مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:عورت کا جہاد

ویکی شیعہ سے

عورت کا جہاد سے مراد جنگ میں عورتوں کی براہ راست شرکت ہے جو کہ اسلامی فقہ کی رو سے واجب نہیں ہے[1] اور بعض فقہاء نے اسے غیرجائز قرار دیا ہے۔[2] مذکورہ حکم ابتدائی جہاد سے متعلق ہے؛[3] تاہم، دفاعی جہاد میں بوقت ضرورت عورتوں پر بھی اس نوعیت کےجہاد میں شرکت واجب ہوجاتی ہے۔[4] شیعہ عالم دین سید محمد حسین تہرانی کے مطابق، عورتوں پر جہاد فرض نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انہیں میدان جنگ میں جانے سے منع کیا گیا ہے؛ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان پر براہ راست جنگ میں حصہ لینا واجب نہیں لیکن زخمیوں کے علاج یا مجاہدین کو سامان فراہم کرنا جیسے امدادی کاموں کو انجام دینا عورتوں کے لیےجائز ہے۔[5] تاریخی منابع کے مطابق پیغمبر اکرمؐ کے زمانے میں چھیڑی گئی جنگوں میں مسلمان خواتین نے بھی شرکت کی ہے۔ مثال کے طور پر جنگ احد میں حضرت فاطمہ زہراء (س) اور عائشہ سمیت 14 خواتین نے مجاہدین اسلام کو پانی پہنچانے، انہیں کھانا تیار کرنے اور جنگ کے زخمیوں کے معالجے کے سلسلے میں جاری امدادی کاروائیوں میں حصہ لیا ہے۔[6]

جِهَادُ الْمَرْأَۃِ حُسْنُ التَّبَعُّل‏
عورت کا جہاد اچھی ہمسرداری ہے۔ (کلینی، الکافی، 1407ھ، ج5، ص507۔)

احادیث میں عورتوں کے کچھ کاموں کو جہاد کا درجہ دیا گیا ہے؛ ان میں سے بعض یہ ہیں:

  • اچھی ہمسر داری: امام موسی کاظمؑ کی ایک حدیث میں اچھی شوہر داری کو عورتوں کے جہاد سے تعبیر کیا گیا ہے۔[7]
  • بیوی کا صبر و تحمل: امام محمد باقرؑ کی ایک حدیث میں شوہر کی بدسلوکی کے مقابلے میں عورتوں کے صبر و تحمل کو ان کا جہاد قرار دیا گیا ہے۔[8]
  • گھریلو امور کی دیکھ بھال: پیغمبر خداؐ کی ایک روایت میں عورتوں کی جانب سے گھریلو کاموں کی انجام دہی کو ان کے جہاد کے برابر قرار دیا گیا ہے۔[9]
  • حاملہ عورت کا ثواب: رسول اکرمؐ کی ایک روایت کے مطابق حاملہ عورت کے لیے مجاہدین کے برابر ثواب ہے اور جب بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو اس کے گناہ معاف کیے جاتے ہیں۔[10]

حوالہ جات

  1. نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج21، ص7؛ شیخ طوسی، النہایۃ، 1400ھ، ص289؛ ابن‌ادریس، السرائر، 1410ھ، ج2، ص3؛ علامہ حلّی، تذکرۃ الفقہاء، 1414ھ، ج9، ص12؛ ابن‌قدامہ، المغنی، 1388ھ، ج9، ص197۔
  2. منتظری، رسالہ استفتائات، قم، ج1، ص102؛ حسینی طہرانی، رسالہ بدیعہ، 1418ھ، ص121۔
  3. شہید ثانی، مسالک الأفہام، 1413ھ، ج3، ص8۔
  4. ملاحظہ کیجیے: شہید ثانی، مسالک الأفہام، 1413ھ، ج3، ص8؛ کاشف الغطاء، کشف الغطاء، انتشارات مہدوی، ص395-396۔
  5. طہرانی، رسالہ بدیعہ، 1418ھ، ص121۔
  6. واقدی، کتاب المغازی، 1409ھ، ج1، ص249۔
  7. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج5، ص507۔
  8. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج5، ص9؛ شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج3، ص439۔
  9. فتال نیشابوری، روضۃ الواعظین ، 1375شمسی، ج2، ص376۔
  10. شیخ طوسی، الأمالی، 1414ھ، ص618۔

مآخذ

  • ابن‌ادریس حلّی، محمد بن احمد، السرائر الحاوی لتحریر الفتاوی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ دوم، 1410ھ۔
  • ابن‌قدامہ، عبداللہ بن احمد، المغنی، قاہرہ، مکتبۃ القاہرہ، 1388ھ۔
  • حسینی طہرانی، سید محمدحسین، رسالہ بدیعہ، مشہد، انتشارات علامہ طباطبایی، 1418ھ۔
  • شہید ثانی، زین‌الدین بن علی، مسالک الأفہام إلی تنقیح شرائع الإسلام، قم، مؤسسۃ المعارف الإسلامیۃ، چاپ اول، 1413ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد بن على، من لا یحضرہ الفقیہ، محقق: علی‌اکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ دوم، 1413ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن‏، الأمالی، قم، دار الثقافۃ، چاپ اول، 1414ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، النہایۃ فی مجرد الفقہ و الفتاوی، بیروت، دار الکتاب العربی، چاپ دوم، 1400ھ۔
  • علامہ حلّی، حسن بن یوسف، تذکرۃ الفقہاء، مؤسسہ آل‌البیت علیہم‌السلام، قم، چاپ اول، 1414ھ۔
  • فتّال نیشابوری، محمد بن احمد، روضۃ الواعظین و بصیرۃ المتعظین، قم، انتشارات رضی، چاپ اول، 1375ہجری شمسی۔
  • کاشف الغطاء، جعفر بن خضر، کشف الغطاء عن مبہمات الشریعۃ الغراء، اصفہان، انتشارات مہدوی، چاپ اول، بی‌تا۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق و مصحح: غفاری، علی‌اکبر، آخوندی، محمد، تہران، دار الکتب الإسلامیہ، چاپ چہارم، 1407ھ۔
  • منتظری، حسین‌علی، رسالہ استفتاءات، قم، چاپ اول، بی‌تا۔
  • نجفی، محمدحسن، جواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دار اِحیاء التراث العربی، چاپ ہفتم، 1404ھ۔
  • واقدی، محمد بن عمر، کتاب المغازی، تحقیق: مارسدن جونس، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی، چاپ سوم، 1409ھ۔