مسودہ:عبد العزیز بن مہتدی قمی
| وکیل امام علی رضاؑ اور امام محمد تقیؑ | |
|---|---|
| ذاتی کوائف | |
| لقب: | قُمِّی و اَشعَری |
| نسب: | اشعری خاندان |
| مذہب: | شیعہ |
| صحابی: | امام موسی کاظمؑ، امام علی رضاؑ اور امام محمد تقیؑ |
| حدیثی معلومات | |
| نقل حدیث: | امام موسی کاظمؑ اور امام رضاؑ |
| مشایخ: | عبد اللہ بن جُندَب، یونس بن عبد الرحمن، عبد اللہ بن ابی یَعفُور |
| ان کے راوی: | فَضْل بن شَاذان، احمد بن محمد بن عیسی، ابراہیم بن ہاشم اور حسن بن محبوب |
| وثاقت: | ثقہ |
| موضوعات: | عقیدتی، فقہی اور طبّی |
عبد العزیز بن مہتدی قمی (سنہ 220ھ سے پہلے بقید حیات تھے)[1] جن کا لقب اشعری تھا،[2] امام موسی کاظمؑ،[3] امام علی رضاؑ[4] اور امام محمد تقیؑ[5] کے اصحاب میں سے تھے۔ نیز وہ امام رضاؑ[6] اور امام محمد تقیؑ کے وکیل[7] بھی تھے۔ شیعہ علمائے رجال انہیں ثقہ (قابل اعتماد) قرار دیتے ہیں۔[8]
روایات کے مطابق، امام محمد تقیؑ ان سے راضی تھے[9] اور ان کے لیے دعا کرتے تھے۔[10] نیز انہوں نے امام رضاؑ کے حکم سے یونس بن عبد الرحمن سے دینی احکام سیکھے۔[11] عبد العزیز کا تعلق اشعری خاندان سے تھا[12] اور قم کے جید علماء میں شمار ہوتے تھے۔[13]
رجالی مصادر میں ان کی ایک کتاب کا تذکرہ ملتا ہے جس سے احمد بن محمد برقی نے روایت نقل کی ہے۔[14] عقیدتی،[15] فقہی[16] اور طبی[17] موضوعات پر روایات کے سلسلہ سند میں ان کا نام ملتا ہے۔
انہوں نے براہ راست امام موسی کاظمؑ[18] اور امام رضاؑ[19] سے روایتیں نقل کی ہیں۔ نیز انہوں نے عبد اللہ بن جُندَب،[20] یونس بن عبد الرحمن،[21] عبد اللہ بن ابی یَعفُور،[22] اور سَعْد بن سَعْد[23] جیسے راویوں سے بھی روایات نقل کی ہیں۔[24] اسی طرح فَضْل بن شاذان،[25] احمد بن محمد بن عیسی اشعری،[26] اور ابراہیم بن ہاشم،[27] علی بن مَہْزِیار[28] محمد بن عیسی یَقْطِینی،[29] حسن بن محبوب[30] بَکر بن زیاد، نوح بن شُعَیْب نیشابوری جیسے راویوں نے ان سے روایات نقل کی ہیں۔
حوالہ جات
- ↑ سبحانی، موسوعۃ طبقات الفقہاء، 1418ھ، ج3، ص318۔
- ↑ نجاشی، رجال النجاشی، 1365شمسی، ص245۔
- ↑ برقی، رجال البرقی، 1342شمسی، ص51۔
- ↑ نجاشی، رجال النجاشی، 1365شمسی، ص447؛ کشى، رجال الکشی، 1409ھ، ص483۔
- ↑ سبحانی، موسوعۃ طبقات الفقہاء، 1418ھ، ج3، ص318۔
- ↑ کشى، رجال الکشی، 1409ھ، ص506۔
- ↑ مامقانی، تنقیح المقال، نجف، ج2، ص156۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: نجاشی، رجال النجاشی، 1365شمسی، ص245؛ ابنداود حلّی، الرجال، 1342شمسی، ص225؛ علامہ حلى، خلاصۃ الأقوال، 1411ھ، ص116؛ مامقانی، تنقیح المقال، نجف، ج2، ص156۔
- ↑ سبحانی، موسوعۃ طبقات الفقہاء، 1418ھ، ج3، ص318۔
- ↑ کشى، رجال الکشی، 1409ھ، ص506۔
- ↑ کشى، رجال الکشی، 1409ھ، ص483۔
- ↑ برقی، رجال البرقی، 1342شمسی، ص51۔
- ↑ کشى، رجال الکشی، 1409ھ، ص483 و 506۔
- ↑ نجاشی، رجال النجاشی، 1365شمسی، ص245؛ نجاشی، رجال النجاشی، 1365شمسی، ص245۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: صفار، بصائر الدرجات، 1404ھ، ج1، ص119؛ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص91 و 223۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: کلینی، الکافی، 1407ھ، ج3، ص512 و ج5، ص563 و ج7، ص64؛ شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج3، ص472 و ج4، ص220۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: برقى، المحاسن، 1371ھ، ج2، ص525؛ شیخ صدوق، الخصال، 1362شمسی، ج1، ص249۔
- ↑ خویی، معجم رجال الحدیث، 1372شمسی، ج11، ص41۔
- ↑ نجاشی، رجال النجاشی، 1365شمسی، ص245۔
- ↑ صفار، بصائر الدرجات، 1404ھ، ج1، ص288۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص564۔
- ↑ شیخ صدوق، الأمالی، 1376شمسی، ص499۔
- ↑ شیخ طوسى، تہذیب الأحکام، 1407ھ، ج9، ص235۔
- ↑ خویی، معجم رجال الحدیث، 1372شمسی، ج11، ص41۔
- ↑ کشى، رجال الکشی، 1409ھ، ص483؛ شیخ طوسى، تہذیب الأحکام، 1407ھ، المشیخہ، ص82۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص564؛ شیخ طوسی، رجال الطوسی، 1373شمسی، ص435۔
- ↑ صفار، بصائر الدرجات، 1404ھ، ج1، ص173۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج3، ص512۔
- ↑ شیخ طوسى، تہذیب الأحکام، 1407ھ، ج9، ص118۔
- ↑ شیخ صدوق، الأمالی، 1376شمسی، ص499۔
مآخذ
- ابنداود حلّی، حسن بن علی بن داود، الرجال، تہران، تہران یونیورسٹی، پہلی اشاعت، 1342ہجری شمسی۔
- برقى، احمد بن محمد، المحاسن، تحقیق جلال الدین محدث، قم، دار الکتب الإسلامیۃ، دوسری اشاعت،1371ھ۔
- برقی، احمد بن محمد، رجال البرقی، تہران، انتشارات تہران یونیورسٹی، 1342ہجری شمسی۔
- خویی، سید ابوالقاسم، معجم رجال الحدیث و تفصیل طبقات الرواۃ، بیجا، بینا، پانچویں اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
- سبحانی، جعفر، موسوعۃ طبقات الفقہاء، قم، مؤسسہ امام صادق(ع)، پہلی اشاعت، 1418ھ۔
- شیخ صدوق، محمد بن على، الأمالی، کتابچى، تہران، چھٹی اشاعت، 1376ہجری شمسی۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ، تحقیق علی اکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، دوسری اشاعت، 1413ھ۔
- شیخ طوسى، محمد بن حسن، تہذیب الأحکام، تحقیق خرسان، حسن الموسوى، تہران، دار الکتب الإسلامیہ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، تصحح جواد قیومی اصفہانی، قم، موسسۃ النشر الاسلامی، 1373ہجری شمسی۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، فہرست کتب الشیعۃ و أصولہم و أسماءالمصنّفین و أصحاب الأصول، تحقیق عبدالعزیز طباطبائی، قم، مکتبۃ المحقق الطباطبائی پہلی اشاعت، 1420ھ۔
- صفار، محمد بن حسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمّد(ع)، تحقیق محسن بن عباسعلی کوچہ باغی، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ المرعشی النجفی، دوسری اشاعت، 1404ھ۔
- علامہ حلى، حسن بن یوسف، خلاصۃ الأقوال فی معرفۃ أحوال الرجال، تحقیق محمدصادق بحرالعلوم، نجف، دارالذخائر، دوسری اشاعت، 1411ھ۔
- کشى، محمد بن عمر، رجال الکشی- إختیار معرفۃ الرجال، تحقیق محمد بن حسن طوسى و حسن مصطفوى، مشہد، مؤسسہ نشر دانشگاہ مشہد، پہلی اشاعت، 1409ھ۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تحقیق علی اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
- مامقانی، عبداللہ، تنقیح المقال فی علم الرجال، نجف، بینا، بیتا۔
- نجاشی، احمدبن علی، رجال النجاشی، قم، موسسۃ النشر الاسلامی، چھٹی اشاعت، 1365ہجری شمسی۔