مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:کم فروشی

ویکی شیعہ سے

کم فروشی یا تَطفِیف سے مراد خرید و فروخت کے وقت پیمانے، وزن یا مال کی مقدار میں کمی کرنا ہے۔ اسلامی فقہ میں کم فروشی حرام اور گناہ کبیرہ شمار ہوتی ہے اور قرآن مجید و احادیث میں اس سے نہی کی گئی ہے۔ فقہاء نے قرآن، سنت، اجماع اور عقل کی بنیاد پر اس کی حرمت کو ثابت کیا ہے۔

فقہاء کے نزدیک کم فروشی صرف وزنی یا پیمانے سے فروخت ہونے والی اشیاء تک محدود نہیں، بلکہ مال کی فراہمی یا خدمات کی ادائیگی میں دوسروں کے حق میں کسی بھی قسم کی کمی کرنے کو بھی کم فروشی کے حکم میں شامل کیا ہے۔ اسی بنا پر میٹر اور گنتی کے حساب سے فروخت ہونے والی اشیاء کے علاوہ ملازمت یا پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی بھی کم فروشی کی ایک صورت سمجھی جاتی ہے۔

مفہوم شناسی اور فقہی حکم

کم فروشی سے مراد یہ ہے کہ فروخت کے وقت گاہک کو پیمانے، وزن یا مال کی مقدار میں کمی دے دی جائے۔[1] دینی اور فقہی متون میں اس عمل کے لیے "تطفیف"، "بخس"، "نقص" اور "إخسار" جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔[2] کم فروشی سے متعلق روایات زیادہ تر حدیثی منابع کے باب "آداب التجارۃ" میں جمع کی گئی ہیں۔[3]

فقہاء نے کم فروشی کو حرام اور گناہان کبیرہ میں سے قرار دیا ہے۔[4] شیخ انصاری کے نزدیک یہ ان اعمال میں سے ہے جو بذاتِ خود حرام ہیں اور ان پر مبنی معاملہ بھی حرام ہوتا ہے۔[5] جعفر سبحانی بھی کم فروشی کی حرمت کو شیعہ فقہ کے قطعی اور مسلم احکام میں شمار کرتے ہیں۔[6] قرآن کریم اور احادیث میں کم فروشی کرنے والوں کے لیے عذاب الٰہی کا وعدہ بیان ہوا ہے۔[7]

جمہوری اسلامی ایران کے تجارتی اور پیشہ ورانہ نظام میں کم فروشی کو جرم قرار دیا گیا ہے اور اس کے ارتکاب کرنے والے کو مختلف سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔[8]

کم فروشی کے مصادیق

شیخ انصاری کے مطابق کم فروشی صرف وزنی اور پیمانے کے حساب سے فروخت ہونے والی اشیاء تک محدود نہیں، بلکہ گنتی اور ناپ سے فروخت ہونے والی اشیاء، مثلاً کپڑا، بھی اس میں شامل ہیں۔[9] سید ابو القاسم خوئی کے نزدیک کم فروشی کا معیار یہ ہے کہ ظلم یا خیانت کے ذریعے کسی کے حق میں کمی کی جائے۔ ان کے مطابق روایات میں پیمانے اور وزن کا ذکر صرف ایک مصداق بیان کرنے کے لیے ہے، نہ کہ حکم کو انہی تک محدود کرنے کے لیے۔[10] اسی بنیاد پر بعض فقہاء، جن میں ناصر مکارم شیرازی بھی شامل ہیں، قاعدہ "الغائے خصوصیت" سے استدلال کرتے ہوئے ہر قسم کی ذمہ داری میں کوتاہی کو کم فروشی کا مصداق قرار دیتے ہیں۔[11] چنانچہ اساتذہ، سرکاری ملازمین، قضات اور خطباء کی طرف سے اپنی ذمہ داریوں میں سستی، مثلاً فرائض کی انجام دہی میں تاخیر یا مناسب تیاری کے بغیر ذمہ داری ادا کرنا بھی کم فروشی کے مصادیق میں شمار کیا گیا ہے۔[12]

بعض محققین نے اس حکم کو سائبر اسپیس پر آن لائن پیش کی جانے والی خدمات تک بھی وسیع قرار دیا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنی خریدا گیا انٹرنیٹ پیکج مکمل رفتار یا مکمل حجم کے ساتھ فراہم نہ کرے اور اس کمی کی تلافی بھی نہ کرے، تو یہ بھی کم فروشی کے حکم میں آئے گا۔[13] اسی طرح ایسی پیک شدہ اشیاء فروخت کرنا جن میں درج شدہ یا متعارف مقدار سے کم مال موجود ہو، کم فروشی کی ایک اور صورت شمار کی گئی ہے۔[14]

کم فروشی کی حرمت کے دلائل

فقہاء نے کم فروشی کی حرمت ثابت کرنے کے لیے چار بنیادی دلائل، یعنی قرآن، روایات، اجماع اور عقل سے استدلال کیا ہے۔[15]

قرآنی آیات

قرآن کریم میں سات آیات ایسی ہیں جن میں تطفیف، بخس، نقص اور إخسار جیسے الفاظ کے ذریعے کم فروشی اور لوگوں کے حقوق میں کمی کرنے سے منع کیا گیا ہے اور پیمانہ پورا دینے، وزن میں انصاف کرنے اور دوسروں کے حقوق مکمل طور پر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔[16] ان میں نمایاں مثال سورہ مطففین کی ابتدائی آیات ہیں، جو وَیلٌ لِلمُطَفِّفین سے شروع ہوتی ہیں۔ ان آیات میں ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو خریدتے وقت اپنا حق پورا وصول کرتے ہیں، لیکن فروخت کرتے وقت دوسروں کے حق میں کمی کر دیتے ہیں۔ اکثر مفسرین نے ویل کو عذابِ الٰہی کی سخت وعید قرار دیا ہے،[17] جبکہ بعض کے نزدیک یہ جہنم کی ایک وادی یا مقام کا نام ہے۔[18] مطفف اس شخص کو کہا جاتا ہے جو پیمانے یا وزن میں کمی کرتا ہے۔[19]

روایات

کم فروشی کی حرمت پر احادیث سے بھی استدلال کیا گیا ہے۔

ان میں سے ایک روایت میں امام علیؑ نے تاجروں کو ہدایت فرمائی ہے کہ تجارت شروع کرنے سے پہلے اس کے احکام سیکھیں اور فرمایا کہ صرف وہی تاجر عذابِ الٰہی سے محفوظ ہے جو اپنا اور دوسروں کا حق پوری دیانت داری کے ساتھ ادا کرے۔[20] امام رضاؑ نے بھی پیمانے اور ترازو میں کمی کرنے کو گناہان کبیرہ میں شمار کیا ہے۔[21] اسی طرح رسول اکرمؐ سے منقول ایک روایت میں کم فروشی کو معاشرے میں متعدی بیماریوں کے پھیلنے، قحط سالی، معاشی تنگی اور ظالم حکمرانوں کے تسلط کا سبب قرار دیا گیا ہے۔[22]

اجماع فقہاء

سید ابو القاسم خوئی کے مطابق اکثر مسلمان فقہاء کم فروشی کو حرام قرار دیتے ہیں۔[23] علامہ حلی[24] اور سید محمد جواد عاملی[25] نے بھی اس مسئلے پر فقہاء کے اجماع کا دعویٰ کیا ہے۔ البتہ میرزا جواد تبریزی کے نزدیک یہ اجماع درحقیقت قرآن و حدیث کے دلائل پر مبنی ہے، اس لیے اسے حکمِ شرعی کے اثبات کے لیے مستقل دلیل نہیں سمجھا جاسکتا۔[26] ان کے مطابق کم فروشی کی حرمت قرآن، روایات اور عقل کے ذریعے ثابت ہوتی ہے۔[27]

دلیل عقلی

فقہاء کم فروشی کو ظلم کا ایک مصداق قرار دیتے ہیں اور چونکہ عقل ظلم کو ناپسند اور قبیح سمجھتی ہے، اس لیے کم فروشی کی حرمت کی بھی تائید کرتی ہے۔[28] سید ابو القاسم خوئی اس حکم کو مستقلات عقلیہ میں شمار کرتے ہیں۔[29] اس کے برعکس سید تقی طباطبائی قمی کا کہنا ہے کہ صرف عقل کسی شرعی حکم کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں؛[30] لہٰذا ان کے نزدیک کم فروشی کی حرمت کا اصل مستند قرآنِ کریم اور روایات ہیں۔[31]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. شیخ طوسی، تفسیر التبیان،‌ دار احیاء التراث العربی، ج10، ص295؛ شیخ انصاری، کتاب المکاسب، 1415ھ، ج1، ص199۔
  2. سبحانی، المواہب، 1416ھ، ج1، ص415۔
  3. کلینی، الکافی، 1387شمسی، ج10، ص15؛ حرعاملی، وسایل الشیعہ، مؤسسہ آل البیت لاحیاء التراث، ج12، ص282۔
  4. حلی، قواعد الاحکام، 1418ھ، ج2، ص10۔
  5. شیخ انصاری، کتاب المکاسب، 1415ھ، ج1، ص163۔
  6. سبحانی، المواہب، 1416ھ، ج1، ص415۔
  7. نجفی، جواہرالکلام، 1362شمسی، ج13، ص320۔
  8. قانون نظام صنفی کشور، مصوب 1392شمسی، مادہ 58۔
  9. شیخ انصاری، کتاب المکاسب، 1415ھ، ج1، ص199.
  10. خویی، مصباح الفقاہہ، 1417ھ، ج1، ص386۔
  11. ایزدی‌فرد، حسین کاویار، «بررسی فقہی کم‌فروشی در معاملات»، ص113۔
  12. «حکم «کم‌فروشی» در اسلام و سرنوشت «کم‌فروشان»، اطلاع رسانی دفتر آیت‌اللہ مکارم شیرازی۔
  13. محمدی‌راد و مامقانی، «قلمرو کم‌فروشی در فقہ و حقوق ایران»، ص208۔
  14. محمدی‌راد و مامقانی، «قلمرو کم‌فروشی در فقہ و حقوق ایران»، ص208۔
  15. خویی، مصباح الفقاہہ، 1417ھ، ج1، ص384؛ شیخ انصاری، کتاب المکاسب، 1415ھ، ج1، ص199۔
  16. سورہ اعراف، آیہ 85؛ سورہ ہود، آیات84-85؛ سورہ شعراء، آیہ 183؛ سورہ مطففین، آیات 1-3؛ سورہ الرحمن، آیہ 9؛ سورہ شعراء، آیہ 181۔
  17. شیخ طوسی، تفسیر التبیان،‌ دار احیاء التراث العربی، ج10، ص295۔
  18. اصفہانی، المفردات فی غریب القرآن، 1412ھ، ج1، ص888۔
  19. طبرسی، مجمع البیان، 1415ھ، ج10، ص295۔
  20. کلینی، الکافی، 1387شمسی، ج10، ص15-16۔
  21. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، 1404ھ، ج1، ص134۔
  22. شیخ صدوق، ثواب الاعمال، 1364شمسی، ج1، ص252۔
  23. خویی، مصباح الفقاہہ، 1417ھ، ج1، ص384۔
  24. حلی، تذکرہ الفقہا، 1422ھ، ج12، ص148۔
  25. حسینی عاملی، مفتاح الکرامہ، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ج12، ص299۔
  26. تبریزی، ارشاد الطالب، 1399ھ، ج1، ص132۔
  27. تبریزی، ارشاد الطالب، 1399ھ، ج1، ص132۔
  28. ذہنی تہرانی، تشریح المطالب، 1369شمسی، ج2، ص427۔
  29. خویی، مصباح الفقاہہ، 1417ھ، ج1، ص385۔
  30. طباطبایی قمی، عمدۃ المطالب، 1413ھ، ج1، ص178۔
  31. طباطبایی قمی، عمدۃ المطالب، 1413ھ، ج1، ص178۔

مآخذ

  • انصاری، مرتضی، کتاب المکاسب، قم، مجمع الفکر الإسلامی، 1415ھ۔
  • ایروانی، محمدباقر، الحلقۃ الثالثۃ فی أسلوبہا الثانی، قم، المحبین للطباعۃ والنشر، بی‌تا۔
  • ایزدی‌فرد، علی‌اکبر و حسین کاویار، «بررسی فقہی کم‌فروشی در معاملات»(معاملات میں کم فروشی کا فقہی جائزہ)، اسلامی معاشیات اور بینکاری کا سہ ماہی تحقیقی جریدہ، شمارہ اول، سرما 1391ہجری شمسی۔
  • تبریزی، میرزا جواد، ارشاد الطالب الی تعلیق المکاسب، قم، مطبعہ مہر، 1399ھ۔
  • حرعاملی، محمد بن حسن، وسایل الشیعہ، قم، مؤسسۃ آل البیت (علیہم السلام) لإحیاء التراث، بی‌تا۔
  • حسینی عاملی، سید جواد، مفتاح الکرامہ، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، بی‌تا۔
  • حلی، حسن بن یوسف، تذکرہ الفقہا، قم، مؤسسۃ آل البیت(ع) لإحیاء التراث، 1422ھ۔
  • حلی، حسن بن یوسف، قواعد الاحکام، قم، مؤسسۃ النشر الإسلامی، 1418ھ۔
  • «حکم «کم‌فروشی» در اسلام و سرنوشت «کم‌فروشان»(اسلام میں کم فروشی کا حکم اور کم فروش کا انجام)، آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی کے دفتر کی اطلاع رسانی ویب سائٹ، تاریخ مشاہدہ: 10 نومبر 2020ء۔
  • خویی، سید ابوالقاسم، مصباح الفقاہہ، قم، مکتبۃ الداوری، پہلی اشاعت، 1417ھ۔
  • ذہنی تہرانی، سید محمدجواد، تشریح المطالب، قم، نشر حاذق، 1369ہجری شمسی۔
  • راغب اصفہانی، المفردات فی غریب القران، بیروت،‌ دار القلم، 1412ھ۔
  • سبحانی، جعفر، المواہب فی تحریر احکام المکاسب، قم، مؤسسہ الامام الصادق(ع)، 1416ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، قم، الشریف الرضی، 1364ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، عیون اخبار الرضا(ع)، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، 1404ھ۔
  • طباطبایی قمی، سید تقی، عمدہ المطالب فی التعلیق علی المکاسب، قم، نشر محلاتی، 1413ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، پہلی اشاعت، 1415ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، تفسیر التبیان، بیروت،‌ دار احیاء التراث العربی، بی‌تا۔
  • قانون نظام صنفی کشور، مصوب 1392ہجری شمسی۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، قم، انتشارات‌دار الحدیث، پہلی اشاعت، 1387ہجری شمسی۔
  • مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل‌بیت(ع)، زیرنظر: سید محمود ہاشمی شاہرودی، قم، مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، 1387ہجری شمسی۔
  • محمدی راد، حمید؛ مامقانی، زینب، «قلمرو کم فروشی در فقہ و حقوق ایران»(فقہ اور ایرانی قانون میں کم فروشی کا دائرۂ کار)، مجلہ فقہ و مبانی حقوق اسلامی، شمارہ1، بہار و گرما 1397ہجری شمسی۔
  • نجفی، محمدحسن، جَواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دارُ اِحیاء التُّراثِ العربی، چاپ ہفتم، 1362ہجری شمسی۔