احمد بن محمد بن عیسی اشعری

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
احمد بن محمد بن عیسی اشعری
خانہ معلومات اصحاب ائمہ(ع)
نام: احمد بن محمد بن عیسی بن عبداللہ بن سعد بن مالک بن احوص بن سائب بن مالک بن عامر اشعری
محل زندگی: قم
اصحاب: امام جواد اور امام ہادی علیہما‌السلام
مشایخ: احمد بن محمد بن عمرو بن ابی نصر بزنطی، صفوان بن یحیی بجلی
شاگرد: سعد بن عبداللہ اشعری،علی بن ابراہیم قمی،محمد بن حسن صفار
قلمی آثار: التوحید، فضائل العرب
مذہب: شیعہ اثنا عشری

احمد بن محمد بن عیسی اشعری تیسری صدی ہجری کا امامی مسلک سے تعلق رکھنے والا شیعہ محدث ہے اور اسے امام جواد اور ہادی علیہما‌السلام کے شاگردوں میں سے گنا جاتا ہے۔ قم کے اہل قلم بزرگان میں سے تھا کہ جسے شیخ طوسی نے «‌شیخ القمیین و وجہہم و فقیہہم» کے عنوان سے یاد کیا ہے۔

وہ اپنے عقاید میں شدت پسند تھا اور غالیوں کے ساتھ سخت رویے سے پیش آتا تھا۔ منقول ہے کہ اس نے مشہور شیعہ محدث احمد بن محمد برقی کو روایات نقل کرنے کی وجہ سے قم سے باہر نکال دیا تھا۔لیکن کچھ مدت کے بعد اسے دوبار واپس لایا گیا اور اس نے احمد سے عذر خواہی کی۔

نسب

ابوجعفر، احمد بن محمد بن عیسی بن عبداللہ بن سعد بن مالک بن احوص بن سائب بن مالک بن عامر اشعری. اسکے باپ :ابوعلی محمد بن عیسی کو نجاشی[1] نے «‌شیخ القمیین‌» اور «‌وجہ الاشاعرہ‌» کہا۔ نیز اس کے بقول اس نے امام رضا علیہ‌السلام سے اور امام جواد علیہ‌السلام سے روایت کی ہے۔ وہ «‌سلطان‌» (احتمالاً حاکم قم) کے نیز مقام و منزلت رکھتا تھا۔اس نے کتاب الخطب کے عنوان سے کتاب تصنیف کی۔

ائمہ علیہم السلام کے حضور

احمد بن محمد کی زندگی جزئیات کی تفصیل دسترس میں نہیں ہے چنانچہ نجاشی[2] نے کہا: اس نے امام رضا علیہ‌السلام کی زیارت کی لیکن قوی احتمال ہے کہ ان سے روایت نقل نہیں کی ایسا ظاہر ہوتا ہے امام سے ملاقات کے وقت اس کی عمر زیادہ نہیں تھی۔ [3] احمد نیز جواد اور ہادی علیہما السلام کے اصحاب میں سے شمار ہوتا ہے چونکہ قم رہتا تھا کبھی کبھی امام سے ملاقات ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے ان سے زیادہ روایات نقل نہیں کی ہیں۔[4]

کشی[5] کی روایت کے مطابق احمد امام جواد علیہ‌السلام کے حکم پر خدمت امام میں مدینہ پہنچا۔ اس روایت میں تصریح ہے کہ اس نے امام کی طرف سے قم میں امام کے نمائندے زکریا بن آدم کیلئے خط لے کر گیا ۔ نیز اس روایت میں احمد کی کنیت ابوعلی آئی ہے۔

اساتذہ

جن سے اس نے احادیث سنیں ان میں سے بعض کا اسما درج ذیل ہیں:

  1. احمد بن محمد بن عمرو بن ابی نصر بزنطی
  2. حسن بن سعید بن حماد اہوازی
  3. حسین بن سعید اہوازی
  4. حسن بن عباس بن حریش رازی
  5. حسن بن علی بن فضال کوفی
  6. حسن بن علی بن زیاد وشاء
  7. حسن بن محبوب سراد
  8. سعید ابن جناح ازدی بغدادی
  9. صفوان بن یحیی بجلی کوفی
  10. عثمان بن عیسی عامری کلابی
  11. علی بن حدید بن حکیم مداینی
  12. علی بن حکم نخعی
  13. محمد بن ابی عمیر ازدی
  14. محمد بن خالد بن عبدالرحمان برقی
  15. محمد ابن سنان زاہری

احمد مذکورہ مشایخ سے بہت سی امامیہ کی احادیث کا راوی ہے۔ انہی طریق سے مروی بہت سی امامیہ احادیث کو اس نے خود ضبط کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نجاشی و الفہرست طوسی میں جگہ جگہ اس کا نام ان قم کے قدیمی مشائخ کی اسناد میں مذکور ہے۔ احمد بن محمد بن عیسی کہ اہل قم سے تھا، امامیہ کی احادیث سننے کیلئے کوفہ کا سفر کرنا طبیعی تھا تا کہ وہاں کے مشائخ سے معتبر احادیث نقل کرتا جو کہ اس وقت امامیہ کا علمی مرکز تھا اسی وجہ سے اس کے اکثر مشائخ کوفہ سے ہیں۔

مقام ومنزلت

محمد بن یعقوب کلینی کے زمانے سے پہلے احمد نمایاں ترین امامیہ محدث شمار ہوتا ہے جیساکہ نجاشی[6] نے اس کے متعلق «‌شیخ القمیین و وجہہم و فقیہہم، غیرمدافع‌» کی تعبیریں استعمال کی ہیں نیز شیخ طوسی نے الفہرست[7] میں بھی اس سے ملتی جلتی تعبیروں کے ساتھ اس کی تعریف بیان کی ہے۔

ابن حجر عسقلانی نے لسان المیزان[8] میں اسکا نام لیا اور اسے قم کا «‌شیخ الرافضہ» کہا ہے۔ نجاشی[9] نے کہا وہ اپنے باپ کی مانند حاکم قم سے ارتباط رکھتا تھا۔یہ خودقمیوں کے درمیان اس کی منزلت و مقام کو بیان کرتا ہے۔[10]

احمد عرب قومیت کا بہت لحاظ کرتا تھا اور اس نے فضائل العرب کے نام سے ایک کتاب بھی تالیف کی۔ کلینی[11] کی روایت کے مطابق اس کتاب میں تعصب کا شکار ہوا ہے۔

عقیدے میں شدت پسندی

احمد عقائد میں نہایت سخت گیر تھااور اپنے مخالفین کے ساتھ سخت برتاؤ کے ساتھ پیش آتا۔ وہ غالیت کے سخت مخالف تھا اور غالیوں کا سختی سے مقابلہ کیا۔ایک مورد میں نقل ہوا ہے کہ مشہور امامی محدث اور متکلم یونس بن عبدالرحمان، کی نسبت بدگمان تھا۔ لیکن بعد میں ایک خواب دیکھنے کی وجہ سے توبہ کی اور اپنے اس عقیدے سے عدول کیا۔[12]

نیز کہتے ہیں کہ احمد حسن بن محبوب سے روایت نہیں کرتا تھا کیونکہ وہ ابن محبوب کی ابوحمزہ ثمالی سے روایت روایت میں تردید کا شکار تھا۔لیکن کہا گیا کہ احمد اپنی اس تردید میں پشیمان ہوا اور موت سے پہلے اپنی نظر سے برگشت کر لی۔ کشی نے نصر بن صباح سے اس حکایت کو نقل کیا۔[13] اور نجاشی[14] نے بھی اسے کشی سے نقل کیا ہے۔

مذکورہ توصیف کے باوجود امامیہ کی اسناد حدیث میں احمد نے ابن محبوب کئی مرتبہ روایت کی ہے۔ جیسا کہ ابن غضائری نے اشارہ کیا ہے کہ احمد بن محمد بن عیسی نے مشہور امامیہ محدث: احمد بن محمد برقی کو روایات نقل کرنے کی وجہ سے قم سے باہر نکال دیا تھا لیکن کچھ مدت بعد واپس بلا لیا اور اس سے عذر خواہی کی۔ جب برقی فوت ہوا تو ننگے پاؤں اس کے جنازے میں شریک ہوا تا کہ جو کچھ اس کے ساتھ کیا تھا اس پر اپنی پشیمانی کا اظہار کر سکے۔[15]

ابوسعید سہل بن زیاد آدمی نیز ان افراد میں سے ہے جو احمد کے توسط سے متہم غلو ہوا اور اسے بھی قم سے نکال دیا گیا جیسا کہ ابن غضائری سے منسوب الضعفا میں آیا ہے۔[16] دیگر محمد بن علی بن ابراہیم معروف بنام ابوسُمَینَہ تھا کہ جو قم میں آنے کے موقع پر کچھ مدت کیلئے احمد بن محمد بن عیسی کے ہاں رہا اورجب اس دوران اس کا رجحان غلو کی طرف ظاہر ہو گیا تو یہ بھی احمد کے توسط سے قم سے نکالا گیا۔[17]

رؤیت خدا

ابن بابویہ[18] تصریح کی ہے کہ احمد نے النوادر میں رؤیت خدا کے متعلق روایات نقل کی ہیں ،البتہ ابن بابویہ کے مطابق یہ تمام صحیح ہیں اور خدا کی قلبی شناخت کے معنا میں ہیں۔انہیں رؤیت کے آنکھوں کے ذریعے دیکھنے کے ظاہری معنا میں نہیں لینا چاہئے۔

شاگرد

راویوں میں سے درج ذیل اسما ذکر کئے جا سکتے ہیں:[19]

  1. سعد بن عبداللہ اشعری
  2. علی بن ابراہیم قمی
  3. داوود بن کورہ قمی
  4. محمد بن یحیی عطار
  5. احمد بن ادریس اشعری
  6. محمد بن حسن صفار
  7. عبد اللہ بن جعفر حمیری
  8. حمید بن زیاد

احمد اور زیدیہ مصادر

زیدیہ کے مصادر میں احمد با عنوان شیخ حسن بن علی ناصر اطروش، زیدیوں کے مشہور امام کی حیثیت سے پہچانا گیا ہے۔[20]

وفات

احمد کی تاریخ وفات کا کوئی علم نہیں ہے۔ صرف ابن غضائری سے منقول ہوا ہے کہ احمد وفات برقی (متوفا ۲۷۴ یا ۲۸۰ق) کے وقت زندہ تھا۔ [21]

آثار

احمد بن محمد بن عیسی کی اہم ترین کتاب النوادر ہے کہ جو شیعہ علما کی نگاہ میں قابل اعتماد ہے اور مہم حدیثی مصادر کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔[22] داوود ابن کورہ قمی نے اس کتاب کی ترتیب و تنظیم کا کام انجام دیا۔ [23]

احمد بن محمد بن عیسی سے منسوب النوادر نامی کتاب ایک مرتبہ تختی صورت میں فقہ الرضا کے ساتھ چھپی اور پھر (۱۴۰۸ھ ق) میں قم سے دوبارہ چاپ ہوئی۔ اس کتاب کی نسبت احمد کی محل تردید واقع ہوئی ہے کیونکہ کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں کہ جس سے یہ پتہ چل سکے کہ یہ النوادر کا حصہ ہے اگرچہ اسے اس کی تالیف قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اس کی نسبت حسین بن سعید اہوازی کی طرف ہونا بھی محل بحث ہے کیونکہ احمد بن محمد بن عیسی کی کتابوں کا اہم ترین راوی حسین بن سعید ہی ہے۔[24]

بہرحال مجلسی نے بحار الانوار[25] میں اس کے نسخے کا ذکر کیا اس کتاب کی نسبت کو حسین بن سعید اور احمد بن محمد بن عیسی کی طرف ہونے کو محل بحث قرار دیا اگرچہ علامہ مجلسی کی نظر میں حسین بن سعید کی طرف اس کتاب کی نسبت زیادہ قوی احتمال رکھتی ہے۔

قلمی نسخے سے مربوط بحث میں اس بات کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہئے کہ یہ قلمی نسخہ ظاہرا کتاب فقہ الرضا سے مربوط ہے، جیسا کہ کتاب کے متن کے کئی مقامات پر یہ واضح ہے اور فقہ الرضا کا نسخہ اس کتاب سے مخلوط ہو گیا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ پر باقی ہے کہ دو کتابیں آپس میں کیوں مخلوط ہو گئیں اور فقہ الرضا کے حصے النوادر کے نام سے کیوں معروف ہوئے؟

دیگر کتب:

  1. التوحید
  2. فضل النبی (صلی اللہ علیہ و آلہ)
  3. المتعہ
  4. الناسخ و المنسوخ
  5. الاظلۃ
  6. المسوخ
  7. فضائل العرب
  8. کتاب در حج[26]
  9. الطب الکبیر[27]
  10. الطب الصغیر[28]
  11. المکاسب[29]
  12. الملاحم[30]
  13. نوادر الحکمۃ فی التفسیر[31]

حوالہ جات

  1. نجاشی، رجال، ص۳۳۸.
  2. نجاشی، رجال، ص۸۲.
  3. نیزنکـ: طوسی، رجال، ص۳۳۶.
  4. نکـ: الرجال، ص۵۹؛ نجاشی، رجال، ص۳۳۸؛ طوسی، رجال، صص۳۹۷، ۴۰۹.
  5. کشی، معرفۃ الرجال، ص۵۹۶.
  6. نجاشی، رجال، ص۳۳۸.
  7. طوسی، الفہرست، ص۲۵.
  8. ابن حجر عسقلانی، لسان المیزان، ج۱، ص۲۶۰.
  9. نجاشی، رجال، ص۳۳۸.
  10. نکـ: طوسی، رجال، صص۳۹۷، ۴۰۹.
  11. کلینی، الکافی، ج۱، ص۳۲۴
  12. کشی، معرفۃ الرجال، صص۴۹۶-۴۹۷.
  13. کشی، معرفۃ الرجال، ص۵۱۲.
  14. نجاشی، رجال، ص۳۳۸.
  15. نکـ: علامہ حلی، رجال، صص۱۴-۱۵؛ الضعفاء، ص۳.
  16. ابن غضائری، الضعفاء، ص۱۳.نیز:نجاشی، رجال، ص۱۸۵.
  17. الضعفاء، ص۲۳؛ نجاشی، رجال، ص۳۳۲.
  18. ابن بابویہ، التوحید، صص۱۱۹-۱۲۰.
  19. ابوغالب زاری، رسالۃ فی ذکر آل اعین، ص۱۵۹؛ نجاشی، رجال، صص۸۲-۸۳؛ طوسی، الفہرست، صص۲۵، ۱۱۸.
  20. نکـ: مؤیدی، لوامع الانوار، ج۱، ص۲۱۸.
  21. نکـ: علامہ حلی، رجال، صص۱۴-۱۵.
  22. نکـ: ابن بابویہ، فقیہ...، ج۱، ص۳.
  23. نجاشی، رجال، ص۸۲؛ طوسی، الفہرست، ص۲۵.
  24. نجاشی، رجال، ص۵۹.
  25. مجلسی، بحار الانوار، ج۱، صص۱۶، ۳۳-۳۴.
  26. نجاشی، رجال، ص۸۲؛ طوسی، الفہرست، ص۲۵.
  27. ابن ندیم، الفہرست، ص۲۷۸.
  28. ابن ندیم، الفہرست، ص۲۷۸.
  29. ابن ندیم، الفہرست، ص۲۷۸.
  30. ابن شہر آشوب، معالم العلماء، ص۱۴.
  31. ابن شہر آشوب، معالم العلماء، ص۲۴، ظاہراً کتاب کا انتساب کسی اشتباہ کی وجہ سے ہوا ہے۔


مآخذ

  • ابن بابویہ، محمد، التوحید، کوشش: ہاشم حسینی، قم، موسسہ النشر الاسلامی.
  • ہمو، فقیہ من لایحضرہ الفقیہ، کوشش: حسن موسوی خرسان، تہران، ۱۴۱۰ق.
  • ابن حجر عسقلانی، احمد، لسان المیزان، حیدرآباد دکن، ۱۳۲۹ق.
  • ابن شہر آشوب، محمد، معالم العلماء، کوشش: محمد صادق بحرالعلوم، نجف، ۱۳۸۰ق/۱۹۶۱م.
  • ابن ندیم، الفہرست.
  • ابوغالب زاری، احمد، رسالۃ فی ذکر آل اعین، کوشش: محمد رضا حسینی، قم، ۱۴۱۱ق.
  • الرجال، منسوب بہ احمد برقی، ہمراہ ابرجال ابن داوود حلی، کوشش: جلال الدین محدث ارموی، تہران، ۱۳۴۲ش.
  • الضعفاء، منسوب بہ ابن غضائری، نسخہ عکسی موجود در کتابخانہ مرکز.
  • طوسی، محمد، رجال، کوشش: محمد صادق بحرالعلوم، نجف، ۱۳۸۰ق/۱۹۶۱م.
  • ہمو، الفہرست، کوشش: محمد صادق بحرالعلوم، نجف، کتابخانہ مرتضویہ.
  • علامہ حلی، حسن، رجال، کوشش: محمد صادق بحرالعلوم، نجف، ۱۳۸۱ق/۱۹۶۱م.
  • کشی، محمد، معرفۃ الرجال، اختیار طوسی، کوشش: حسن مصطفوی، مشہد، ۱۳۴۸ش.
  • کلینی، محمد، الکافی، کوشش: علی اکبر غفاری، تہران، ۱۳۸۸ق.
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، ۱۴۰۳ق/۱۹۸۳م.
  • مؤیدی، مجدالدین، لوامع الانوار، نسخہ عکسی موجود در کتابخانہ مرکز.
  • نجاشی، احمد، رجال، کوشش: موسی شبیری زنجانی، قم، ۱۴۰۷ق.