مسودہ:جاسوسی
جاسوسی کے معنی ہیں معلومات کو خفیہ طریقے سے جمع کر کے انہیں دوسرے افراد یا حکومتوں تک پہنچانا۔ یہ ان جدید فقہی مسائل میں شمار ہوتا ہے جن کا فقہ میں سابقہ نہیں ملتا۔ فقہا نے اسلامی نظام کے لیے جاسوسی کرنا جائز قرار دیا ہے، جبکہ دشمنوں کے فائدے کے لیے جاسوسی کو حرام اور جاسوسی کرنے والے کو سزا کا مستحق قرار دیا ہے۔ ان فقہا کی دلیل قرآنی آیات اور وہ روایات ہیں جو اجمالی تواتر کی حد تک پہنچتی ہیں۔
شیعہ فقیہ سید محمد موسوی بجنوردی نے عقل، قرآنی آیات اور روایات کی روشنی میں دشمنانِ اسلام کے فائدے میں جاسوسی کرنے کو حرام قرار دیا ہے اور اسے خدا، رسولؐ اور اسلامی ملک سے غداری قرار دیا ہے۔ بعض فقہا، جیسے علامہ حلّی اور شیخ طوسی نے اس جرم کی سزا تعزیر قرار دی ہے، جبکہ دوسرے گروہ نے اس شخص کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے جو اسلامی نظام کے دشمنوں کے فائدے کے لیے جاسوسی کرتا ہے۔
تجسّس (ٹوہ لگانا) اور انسانی خصوصی زندگی (پرایویسی) کی حدود کی خلاف ورزی ان حرام کاموں میں سے ہیں جن کا مصداق جاسوسی بھی ہوسکتی ہے۔ بعض محققین نے جاسوسی کے فقہی حکم کی تحقیق میں انہیں دو موضوعات سے استفادہ کیا ہے۔
پیشینہ اور اہمیت
جاسوسی کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ یہ لوگوں، اداروں یا ممالک کی خفیہ خبروں اور مخفی معلومات کو کسی شخص یا دوسرے ملک کے فائدے کے لیے جمع کرنا اور انہیں ان کی خبر دینا ہے۔[1] دانشنامہ جہان اسلام (دنیائے اسلام کی انسائیکلوپیڈیا) میں ھخامنشی بادشاہوں کے زمانے سے لے کر قاجار تک کے تاریخی پس منظر سے متعلق لکھا ہے کہ جاسوسوں کا استعمال ایران کے حکمرانوں کے درمیان ایک مسلسل سیرت رہی ہے۔[2]
حسین علی منتظری (وفات: 1998ء) نے اپنی کتاب حکومتِ اسلامی کے فقہی مبانی میں اسلامی حکومت کے لیے جاسوسی کی بنیادی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق، دشمن کی عسکری اور غیرعسکری قوتوں اور تعداد کے بارے میں معلومات اکھٹا کرنا اس پر فتح پانے کے سب سے اہم عوامل میں سے ہیں۔ منتظری نے جاسوسی کو ایک فن قرار دیا ہے۔ ان کے نقطۂ نظر سے، اس شعبے میں تربیت اور سرگرمیوں کے لیے ماہر افراد کو سنجیدگی سے تیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس اقدام کو اس نظامِ علت و معلول کی اتباع سے تعبیر کیا ہے جو اللہ نے اس عالَم میں رکھا ہے۔[3]
شیعہ فقہ کی اہم کتابوں میں باقاعدہ طور "فقہ جاسوسی" یا "حکم جاسوس" کے عنوان سے کوئی مستقل مسئلہ زیر بحث نہیں آیا ہے۔[4] یہ موضوع زیادہ تر جاسوس مسلمان یا جاسوسی کے شبہ میں مبتلا فرد کے بارے میں موجود جملوں کی صورت میں، جہاد یا اسلامی نظام کے تحفظ جیسے ابواب کے تحت آیا ہے۔[5] اسی بنا پر بعض محققین نے اسے جدید فقہی مسائل میں شمار کیا ہے؛ یعنی ایسے نوپیدا فقہی مسائل جن کا سابقہ فقہی مباحث میں نام نہیں ملتا اور وہ نئے اجتہاد کے محتاج ہیں۔[6]
جاسوسی ایک قسم کا تجسّس اور پرایویسی کی خلاف ورزی
دینی متون میں تجسّس اور حریم خصوصی (پرائیویسی) کی خلاف ورزی کو مذموم عمل قرار دیا گیا ہے اور شرعی طور پر حرام شمار کیا گیا ہے۔[7] سورہ حجرات کی آیت 12 اور وہ دلائل ہیں جو مومن کی آبرو کی اہمیت، غِیبت کی حرمت، عیب جوئی کی ممانعت، استراق سمع اور حریمِ خصوصی کی خلاف ورزی کرنے والے کی جان کی ضمانت لازم نہ ہونا اس حکم کے دلائل میں سے ہے۔[8] نیز قاعدہ احترام اور قاعدہ سلطنت (مال اور جان پر تسلّط اور اختیار) کو بھی تجسّس کی حرمت اور ذاتی رازداری کی رعایت کرنے کے فقہی دلائل میں شمار کیا گیا ہے۔[9]
تاہم فقہا نے خاص موارد میں، شرعی ضوابط اور برتر مصالح کی رعایت کے ساتھ، تجسّس کو جائز قرار دیا ہے۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
- اسلامی نظام کی مصلحت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے حکومتوں اور انٹیلیجنس اداروں کا افراد کی رازداری میں تجسّس کرنا۔[10]
- مالک کا اپنے ملازمین اور کارکنوں کی کارکردگی پر نظارت رکھنا۔[11]
- اخلاقی اور شرعی حدود میں رہتے ہوئے شریک حیات کے انتخاب کے لیے تجسّس کرنا۔[12]
اسلامی حکومت کے لیے جاسوسی کرنے کا حکم
السیرة النبویۃ؛ پیغمبرخداؐ نے غزوہ بدر کے حالات کی بابت فرمایا:
«اس کے بعد رسول خداؐ اپنے اصحاب کی طرف لوٹے۔ جب رات ہوئی تو آپؐ نے علی بن ابی طالب، زبیر بن عوام اور سعد بن ابی وقاص کو چند دیگر افراد کے ہمراہ بدر کے اس مقام کی طرف روانہ کیا جہاں پانی تھا اور عام طور پر قافلے وہاں اترا کرتے تھے، تاکہ وہ اہلِ مکہ اور قریش کے قافلوں کے بارے میں معلومات حاصل کریں اور آپ کو اس کی خبر دیں۔».[13]
شیعہ فقہا نے واضح طور پر یا بالواسطہ طور پر اسلامی حکومت کے لیے جاسوسی کو جائز قرار دیا ہے۔ حسین علی منتظری کے مطابق، رسول خداؐ اور امام علیؑ کی جنگی سیرت میں دشمن کی صورتحال سے آگاہی کے لیے منصوبہ بندی ایک عام اور فطری امر تھا۔[14] نیز محمد حسن نجفی نے کتاب جواہر الکلام میں صراحت کی ہے کہ دشمن سے اطلاع حاصل کرنے کے لیے جاسوسی، چاہے اس کی وجہ سے میدانِ جنگ سے غائب ہونا پڑے، پھر بھی یہ شخص غنیمت میں سے حصہ لینے کا مستحق ہوگا۔[15]
بعض محققین نے نظامِ اسلامی کے تحفظ کی لزومیت پر استناد کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جاسوسی بعض صورتوں میں واجب ہو جاتی ہے کیونکہ اس کے بغیر نظام کی سلامتی اور بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے۔[16] اس عمل کے جواز کے فقہی دلائل درج ذیل ہیں:
- قرآنی آیات: منتظری کے مطابق، سورہ انفال کی آیت نمبر 60 جو دشمنوں کے مقابلے میں ہر طرح کی تیاری کا حکم دیتی ہے، اس میں معلومات اکٹھا کرنا بھی شامل ہے۔[17] ناصر مکارم شیرازی نے بھی اس آیت کو ہر قسم کی تیاری پر دلیل سمجھا ہے، جس میں دشمن کی قوتوں کی شناخت کے لیے اطلاعاتی نظام کا قیام بھی شامل ہے۔[18]
- روایات: منتظری کا عقیدہ ہے کہ جاسوسی سے متعلق روایات جو رسول خداؐ اور ائمہ علیہم السلام کی سیرت میں موجود ہیں، وہ تواترِ اجمالی کے درجہ کو پہنچتی ہیں۔[19] ان میں سے عبد اللہ بن جحش کو قبیلہ قریش کے بارے میں اطلاعات تیار کرنے کے لیے مقامِ نخلہ میں بھیجنا اس عملی سیرت کی ایک مثال ہے۔[20]
- عقلی دلیل: حفظِ نظام حفظ کی بنیاد پر ہر وہ اقدام جو اسلامی حکومت کی بقا کے لیے ضروری ہو، واجب ہو جاتا ہے اور دشمنوں کے مقابلے میں جاسوسی اس اصول کا مصداق ہے۔[21]
وظیفۂ جاسوسی کی انجام دہی میں گناہوں کے ارتکاب کا حکم
محققین کے مطابق، قاعدہ اہم و مہم کی بنا پر جب دو مفادوں میں تضاد ہو تو اہم مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔[22] لہٰذا، اگر کوئی شخص اسلامی نظام کے تحفظ کے لیے جاسوسی کرے تو نہ صرف اس کے تجسّس کا عمل حرام نہیں ہے، بلکہ وہ اعمال بھی جنہیں وہ معلومات حاصل کرنے کی راہ میں ناگزیر طور پر انجام دیتا ہے، جیسے جھوٹ، فریب (دھوکہ) اور حتیٰ کہ قتل، یہ سب کی سب اسلام کے وجود کی حفاظت کے مقابلے میں کم اہمیت رکھتے ہیں اور اپنے حکم اوّلی سے ساقط ہو جاتے ہیں۔[23]
نظام اسلامی کے دشمنوں کیلئے جاسوسی کا حکم
شیعہ فقیہ سید محمد موسوی بجنوردی کے مطابق دشمنانِ اسلام کے لیے جاسوسی، عقل، قرآنی آیات اور معصومین علیہم السلام کی روایات کی بنا پر حرام ہے اور یہ خدا اور رسول خداؐ سے غداری کا مصداق ہے۔[24] بجنوردی مزید لکھتے ہیں کہ شیعہ اور اہل سنت مفسرین نے سورہ مائدہ کی آیت نمبر 41 میں لفظ «سَمّاعون» کی تفسیر دشمنوں کے جاسوسوں اور بنی قریظہ کے جاسوسوں سے کی ہے۔[25] بجنوردی نے جاسوسی کو ملک سے غداری کا مصداق بھی قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ قرآن کریم کے سورہ انفال کی آیت نمبر 27 جیسی آیات میں اسلامی امت سے غداری؛ جو درحقیقت رسول خداؐ سے غداری ہے؛ سے منع کیا گیا ہے۔[26]
جاسوس کی سزا
شیعہ فقہا کے بعض فتاوے دشمنانِ اسلام کے فائدے میں جاسوسی کی سزا کے بارے میں مندرجہ ذیل ہیں:
- اگر جاسوس مسلمان ہو:
- حسین علی منتظری اور کچھ دیگر فقہاء نے روایات کی رو سے اور جاسوس پر عنوانِ محاربہ و مفسد فی الارض کے اطلاق کی بنا پر، جاسوس کے لیے سزائے موت کا حکم دیا ہے۔[27] نجم الدین طبسی نے اس کی توجیہ میں اشارہ کیا ہے کہ واقعہ حاطب بن ابی بلتعہ میں رسول خداؐ کی جانب سے معاملے کو ہلکا لینا اور اسے معاف کرنے کا حکم شاید حاطب کی سادہ لوحی اور اس کی مجبوری کی بنا پر تھا۔[28]
- اس کے برعکس، شیخ طوسی اور علامہ حلی جیسے فقہاء نے واقعہ حاطب بن ابی بلتعہ جیسی روایات پر استناد کرتے ہوئے عفو یا تعزیر کا حکم دیا ہے۔[29] نجم الدین طبسی نے جاسوس کے قتل کے جواز کی روایتوں کی سند اور دلالت پر نقد کرتے ہوئے قتل کو جائز نہیں سمجھا ہے اور خونریزی میں احتیاط کے اصول پر استناد کرتے ہوئے قتل کے عدمِ جواز کا حکم دیا ہے۔[29] نجم الدین طبسی نے جاسوس کے قتل کی اجازت دینے والی روایات کی سند اور دلالت پر تنقید کرتے ہوئے قتل کو جائز نہیں سمجھا ہے اور قتل و خونریزی میں احتیاط کے اصول پر استناد کرتے ہوئے قتل کے عدم جواز کا حکم دیا ہے۔[30] انہوں نے تاریخی شواہد سے استناد کرتے ہوئے جلاوطنی کو مناسب سزاؤں میں سے قرار دیا ہے اور اسے تعزیر کے دائرے میں رکھا ہے۔[31]
- ناصر مکارم شیرازی نے جاسوسی کی مختلف اقسام کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جاسوسی اسلامی نظام کے ارکان یا مسلمانوں کی جان کے لیے خطرہ کا باعث بنے تو اسے قتل کرنا جائز ہے؛ لیکن ان صورتوں میں کہ غیر اہم معلومات منتقل کی گئی ہوں، تو تعزیر کافی ہے۔[32]
- اگر جاسوس غیر مسلم ہو:
- طبسی کے مطابق، شیعہ منابع میں غیر مسلم جاسوس کی سزا کے بارے میں کوئی واضح حکم موجود نہیں ہے۔[33] تاہم بعض فقہی محققین کا ماننا ہے کہ اگر کوئی کافر ذمی دشمنانِ اسلام کے لیے جاسوسی کرے تو اس کے ذمّے کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اور بعض فقہا نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔[34]
حوالہ جات
- ↑ مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، 1426ھ، ج3، ص36۔
- ↑ بنیاد دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، دانشنامہ جہان اسلام، 1375شمسی، ج1، ص4332۔
- ↑ منتظری، مبانی فقہی حکومت اسلامی، 1409ق، ج4، ص320۔
- ↑ علوی، «جواز جاسوسی برای نظام سیاسی در فقہ شیعہ»، ص143۔
- ↑ علوی، «جواز جاسوسی برای نظام سیاسی در فقہ شیعہ»(شیعہ فقہ میں سیاسی نظام کے لیے جاسوسی کا حکم)، ص143؛ موسوی بجنوردی، «دربارہ جاسوسی و خیانت بہ کشور»، ص19۔
- ↑ میرعلی، قرہسیدرومیانی، «بررسی جاسوسی از نظر فقہ امامیہ»، ص21–29۔
- ↑ آیہ 12 سورہ احزاب، قرآن کریم؛ خامنہای، اجوبۃ الاستفتائات، بخش تجسس و افشای اسرار، مسئلہ 1390 و 1392؛ مکارم شیرازی، استفتائات، 1427ھ، ج3، ص147، سؤال 443 و ج2، ص364، سؤال 1077۔
- ↑ سرافرازی، نگرش فقہی حقوقی بر حریمہای خصوصی، 1391شمسی، ص43–44؛ قنواتی و جاور، «حریم خصوصی؛ حق یا حکم»، ص8–9؛ شہباز قہفرخی، مسعودیان، «حمایت از حریم خصوصی اشخاص از منظر آیات و روایات» (لوگوں کی حریم خصوصی کی حمایت قرآن و روایات کی روشنی میں)، ص91؛ الماسی، محمدیان، «ملاکہای حریم خصوصی در فقہ امامیہ و حقوق اساسی ایران، تطبیق با خودروی شخصی» (فقہ امامیہ اور ایران کے آئینی حقوق میں رازداری کے معیارات، ذاتی گاڑی کے ساتھ تطبیق)، ص35–36؛ کشتگر، جاور، «راہبردہای فقہ امامیہ در تضمین حق حریم خصوصی شہروندان» (فقہ امامیہ میں شہریوں کی رازداری کے حق کی ضمانت کے لیے بنائی گئی حکمت عملیاں)، ص29–30۔
- ↑ کشتگر، جاور، «حریم خصوصی؛ حق یا حکم» (رازداری؛ حق یا حکم)، ص32–35؛ حسینی، برزویی، «مبانی و مؤلفہہای فقہی حمایت از حریم خصوصی افراد در فضای مجازی» (سائبر اسپیس میں افراد کی رازداری کے تحفظ کے فقہی مبانی اور عناصر)، ص121۔
- ↑ درگاہی، «حدود اختیارات دستگاہہای اطلاعاتی در ورود بہ حریم خصوصی افراد از منظر فقہ امامیہ» (فقہ امامیہ کی نگاہ سے افراد کی رازداری میں داخل ہونے کے حوالے سے اطلاعاتی اداروں کے اختیارات کی حدود)، ص77؛ اکبریان، «بررسی حکم شرعی رفتار حکومت در جمعآوری اطلاعات از حوزہ حریم خصوصی اشخاص» (افراد کی رازداری کے دائرے سے معلومات اکٹھا کرنے میں حکومت کے طرزِ عمل کا شرعی حکم)، ص21؛ سلیمانی، «بررسی ورود بہ حریم خصوصی در فعالیتہای اطلاعاتی–امنیتی در چارچوب اصول و قواعد فقہی» (اطلاعاتی-امنیتی سرگرمیوں میں فقہی اصولوں اور قواعد کی رو سے رازداری میں داخلے کا تحقیقی جائزہ)، ص33۔
- ↑ موسوی بجنوردی، «دربارہ جاسوسی و خیانت بہ کشور»، ص19۔
- ↑ الہامینیا، فقہ مدیریت، مؤسسہ تحقیقات و نشر معارف اہل البیت(ع)، ص105؛ مکارم شیرازی، اخلاق در قرآن، 1377شمسی، ج3، ص357۔
- ↑ . مبانی فقهی حکومت اسلامی، ج۴، ص۳۲۴-۳۲۷۔
- ↑ منتظری، مبانی فقہی حکومت اسلامی، 1409ھ، ج4، ص321۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج21، ص201۔
- ↑ علوی، «جواز جاسوسی برای نظام سیاسی در فقہ شیعہ» (شیعہ فقہ میں سیاسی نظام کے لیے جاسوسی کا جواز)، ص143۔
- ↑ منتظری، مبانی فقہی حکومت اسلامی، 1409ھ، ص321۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1370شمسی، ج27، ص403؛ ج7، ص224۔
- ↑ منتظری، مبانی فقہی حکومت اسلامی، 1409ھ، ص321۔
- ↑ منتظری، مبانی فقہی حکومت اسلامی، 1409ھ، ص321۔
- ↑ علوی، «جواز جاسوسی برای نظام سیاسی در فقہ شیعہ»(شیعہ فقہ میں سیاسی نظام کے لیے جاسوسی کا جواز)، ص150۔
- ↑ علوی، «جواز جاسوسی برای نظام سیاسی در فقہ شیعہ» (شیعہ فقہ میں سیاسی نظام کے لیے جاسوسی کا جواز)، ص145۔
- ↑ علوی، «جواز جاسوسی برای نظام سیاسی در فقہ شیعہ» (شیعہ فقہ میں سیاسی نظام کے لیے جاسوسی کا جواز)، ص145 و 154؛ مرادی، حیدری، علیاکبری بابوکانی، «بررسی قلمرو جاسوسی در عملیات روانی از منظر فقہ اسلامی» (اسلامی فقہ کی نگاہ سے نفسیاتی عملیات میں جاسوسی کے دائرے کا تحقیقی جائزہ)، ص88۔
- ↑ موسوی بجنوردی، «دربارہ جاسوسی و خیانت بہ کشور»، ص18–21۔
- ↑ موسوی بجنوردی، «دربارہ جاسوسی و خیانت بہ کشور»، ص21۔
- ↑ موسوی بجنوردی، «دربارہ جاسوسی و خیانت بہ کشور»، ص21۔
- ↑ طبسی، مبانی فقہی جاسوسی و ضد جاسوسی، 1393شمسی، ص28–35۔
- ↑ طبسی، مبانی فقہی جاسوسی و ضد جاسوسی، 1393شمسی، ص50۔
- ↑ طبسی، مبانی فقہی جاسوسی و ضد جاسوسی، 1393ش، ص28–35؛ طوسی، المبسوط، 1387ھ، ج2، ص15؛ حلی، قواعد الأحکام، 1413ھ، ج1، ص505۔
- ↑ طبسی، مبانی فقہی جاسوسی و ضد جاسوسی، 1393شمسی، ص53–56۔
- ↑ طبسی، مبانی فقہی جاسوسی و ضد جاسوسی، 1393شمسی، ص59–60۔
- ↑ بررسی حکم محارب برای فرد جاسوس،(جاسوس شخص کے لیے محارب کے حکم کا تحقیقی جائزہ)، آیتاللہ مکارم کے دفتر کی ویسب سائٹ۔
- ↑ طبسی، مبانی فقہی جاسوسی و ضد جاسوسی، 1393شمسی، ص60۔
- ↑ مرادی، حیدری، علیاکبری بابوکانی، «بررسی قلمرو جاسوسی در عملیات روانی از منظر فقہ اسلامی»(اسلامی فقہ کی نگاہ سے نفسیاتی عملیات میں جاسوسی کے دائرے کا تحقیقی جائزہ)، ص90۔
مآخذ
- الماسی، علی، محمدیان شیرمرد، مرضیہ، «ملاکہای حریم خصوصی در فقہ امامیہ و حقوق اساسی ایران: تطبیق با خودروی شخصی(فقہ امامیہ اور ایران کے آئینی حقوق میں رازداری (پرائیویسی) کے معیارات: ذاتی گاڑی کے ساتھ تطبیق)»، دو ماہنامہ عورت و خاندان کے فقہی و حقوقی مطالعات، شمارہ 3، 1398ہجری شمسی۔
- الہامینیا، علیاصغر، فقہ مدیریت، تہران، موسسہ تحقیقات و نشر معارف اہل البیت(ع)، پہلی اشاعت، بیتا۔
- بنیاد دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، دانشنامہ جہان اسلام، تہران، مرکز دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، 1375ہجری شمسی۔
- حسینی، برزویی، «مبانی و مؤلفہہای فقہی حمایت از حریم خصوصی افراد در فضای مجازی»(سائبر اسپیس میں افراد کی رازداری کے تحفظ کے فقہی مبانی اور عناصر، دوفصلنامہ مطالعات حقوق بشر اسلامی، سال 6، شمارہ 13، 1396ہجری شمسی۔
- خامنہای، سید علی، اجوبہ الاستفتائات، تہران، دار النباء، پہلی اشاعت، 1415ھ۔
- «جاسوس»، دانشنامہ جہان اسلام، تاریخ مشاہدہ: 8 جولائی 2025ء۔
- درگاہی، «حدود اختیارات دستگاہہای اطلاعاتی در ورود بہ حریم خصوصی افراد از منظر فقہ امامیہ»(فقہ امامیہ کی نگاہ سے افراد کی رازداری میں داخل ہونے کے حوالے سے اطلاعاتی اداروں کے اختیارات کی حدود)، دورہ 21، شمارہ 82، شمارہ پیاپی 82، 1393ہجری شمسی۔
- سرافرازی، مریم، نگرش فقہی حقوقی بر حریمہای خصوصی، پایاننامہ کارشناسی ارشد رشتہ فقہ و مبانی حقوق اسلامی، تہران، دانشکدہ الہیات و معارف اسلامی دانشگاہ آزاد تہران شمال، 1391ہجری شمسی۔
- سلیمانی، مرتضی، سلیمانی، یاسر، «بررسی ورود بہ حریم خصوصی در فعالیتہای اطلاعاتی-امنیت در چارچوب اصول و قواعد فقہی»(اطلاعاتی-امنیتی سرگرمیوں میں فقہی اصولوں اور قواعد کی رو سے رازداری میں داخلے کا تحقیقی جائزہ)، دورہ 21، شمارہ 82، شمارہ پیاپی 82، 1393ہجری شمسی۔
- شہباز قہفرخی، سجاد، مسعودیان، مصطفی، «حمایت از حریم خصوصی اشخاص از منظر آیات و روایات»(لوگوں کی حریم خصوصی کی حمایت قرآن و روایات کی روشنی میں)، در دوفصلنامہ تخصصی پژوہشہای میان رشتہای قرآن کریم، شمارہ 2، 1391ہجری شمسی۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی فقہ الامامیہ، تصحیح سید محمدتقی کشفی، تہران، المکتبۃ المرتضویۃ لاحیاء الآثار الجعفریہ، 1387ھ۔
- طبسی، نجمالدین، مبانی فقہی جاسوسی و ضدجاسوسی، قم، برگ فردوس، مرکز فقہی ائمہ اطہار، 1393ہجری شمسی۔
- علامہ حلی، حسن بن یوسف، قواعدالاحکام فی معرفۃ الحلال و الحرام، قم، مؤسسہ نشر اسلامی، 1413ھ۔
- علوی، علیاصغر، «جواز جاسوسی برای نظام سیاسی در فقہ شیعہ»(شیعہ فقہ میں سیاسی نظام کے لیے جاسوسی کا جواز)، دورہ 6، شمارہ 20، شمارہ پیاپی 20، 1397ہجری شمسی۔
- علیاکبریان، حسنعلی، «بررسی حکم شرعی رفتار حکومت در جمعآوری اطلاعات از حوزہ حریم خصوصی اشخاص»(افراد کی رازداری کے دائرے سے معلومات اکٹھا کرنے میں حکومت کے طرزِ عمل کا شرعی حکم)، فصلنامہ فقہ، شمارہ 3، سال21، 1393ہجری شمسی۔
- قدسی، زہرا، «مبانی فقہی جاسوسی»، دوفصلنامہ مبانی فقہی حقوق اسلامی، سال ششم، شمارہ 1، بہار و گرما 1392ہجری شمسی۔
- قنواتی، جلیل، جاور، حسین، «حریم خصوصی؛ حق یا حکم»، فصلنامہ نشریہ حقوق اسلامی، دورہ 8، شمارہ 31، 1390ہجری شمسی۔
- کشتگر، امیر، جاور، حسین، «راہبردہای فقہ امامیہ در تضمین حق حریم خصوصی شہروندان»(فقہ امامیہ میں شہریوں کی رازداری کے حق کی ضمانت کے لیے بنائی گئی حکمت عملیاں)، در مجلہاندیشہہای حقوق عمومی، شمارہ 18، 1399ہجری شمسی۔
- مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہلبیت(ع)، زیرنظر: سید محمود ہاشمی شاہرودی، قم، مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، 1426ھ۔
- مرادی، علی، حیدری، محمدعلی، علیاکبری بابوکانی، احسان، طبیبی جبلی، مرتضی، «بررسی قلمرو جاسوسی در عملیات روانی از منظر فقہ اسلامی»(اسلامی فقہ کی نگاہ سے نفسیاتی عملیات میں جاسوسی کے دائرے کا تحقیقی جائزہ)، فقہ و مبانی حقوق اسلامی دورہ 11، شمارہ 3، دسمبر 2018ء۔
- مکارم شیرازی، ناصر، «بررسی حکم محارب برای فرد جاسوس»(جاسوس شخص کے لیے محارب کے حکم کا تحقیقی جائزہ)، وبسایٹ دفتر آیت اللہ مکارم؛ تاریخ مشاہدہ: 8 جولائی 2025ء۔
- مکارم شیرازی، ناصر، اخلاق در قرآن، قم، مدرسہ امام علی بن ابیطالب(ع)، پہلی اشاعت، 1377ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر، استفتائات، قم، مدرسہ امام علی بن ابیطالب(ع)، دوسری اشاعت، 1427ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الإسلامیۃ، دسویں اشاعت، 1371ہجری شمسی۔
- منتظری، حسینعلی، مبانی فقہی حکومت اسلامی، مترجم محمود صلواتی و ابوالفضل شکوری، قم، موسسہ کیہان، 1409ھ۔
- موسوی بجنوردی، «دربارہ جاسوسی و خیانت بہ کشور»، مجلہ حقوقی دادگستری، شمارہ 8، 1372ہجری شمسی۔
- میرعلی، یحیی، قرہسیدرومیانی، زینب سادات، «بررسی جاسوسی از نظر فقہ امامیہ»(امامیہ فقہ کی نظر میں جاسوسی کا تحقیقی جائزہ)، فصلنامہ فقہ، حقوق و علوم جزا، شمارہ 6، جلد 1، سرما 1396ہجری شمسی۔
- نجفی، محمدحسن، جواہر الکلام فی شرح شرایع الاسلام، دارالاحیاء لتراث العربی، بیروت، ساتویں اشاعت، 1404ھ۔