حوأب

ویکی شیعہ سے
جنگ جمل میں امام علیؑ اور ان کے مخالفین کا جنگ کے لئے جانے کا راستہ

حوأب مکہ کے راستے میں بصرہ کے نزدیک پانی کا ایک چشمہ تھا[1] جہاں سے جنگ جمل میں حصہ لینے والے لشکر کا گزر ہوا۔ یہ چشمہ قبیلہ بنی کلب کے سردار کلب بن وبرۃ کی بیٹی حوأب کا تھا۔[2]

تیسری صدی ہجری کے مورخ ابن‌ قتیبہ کے مطابق پیغمبرؐ نے اپنی زوجہ عائشہ بنت ابوبکر کو حوأب اور یہاں پیش آنے والے واقعہ (جنگ جمل) سے دور رہنے کی تلقین فرمائی تھی۔ پیغمبرؐ نے فرمایا تھا: میں اس دن کو دیکھ رہا ہوں کہ جب حوأب کے کتے تم میں سے ایک پر بھونکیں گے، حمیرا (عائشہ) کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تم ہو۔[3]

اہل سنت مذاہب اربعہ میں سے مذہب حنابلہ کے بانی احمد بن حنبل کے مطابق جب ناکثین (بیعت توڑنے والے) بصرہ سے امام علیؑ کے خلاف جنگ کیلئے نکلے تو حضرت عائشہ راستے میں جہاں سے بھی گزرتیں اس جگہ کا نام پوچھتی تھیں یہاں تک کہ حوأب کے چشمے پر پہنچ گئیں اور وہاں کے کتوں نے بھونکنا شروع کر دیا۔ انہیں جب اس جگہ کا نام معلوم ہوا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ لشکر سے جدا ہو کر مکہ واپس چلی جائیں[4] مگر عبد اللہ بن زبیر نے پچاس لوگوں کو جمع کیا جنہوں نے قسم اٹھائی کہ یہ مقام حوأب نہیں ہے[5] اور یوں انہوں نے عائشہ کو اپنے ارادے سے باز رکھا۔[6]

حوالہ جات

  1. حمیری، الروض المعطار، 1984ء، ص206۔
  2. بلاذری، فتوح البلدان، 1988ء، ص361۔
  3. ابن قتیبۃ، الإمامۃ و السیاسۃ، 1410ھ، ج1، ص82۔
  4. أحمد بن حنبل، مسند، مؤسسۃ قرطبہ، ج6، ص52۔
  5. بلاذری، أنساب الأشراف، 1417ش، ج3، ص24؛ بیہقی، المحاسن والمساوی، 1420ھ، ص43۔
  6. إبن أبی شیبۃ، المصنف، 1409ھ، ج7، ص536؛ حنظلی، مسند إسحاق بن راہویہ، 1412ھ، ج3، ص891؛ حاکم النیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، 1411ھ، ج3، ص129؛ موصلی التمیمی، مسند أبی یعلی، 1404ھ، ج8، ص282؛ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، 1398ھ، ج6، ص212؛ ہیثمی، مجمع الزوائد، 1407ھ، ج7، ص234؛ ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، دار المعرفہ، ج13، ص55۔

مآخذ

  • إبن أبی‌شیبۃ، عبد اللہ بن محمد، الکتاب المصنف فی الأحادیث والآثار، تحقیق کمال یوسف الحوت، ریاض، مکتبۃ الرشد، 1409ھ۔
  • ابن حجر عسقلانی، أحمد بن علی، فتح الباری شرح صحیح البخاری، تحقیق محب الدین الخطیب، ‌بیروت، دار المعرفۃ، بی‌تا۔
  • ابن قتیبۃ، عبداللہ بن مسلم، الإمامۃ و السیاسۃ، تحقیق علی شیری، بیروت، دار الاضواء، 1410ھ۔
  • ابن کثیر، اسماعیل بن عمر، البدایۃ والنہایۃ، تحقیق خلیل شحادۃ، بیروت، دار الفکر، 1398ھ۔
  • أحمد بن حنبل، مسند أحمد بن حنبل،‌ قاہرہ، مؤسسۃ قرطبۃ، بی‌تا۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، جمل من أنساب الأشراف، تحقیق سہیل زکار و ریاض زرکلی، با اشراف مکتب البحوث والدراسات، بیروت، دار الفکر، 1417ھ۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، فتوح البلدان، بیروت، دار و مکتبہ الہلال، 1988ء۔
  • بیہقی، ابراہیم بن محمد، المحاسن والمساوی، تحقیق علی عدنان، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1420ھ۔
  • حاکم نیشابوری، محمد بن عبداللہ، المستدرک علی الصحیحین، تحقیق مصطفی عبد القادر عطا، ‌بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1411ھ۔
  • حمیری، محمد بن عبد المنعم، الروض المعطار فی خبر الأقطار، تحقیق احسان عباس، بیروت، مکتبۃ لبنان ناشرون، 1984ء۔
  • حنظلی، إسحاق بن إبراہیم، مسند إسحاق بن راہویہ، تحقیق عبد الغفور بن عبد الحق البلوشی، المدینۃ، مکتبۃ الإیمان، 1412ھ۔
  • موصلی التمیمی، أحمد بن علی، مسند أبی‌یعلی، تحقیق حسین سلیم أسد، ‌دمشق، دار المأمون للتراث، 1404ھ۔
  • ہیثمی، علی بن أبی‌بکر، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ‌القاہرۃ و بیروت، دار الریان للتراث و ‌دار الکتاب العربی، 1407ھ۔