مسودہ:الاسلام ہو الحکومہ
اَلاِسلامُ هُوَ الحُکومة یعنی «اسلام ہی حکومت ہے»، فقہ سیاسی کی ایک اصطلاح ہے جسے اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی امام خمینی نے اسلام اور حکومت کے باہمی تعلق کے بارے میں اپنے نظریے کی وضاحت کے لیے استعمال کی ہے۔[1] اس نظریے کے مطابق اسلام صرف انفرادی اور عبادی احکام تک محدود نہیں، بلکہ معاشرے کی اجتماعی زندگی کو منظم کرنے کے لیے بھی احکام اور مقاصد رکھتا ہے۔ اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان احکام کو نافذ کرے اور اسلام کے اجتماعی اہداف کو عملی جامہ پہنائے۔[2] امام خمینی حکومت کو رسول خداؐ کی ولایت کا ایک پرتو اور اسلام کے بنیادی احکام میں شمار کرتے ہیں اور اسے بعض دوسرے احکام، مثلاً نماز، روزہ اور حج پر مقدم قرار دیتے ہیں۔[3] یہ نظریہ اسلام اور سیاست کے باہمی تعلق اور اسلامی تعلیمات کے اجتماعی نفاذ میں حکومت کے کردار پر زور دیتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ ان سکولر نظریات کے مقابل قرار پاتا ہے جو دینی اور سیاسی اداروں کی علیحدگی[4] یا دین و سیاست کی آپس میں جدائی کے قائل ہیں۔[5]
امام خمینی نے یہ عبارت ولایت فقیہ کے مباحث میں امام موسی کاظمؑ سے منقول ایک روایت کی تشریح کرتے ہوئے استعمال کی ہے۔ اس روایت میں فقہاء کو اسلام کے قلعوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔[6] امام خمینی اس تشبیہ کو معاشرے کے نظم و نسق میں علمائے دین کی ذمہ داری سے مربوط کرتے ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ فقیہ کو اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے اسلامی حکومت کی باگ ڈور سنبھالنی چاہیے۔ ان کے نزدیک اس ذمہ داری میں متعدد امور شامل ہیں، جن میں احکام و حدود کا نفاذ، عدل کا قیام، امن و امان کی فراہمی، مالی امور کا انتظام اور حکومتی عہدیداروں کا تقرر شامل ہیں۔[7]
امام خمینی نے اسلام اور سیاست کے تعلق کی وضاحت کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات اور عبادات کے اجتماعی اور سیاسی پہلوؤں پر بھی زور دیا ہے۔ انہوں نے برطانوی اسلام شناس حامد الگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: اسلام کی اصل ہی دینِ سیاست ہے... اسلام ایسا دین ہے جس کے عبادی احکام بھی سیاسی ہیں۔ یہ نمازِ جمعہ، جمعہ کے خطبے، عید اور عید کے خطبے، یہ جماعت، اجتماع، یہ مکہ، مشعر، منیٰ اور عرفات—یہ سب سیاسی مسائل سے متعلق ہیں۔[8]
امام خمینی کے بعد بعض اہلِ فکر نے «الاسلام ہو الحکومۃ» کی مختلف انداز میں تشریح کی ہے۔ سید محمد مہدی میرباقری نے امام خمینی کے نظریے کی بنیاد پر حکومت کو اسلام کے مختلف شعبوں کو اپنے اندر سمیٹنے والی حقیقت قرار دیا اور «الاسلام ہو الحکومۃ» کو شرعی احکام کے مقابل حکومت کی اصالت کے مفہوم میں تفسیر کیا ہے۔[9] محمد جواد فاضل لنکرانی نے اس عبارت کو امام خمینی کا اہم، عظیم ترین اور دقیق ترین فقہی و سیاسی نظریہ قرار دیا ہے۔[10] پندرہویں صدی ہجری کے اسلامی فقہ کے محقق ہیں احمد واعظی نے اس عبارت سے حکومتی حکم کو دیگر اولیہ احکام پر تقدم کا مفہوم اخذ کیا ہے۔[11] بعض محققین نے اس عبارت کو اسلام اور حکومت کے باہمی تعلق کے بارے میں امام خمینی کا حتمی نظریہ قرار دیا ہے اور اسے اسلام اور حکومت کی عینیت پر مبنی نظریہ سمجھا ہے۔ ان کے مطابق اس نظریے کو سورہ شوری کی آیت نمبر 13 اور سورہ مائدہ کی آیت نمبر 66 سے بھی اخذ کیا جا سکتا ہے۔[12] سید علی فرحی نے اپنی کتاب تحقیق فی القواعد الفقہیہ میں «الاسلام ہو الحکومۃ» کو اسلام کے بیرونی ظہور اور عملی نمود سے متعلق قرار دیا ہے۔[13]
حوالہ جات
- ↑ خمینی، کتاب البیع، ج2، ص672۔
- ↑ خمینی، کتاب البیع، ج2، ص672۔
- ↑ خمینی، صحیفہ امام، ج20، ص452.
- ↑ برقعی، سکولاریزم از نظر تا عمل، ص18، 25-29.
- ↑ مسیری، العلمانیۃ الجزئیۃ و العلمانیۃ الشاملۃ، ج2، ص471 و 472۔
- ↑ کلینی، الکافی، ج1، ص38.
- ↑ خمینی، کتاب البیع، ج2، ص672۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، ج11، ص362 و363۔
- ↑ «بررسی رویکرد امام خمینی(س) در تعریف فقہ حکومتی»، امام خمینی پورٹال۔
- ↑ «الاسلام ہو الحکومہ مہمترین نظریہ فقہی-سیاسی امام است...»، اجتہاد نیٹ ورک۔
- ↑ «زمینہ ہای ثابت و متغیر در فقہ اسلام»، المجمع العالمی للتقریب بین المذاہب الاسلامیہ۔
- ↑ فاضل لنکرانی و قاسمی، «تفسیری نو از نظریہ الاسلام ہو الحکومہ و مستندات آن»، ص7۔
- ↑ فرحی، تحقیق فی القواعد الفقہیہ، ص755۔
مآخذ
- «بررسی رویکرد امام خمینی(س) در تعریف فقہ حکومتی»(فقہ الحکومۃ کی تعریف میں امام خمینی کے نقطۂ نظر کا جائزہ)، امام خمینی پورٹال، تاریخ درج مطلب: 2 مارچ 2013ء، تاریخ مشاہدہ: 16 اگست 2026ء۔
- «الاسلام ہو الحکومہ مہمترین نظریہ فقہی-سیاسی امام است...»(الاسلام ہو الحکومہ امام خمینی کا مہم ترین فقہی سیاسی نظریہ ہے...)، اجتہاد نیٹ ورک، تاریخ درج مطلب: 25 اپریل 2026ء، تاریخ مشاہدہ: 17 اگست 2026ء۔
- «زمینہ ہای ثابت و متغیر در فقہ اسلام»(اسلامی فقہ میں ثابت اور متغیر پہلوؤں کے میدان)، المجمع العالمی للتقریب بین المذاہب الاسلامیہ، تاریخ درج مطلب: 23 دسمبر 2018ء، تاریخ مشاہدہ: 19 اگست 2026ء۔
- برقعی، محمد، سکولاریزم از نظر تا عمل، تہران، قطرہ، پہلی اشاعت، 1381ہجری شمسی۔
- خمینی، سید روحاللہ، صحیفہ امام، تہران، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی(س)، پانچویں اشاعت، 1389ہجری شمسی۔
- خمینی، سید روحاللہ، کتاب البیع، تہران، مؤسسۃ تنظیم و نشر آثار الإمام الخمینی (قدس سرہ)، چوتھی اشاعت، 1392ہجری شمسی۔
- فاضل لنکرانی، محمدجواد و محمد قاسمی، «تفسیری نو از نظریہ الاسلام ہو الحکومہ و مستندات آن»(’’اسلام ہی حکومت ہے‘‘ کے نظریے کی نئی تشریح اور اس کے دلائل و مستندات)،شش ماہہ جریدہ فقہ سیاست، شمارہ3، سال دوم، بہار و گرما 1401ہجری شمسی۔
- فرحی، سیدعلی، تحقیق فی القواعد الفقہیہ، قم، مؤسسہ النشر الاسلامی، پہلی اشاعت، 1430ھ۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
- مسیری، عبدالوہاب، العلمانیۃ الجزئیۃ و العلمانیۃ الشاملۃ، بیروت، دارالشروق، 1423ھ۔