عبد اللہ بن بکیر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عبد اللہ بن بکیر شیبانی
معلومات شخصیت
مکمل نام عبد اللہ بن بکیر شیبانی
کنیت ابو علی، ابو عتبہ
دینی مشخصات
وجہ شہرت اصحاب اجماع،صحابئ امام باقر و امام صادق علیہما السلام


عبدالله بن بُکَیر شیبانی، آل اعین خاندان کے ایک بزرگ کا نام ہے۔ ان کی وثاقت اور فقہ مورد تائید اور انہیں اصحاب اجماع میں سے سمجھتے ہیں۔ مذہب کے لحاظ سے فطحی المذہب تھے لیکن اس کے باوجود ان کی وثاقت میں کسی نے اعتراض نہیں کیا ہے۔

نام و کنیت

ان کا مکمل نام: عبد اللہ بن بکیر بن اعین بن سنسن، کنیت: ابو علی شیبانی[1] اور ابو عتبہ[2] نقل ہوئی ہے۔ برقی نے انہیں بنی شیبان کے موالیوں میں سے کہا ہے ۔[3]

وثاقت عبدالله بن بکیر

اصحاب اجماع

امام باقرؑ کے اصحاب
۱. زُرارَۃ بن اَعین
۲. مَعروفِ بنِ خَرَّبوذ
۳. بُرَید بن معاویہ
۴. ابوبصیر اَسَدی یا (ابوبصیر مرادی)
۵. فُضَیل بن یسار
۶. محمد بن مُسلِم

امام صادقؑ کے اصحاب
۱. جَمیل بن دَرّاج
۲. عبداللہ بن مُسکان
۳. عبداللہ بن بُکَیر
۴. حَمّاد بن عثمان
۵. حماد بن عیسی
۶. اَبان بن عثمان

امام کاظمؑ اور امام رضاؑ کے اصحاب
۱. یونس بن عبد الرحمن
۲. صَفوان بن یحیی
۳. اِبن اَبی عُمَیر
۴. عبداللہ بن مُغَیرِہ
۵. حسن بن محبوب یا (حسن بن علی بن فَضّال، فَضالَۃ بن ایوب و عثمان بن عیسی)
۶. احمد بن ابی نصر بزنطی

علامہ حلی لکھتے ہیں : میں اسکی روایات پر اعتماد رکھتا ہوں اگرچہ فاسد المذہب تھا ۔[4]

شیخ الطائفہ کہتے ہیں : شیعہ علما نے عبداللّہ بن بکیر و... جیسے افراد کی روایات پر عمل کیا۔[5]

لیکن یہ نکتہ قابل غور ہے کہ بعض فقہا جیسے شہید ثانی اور محقق حلی نے فطحی مذہب ہونے کی وجہ سے اس کی روایات کو قبول نہیں کیا ہے ۔ [6]

عبداللّه بن بکیر بن اعین، کثیر الحدیث و کثیر الروایت تھا۔[7] شیخ طوسی اور نجاشی نے اس کی ایک کتاب کا بھی ذکر کیا ہے ۔ [8] نیز ابن ندیم نے کہا کہ اس نے اصول میں ایک کتاب لکھی تھی۔ [9] ابن عقده عبداللّه بن بکیر نے اس کی مسند لکھی ہے۔ [10] شیخ مفید اسے بزرگ فقہا میں سے سمجھتے ہیں جو حلال و حرام الہی ، فتاوا اور احکام کو ان سے لیا جاتا ہے اور اسکے بارے میں کوئی مذمت مذکور نہیں ہے ۔ [11]

اساتذہ و راوی

نجاشی نے اسے امام صادق ؑ سے روایت نقل کرنے والوں میں سے [12] نیز برقی نے اسے اصحاب امام جعفر صادق ؑ [13] اور ابو غالب زراری نے اسے امام محمد باقر کے اصحاب میں سے کہا ہے۔[14]

اس کے اساتذہ میں درج ذیل شخصیات کا نام آتا ہے :
باپ بکیر بن اعین، چچا زرارۃ ابن اعین، حمزۃ بن حمران، حمران بن اعین، عبید بن زرارة، حفص بن ابی عیسی.[15]

شاگرد اور عبد اللہ سے روایت کرنے والے

اس سے روایت نقل کرنے والے محدثین:

ابن ابی عمیر، صفوان بن یحیی، حسن بن محبوب، علی بن اسباط، حسن بن فضال، فضالہ بن ایوب، عبدالله بن مغیرة، جعفر بن بشیر، عباس بن عامر، علی بن رئاب، علاء بن رزین، عبدالرحمان بن ابی نجران، عبداللّه بن جبلہ، عبداللّه بن حمّاد انصاری، مروان بن مسلم، موسی بن قاسم، نصر بن سوید صیرفی، زیاد بن مروان قندی و...[16]

اولاد عبداللہ بن بکیر

عبداللّہ کے تین بیٹے بنام: رحبان (محمد)، حسن اور علی تھے[17] جن کا شمار علما میں ہوتا تھا۔

مربوط لنک

حوالہ جات

  1. نجاشی ،رجال نجاشی،213/581۔
  2. ابن داؤد حلی،رجال ابن داؤد،253،
  3. برقی،رجال برقی،ص 24۔
  4. علامہ حلی، خلاصہ الأقوال، ص۱۹۵.
  5. طوسی، عدّة الأصول، ص۵۶.
  6. شہید ثانی، مسالک، ج۱، ص۲۳؛ محقق حلی، المعتبر، ص۶۰.
  7. نجاشی، رجال النجاشی، ص۲۲۲.
  8. شیخ طوسی، فہرست، ص۱۷۴؛ نجاشی، رجال النجاشی، ص۲۲۲.
  9. ابن ندیم، الفہرست، ص243.
  10. رسالہ أبی غالب، ص۲۱۵.شیخ طوسی،74۔
  11. مصنفات شیخ مفید، ج۹ (جوابات أہل موصل فی العدد والرؤیہ)، ص۲۵ و ۳۷.
  12. نجاشی ،رجال نجاشی،125/581۔
  13. برقی ،رجال برقی،24۔
  14. ابو غالب زراری،تاریخ آل زرارۃ،134۔
  15. خوئی، معجم رجال الحدیث، ج۱۱، ص۱۳۳.
  16. خوئی، معجم رجال الحدیث، ج۱۱، ص۱۳۳.
  17. ابو غالب زراری،رسالۃ فی آل اعین ،24


منابع

  • حلی،خلاصہ الاقوال،195/24،مؤسسۃ نشر الفقاہۃ
  • ابن داؤد حلی،رجال ابن داؤد، منشورات مطبعۃ الحيدريۃ - النجف الأشرف
  • شہید ثانی،مسالک الافہام،9/شرح 128،مؤسسہ المعارف الإسلاميہ - قم - إيران۔
  • محقق حلی،المعتبر، مؤسسۃ سيد الشہداء (ع) - قم
  • نجاشی،رجال نجاشی،222/581، مؤسسہ النشر الإسلامي التابعۃ لجماعۃ المدرسين بقم۔
  • ابن ندیم،الفہرست،243،بی تا ،بی جا۔
  • ابو غالب،رسالۃ فی آل اعین،66،چاپخانہ : مطبعہ رباني۔
  • خوئی، معجم رجال الحدیث،سال چاپ : 1413 - 1992 م،بی جا۔