکم آیات ہیں جو کتاب کی اصل ہیں اور دوسری متشابہات۔ پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کے پیچھے لگتے ہیں، فتنہ کی طلب اور اس کی تاویل کی طلب میں، حالانکہ اس کی تاویل کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا" آیت۔

وَ قَالَ فَبَشِّرْ عِبَادِ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أَي أَحْكَمَهُ وَ أَشْرَحَهُ- أُولَيكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ الله وَ أُولئِكَ هُمْ أُولُوا الْأَلْبَاب وَفَقَنَا اللَّهُ وَ إِيَّاكُمْ إِلَى الْقَوْلِ وَ الْعَمَلِ لِمَا يُحِبُّ وَ يَرْضَى وَ جَنَّبَنَا وَ إِيَّاكُمْ مَعَاصِيَهُ بِمَنْهِ وَ فَضْلِهِ وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيراً كَمَا هُوَ أَهْلُهُ وَ صَلَّى اللهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ الطَّيِّبِينَ وَ حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ۔

اور فرمایا:’’پس خوشخبری دے میرے بندوں کو، جو بات سنتے ہیں پھر اس کے بہترین کی پیروی کرتے ہیں‘‘ یعنی اس کے محکم اور واضح کی۔’’یہی لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی عقل والے ہیں‘‘ اللہ ہمیں اور تمہیں اس قول و عمل کی توفیق دے جو وہ پسند کرتا ہے اور جس سے راضی ہوتا ہے اور اپنے احسان اور فضل سے ہمیں اور تمہیں اپنی نافرمانیوں سے بچائے اور اللہ کے لیے بہت حمد ہے، جیسا کہ وہ اس کا اہل ہے اور اللہ کی رحمت ہو محمد اور ان کی پاک آلؑ پر اور ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔


حوالہ جات

  1. ↑ جعفریان، حیات فکری-سیاسی امامان شیعہ(ع)، ص639۔
  2. ↑ ہادی‌منش، «تلاش‌ہا و مبارزات فرہنگی امام ہادی(ع)»، ص33؛ جعفریان، حیات فکری-سیاسی امامان شیعہ(ع)، ص639۔
  3. ↑ آقابزرگ تہرانی، الذریعہ، ج5، ص80۔
  4. ↑ کرباسچی و حری رضایی، «بررسی نامہ امام ہادی(ع) بہ اہالی اہواز از دیگاہ روش‌شناسی کلامی»، ص43-44۔
  5. ↑ آقابزرگ تہرانی، الذریعہ، ج5، ص80۔
  6. ↑ آقابزرگ تہرانی، الذریعہ، ج24، ص364۔
  7. ↑ اتابکی، رہاورد خرد، ص479۔
  8. ↑ مجلسی، بحار الانوار، ج5، ص20؛ مجلسی، بحار الانوار، ج5، ص68۔
  9. ↑ ابن‌شعبہ حرانی، تحف العقول، ص458-475۔
  10. ↑ طبرسی، الاحتجاج، ج2، ص450-453۔
  11. ↑ اتابکی، رہاورد خرد، ص476۔
  12. ↑ غفاری، «پانویس محقق»، ص458۔
  13. ↑ ملاحظہ کیجیے: ابن‌شعبہ حرانی، تحف العقول، ص458۔
  14. ↑ کرباسچی و حری رضایی، «بررسی نامہ امام ہادی(ع) بہ اہالی اہواز از دیگاہ روش‌شناسی کلامی»، ص43-44۔
  15. ↑ کرباسچی و حری رضایی، «بررسی نامہ امام ہادی(ع) بہ اہالی اہواز از دیگاہ روش‌شناسی کلامی»، ص41-43۔
  16. ↑ کرباسچی و حری رضایی، «بررسی نامہ امام ہادی(ع) بہ اہالی اہواز از دیگاہ روش‌شناسی کلامی»، ص45-47۔
  17. ↑ اتابکی، رہاورد خرد، ص482۔
  18. ↑ ملاحظہ کیجیے: ابن‌شعبہ حرانی، تحف العقول، ص458-475۔
  19. ↑ ملاحظہ کیجیے: ابن‌شعبہ حرانی، تحف العقول، ص458-475۔

مآخذ

  • آقابزرگ تہرانی، محمدمحسن بن علی منزوی، الذریعۃ الی تصانیف الشیعۃ، تحقیق سید احمد حسینی اشکوری، بیروت، دار الأضواء، 1403ھ۔
  • ابن‌شعبہ حرانی، حسن بن علی، تحف العقول عن آل الرسول(ص)، تحقیق علی‌اکبر غفاری، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، 1404ھ۔
  • اتابکی، پرویز، رہاورد خرد؛ ترجمہ تحف العقول، تہران، نشر و پژوہش فرزان‌روز، 1376ہجری شمسی۔
  • جعفریان، رسول، حیات فکری-سیاسی امامان شیعہ(ع)، تہران، نشر علم، 1390ہجری شمسی۔
  • طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج، تحقیق محمدباقر موسوی خرسان، مشہد، نشر المرتضی، 1403ھ۔
  • غفاری، علی‌اکبر، «حوالہ جات کی تحقیق»، در تحف العقول عن آل الرسول(ص)، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، 1404ھ۔
  • کرباسچی، محمدمہدی و گیتا حری رضایی، «بررسی نامہ امام ہادی(ع) بہ اہالی اہواز از دیدگاہ روش‌شناسی کلامی»، شش ماہہ جریدہ مطالعات قرآن و حدیث سفینہ، شمارہ 53، سرما 1395ہجری شمسی۔
  • مجلسی، محمدباقر بن محمدتقی، بحارالانوار الجامعۃ لدرر اخبار الائمۃ الاطہار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ھ۔