خصائص امیر المؤمنین (کتاب)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
خصائص امیر المؤمنین (کتاب)  
کتاب خصائص امیر المومنین.jpg
مؤلف احمد بن شعیب نسائی (متوفی ۳۰۳ ق)
تاریخ تالیف تیسری صدی ہجری
مقام اشاعت قم
زبان عربی
موضوع فضائل و مناقب حضرت علی (ع)
ناشر بوستان کتاب
تاریخ اشاعت ۱۳۸۲ ش

خَصائصُ أمیرالمؤمنین علی بن أبی طالب (ع)، ابو عبد الرحمن احمد بن شعیب نسائی (متوفی ۳۰۳ ق) کی تالیف ہے جو اہل سنت کے بزرگ عالم، محدث اور کتاب السنن کے مؤلف ہیں۔ یہ کتاب امیرالمؤمنین علی(ع) کے مناقب اور فضائل کے بارے میں لکھی گئی ہے۔ نسائی نے اس کتاب میں حضرت علی کے اسلام لانے، رسول اللہ کے نزدیک ان کی منزلت و مقام، ان سے قرابت اور ان کی ہمسر اور اولاد کے بارے میں گفتگو کی ہے۔

مؤلف اور کتاب

نسائی اہل سنت کے ان موثق چھ افراد میں سے ہیں جنہوں نے کتاب السنن کے نام سے کتابیں لکھی ہیں۔

ابن حجر کہتا ہے:

نسائی نے اصحاب رسول اللہ میں سے صرف حضرت علی کے مناقب میں احادیث کو ذکر کیا ہے۔ ان میں سے کئی ایسی احادیث ہیں جو سند کے لحاظ سے قابل قبول اور صحیح ہیں۔ مصنف نے اس کتاب میں ان احادیث کی جمع آوری کی ہے۔[1]

کتاب نسائی بھی اسی حقیقت کو بیان کرتی ہے جس کا اعتراف کرتے ہوئے اہل سنت کے بزرگ محدثین: ابن حنبل، اسماعیل قاضی اور ابو علی نیشاپوری کہتے ہیں:

اصحاب رسول خدا میں سے کسی صحابی کے حق میں اس قدر فضائل و مناقب کی خوب اسناد کے ساتھ احادیث نقل نہیں ہوئی ہیں جتنی احادیث حضرت علی کے بارے میں نقل ہوئی ہیں۔[2]

احادیث و رجال کے بڑے علما احادیث کی شناخت میں نسائی کی مہارت کے معترف ہیں اور دارقطنی کہتا ہے: میں کسی کو نسائی پر فوقیت نہیں دیتا ہوں۔[3] [4]

ذہبی لکھتا ہے:

نسائی شناخت احادیث و رجال میں مسلم بن حجاج نیشابوری، ابو داؤد اور ترمذی سے زیادہ مہارت رکھتا ہے۔ لیکن یہ تعریفات اس کی عصمت کے معنی میں نہیں ہیں اور اسکی نقل کردہ احادیث پر تنقید نہیں کی جا سکتی ہے۔[5]

یہ کتاب اہل سنت کے بزرگ عالم دین کی تالیف ہونے کی وجہ سے ایک مخصوص مقام و منزلت کی حامل ہے۔ اس کی ایک اور کتاب مسند علی بن ابی طالب بھی ہے۔[6]

سبب تألیف

نسائی عمر کے آخری حصے میں دمشق گیا۔ اس سفر میں اس نے وہاں کے لوگوں میں انحراف کا مشاہدہ کیا تو اس نے اس کتاب کے ذریعے وہاں کے لوگوں کی ہدایت کا ارادہ کیا۔ جب اس سے معاویہ بن ابو سفیان کی فضیلت کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے جواب میں کہا: میں رسول اللہ کی اس حدیث: خدا اس کے پیٹ کو کبھی سیر نہ کرے، کے علاوہ کچھ نہیں جانتا۔ لوگوں نے یہ سن کر جامع مسجد میں بہت زیادہ زد و کوب کیا اور اسے مکہ جانے کو کہا۔ وہ اس مار پیٹ کی وجہ سے مریض ہو گیا اور وہ اسے بیماری کی حالت میں مکہ لے گئے جہاں اسی مار پیٹ کی وجہ سے وہ مکہ میں فوت ہو گیا۔[7]

مضامین کتاب

نسائی نے اس کتاب میں امام علی کے خصائص میں سے پہلے مسلم کے عنوان سے مجموعی طور پر ۱۸۸ روایات ذکر کی ہیں۔ پھر اسکے بعد دسیوں احادیث دیگر خصوصیات جیسے حدیث ثقلین، طیر، رایت، منزلت، کساء، غدیر، سد ابواب ذکر کی ہیں۔[8]

دیگر عناوین احادیث:

  • علی(ع) پہلے مسلمان اور نماز گزار۔
  • عبادت علی (ع)
  • خدا کے نزدیک منزلت علی (ع)۔
  • علی(ع) مؤمنوں کے ولی (حدیث غدیر)۔
  • علی(ع) خدا کی محبوب ترین مخلوق (حدیث طیر)۔
  • علی بمنزلہ ہارون (حدیث منزلت)۔
  • علی(ع) محبوب خدا اور رسول خدا(ص) (حدیث رایت
  • علی(ع) اہل بیت پیامبر خدا(ص) (حدیث کساء)۔
  • جبرئیل اور میکائیل کی علی(ع) سے ہمراہی۔
  • خدا ہرگز علی(ع) کو خوار نہیں کرے گا۔
  • علی کی دس خصوصیات۔
  • علی(ع) بخشے ہوئے ہیں۔
  • خدا نے علی (ع) کو ایمان کے ذریعے آزمایا۔
  • خدا نے علی (ع) کے دل کو ہدایت اور ان کی زبان کو حق پر بنایا۔
  • علی(ع) کے حق میں پیغمبر کی دعا۔
  • حدیث سد الابواب
  • خداوند نے علی کو شامل اور دوسروں کو خارج کر دیا۔
  • پیغمبر کے نزدیک علی (ع) کی منزلت۔
  • علی (ع) اہل بیت پیامبر خدا (ص)۔
  • علی (ع) محبوب خدا و رسول (ص)۔
  • علی (ع) برادر و وارث رسول خدا(ص)۔
  • علی (ع) پیامبر (ص) سے اور پیامبر(ص) علی(ع) سے ہیں۔
  • علی (ع) جان پیامبر (ص)
  • پیغمبر کے برگزیدہ اور امین علی (ع)۔
  • وظایف پیامبر (ص) ادا کرنے والے علی (ع)۔
  • علی (ع) پیغام رسان سوره برائت۔
  • علی (ع) ولی، دوست و پیشوائے مؤمنین۔
  • علی (ع) کتاب خدا (حدیث ثقلین) کے ہم پلہ۔
  • پیغمبر کے بعد ہر مؤمن کے پیشوا۔
  • علی (ع) کو نا سزا کہنے والا پیامبر (ص) کو ناسزا کہنے والا۔
  • علی (ع) سے دوستی کی ترغیب اور ان کی دشمنی سے حذر۔
  • حدیث غدیر۔
  • دوستان علی کیلئے پیغمبر (ص) کی دعا اور ان کے دشمنوں پر نفرین۔
  • مؤمن و منافق کے درمیان علی کی دوستی خط فاصل۔
  • علی (ع) عیسی(ع) کی مَثَل۔
  • منزلت علی (ع) نزد پیامبر (ص)۔
  • علی (ع) کا قرب نبی (ص) کا قرب۔
  • علی (ع) وارث رسول خدا(ص)
  • علی(ع) سے رسول خدا کی خصوصی محبت اور اعتراض عائشہ۔
  • علی و فاطمہ سے رسول کی خصوصی محبت اور اعتراف عائشہ۔
  • رسول خدا سے شرف یابی کے موقع پر منزلت علی۔
  • علی(ع) اور خلوت پیامبر خدا(ص)
  • پیامبر (ص) سے استفسار میں منزلت علی۔
  • علی (ع) دوش پیامبر (ص) پر۔
  • علی (ع) ہمسر فاطمہ(س) خواتین بہشت کی سردار۔
  • علی (ع) محبوب ترین اہل بیت پیامبر (ص)۔
  • علی (ع) برادر و بہترین اہل پیامبر (ص)۔
  • علی (ع) اور ان کی تین خصوصیات۔
  • فاطمہ(س) بنت رسول خدا (ص) سرور بانوان بہشت۔
  • فاطمہ کی جلد شہادت کے متعلق رسول خدا کی پیش گوئی۔
  • حسن (ع) و حسین (ع) سرور جوانان بہشت۔
  • فاطمہ(س) امت اسلام کی خواتین کی سردار۔
  • فاطمہ(س) رسول اللہ کی جگر گوشہ۔
  • فاطمہ(س) کی پریشانی رسول خدا کی پریشانی۔
  • اذیت فاطمہ (س) اذیت رسول خدا۔
  • خشم فاطمہ(س) خشم رسول خدا۔
  • حسن و حسین(ع) پیامبر (ص) کے دو خوشبودار پھول۔
  • حسن و حسین (ع) فرزندان پیامبر (ص)۔
  • پیامبر (ص) کی حسن و حسین(ع) سے خصوصی محبت۔
  • حسن و حسین (ع) دنیا میں رسول خدا کے خوشبودار پھول۔
  • پیغمبر کے نزدیک علی (ع) عزیز ترین و فاطمہ محبوب ترین افراد۔
  • نبی نے جو کچھ اپنے لئے چاہا وہی علی کیلئے چاہا۔
  • علی کے حق میں نبی کی دعائیں۔
  • علی کے نزلہ و زکام کی دوری کیلئے نبی اکرم کی دعا۔
  • علی (ع) کی رسول سے سرگوشی اور علی کے طفیل امت اسلامی سے تخفیف۔
  • قاتل علی (ع) امت کا بدبخت ترین شخص۔
  • علی (ع) مخلوق میں سے رسول کے نزدیک ترین فرد۔
  • رسول کی وفات سے پہلے علی (ع) رسول سے آخری ملاقات کرنے والے شخص۔
  • تأویل قرآن کی بنیاد پر علی کی جنگیں۔
  • علی (ع) کی نصرت کے بارے میں رسول کی نصیحت۔
  • اصحاب علی (ع) حق کے نزدیک تر اور سزاوار تر ہیں۔
  • مارقین (خوارج) سے جنگ علی خصوصیات میں سے ۔
  • خوارج سے جنگ کی جزا۔
  • علی نے کبھی جھوٹ نہیں کہا۔
  • حمایت علی میں ابن عباس کا خوارج سے مناظرہ۔
  • پہلے مطالب کی تائید میں مزید احادیث۔
  • علی کی معاویہ سے حکمیت کے بارے میں رسول کی پیش گوئی۔
  • علی (ع) پیغمبر (ص) سے ہیں اور پیغمبر (ص) علی (ع) سے ہیں.[9]

قلمی نسخے، ترجمے و طباعت

  • کتاب خصائص نسائی کے تقریبا ۱۲ قلمی نسخے ایران کے مختلف کتب خانوں میں موجود ہیں۔ کئی مرتبہ ہند، مصر، نجف، بیروت اور ایران سے طبع ہوئی ہے۔
  • ۱۳۱۱ ق میں بنام «حقائق لدنی در تشریح دقائق خصائص علوی» کے نام سے سید ابوالقاسم رضوی لاہوری نے فارسی زبان میں ترجمہ کیا اور لاہور سے چھپی۔
  • فتح الله نجارزادگان نے اس کتاب کو «ویژگی‌ ہای امیرمؤمنان علی بن ابی طالب علیہ السلام» کے عنوان سے فارسی میں ترجمہ کیا کہ جو ۱۳۸۲ش میں قم سے چھپی۔[10]
  • ۱۸۹۲ عیسوی میں یہ ہندی زبان میں ترجمہ ہوئی پھر زبان اردو میں ترجمہ ہو کر پاکستان میں چھپی۔ نیز چند اور زبانوں میں بھی کتاب ترجمہ ہوئی ہے۔
  • محمد کاظم محمودی نے متعدد قلمی نسخوں کے ساتھ مطابقت کی اور قم میں چھپی۔ محقق نے اس کتاب کی روایات کو دیگر اہل سنت و شیعہ کی کتابوں سے اسخراج کیا۔ لہذا اس سے اس کتاب کی ارزش میں اضافہ ہوا۔[11]

حوالہ جات

  1. ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۳ق، ج۴، ص۵۶۵، رقم ۵۶۹۲.
  2. ابن حجر، فتح الباری، ج۷، کتاب فضائل الصحابہ، ص۷۱.
  3. مزی، تہذیب الکمال، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۳۳۴
  4. ذہبی، تاریخ الاسلام، ۱۴۱۳ق، وفیات، ص۱۰۸.
  5. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ۱۴۰۶ق، ج۱۴، ص۱۳۳.
  6. نجارزادگان، ویژگی‌ ہای امیرمؤمنان، مقدمہ، ۱۳۸۲ش، ص۱۷.
  7. مزی، تہذیب الکمال، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۳۲۸.
  8. نجارزادگان، ویژگی‌ ہای امیرمؤمنان، مقدمہ، ۱۳۸۲ش، ص۱۷.
  9. نجارزادگان، ویژگی‌ ہای امیرمؤمنان، فهرست کتاب، ۱۳۸۲ش، ص۵-۹.
  10. نجارزادگان، ویژگی‌ ہای امیرمؤمنان، ۱۳۸۲ش، شناسہ کتاب.
  11. نجارزادگان، ویژگی‌ ہای امیرمؤمنان، مقدمہ، ۱۳۸۲ش، ص۱۸-۱۹.


منابع

  • منبع اصلی مدخل: مقدمه کتاب ویژگی‌ ہای امیرمؤمنان علی بن ابی طالب؛ نوشتہ فتح الله نجارزادگان.
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الإصابہ فی تمییز الصحابہ، تحقیق: عمحمد علی بجاوی، بیروت، ۱۴۱۳ق.
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، فتح الباری، بیروت، دار المعرفہ.
  • ذہبی، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الاعلام، تحقیق: عمر عبدالسلام تدمری، بیروت، ۱۴۱۳ق.
  • ذہبی، محمد بن احمد، سیر اعلام النبلاء، تحقیق: شعیب الارنؤط، بیروت، ۱۴۰۶ق.
  • مزی، جمال الدین، تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، تحقیق: بشّار عوّاد معروف، ۱۴۱۳ق.
  • نجارزادگان، فتح اللہ، ویژگی‌ ہای امیرمؤمنان علی بن ابی طالب؛ ترجمہ و تحقیق خصائص أمیرالمؤمنین علی بن ابی طالب(احمد بن شعیب نسائی)، بوستان کتاب، ۱۳۸۲ش.