مسودہ:سورہ بقرہ آیت نمبر 13
| آیت کی خصوصیات | |
|---|---|
| سورہ | بقرہ |
| آیت نمبر | 13 |
| پارہ | 1 |
| شان نزول | منافقین |
| محل نزول | مدینہ |
| موضوع | اعتقادی |
| مربوط آیات | آیات 8 تا 20 سورہ بقرہ و سورہ منافقون |
سورہ بقرہ آیت نمبر 13، ان منافقین کے بارے میں ہے جو رسول اللہؐ اور دین اسلام پر ایمان لانے کو حماقت اور سفاہت (کم عقلی) سمجھتے تھے اور اپنے آپ کو ان سے برتر سمجھتے تھے؛ لیکن قرآن کریم خود انہیں حقیقی سفیہ (کم عقل) قرار دیتا ہے جو اپنی سفاہت سے بھی بے خبر ہیں۔[1] یہ آیت سور بقرہ کی آیت نمبر 8 سے 20 تک کے درمیان میں واقع ہے، جن میں منافقین کے اوصاف اور کردار بیان کئے گئے ہیں۔[2]
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ ۗ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ ﴿١٣﴾
"اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم بھی اسی طرح ایمان لاؤ جس طرح اور لوگ ایمان لائے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں؟ خبردار۔ یہی لوگ خود بیوقوف ہیں لیکن جانتے نہیں ہیں۔"
سورہ بقرہ آیت نمبر 13
مفسرین نے تفاسیر میں منافقین کے سفیہ اور احمق ہونے کے بارے میں چند اہم نکات بیان کئے ہیں:
- سفیہ وہ شخص ہے جو ایسی چیز کو ضائع کر دے جس کی حفاظت ضروری ہو۔ منافق بھی ظاہری طور پر ایمان کا دعویٰ کرتا ہے لیکن باطن میں کفر اور نافرمانی کو اختیار کرتا ہے اس لئے وہ اپنی حقیقی سعادت کو برباد کر دیتا ہے۔[3]
- منافق اپنے نفاق اور فریب کو عقل اور تدبیر نشانی سمجھتا ہے۔[4]
- منافقین جہل مرکب میں مبتلا ہوتے ہیں؛ یعنی وہ نہ صرف کم عقلی کا شکار ہیں بلکہ اپنی نادانی سے بھی آگاہ نہیں ہوتے۔[5]
- منافقین کی ایک نمایاں صفت اقدار کو الٹ دینا ہے؛ یعنی وہ نیکی کو برائی اور برائی کو نیکی سمجھتے ہیں، معروف کو منکر اور منکر کو معروف قرار دیتے ہیں۔[6]
سید محمد حسین فضل اللہ اپنی تفسیر من وحی القرآن میں لکھتے ہیں کہ یہ آیت منافقین کے ایک طریقۂ کار کی طرف اشارہ کرتی ہے اور وہ مؤمنین کی تحقیر اوران کا مذاق اڑانا ہے۔[7] ان کے مطابق قرآنی تعلیمات کی روشنی میں حق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنا بھی سفاہت اور کم عقلی کی ایک قسم ہے۔[8]
شرف الدین استرآبادی اور سید ہاشم بحرانی تفسیر امام حسن عسکری میں نقل ہونے والی ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے اس آیت کو ان منافقین پر منطبق قرار دیتے ہیں جنہوں نے واقعہ غدیر کے بعد حضرت علیؑ کی بیعت توڑ دی اور اپنے عہد سے پھر گئے۔[9]
حوالہ جات
- ↑ مكارم شيرازى، تفسير نمونہ، 1374شمسی، ج1، ص95۔
- ↑ شیخ طوسى، التبيان، بی تا، ج1، ص67؛ طبرسى، مجمع البيان، 1372شمسی، ج1، ص139؛ فخر رازى، مفاتيح الغيب، 1420ھ، ج2، ص307۔
- ↑ طبرسى، مجمع البيان، 1372شمسی، ج1، ص139۔
- ↑ مكارم شيرازى، تفسير نمونہ، 1374شمسی، ج1، ص95۔
- ↑ رضایی اصفہانی، تفسیر قرآن مہر، 1387شمسی، ج1، ص182۔
- ↑ ہاشمی رفسنجانی، تفسیر راہنما، 1386شمسی، ج1، ص60۔
- ↑ فضل اللہ، تفسير من وحى القرآن، 1419ھ، ج1، ص146۔
- ↑ فضل اللہ، تفسير من وحى القرآن، 1419ھ، ج1، ص147۔
- ↑ استرآبادى، تأويل الآيات الظاہرۃ، 1409ھ، ج1، ص43؛ بحرانى، البرہان، 1416ھ، ج1، ص141۔
مآخذ
- استرآبادی، علی، تأویل الآیات الظاہرۃ فی فضائل العترۃ الطاہرۃ، مصحح: استاد ولی، حسین، قم، مؤسسۃ النشر الإسلامی، 1409ھ۔
- بحرانی، ہاشم بن سلیمان، البرہان فی تفسیر القرآن، تحقیق: قسم الدراسات الاسلامیۃ موسسۃ البعثۃ، تہران، بنیاد بعثت، 1416ھ۔
- رضایی اصفہانی، محمدعلی، تفسیر قرآن مہر، قم، پژوہش ہای تفسیر و علوم قرآن، 1387ہجری شمسی۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، تحقیق: احمد قصیرعاملی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی تا۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تحقیق: محمد جواد بلاغی، تہران، انتشارات ناصر خسرو، 1372ہجری شمسی۔
- فخر رازی، محمد بن عمر، مفاتیح الغیب، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1420ھ۔
- فضل اللہ، سید محمد حسین، تفسیر من وحی القرآن، بیروت، دار الملاک للطباعۃ و النشر، 1419ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، 1374ہجری شمسی۔
- ہاشمی رفسنجانی، تفسیر راہنما، قم، بوستان کتاب، 1386ہجری شمسی۔