صفوی خاندان

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

شیعہ حکومتیں

نام حکومت


ادریسیون
طبرستان کے علویون
قرامطہ
یمن کے زیدیون
فاطمیون
آل بویہ
آل حمدان
بنی مزید
نزاری اسماعیلیون
بنو حمود
سربداران
مرعشیون
کیائی
صفویہ
عادل شاہی
قطب شاہی
نظام شاہی
مشعشعیون
اسلامی جمہوریہ ایران

عہد حکومت


172 - 363 ھ.ق
250 - 960 ھ.ق
261 - قرن 5 ھ.ق
284 - 1382 ھ.ق
297 - 567 ھ.ق
313 - 440 ھ.ق
293 - 394 ھ.ق
403 - 545 ھ.ق
488 - -- ھ.ق
407 - 450 ھ.ق
736 - 788 ھ.ق
760 - 990 ھ.ق
769 - 1000 ھ.ق
906 - 1135 ھ.ق
895 - 1097 ھ.ق
918 - 1098 ھ.ق
896 - 1007 ھ.ق
845 - 1150 ھ.ق
1357 - -- ھ.ش

بانی


ادریس بن عبداللہ(172-175ھ ق)
حسن بن زید(250-270ھ ق)
حمدان قرمط(261-394ھ ق)
یحیی بن حسین(284-298ھ ق)
عبیداللہ المہدی(297-322ھ ق)
عمادالدولہ علی(313-328ھ ق)
عبداللّہ بن حمدان(293-317ھ ق)
سند الدولہ(403-408)
حسن صباح(488-557)
علی بن حمود(407-408ھ ق)
عبدالرزاق باشتینی(736-738ھ ق)
میربزرگ(760-780ھ ق)
سید علی کیا(1367-1389ھ ق)
شاہ اسماعیل(906-930ھ ق)
یوسف عادل شاہ(895-916ھ ق)
قلی قطب شاہ(918-940ھ ق)
ملک احمد(896-914ھ ق)
سید محمد مشعشع(845-870ھ ق)
امام خمینی(1357-1368 ش)

صفوی خاندان (سلسلہ حکومت: ۹۰۷ -۱۱۳۵ ق) ایک شیعہ خاندان تھا جس نے اپنے دور حکومت میں شیعہ مذہب کو حکومتی سطح پر رائج کیااور پہلی مرتبہ پورے ایران میں ایک شیعہ حکومت قائم ہوئی۔

صفوی خاندان کے اراکین صوفیت کے معتقد تھے کہ جس کی بنیاد ساتویں صدی ہجری قمری میں شیخ صفی‌الدین اردبیلی کے ہاتھوں رکھی گئی۔ نویں صدی ہجری کے آخری پچاس سالوں میں شیخ جنید کے جد اور شیخ حیدر کے باپ شاہ اسماعیل نے سیاسی،مذہبی اور فوجی تحریک شروع کی کہ جس کی نہایت دسویں صدی کے آغاز میں قزلباشوں اور اسماعیل کی رہبری میں فتح تبریز کے ساتھ ہوئی اور ان کی حکومت قائم ہوئی۔ صفوی حکومت ۱۱۳۵ق میں افغانیوں کی شورش میں اصفہان میں سقوط کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

صفویوں کے دور حکومت میں ایران نے فوجی، فقہی اور ہنر کے شعبوں میں بہت زیادہ ترقی کی۔ جبل عامل (لبنان) کے علما کو ایران میں دعوت دینے کی بدولت اس شیعہ حکومت کی بنیادیں فکری اور عقیدتی افکار پر استوار ہوئی۔ اس امر کی بدولت میرداماد، فیض کاشانی، ملاصدرا اور محمدباقر مجلسی جیسے معروف فقہا پروان چڑھے۔ اس زمانے میں ادبیات پر بھی شیعہ مذہب کا رنگ دیکھنے کو ملتا ہے اور اسی زمانے میں مرثیہ خوانی متعارف ہوئی اور محتشم کاشانی جیسے ناموں سے لوگ آشنا ہوئے۔

بعض محققین کے نزدیک اس دور حکومت کی اساس درج ذیل تین چیزوں پر تھی: اول نظریہ حق الہی پادشاہان ایرانی (فر ایزدی)، دوم روئے زمین پر امام مہدی(ع) کی نمائندگی کا ادعا۔ صوفیہ طریقت کی حیثیت سے صفوی بادشاہوں کا مقام مرشد کامل کے عنوان اور صفویہ کے نام سے پہچانا گیا۔[1]

صفوی خاندان

صفویہ خاندان اساسی طور پر اردبیل سے ہے۔اس خاندان کا پہلا شخص فیروز شاہ زرین کلاہ تھا جو پانچویں صدی میں اردبیل میں رہتا تھا۔ اس خاندان کی اصل اور نسب صفویہ دور کے مصادر کے مطابق شیعوں کے ساتویں امام امام ہفتم تک پہنچتا ہے۔[2] البتہ بعض محقق صفویوں کے اجداد کے سادات ہونے کی خبر ہوتے ہیں۔[3] بعض معاصر محققین شیخ صفی‌الدین کے شیعہ اور سید ہونے میں تردید کا شکار ہیں۔[4]

شیخ صفی‌الدین اردبیلی کے ظہور نے تاریخ صفویہ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا۔ اس نے اپنے اندر موجود قدرت کی بدولت طریقہ زاہدیہ کی روش پر ریاست حاصل کی اور ۳۵ سال تک اسی روش پر کاربند رہا۔[5]

شیخ صفی اپنی حکومت کے دوران اردبیل اور صوفیت طریقہ کے پابند مریدوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنے کی بدولت اس حکومت کو وسعت دینے میں کامیاب رہا یہانتک کہ اس کی حدیں آناتولی شرقی اور شام تک پھیل گئیں۔ ابراہیم کے بیٹے جنید کے سال ۸۵۱ ہجری قمری میں حکم بننے کے بعد ان کی یہ تحریک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ اس نے دنیاوی قدرت اور بادشاہی کی نمود و نمائش کو بہت زیادہ اجاگر کیا۔ لہذا یہ پہلا صفوی حاکم تھا جس نے سلطان کا لقب حاصل کیا۔[6]

تأسیس

صفویہ حکومت کی تاسیس شیخ صفی کے پوتوں اسماعیل اول کے زمانے میں ہوئی تھی۔ اس نے اپنے مریدوں اور سات ہزار قزلباش کے ہمراہ آق قویونلو‌ہا کو شرور کے اطراف میں شکست دی[7] اور تبریز میں داخل ہوا۔ یہاں اس نے تشیع کے حکومتی مذہب ہونے کا اعلان کیا۔اس نے اپنی تحریک کی بنیاد شیعت کو قرار دیا تھا۔روملو، استاجلو، تکلو، شاملو، ذوالقدر، قاجار، افشار جیسے قبیلوں اور ترکمانوں صفویہ حکومت کے قیام میں اساسی کردار ادا کیا ہے۔[8]

شاہ اسماعیل صرف ایک دنیاوی اور عمومی بادشاہ ہی نہیں تھا بلکہ اسے ایک ایسا مرشد کاملی سمجھا جاتا تھا جو نور الہی و ذات الوہیت کا مظہر تھا۔[9] شاہ اسماعیل کی سلطنت کی ۲۳ سالہ تاریخ کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔۱- چالدران کی شکست سے پہلے کا مرحلہ ۲- چالدران کی شکست کا مرحلہ۔ اسماعیل نے چالدران کی شکست کے بعد خود کسی جنگ میں شرکت نہیں کی اور اپنی زندگی کے آخری دس سالوں میں شراب‌خواری اور سوگواری و افسردگی میں گذارے۔

شاہ اسماعیل کے جانشین

شاہ اسماعیل اول کی وفات کے ساتھ ہی حکومت کے آخری دس سالوں کے پھیلنے والے داخلی اختلافات نئے سرے سے عروج کو پہنچ گئے۔اسماعیل کا بیٹا تہماسب صفوی ایک قدرت مندتریں صفوی بادشاہ ہوا جس نے دس سال کی عمر میں بادشاہت حاصل کی۔[10]

قزلباشوں کے قدرت طلب سرکش حکمران، دیو سلطان روملو، سلطان تکلو، کپک سلطان استاجلو اور ان کے قبائل کی ازبکان کی مشرقی سرحدوں پر غیر ایرانیوں سے جھڑپیں اور ملک کے غرب میں عثمانیوں کے بعد ۱۰ سالہ صفوی دور حکومت عدم استحکام اور کشمکش کا شکار رہا، اس طرح ظاہر ہوتا تھا کہ شاہ اسماعیل نے اپنے بعد جو میراث چھوڑی ہے اسے کوئی بقا و دوام حاصل نہیں ہو گا۔[11] لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ شاہ تہماسب صفوی کی حکومت کا طولانی ترین حکومت کا دور رہا اور یہ ایک پر سکون دور حکومت میں تبدیل ہو گیا۔ اس دور میں حکومت کی بنیادوں کا استحکام حاصل ہوا ہر چند اگرچہ ہر چند کہ دہہ آخر سلطنت تہماسب کا آخری دس سالہ دور حکومت کو داخلی بحرانوں اور اجتماعی تضادات کا سامنا رہا جو اس کے بعد عدم استحکام کا موجب بنے لیکن اس کے باوجود ۵۴ سالہ سلطنت کے دور میں تہماسب نے جو اساس فراہم کی تھی وہ قوت و ضعف کے ساتھ ایران میں صفویوں کی حکومت کے خاتمے تک زندہ رہا۔

شاہ تہماسب اول کے بعد اسماعیل دوم صفوی، حکومت کے درمیان ہونے والیں مسلسل دھڑے بندیوں اور تہماسب کے آخری ایام میں امرا اور قزلباشوں کے شروع ہونے والے جھگڑوں اور بیس سال کے بعد قلعہ قہقہ کی آزادی کہ جس میں شاہ تہماسب کی بیٹی اور اسماعیل دوم کی پھوپھی پری خانم نے بنیادی کردار ادا کیا تھا، حیدر مرزا کے قتل اور اسکے طرفداروں کو شکست دینے کے بعد قزوین گیا اور تخت نشین ہوا۔[12] شاہ اسماعیل دوم کی حکومت کا دورانیہ کشت و کشتار کا زمانہ رہا جس میں اس نے اپنی بادشاہت کی حفاظت کی خاطر خون بہایا۔اسماعل دوم کی حکومت کا یہ دورانیہ ایک سال اور چند مہینوں پر مشتمل تھا جو مذہبی اور حکومتی لحاظ سے بحرانی دور تھا جس میں علما اور دین کے نمائندے شاہ کے مقابل کھڑے ہوتے رہے اور اس بحران کی وجہ اسماعل دوم کے وہ سیاسی اعمال تھے جو اس نے اپنے باپ تہماسب کی مذہبی روش کے بالکل مخالف اختیار کئے تھے۔[13]

تہماسب کا بڑا بیٹا شاہ محمد خدا بندہ، اسماعیل دوم کے صفوی شاہزادوں کے قتل کے بعد، قزلباش امرا اور اسماعیل دوم کے حکومتی معاملات میں تجربہ کار پریخان خانم کی طرف سے سلطان نامزد ہوا اور اسے شیراز سے حکومتی دار الحکومت قزوین بلا کر تخت نشین کیا گیا کہ جسے پہلے کمزور کی بینائی کی وجہ سے رد کیا جا چکا تھا [14]

سلطان محمد خدابندہ کے دور حکومت میں دو جنگیں ہوئیں ایک جنگ استاجلو کے امرا کے ساتھ اور دوسری جنگ ازبک سلاطین کے ساتھ ہوئی۔[15] محمد خدابندہ کی سلطنت کے دوران قزلباش امرا کا بادشاہ کے ساتھ اور اسی طرح خود امرا کے درمیان اسطرح کی نزاع رہی کہ ان مشکلات نے شخصی کمزوری، حاکمیت کی قابلیت اور قدرت کے نہ ہونے اور کمزور حکومت کو بہت زیادہ نمایاں کیا۔ شاہ محمد کی طرف سے قزلباش امرا،سادات اور علما کو اپنی متزلزل حکومت کا حامی بنانے کیلئے بے تحاشا تحائف اور بخششوں نے اس حکومتی خزانے کو خالی کر دیا جسے تہماسب نے سالوں کی محنت سے جمع کیا تھا۔[16]

بازگشت اقتدار

۹۹۶ ہجری قمری میں مرشد قلی‌خان استاجلو کی مدد سے شاہ عباس اول قزوین میں تخت نشین ہوا۔ اس وقت مکمل طور پر صفوی حکومت کو اندرونی اور بیرونی عدم استحکام اور آشفتگیوں کا اس طرح سے سامنا تھا کہ اندرونی طور پر معاشرے کے اعلی طبقہ میں قزلباش امرا کے داعی اور ان کی مرکز سے دوری کا رجحان صفوی بادشاہت کے اجزا میں تقسیم ہونے کی خبر دے رہی تھی تو دوسری طرف معاشرے کی نچلی سطح پر شیخ صفی الدین اردبیلی کے فرزندوں کی مملکت کو ملک کے گوش و کنار سے مختلف تحریکوں اور قیاموں کا سامنا تھا جو اس سے بادشاہت سے معاوضے کے طلبگار تھے جبکہ بیرونی طور پر مغرب میں عثمانیوں اور مشرق میں ازبکوں کے حملات اور مداخلت حکومت کی وحدت کو پارا پارا کرنے پر تلی ہوئی تھی۔

لیکن شاہ عباس اول نے صرف ان مشکلات پر قابو ہی نہیں پایا بلکہ اندرونی حکومت مخالف شورشوں کو سرکوب کرنے میں کامیاب رہا نیز اس نے ابتدائی طور پر عثمانیوں کے ساتھ سیاسی صلح کے ذریعے اپنے آپ کو مغربی محاذ سے اطمینان بخشا۔ پھر اس نے خراسان سے ازبکوں کو باہر نکالنے کیلئے اقدام کئے اور اس کے بعد دوسرے مرحلے میں عثمانیوں کو اپنی حکومت کے علاقوں ہمدان اور آذر بائیجان سے باہر نکالا۔ ان اقدامات کے ذریعے اس نے اپنی حکومت کو استحکام اور قدرت بخشی۔[17] اس نے گرجیوں پر مشتمل ایک تیسری قوت تشکیل دی اور قزلباش سلطنت کے قدیمی طبقات کے مقابلے میں ایک نیا طبقہ ایجاد کیا جس کے ذریعے اس نے ایسی قدرت اور مرکزیت حاصل کر لی جو اس پہلے حاصل نہیں تھی۔[18] املاک کو شاہی املاک میں تبدیل کرنا اور شاہزادوں کا حکومت میں مداخلت نہ کرنے کی وجہ سے حرمسراؤں میں رہنا دو ایسے شاہ عباس کے اقدام تھے جو کئی سالوں تک جاری رہے اور بالآخر حکومت کی کمزوری کے اسباب اور صفویہ حکومت کے سقوط کا پیش خیمہ بنے۔

صفویہ کا زوال اور سقوط

شاہ عباس اول کی موت کے ساتھ صفویہ دور کے زوال کا زمانہ شروع ہو گیا۔ شاہ صفی صفوی کی حکومت کا چودہ سالہ دور صفویوں کی حکومتوں کے ایک سیاہ ترین دور اور زوال کا آغاز تھا۔ شاہ صفی کی موت کے ساتھ شاہ عباس دوم صفوی دس سال کی عمر میں تخت نشین ہوا۔ اس لحاظ سے اس سلطان کے ابتدائی سال حرمسراؤں،خواجگان اور عورتوں کے تحت تاثیر رہے لیکن آہستہ آہستہ اس کی مستقل اور طاقتور شخصیت نے ظہور پیدا کیا اور اس بات پر قادر ہوا کہ وہ اپنے پچیس سالہ دور میں شاہ عباس اول کی یادگار کو نئے سرے سے بنا سکے اور اس عرصے میں اسے دوام و استحکام اور قدرت مطلقہ کا مظہر بنا سکے نیز اس نے تیموریوں سے قندھار کو واپس لیا۔

شاہ سلیمان صفوی کی سلطنت کا آغاز صفویوں کی سلطنت کے زوال کا زمانہ ہے۔ سابقہ حکمرانوں کی سستیاں اور نقائص ورثے میں ملنے کے ساتھ ساتھ بادشاہ وقت ملک کے انتظامی امور میں نا تجربہ کاری، بے نظمی، ملکی امور میں استقرار نظم اور قدرت جیسے مثبت پہلؤں سے بہرہ مند نہیں تھا۔

شاہ سلیمان کے اٹھارہ سال حرمسراؤں اور خواجگان کے زیر تربیت رہنے کے بعد اچانک خواجگان کے رئیس آغامبارک کا عمل و دخل (حکومت) سے ختم ہو گیا۔عورت، مال و زر اور شراب خوری سے عشق کے ساتھ ساتھ بے تدبیری، قساوت، حرص، خشم و شہوت ایک جگہ اکٹھی تھیں۔ شاہ سلیمان سلطنت ملنے کے بعد پہلے سال ہی سخت بیماری میں مبتلا ہو گیا اور اسی زمانے میں معاشرے میں قحط اور طاعون کا بھی اسے سامنا کرنا پڑا۔[19]

شاہ سلطان حسین صفوی کا زمانہ حقیقت میں دو سو تیس (230) سالہ صفویوں کی بادشاہت کے خاتمے کی گھنٹی تھی کہ جسے افغانیوں کے ایک معمولی سے حملے نے گرا دیا۔ ہرچند سلطان حسین کو اس خاتمے کا تمام تر ذمہ دار ٹھہرانا حقیقت پسندانہ اور منصفانہ نہیں ہے۔ درست ہے کہ اس میں کچھ مثبت خصوصیات پائی جاتی تھیں لیکن بادشاہت ماہیت استبدادی، کچھ خصوصیات اور لوازم کی متقاضی ہے جو اس میں موجود نہیں تھیں۔

صفوی بادشاہت کے اختتامی دور میں حکومت میں کام کرنے اور تمام ادراوں کیلئے دستور العمل اور راہنما اصول تدوین کئے گئے۔ کیونکہ اس دور کے آخری بادشاہ ان اداروں کو چلانے کی ضروری استعداد نہیں رکھتے تھے اور وہ خیال کرتے تھے کہ گذشتہ درخشاں دور کے دیوانی اور حکومتی قوانین کی پیروی کے ذریعے اپنی حکومت کو منظم اور مرتب کیا جا سکتا ہے۔مثال کے طور پر شاہ سلطان حسین نے قواعد ضوابط کے متعلق ایک رسالہ لکھنے حکم دیا۔[20]

نفس شاہ کی شرابخواری، شہوت رانی،امرا کا اس کے اختیار میں نہ ہونا،امرا اور عمال میں رقابت،درباریوں کا دو حصوں میں تقسیم ہونا، نیز ان کے درمیان نزاع و فساد کا ہونا، سپاہیوں کا فوجی تربیت سے خالی ہونا جیسی خصوصیات نے صلح کے سوسال کو اس قدر آشفتہ اور دگرگوں کر دیا تھا کہ ایرانی سپاہ کا کمانڈر فتح علی خان ترکمان خود مشہد میں حرم امام رضا(ع) میں دخل تصرف کرتا تھا۔[21] جب کہ اس وقت ہرات کے غلجانی قبیلے کا رئیس محمود افغان جو اپنے باپ میرویس کا جانشین تھا، ۱۱۳۴ ہجری قمری میں عازم اصفہان تھا اور دار الحکومت میں حکیم‌باشی اور ملاباشی فتح علی خان اعتماد الدولہ کے ساتھ نزاع و جدال میں مشغول تھے۔ آخر کار جب محمود نے اصفہان کا گھیراؤ کیا تو اس وقت شاہ کے تخت و تاج کے باقی رہنے کی کوئی امید باقی نہیں رہی تھی اور بالآخر صفویوں کی سلطنت ۱۱۳۵ ہجری قمری میں اپنے انجام کو پہنچ گئی۔

صفویہ اور تشیع

شیعہ مذہب کو قانونی حیثیت حاصل ہونا

صفوی حکومت کے دور میں صفویوں کی حکومت نے شیعہ مذہب کو حکومتی مذہب کے طور پر قبول کیا۔ جبکہ بعض محقیقن اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ صفویقں سے پہلے ہی ایرانی معاشرہ مذہب تشیع کی قبولیت کیلئے تیار تھا اور وہ محققین صفویوں کے قدرت حاصل کرنے سے کئی سال پہلے مذہب تشیع وسیع پیمانے پر پھیل جانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں،[22] صفوی تاریخ کے مصادر و مآخذ ایران میں شیعہ مذہب کو حکومتی مذہب قرار دینے میں شاہ اسماعیل صفوی کی جانب سے سخت گیری کے معترف ہیں۔ شاہ اسماعیل نے مساجد کے خطبا کو جمعہ کے خطبوں میں ائمہ طاہرین کے نام لینے اور خلفائے ثلاثہ پر نفرین کرنے کا دستور دیا۔ اسی طرح اس نے ایسے تبرا کرنے والے گروہ تشکیل دئے کہ جو سڑکوں پر چلتے ہوئے بلند آواز کے ساتھ صحابہ پر لعن کرتے تھے۔[23] اسی طرح شاہ اسماعیل نے شیعہ مسلک کے مطابق اذان دینے کا فرمان جاری کیا اور جو اس مسلک کے مطابق نماز نہ پڑھے اس کی گردن مارنے کا حکم دیا۔[24] بعض تاریخی مصادر نے حکومتی سطح پر شیعہ مذہب کے رائج ہونے کے بعد کئی قیام کرنے والے مخالفین کی بہت سی تعداد کے قتل کی طرف اشارہ کیا ہے جنہوں نے اس قانوں کی مخالفت میں قیام کیا تھا[25]

جبکہ اس کے برعکس بعض محققین کے مطابق حکومتی سطح پر ایرانیوں کیلئے مذہب کی تبدیلی والے واقعہ میں اسطرح کی سختیوں، کشت و کشتار اور مخالفین کی جانب سے کسی قسم کے عکس العمل کے بغیر پر امن اور آہستہ آہستہ طریقے سے مذہب تشیع کو قانونی حیثیت دی گئی۔[26] نیز بعض محققین صفوی دور کی تاریخی کتب میں مذکور ایسے مطالب کہ جن کے مطابق صفویوں کے دور میں شیعوں کی نسبت اسماعیلیوں کی جانب سے عکس العمل بیان ہوا ہے، کو تاریخ نگاروں کی داستان سرائیوں کا ماحاصل سمجھتے ہیں اور انہیں صرف تاریخی حقائق کے مطابق ہی نہیں سمجھتے بلکہ انہوں نے اس کے برعکس شواہد پیش کئے ہیں۔[27]

شاہ اسماعیل صفوی نے لوگوں پر مذہب تشیع کے اظہار میں سختی کرنے اور انہیں مجبور کرنے کے علاوہ مذہب تشیع کی ترویج اور استحکام کرنے کیلئے دوسرے راستے بھی اختیار کئے۔ دوسرے علاقوں سے علمائے کرام کو ایران آنے کی دعوت دینا ان روشوں میں سے ایک روش تھی۔ اس کی وجہ سے کچھ مدت بعد علما کے یہاں آنے کی وجہ سے ایران میں مدارس اور علمی مراکز قائم ہو گئے۔ اسی طرح شیعہ مسلک کے مطابق مذہبی مراسم جیسے محرم کی عزاداری وغیرہ برپا کرنا بھی ان اقدام میں سے ایک ذریعہ تھا کہ جس کے ذریعے لوگوں میں مذہبی احساسات ابھارنے اور اس کے نتیجے میں یہ مذہب تشیع کے پھیلنے اور اس مذہب کے راسخ ہونے کا ایک مؤثر ذریعہ بن گیا۔[28]

تشیع و ہویت ملی

موجودہ دور کے محققین صفوی حکومت کو ایران کی پہلی قومی حکومت سنجھتے ہیں۔ بعض محققین ایران میں شیعہ مذہب کے حکومتی طور ہر رائج ہونے کو صفوی حکومت کی تشکیل میں اسطرح سے کا اصلی عامل سمجھتے ہیں کہ جس میں ایرانی کی ساری قوم نے حصہ لیا اور اس کے نتیے میں سنی مذہب کے مقابلے میں اپنی توانائی کا اظہار کیا۔ در این رویکرد مذہب شیعہ، عاملی برای وحدت بخشی بہ جامعہ ایرانی و در عین حال ایجاد تمایز و تشخص ایرانیان در برابر دشمنانش، بخصوص حکومت عثمانی بود.[29]

صفویوں اور شیعہ علما کا باہمی ارتباط

صفوی حکومت کے ابتدائی دور میں شیعہ علما کا اس حکومت کے قیام میں کسی قسم کا کوئی کردار نہیں رہا، شاہ اسماعیل صفوی کے آخری ایام میں شیعہ علما حکومتی ڈھانچے میں وارد ہوئے اور صدارت اور قضاوت جیسے عہدوں پر مقرر ہوئے جبکہ سلطنت شاہ طہماسب کے سلطنتی ایام میں بڑی تیزی سے شیعہ علما کی دربار میں حاضری دیکھنے کو ملتی ہے۔ اسی دوران محقق کرکی کی طرف سے ایک نیا نظریہ پیش ہوا کہ جس کے ذریعے دربار میں علما کی موجودگی کی شرعی توجیہ بیان کی جاتی تھی۔ اس نظریے کی بنیاد پر امام زمانہ کی عدم موجوگی میں حکومت کا اختیار صرف جامع الشرائط فقیہ کو حاصل ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ جامع الشرائط فقیہ مصلحت کو دیکھتے ہوئے اپنی سیاسی قدرت سلطان کے حوالے کر دے۔ لہذا شاہ طہماسب نے اس نظریے کو قبول کیا اور اپنے آپ کو فقیہ جامع الشرائط کا نائب کہا۔[30]

اس لحاظ سے صفوی حکومت کے دوران علما کو سرفراز مقام حاصل رہا اور وہ ہمیشہ ایک بنیادی کردار کی حیثیت سے رہے اور وہ صوفیوں کی صفوی حکومت میں ایک مؤثر کردار ادا کرتے رہے۔ اس زمانے میں علما قضاوت، موقوفاتی امور کے حل اور امامت جمعہ جیسے عہدوں پر فائز رہے۔اس کے باوجود یہ نظر میں رہنا چاہئے کہ سلاطین وقت علما کو مقرر کرتے تھے لہذا اسی وجہ سے بادشاہ اور درباریوں کی قدرت کے ساتھ علما کی قدرت محدود ہوتی تھی۔ صفویوں میں سے شاہ عباس اول علما کیلئے محدود پیمانے پر اختیارات اور مناصب کے قائل ہوئے جبکہ شاہ عباس دوم جیسے صفوی بادشاہ اپنی حکومت کے دوران دینی اور حکومتی مسائل کے فیصلہ کرنے میں ان علما کو پہلے کی نسبت زیادہ اختیارات دینے کے قائل تھے۔[31]

علما کے عہدے

صدرالاسلام:

یہ عہدہ شاہ اسماعیل اول کی سلطنت میں تشکیل پایا۔صفویوں کی حکومت کے دوران صدارت کا یہ عہدہ دینی لحاظ سے اعلی ترین عہدہ تھا۔ اس عہدے کی قدرت اس عہدے پر فائز شخص کی شخصیت کے لحاظ سے تھی۔ لہذا پہلی صف کے علما میں سے اگر کوئی عہدے دار ہوتا تو اس کے کلام کی قدرت اور نفوذ درباریوں اور شاہ میں زیادہ ہوتا۔
قاضیوں، علما، سادات، مدارس و مساجد کے امور صدر اسلام کے ذمہ تھے۔ محکمۂ اوقاف کی نگرانی صدر الاسلام کے اہم ترین فرائض میں سے تھی۔ صفوی بادشاہت کے وسط میں اس عہدے کو دو حصوں: صدر خاصہ اور صدر عامہ میں تقسیم کر دیا گیا. صدر خاصہ حکومتی اور دولتی موقوفات کی ذمہ داری سونپی گئی اور غیر دولتی موقوفات صدر عامہ کے حوالے کئے گئے۔[32]

شیخ الاسلام:‌

شیخ‌ الاسلام کے لقب کو پہلی مرتبہ شاہ طہماسب نے محقق کرکی کیلئے استعمال کیا۔ طہماسب محقق کرکی کے احترام کا بہت زیادہ قائل تھا۔ حقیقت میں اس نے اس عہدے کے ذریعے اسے صدر سے بالاتر رتبہ ادا کیا اور بہت زیادہ اختیارات یہانتک کہ حکومت کے بہت سے امور محقق کرکی کے حوالے کر دئے۔ شیخ الاسلام کے عہدے پر فائز دیگر افراد جیسے سید حسین مجتہد کرکی، شیخ بہائی (م.۱۰۳۰ ق.)، محمد باقر سبزواری (م۱۰۹۰ ق.) و علامہ مجلسی (م۱۱۱۰ ق.) کی طرف بھی اشارہ کیا جا سکتا ہے۔

وکیل حلالیات:

یہ ایک اور عہدہ ہے اور یہ ان بادشاہوں کے فرمان پر بنایا گیا جو حلال طریقے سے مخصوص اموال کو اپنے نام کرنا چاہتے تھے۔

امامت جمعہ:

یہ بھی ایک حکومتی عہدہ تھا جس میں عام طور پر شیخ الاسلام کسی کو مقرر کرتا تھا۔ ملاباشی بھی ایک منصب تھا جو شاہ سلطان حسین کی طرف سے محمد باقر خاتون آبادی سے متعلق رہا۔ شاہ اس سے بہت زیادہ محبت رکھتا تھا اور وہ اسے شیخ الاسلام سے زیادہ بڑا سمجھتا تھا۔[33]

حکومت کے مخالف علما

اگرچہ صفوی حکومت کے ساتھ شیعہ علما کے ساتھ دوستانہ روابط تھے لیکن اس کے باوجود بعض علما کی رائے کے مطابق دنیاوی حکومت کی معاونت کرنا درست نہیں تھا لہذا اسی بنا پر کچھ علما نے حکومت سے کنارہ کشی اختیار کی اور وہ حکومت سے تعلقات رکھنے والوں کی سرزنش کرتے تھے۔ شیخ ابراہیم قطیفی، مقدس اردبیلی (م.۹۹۳ق.)، صدرالمتالہین شیرازی اور شیخ حسن عاملی (م. ۱۰۱۱ق.) ان علما میں سے تھے جو صفوی حکومت کی معاونت کو درست نہیں سمجھتے تھے۔[34]

صفویہ دور کی تشیع اور تصوف

صفوی حکومت کے صوفیانہ رجحان رکھنے کی وجہ سے صوفیت کے حامی پیروکاروں کی اکثریت انکی حامی تھی جن میں سے اکثر قزلباش تھے۔ اس حکومت کی تاسیس کے بعد ایک ہی وقت میں صفویہ طریقت کا رئیس شاہ بھی تھا اور وہ مرشد کامل بھی تھا۔ صفویوں کی فوج کا اصلی حصہ اسی قزلباشوں پر مشتمل تھا۔ لیکن کچھ عرصہ بعد ہی شاہ اور قزلباشوں کے درمیان اختلافاتی خلیج پیدا ہو گئی۔ شاہ طہماسب نے قزلباشوں کی طاقت اور نفوذ کو ختم کرنے اور شیعہ فقہا کی قربت کی کوشش کی۔ شیعہ علما اور فقہا قدیم ایام سے ہی صوفی گروہوں سے مخالفت رکھتے تھے۔ حکومت صفویہ میں شیعہ علما کے نفوذ کے ساتھ ہی ان اختلافات نے نئے سرے سے جنم لیا۔ جس کے نتیجے میں شیعہ علمی آثار میں تصوف کی مخالفت آہستہ آہستہ نمایاں ہونے لگی۔ یہانتک کہ ان کے آخری دور میں تصوف اور شیعہ علما کے درمیان شدید مخالفت کا روپ اختیار کر گئی اور صوفیوں کے کفر پر منتہی ہوئی۔[35] شیعہ علما میں سے صوفیت کی مخالفت کا نمایہ نمونہ علامہ محمد باقر مجلسی تھے جنہوں نے صفوی حکومت کے آخری ایام میں اعلی مقام حاصل کیا اور صوفیوں کی رد میں آثار تالیف کئے نیز شیخ الاسلامی کے عہدے پر فائز ہونے کی بدولت صوفیوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے اقدامات کئے۔[36] سلطان حسین کے زمانے میں صفویہ اور صوفیوں کی خانقاہوں کے درمیان نزاعوں نے جنم لیا اور کوشش کی گئی کہ لوگوں کو صوفیوں سے میل ملاپ سے روکا جائے۔

عثمانی خلافت اور صفوی حکمران

صفوی حکومت کے آغاز میں شاہ اسماعیل اول اور سلطان سلیم عثمانی کے درمیان تنش پیدا ہوئی لیکن دونوں ممالک کے ایک جیسے حالات ہونے کی وجہ سے آہستہ آہستہ حالات بہتر ہوئے اور آخرکار دونوں حکومتیں اچھے دوستانہ تعلقات پر منتہی ہوئیں۔

شاہ تہماسب اول کی سلطان سلیمان عثمانی کے ساتھ صلح آماسیہ کے نام سے معروف صلح کے بعد ایران اور ترکی کے تعلقات بہتر ہونا شروع ہوئے۔ یہ صلح نامہ ۹۶۲ قمری بمطابق ۱۵۵۵ میلادی میں لکھا گیا۔ اس صلح میں پہلے کی نسبت آسان شرائط کا لحاظ کیا گیا بلکہ آنے والے سالوں میں شاہ تہماسب نے سلطان سلیمان قانونی کی تخت نشینی کے موقع پر مختلف وفود کو گراں بہا تحائف کے ساتھ استنبول بھیجا۔ یہ دوستی ۹۷۵ ہجری / ۱۵۶۸ عیسوی میں سلیمان کی وفات اور اسکے بیٹے سلطان سلیم دوم کے تخت نشین ہونے تک باقی رہی۔

شاہ تہماسب عثمانی بادشاہ کو سلطان غازی اور مجاہد فی سبیل اللہ سمجھتا اور اس کے خلاف جنگ کرنے کو دین کے خلاف اقدام اور اسے دنیا کے مقابلے میں دین بیچنے کے مترادف سمجھتا تھا؛ وہ اپنے حالات میں خود لکھتا ہے: خواندگار (لقب سلاطین عثمانی) فرنگیوں کے خلاف جنگ کیلئے چلا گیا اور میں ان کی زمینوں پر (قبضے کی خاطر) چلا جاؤں تو ایسی صورت میں ہمارا کام آگے نہیں بڑھے گا اگرچہ اس نے ہمارے بھائی اور بیٹے کو قتل ہی کیوں نہ کیا ہو کیونکہ میں دنیا کے بدلے میں دین کو نہیں بیچوں گا۔[37]

شاہ عباس اول نے جب سلطان مراد سوم کی یورپیوں کے خلاف لشکر کشی کی خبر سنی تو خوشی کا اظہار کیا اور اسے ایک محبت بھرے خط میں لکھا:... امید ہے کہ عنقریب نوید فتح اور کامیابی کی خبر منتظروں کے کانوں میں پڑے گی اور ہمسایہ ممالک کی ساری عوام اس خبر سے مسرت اور خوشحال ہوگی کیونکہ لشکر اسلام کفار فجار کی طرف روانہ ہوا ہے۔ ہمارے درمیان اس طرح کی محبت اور دوستی استوار ہے کہ ان کے درمیان جدائی ناگزیر ہے ... اگر خلیفہ کی جانب سے فرمان جاری ہو تو ہم محروسہ ممالک کی سرحد پر موجود امرا اور قزلباش لشکر کو روانہ کریں تا کہ لشکر کی نصرت میں شریک ہوں اور خاقان سکندر‌ شأن سلیمان مکان بے دین مشرکین، مجوسی اور منحوس کفار کو پسپا کریں اور انکے خلاف جنگی قیام کریں تا کہ ہم بھی خیر و برکت اور جنگ کے ثواب کو پائیں...۔[38]

شاہ عباس دوم بھی عثمانی حکومت کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتا تھا نیز وہ اپنی غربی سرحدوں سے آسودہ تھا، اس نے ۱۰۵۸ قمری میں قندھار کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ اسی سفر میں عثمانی سلطنت (سلطان ابراہیم خواندگار) کے سفیر نے دوستانہ خط کے ہمراہ نہایت قیمتی تحائف شاہ عباس دوم کیلئے ارسال کئے، اس کے جواب میں شاہ نے بھی عثمانی خلیفہ کیلئے محبت بھرے خط کے ہمراہ ہاتھیوں کے چند گلوبند روانہ کئے۔ [39]

معاہدہ زہاب دو ملکوں کے درمیان ہونے والا اہم ترین صلحنامہ تھا جس کی بنیاد پر دونوں ملکوں کی سرحدوں کا قطعی تعین ہوا اور اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے صلحناموں جیسے ناصرالدین شاہ قاجار کی جنگوں کے بعد ہونے والے صلحناموں سمیت دیگر صلحناموں میں ہمیشہ اس صلح نامے کو مستند قرار دیا گیا۔[40] اس صلح نامے کی بدولت نوّے سال (یعنی شاہ عباس دوم، شاہ سلیمان و شاہ سلطان حسین کا زمانہ) دونوں ملکوں کے درمیان اصفہان و استنبول کے درمیان سفیروں کے درمیان رفت و آمد کا سلسلہ خاص طور پر دونوں ملکوں کی سرٖحدیں برقرار رہیں۔

تاریخی روایات کے مطابق سطنت شاہ سلیمان صفوی (۱۰۷۷ - ۱۱۰۵ہ) میں عثمانیوں اور صفویوں کے درمیان دونوں ملکوں کی سرحدوں پر امن و امان قائم رہا اور معاہدہ ذہاب کے صلحنامے کی رعایت ہوتی رہی۔ اس دوران یورپی سفیر مسلسل اس کوشش میں لگے رہے کہ ایران کو عثمانیوں کے خلاف دشمنی پر ابھاریں لیکن ایران نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔ کمپفر اس سلسلے میں لکھتا ہے: ایرانی دربار میں ہماری سفارت کا اکثر ہدف یہ رہا کہ شاہ ایران کو ترکوں خلاف مشترکہ جنگ پر اکساتی رہے۔ ترکوں نے شاہ صفی صفوی کے دور حکومت کے دوران صلح بحبوبہ میں بغداد کو شاہ کے قبضے سے خارج کر دیا تھا۔اس وقت کی حکومت میں سے صرف وزیر اعظم اس کام کے موافق نہ تھا لہذا اسی وجہ سے ہماری کوششین ثمر آور نہ ہوئیں۔ وہ مسیحوں کی فتوحات کی وجہ سے حسادت کا شکار تھے اسی وجہ سے انہوں نے مثبت جواب نہیں دیا۔ وزیر اعظم نے ہمیں کہا:شاہ کا عثمانی حکومت کے خلاف اعلان جنگ نہ تو اس معاہدے سے موافقت رکھتا ہے جو ہم نے خواندگار سے کیا ہے اور نہ ہی ہمارے ملکی حالات اس کی اجازت دیتے ہیں۔[41]

عثمانی حکومت کے آخری سفیر احمد درّی افندی کی جانب شاہ سلطان حسین کا محبت آمیز پیغام ان کی بے لوث سچائی کا بیان گر ہے: میں عثمانی سلطان کیلئے دعاگو ہوں۔ ان باپ بیٹوں نے مسلسل کافروں کے ساتھ جنگ کرنے میں وقت گذارا اور ان کے حق میں دعا کرنا ہمارے لیے واجب عینی کا درجہ رکھتا ہے۔ [42]

حوالہ جات

  1. راجر سیوری،۱۳۸۷، ص۲
  2. خواند میر، حبیب السیر، ج۴، ۱۳۵۳، ص۴۰۹
  3. صفوہ الصفا، ابن بزاز، ترجمہ مجد طباطبایی، ص۷۱
  4. نک: نفیسی، عرفان و ادب در عصر صفوی، ص۲۳؛ میر احمدی، دین و مذہب در عصر صفوی ص۴۱
  5. محمد یوسف اصفہانی، خلد برین، ص۱۹
  6. سیوری، ایران عصر صفوی، ص۱۵
  7. مزاوی،۱۳۶۳:ص۲۶۶
  8. نقش ترکان آناطولی در تشکیل و توسعہ دولت صفوی، پرفسور فاروق سومر، مترجم احسان اشراقی، محمد تقی امامی، تہران، ص۱۷۱
  9. ترکمان اسکندر بیک و محمد یوسف والہ،۱۳۱۷:ص۲۵۱
  10. محمد یوسف اصفہانی، خلد برین، ص۳۲۶
  11. خواند میر،۱۳۶۲:صص۴۵و۴۶
  12. رستم الحکما،۱۳۵۷:ص۱۱۴
  13. رستم الحکما،۱۳۵۷:ص۱۱۵
  14. باستانی پاریزی،۱۳۴۸:ص۶۵
  15. احسن التواریخ، حسن بیگ روملو، ج۳، ص۱۵۳۱
  16. باستانی پاریزی،۱۳۴۸:ص۶۸
  17. ترکمان اسکندر بیک و محمد یوسف والہ،۱۳۱۷:ص۲۳۱
  18. ترکمان اسکندر بیک و محمد یوسف والہ،۱۳۱۷،ص۲۴۱
  19. مزاوی،۱۳۶۳:ص۱۱۸
  20. القاب و مواجب دورہ سلاطین صفویہ، تصحیح یوسف رحیملو، ص۱۵
  21. باستانی پاریزی،۱۳۴۸:ص۲۰۱
  22. جعفریان، صفویہ در عرصہ دین،‌فرہنگ و سیاست، ج۱، ص۲۱
  23. قاضی احمد قمی، خلاصۃ التواریخ، ج۱، ص: ۷۳
  24. جنابدی، روضہ الصفویہ، ص۱۵۴
  25. نک:‌ شیخ نوری و پرغو، چگونگی رسمیت یافتن تشیع توسط صفویان، ص۴-۵
  26. جعفریان، صفویہ در عرصہ دین، فرہنگ و سیاست، ج۱، ص۳۴
  27. صفا و رضایی، آرایہ‌ہای داستانی منابع عصر صفوی و رسمیت تشیع در ایران، ص۱۰۸، ۱۱۵
  28. فروغی، کارکرد مراسم سوگواری عاشورا در رسمی شدن مذہب شیعہ، ۶۷-۶۸
  29. نک: گودرزی، کارکرد ہویت بخش مذہب شیعہ در دورہ صفویہ، ص۶۲-۶۳
  30. جعفریان، صفویہ در عرصہ دین،‌فرہنگ و سیاست، ج۱، ص۱۲۱
  31. جعفریان، صفویہ در عرصہ دین، فرہنگ و سیاست، ج۲، ص۱۲۳
  32. نک: شاردن، سفرنامہ شاردن، ج۴، ص۱۳۳۶-۱۳۳۷
  33. جعفریان، صفویان در عرصہ دین، فرہنگ و سیاست، ج۱، ص۲۳۶-۲۴۳
  34. دربارہ نظر این دستہ از فقہا نک:‌ رجبی، فقیہان عصر صفوی دربارہ تعامل با حکومت‌ہا،‌ص ۵۹-۶۸
  35. تشکری و نقیبی، تعامل و تقابل تصوف و تشیع در عصر صفوی، ص۵۸-۶۰
  36. جعفریان، صفویہ در عرصہ دین،‌ فرہنگ و سیاست، ج۲، ص۵۶۸
  37. شاہ تہماسب، تذکرہ شاہ تہماسب، ص۲۱.
  38. نصرا... فلسفی، زندگانی شاہ عباس اوّل، ج ۵، ص۸.
  39. محمد ابراہیم بن زین العابدین نصیری، دستور شہریاران، ص۱۴۲.
  40. محمد طاہر وحید قزوینی، عباسنامہ، ص۵۰ و محمد امین ریاحی، سفارتنامہ‌ہای ایران ص۴۵.
  41. انگلبر کمپفر، سفرنامہ کمپفر، ص۸۵.
  42. وحید قزوینی، عباسنامہ، ص۵۰؛ محمد امین ریاحی، سفارتنامہ‌ہای ایران، ص۴۵.


مآخذ

  • ابن بزاز، صفوہ الصفا، چاپ سنگی، بمبی، بی‌نا، ۱۳۲۹ شمسی
  • انگلبر کمپفر، سفرنامہ کمپفر، ترجمۃ کیکاوس جہانداری، تہران، انتشارات خوارزمی ۱۳۵۰
  • باستانی پاریزی، محمد ابراہیم، سیاست و اقتصاد عصر صفوی، تہران، انتشارات صفی علیشاہ، ۱۳۴۸ شمسی
  • ترکمان اسکندر بیک و محمد یوسف والہ، ذیل عالم ارای عباسی بہ تصحیح سہیلی خوانساری، تہران کتاب فروشی اسلامیہ، ۱۳۱۷ شمسی
  • تشکری، علی‌اکبر و نقیبی، الہام، تعامل و تقابل تصوف و تشیع در عصر صفوی، مجلہ پژوہش‌ہای تاریخی، شمارہ ۲۲، تابستان ۱۳۹۳
  • جعفریان، رسول، صفویہ در عرصہ دین، فرہنگ و سیاست، قم، پژوہشگاہ حوزہ و دانشگاہ،‌ ۱۳۸۹
  • حسین بیگ روملو، احسن التواریخ، تصحیح عبدالحسین نوایی، انتشارات اساطیر، تہران، چاپ اول، ۱۳۸۴ شمسی
  • خواند میر، تاریخ حبیب السیر، ۴ جلد زیر نظر دکتر دبیر سیانی، تہران، کتاب فروشی خیام، چاپ سوم، ۱۳۶۲ شمسی
  • راجر سیوری، ایران عصر صفوی، ترجمہ کامبیز عزیزی، نشر مرکز، تہران، ۱۳۷۲ شمسی
  • رجبی، محمد حسین، آراء فقیہان عصر صفوی دربارہ تعامل با حکومت‌ہا، مجلہ تاریخ و تمدن اسلامی، شمارہ ۹، بہار و تابستان ۸۸
  • رستم الحکما، محمد ہاشم، تہران، امیر کبیر، ۱۳۵۷ شمسی
  • روملو، حسن بیک، احسن التواریخ، تصحیح دکتر عبدالحسین نوایی، تہران، انتشاران باباک، ۱۳۵۷ شمسی
  • شاہ اسماعیل صفوی، اسناد و مکاتبات تاریخی، بہ اہتمام عبدالحسین نوایی، انتشارات ارغوان، چاپ اول، ۱۳۶۸ شمسی
  • شاہ تہماسب، تذکرہ شاہ تہماسب، برلن، چاپخانہ کاویانی، ۱۳۴۳ق
  • شرلی، سفرنامہ برادران شرلی، ترجمہ آوانس بہ کوشش علی دہباشی، تہران، انتشارات ملی، ۱۳۵۹ شمسی
  • شیخ نوری،‌ محمد امیر و پرغو، محمد علی، چگونگی رسمیت یافتن تشیع توسط صفویان و پیامدہای آن، فصلنامہ شیعہ شناسی، شمارہ ۳۰، تابستان ۱۳۸۹
  • صفا، میکائیل و رضایی، محمد، داستانی منابع عصر صفوی و رسمیت تشیع در ایران، مجلہ شیعہ شناسی، شمارہ ۲۴،‌ زمستان ۱۳۸۷
  • فروغی،‌اصغر، کارکرد مراسم سوگواری عاشورا در رسمی شدن مذہب شیعہ در زمان صفویہ، مجلہ مشکوہ، شمارہ ۸۱،‌ زمستان ۱۳۸۲
  • گودرزی،‌ حسین، کارکرد ہویت بخش مذہب شیعہ در دورہ صفویہ، مجلہ مطالعات ملی، شمارہ ۳۶، تابستان ۱۳۸۷
  • محمد ابراہیم بن زین العابدین نصیری، دستور شہریاران، بہ کوشش محمد نادر نصیری مقدم، تہران، بنیاد موقوفات افشار، ۱۳۷۳
  • محمد امین ریاحی، سفارتنامہ‌ہای ایران، تہران، انتشارات توس، ۱۳۶۸
  • محمد طاہر وحید قزوینی، عباسنامہ، بہ تصحیح ابراہیم دہگان، اراک، کتابفروشی داودی، ۱۳۲۹
  • محمد یوسف اصفہانی، خلد برین، بہ کوشش میر ہاشم محدث، بنیاد موقوفہ دکتر محمد افشار، تہران، ۱۳۷۲ شمسی
  • مزاوی، میشل، پیدایش دولت صفوی، ترجمہ یعقوب آژند، تہران، گسترہ، ۱۳۶۳ شمسی
  • منبع اصلی رابطہ صفویان با عثمانیان: مقالہ برگی از پیشینہ تلاش ایرانیان برای اتحاد مسلمانان، نوشتہ دکتر ابوالفضل عابدینی
  • نصرا... فلسفی، زندگانی شاہ عباس اوّل، تہران، انتشارات دانشگاہ تہران، ۱۳۵۲
  • نقش ترکان آناطولی در تشکیل و توسعہ دولت صفوی، پرفسور فاروق سومر، مترجم احسان اشراقی، محمد تقی امامی، تہران، نشر گستر، چاپ اول ۱۳۷۱ شمسی
  • نوایی، عبدالحسین، اسناد و مکاتبات تاریخی ایران(از تیمور تا شاہ اسماعیل)
  • نوایی، عبدالحسین، اسناد و مکاتبات تاریخی ایران(شاہ طہماسب)، تہران، انتشارات بنیاد فرہنگ، ۱۳۴۷ شمسی
  • میراحمدی، مریم، دین و مذہب در عصر صفوی، امیر کبیر، تہران، ۱۳۶۳ش.