الغارات (کتاب)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
الغارات
الغارات 1.jpg
مؤلف: ابراہیم بن محمد ثقفی
زبان: عربی
موضوع: تاریخ
ناشر: انتشارات انجمن آثار ملی

الغارات عربی زبان میں ابواسحاق ابراہیم بن محمد بن سعید بن ہلال ثقفی کوفی (متوفا ۲۸۳ق) کا علمی اثر ہے۔ الغارات شیعہ تاریخ کے قدیمی مصادر میں سے مانی جاتی ہے۔ یہ کتاب امیرالمؤمنین علی(ع) کی زندگی کے منتخب مطالب، حیات عملی، خطبات، خطوط ،نصائح اور خلافت کے زمانے اور بعد میں ہونے والے واقعات جیسے جنگوں اور حالات کی دگرگونی کے بیانات پر مشتمل ہے۔ امیر المؤمنین کے زمانے میں معاویہ کی طرف سے ہونے والی غارتوں کے ذکر کی وجہ سے الغارات کے نام سے مشہور ہوئی۔ مؤلف نے اس اثر میں شیعہ و سنی راویوں سے استفادہ کیا لہذا یہی وجہ ہے کہ یہ ایک مستغنی مصدر و مآخذ شمار ہوتی ہے۔ الغارات ہمیشہ سے شیعہ علما کی توجہ کی حامل رہی اور وہ اس کے بیانات سے تالیفات کو مزین کرتے رہے ہیں۔ علامہ مجلسی اور ابن ابی الحدید کا اس کتاب کے زندہ رکھنے میں بنیادی کردار رہا۔ یہ کتاب کئی مرتبہ فارسی زبان میں ترجمہ ہوچکی ہے۔

مؤلف

ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن سعید بن ہلال ثقفی اصفہانی معروف بنام ابن ہلال ثقفی ایک شیعہ امامی محدّث، فقیہ، مورخ اور مؤلف تھے جنہوں نے تیسری صدی ہجری قمری میں زندگی گزاری۔ وہ تبلیغ تشیع کیلئے اصفہان گئے اور پھر وہیں رہ گئے۔ ثقفی کی روایات کے عمدہ راوی احمد بن محمد بن خالد برقی اور صفّار قمی ہیں۔ اکثر شیعہ علمائے رجال نے ان کی تعریف کی ہے اور انہیں مورد اعتماد اور موثق راویوں سے شمار کرتے ہیں۔ ان کی معروف ترین کتاب الغارات ہے کہ جس میں فرمان حضرت علی کے ماتحت علاقوں میں لشکر معاویہ کی زیادتیاں اور ظلم بیان ہوئے ہیں۔

نام کتاب

بعض مصادر میں اس کتاب کا نام الاستنفار و الغارات آیا ہے اور بعض میں الاسفار و الغارات ثبت ہوا ہے لیکن علما اور علمی محافل میں الغارات کے نام سے معروف ہے۔[1] ایسا ظاہر ہوتا ہے اس کتاب کا نام الغارات امام علی (ع) کے اس قول:شُنَّت عَلیکُمُ الغَاراتُ سے لیا گیا ہے۔.[2]

سبب تألیف

اس کتاب کی تالیف کا ہدف جنگ نہروان کے بعد حضرت علی (ع) کے تحت فرمان علاقوں میں معاویہ اور اس کے لشکر کی طرف سے ہونے والی غارتوں کو ذکر کرنا ہے۔اس زمانے میں اس قسم کی تالیفات مؤرخین اور سیرت نگاروں کے درمیان رائج تھیں یہاں تک کہ کلبی، أبو مخنف، مدائنی اور نصر بن مزاحم جیسے علما ان مشائخ میں سے جنہوں نے اس موضوع پر کتابیں لکھیں۔[3]

موضوع کتاب

چونکہ مصنف کا ہدف نہروان کے بعد امام علی کے تحت فرمان علاقوں میں معاویہ کی غارتوں کو ذکر کرنا تھا اسی لئے اس کتاب کو الغارات کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

جبکہ مؤلف کی کثرت معلومات اور آگاہی اس بات کا موجب بنی ہے کہ کتاب میں اصلی عنوان کے ساتھ ساتھ دیگر ارزشمند موضوعات بھی اس میں اضافہ ہوئے ہیں۔ چنانچہ مؤلف نے امیرالمؤمنین(ع) کی زندگی کا ایک مختصر خاکہ، انکی انتظامی امور چلانے کی روش، مالی، سیاسی اور اخلاقی احوال نیز انکے خطبات اور قیس بن سعد، محمد بن ابی بکر اور مالک اشتر جیسے مصر پر حاکموں کی روداد بھی ذکر کی ہے۔[4]

انجمن آثار ملی کے چاپ شدہ نسخے کے آخر میں التعلیقات و ہی سبعون تعلیقۃ موجود ہیں جن میں مختلف مطالب نقل ہوئے ہیں ۔ یہ تعلیقے ایک مقدمہ کے عنوان سے تحریر ہیں جنہیں جلال الدین حسینی ارموی نے لکھا۔[5]

اہمیت کتاب

یہ کتاب قدیم الایام سے ہی شیعہ اور سنی کے درمیان مورد استفادہ رہی ۔ احمد بن خالد برقی نے المحاسن، محمد بن حسن صفار نے بصائر الدرجات، کلینی نے کافی، صدوق نے من لا یحضر الفقیہ، مفید نے امالی، طوسی نے التہذیب، سید مرتضی نے الشافی، علی بن ابراہیم قمی نے تفسیر قمی، ابن قولویہ نے کامل الزیارات، ابن شہرآشوب نے المناقب، طبرسی نے اعلام الوری، سید علی بن طاووس نے الیقین اور اقبال الاعمال، سید عبدالکریم بن طاووس نے فرحۃ الغری، عمادالدین طبری نے بشارۃ المصطفی، قطب راوندی نے الخرائج و الجرائح، حر عاملی نے اثبات الہداۃ و وسائل الشیعہ، محدث نوری نے مستدرک الوسائل و محدث قمی اور سفینۃ البحار میں کثرت سے اس کتاب کے نوشتہ جات سے استفادہ کیا ہے۔ [6] علامہ مجلسی نے بھی اس کتاب کے مطالب بحارالانوار میں ذکر کئے ہیں۔ ابن ابی الحدید نے اسکی بہت سی روایات کو اپنی شرح نہج البلاغہ ذکر کیا ہے۔

یہ کتاب تالیف، انداز تحریر، عناوین اور اسلوب کے لحاظ سے بہت اچھے طریقے سے مرتب ہوئی ہے۔ مطالب کے لحاظ نہایت متقن ہے۔ اس کتاب میں شیعہ آئمہ اور شیعہ راویوں سے بہت کم استفادہ کیا گیا ہے بلکہ اہل سنت کی صحاح ستہ اور مسانید کے مشہور راویوں سے خبریں منقول ہیں۔[7]

روایت کتاب

ابواسحاق کی کتب کی فہرست کو عباس بن السری، محمدبن زید الرطاب اور احمدبن علویہ اصفہانی معروف بنام ابن اسود کاتب نے روایت کیا ہے۔ شیخ صدوق نے ابواسحاق کی کتب کی فہرست کو اپنے والد سے اور انہوں نے عبداللہ بن حسن مودب سے نیز اس نے احمدبن علویہ اصفہانی سے روایت کیا ہے۔ اگرچہ بزرگوں کی ایک جماعت جیسے ابن ابی الحدید اور حسن بن سلیمان حلی شاگرد شہید اول بزرگان اس سے کسی واسطے کے بغیر خبر نقل کرتے ہیں لیکن ابو اسحاق کی الغارات سمیت دیگر کتابوں کی روایت کی کیفیت وغیرہ کے بارے میں کوئی خبر نہیں ہے۔ [8] محدث ارموی کے مطابق، زمانہ قدیم سے ہی اس کتاب کے نسخے کبریت احمر سے زیادہ عزیز اور سیمرغ و کیمیا سے زیادہ نایاب رہے ہیں۔[9]

کتاب کو زندہ رکھنا

کتاب الغارات کی تصحیح کرنے والا مقدمہ میں لکھتا ہے:

«اگر علمائے اعلام میں سے دو بزرگوں کی زحمتیں نہ ہوتی تو مجھ جیسا تہی دست اور خالی دامن شخص کیلئے یہ ممکن نہیں تھا کہ ایسے قدیمی قلمی نسخے کی تصحیح کے لئے قدم بڑھاتا پس ان بزرگوں کی زحمات کو دیکھتے ہوئے میں نے اس کی تصحیح،حواشی اور تعلیقات جیسی ذمہ داری کو اپنے ذمہ لیا۔
  1. پہلی شخصیت نہج البلاغہ کے شارح عبد الحمید بن ابی الحدید معتزلی بغدادی کی ہے جس نے اس کتاب کے اکثر مطالب کو شرح نہج البلاغہ میں ذکر کیا اور اس کے بعض مقامات پر مشکل الفاظ کی جگہ آسان الفاظ کا انتخاب کیا اور چند مقامات مطالب کی توضیح اور شرح بیان کی ہے۔
  2. دوسری شخصیت محمّد باقر مجلسی کی ہے کہ جنہوں نے الغارات کے تمام مطالب کو بحار کی جلدوں میں نقل کیا اور عبارتوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی البتہ اگر بعض مقامات پر تلخیص کی ہے تو اس کی وضاحت کی اور جگہوں کے اقتضا کو دیکھتے ہوئے شرح اور توضیح بیان کی ہے۔

مزید پھر دو دیگر شیعہ علما کا نام لیا:

کیونکہ ان بزرگوں نے عقائد، أحکام اور اخلاق سے متعلق غارات کی کچھ احادیث کو اپنی تالیفات میں جگہ دی ہے۔[10]

نسخے اور طباعت

اس کتاب اس قدر اہمیت اور شہرت کے باوجود اس کے زیادہ قلمی نسخے موجود نہیں ہیں۔ جیسا کہ اس کتاب کے محقق محدث ارموی نے کہا کہ اس کتاب قدیم الایام سے ہی نسخے کمیابی کا شکار رہے ہیں۔ قدیمی‌ ترین جانا پہچانا قلمی نسخہ علامہ مجلسی کے اختیار میں تھا کہ جو صفویہ دور کے ایک نسخے سے استنساخ کیا گیا۔

چاپ شدہ الغارات دو نسخوں پر طبع ہوئی ہے:

  • ۱۳۹۵ق میں انتشارات انجمن آثار ملی کی طرف سے دو جلدوں پر مشتمل الغارات چھپی جو حواشی اور تفصیلی تعلیقات پر مشتمل تھی ۔اس کی تصحیح و تحقیق سید جلال الدین محدث ارموی نے ایک 100صفحات پر مشتمل مقدمہ‌ کے ساتھ کی ۔
  • چاپ دار الکتاب الاسلامی نے تاریخ ۱۳۷۰شمسی میں عبدالزہرا الحسینی الخطیب کی تحقیق کے ساتھ طبع کیا.[11]

ترجمے

ہر چند الغارات کے انگلش زبان میں ترجمے کا علم نہیں یہ کتاب فارسی میں ترجمہ ہوئی ہے:

حوالہ جات

  1. تہرانی، الذریعہ، ج ۲، ص۳۵. عبدالکریم پاک‌نیا، آشنایی با منابع معتبر شیعہ (الغارات)، ۱۳۸۸ش.
  2. نہج البلاغۃ، خطبۃ ۲۷.
  3. ثقفی، الغارات، ۱۴۱۰ق، ص۴.
  4. ثقفی، الغارات، ۱۴۱۰ق، ص۳ و ۴.
  5. ثقفی کوفی،‌ الغارات، مقدمہ مترجم، ص۸۵.
  6. عبدالکریم پاک‌نیا، آشنایی با منابع معتبر شیعہ (الغارات)، ۱۳۸۸ش.
  7. کتابخانہ دیجیتال نور.
  8. علی بیات، معرفی الغارات.
  9. ثقفی، ترجمہ الغارات، ۱۳۷۴ش، ص۱۱.
  10. ثقفی، الغارات، ۱۴۱۰ق، ص۱۲ و ۱۳.
  11. عبدالکریم پاک‌نیا، آشنایی با منابع معتبر شیعہ (الغارات) ۱۳۸۸ش.
  12. سیدعلی میرشریفی، الغارات و ترجمہ جدید آن، ۱۳۷۴ش.


مآخذ

  • تہرانی، آقا بزرگ، الذریعہ، بیروت، دار الاضواء، بی‌تا.
  • ثقفی، ابراہیم بن محمد، الغارات، قم، دار الکتاب، ۱۴۱۰ق.
  • ثقفی، ابراہیم بن محمد، الغارات، ترجمہ عبدالمحمد آیتی، تہران، وزارت ارشاد، ۱۳۷۴ش.
  • میرشریفی، سید علی، الغارات و ترجمہ جدید آن، وقف میراث جاوید ۱۳۷۴ش، شمارہ ۹.
  • پاک‌نیا، عبدالکریم، «آشنایی با منابع معتبر شیعہ (الغارات)»، در مجلہ مبلغان، ۱۳۸۸ش، شمارہ ۱۱۳.
  • عالمی، خدیجہ، مروری بر کتاب «الغارات»، کتاب ماہ تاریخ و جغرافیا تیر ۱۳۷۹ شمارہ ۳۳.
  • گزیدہ‌ای از «الغارات»، رشد آموزش معارف اسلامی سال ششم پاییز ۱۳۷۲ شمارہ ۲۲.
  • کتاب شناخت سیرہ معصومان، مرکز تحقیقات رایانہ‌ای علوم اسلامی نور.