مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:نجاشی حبشہ کے بادشاہ

ویکی شیعہ سے
نجاشی
حبشہ کے بادشاہ
ایتھوپیا میں نجاشی سے منسوب مقبرہ
ایتھوپیا میں نجاشی سے منسوب مقبرہ
کوائف
ناماَصحَم بن اَبجَر
لقبنجاشی
مذہبمسیحیت / اسلام
مدفنایتھوپیا
حکومت
محدودہحبشہ
معاصرپیغمبر اکرمؐ
اہم اقداماتمسلمان مہاجرین کو پناہ دینا، پیغمبر اسلام کے ساتھ مکاتبات

نجاشی، حبشہ (ایتھوپیا) کے بادشاہ تھے جو مسلمان مہاجرین کو پناہ دینے، رسول اکرمؐ کے ساتھ خط و کتابت اور ممکنہ طور پر اسلام قبول کرنے کی وجہ سے ہمیشہ توجہ کا مرکز رہے ہیں۔

رسول اکرمؐ نے ایک خط کے ذریعے نجاشی کو اسلام کی دعوت دی۔ ایک اور خط میں ابوسفیان کی بیٹی امِّ حبیبہ کا ان سے عقد کرنے کی درخواست کی ۔ نجاشی نے نہایت ادب و احترام کے ساتھ ان درخواستوں کا مثبت جواب دیا۔ البتہ نجاشی کے اسلام لانے کے بارے میں مورخین میں اختلاف پایا جاتا ہے؛ بعض مورخین ان کی طرف سے نبی اکرمؐ کے لئے بھیجے گئے تحائف اور دیگر شواہد سے استناد کرتے ہوئے انہیں مسلمان قرار دیتے ہیں۔

نجاشی کے انتقال کے بعد رسول اکرمؐ نے ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔ چونکہ فقہ شیعہ میں غائبانہ نماز جنازہ جائز نہیں ہے اس لئے بعض علما نے اس عمل کو دعا یا ایک خاص اور استثنائی واقعہ قرار دیا ہے۔

بعض مفسرین کے مطابق قرآن کریم کی چند آیات نجاشی کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، اور رسول اکرمؐ نے بھی نجاشی کو ایک عادل حکمراں کے طور پر یاد فرمایا ہے۔

تعارف اور مقام

نجاشی حبشہ کے بادشاہ تھے جن کا اصل نام اَصحَم بن اَبجَر [1] یا اَصحَمَۃ بن اَبجَر،[2] بتایا جاتا ہے۔ بعض تاریخی واقعات منجملہ مسلمان مہاجرین کو پناہ دینے،[3] رسول خداؐ کے ساتھ مکاتبات،[4] ممکنہ طور پر اسلام لانے[5] اور نبی اکرمؐ کی طرف سے ان کی نماز جنازہ ادا کئے جانے کے باعث،[6] صدر اسلام کی مؤثر شخصیات میں شمار ہوتا ہے۔[7]

بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ قرآن کی بعض آیات، جیسے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 115[8] اور 121،[9] سورۂ آل عمران آیت نمبر 199،[10] سورہ مائدہ کی آیت نمبر 82 اور 83،[11] اور سورہ قصص کی آیت نمبر 5254،[12] نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئیں ہیں۔ تاہم، بعض تحقیقی مطالعات کے مطابق ان روایات کے اسناد ضعیف ہیں اور ان کے مقابلے میں دوسری متعارض اور مخالف روایات بھی موجود ہیں۔[13]

احادیث نبوی میں نجاشی کو ایک حکیم، عادل اور صالح بادشاہ کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔[14] بعض تاریخی منابع کے مطابق اصحاب فیل کا سردار ابرہہ نجاشی کا دادا تھا،[15] لیکن بعض مورخین کے مطابق وہ ان کے دادا کا دوست تھا۔[16]

نجاشی: لقبِ سلاطین حبشہ

تاریخی منابع کے مطابق لفظ "نجاشی" حبشہ کے بادشاہوں کا لقب تھا۔[17] سید جعفر مرتضی عاملی کے مطابق رسولِ اکرمؐ کی بعثت کے زمانے میں حبشہ کے تین بادشاہ اس لقب سے معروف تھے۔ پہلا نجاشی (اَصحَم بن اَبجَر) جس نے مسلمانوں کو پناہ دی، جبکہ تیسرا نجاشی جس نے نبی اکرمؐ کے خط کو پھاڑ دیا، اور پیغمبر اکرمؐ نے اس کی سلطنت کے زوال کی پیشین گوئی کی تھی۔[18]

مہاجرین حبشہ کو پناہ دینا

کہا جاتا ہے کہ رسول اکرمؐ نے قریش کے ظلم و ستم سے محفوظ رہنے کے لئے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ اس فرمان کے بعد دو قافلے حبشہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریش نے عمرو بن عاص اور عبد اللہ بن ربیعہ کو ان مسلمانوں کو واپس لانے کے لیے حبشہ بھیجا، مگر نجاشی نے جعفر طیار کا بیان سننے کے بعد مسلمانوں کو قریش کے حوالے کرنے سے انکار کردیا اور انہیں پناہ دی۔[19]

رسول اکرمؐ کے خطوط اور نجاشی کا ممکنہ طور پر اسلام لانا

تاریخی روایات کے مطابق، رسول اکرمؐ نے سنہ 6[20] یا 7 ہجری[21] اور بعض کے نزدیک صلح حدیبیہ کے بعد متعدد بادشاہوں کے نام خطوط ارسال کئے جن میں ان کو اسلام کی دعوت دی گئی تھی، منجملہ ان میں حبشہ کے حکمراں نجاشی بھی شامل ہیں۔[22] کہا جاتا ہے کہ نجاشی نے پیغمبر اکرمؐ کی اس دعوت کو قبول کرتے ہوئے اسلام قبول کیا،[23] جعفر بن ابی طالب کے سامنے اپنی زبان پر شہادتین ادا کیا،[24] اور رسول اکرمؐ کو تحفے تحائف بھیجے، جن میں ایک کنیز بھی شامل ہیں جن کا نام ماریہ قبطیہ تھا۔[25]

تاریخِ طبری کے مطابق نجاشی نے نبی اکرمؐ کے نام تحریر کردہ ایک خط میں آپؐ کی اجازت سے مدینہ آنے کی خواہش ظاہر کی۔[26] تاہم بعض محققین اس سلسلے میں موجود متعارض احادیث کی بنا پر نجاشی کے اسلام قبول کرنے کو یقینی نہیں سمجھتے ہیں،[27] اسی طرح بعض منابع کے مطابق نجاشی آخری وقت تک عیسائی رہے اور بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز (عبادت) ادا کرتے رہے۔[28]

رسولِ اکرمؐ نے ایک اور خط میں ابو سفیان کی بیٹی امِّ حبیبہ سے آپ کا نکاح کرنے درخواست کی ۔ نجاشی نے اس درخواست کا مثبت جواب دیتے ہوئے چار سو دینار حق مہر پر ام حبیہ کو پیغمبر اکرمؐ کی زوجیت میں لایا اور انہیں دیگر مہاجرین کے ساتھ مدینہ روانہ کر دیا۔[29]

نجاشی کی غائبانہ نماز جنازہ کی فقہی حیثیت

ایتھوپیا میں نجاسی سے منسوب مقبرہ اور مسجد

روایات کے مطابق جب نجاشی کا انتقال ہوا تو رسول اکرمؐ نے مدینہ میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی اور صحابہ کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دی۔[30] شیعہ فقہ میں غائبانہ نماز میت جائز نہیں ہے؛[31] اس لئے شیعہ علماء نے امام صادقؑ سے مروی ایک حدیث[32] سے استناد کرتے ہوئے اس واقعہ کو دعا[33] یا ایک استثنائی واقعہ[34] قرار دیا ہے جو کسی اور صحابی کے حق میں تکرار نہیں ہوا۔[35] اس موضوع سے متعلق روایات کو بھی سند کے لحاظ سے ضعیف قرار دیا گیا ہے[36] اور کہا گیا ہے کہ ان کے مقابلے میں بعض متضاد روایات بھی موجود ہیں۔[37]

ایتھوپیا میں نجاشی کا مقبرہ

ایتھوپیا کے علاقے تِگرائے کی بستی نجاش میں ایک مسجد اور مقبرہ واقع ہے جو نجاشی سے منسوب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہاں رسول اکرمؐ کے پندرہ صحابی بھی مدفون ہیں۔[38] یہ مسجد براعظم افریقہ کی قدیمی ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔[39] ترک خبر رساں ایجنسی آناتولی اور سائٹ آف اسپیشلائزڈ مساجد کے مطابق، ایتھوپیا کی داخلی جنگوں میں نقصان پہنچنے کے بعد ترکی کے ادارۂ تعاون (TIKA) نے اس مسجد کی مرمت کی ہے۔[40]

حوالہ جات

  1. بیہقی، دلائل النبوۃ، 1405ھ، ج2، ص309۔
  2. ابوحیان توحیدی، الإمتاع و الموانسۃ، 1424ھ، ج1، ص226؛ طبری، تاریخ الطبری، 1387ش، ج‏2، ص652-653؛ ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج‏1، ص198-199۔
  3. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، دارصادر، ج2، ص29۔
  4. طبری، تاریخ الطبری، 1387ش، ج‏2، ص652۔
  5. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج‏1، ص198-199۔
  6. صدوق، الخصال، 1362ش، ج2، ص360؛ قطب‌الدین راوندی، الخرائج و الجرائح، 1409ھ، ج1، ص64۔
  7. بستانی و ہمکاران، «نجاشی حبشہ کے بادشاہ سے متعلق آیات کی شأن نزول میں وارد ہونے والی احادیث کا تجزیہ»، ص37-39۔
  8. واحدی، اسباب النزول، 1412ھ، ص38۔
  9. واحدی، اسباب النزول، 1412ھ، ص40۔
  10. واحدی، اسباب النزول، 1412ھ، ص140؛ طبرسی، مجمع البیان، 1415ھ، ج2، ص480۔
  11. طوسی، التبیان فی تفسیر القرآن، 1409ھ، ج3، ص614۔
  12. طبری، جامع البیان، 1420ھ، ج10، ص505۔
  13. بستانی و ہمکاران، «نجاشی حبشہ کے بادشاہ سے متعلق آیات کی شأن نزول میں وارد ہونے والی احادیث کا تجزیہ»، ص41-57۔
  14. بستانی و ہمکاران، «نجاشی حبشہ کے بادشاہ سے متعلق آیات کی شأن نزول میں وارد ہونے والی احادیث کا تجزیہ»، ص40۔
  15. ابوالسعود، تفسیر ابی‌السعود، دار احیا التراث العربی، ج9، ص201۔
  16. طبرسی، مجمع البیان، 1415ھ، ج10، ص442۔
  17. ابن‌اثیر، اسدالغابۃ، 1415ھ، ج1، ص189.
  18. عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم، 1385ش، ج17، ص56۔
  19. طبری، تاریخ طبری، 1387ش، ج2، ص328-332۔
  20. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج‏1، ص198؛ طبری، تاریخ الطبری، 1387ش، ج‏2، ص644۔
  21. ابن‌قیم، زاد المعاد، 1415ھ، ج1، ص120۔
  22. یوسفی غروی، موسوعۃ التاریخ الاسلامی، 1417ھ، ج2، ص651؛ طبری، تاریخ الطبری، 1387ش، ج‏2، ص645۔
  23. طبری، تاریخ الطبری، 1387ش، ج‏2، ص652-653۔
  24. یوسفی غروی، موسوعۃ التاریخ الاسلامی، 1417ھ، ج2، ص653-654۔
  25. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج‏1، ص198۔
  26. طبری، تاریخ الطبری، 1387ش، ج‏2، ص652-653۔
  27. بستانی و ہمکاران، «واکاوی روایی-تاریخی گزارش‌ہای اسلام آوردن نجاشی پادشاہ حبشہ»، ص86۔
  28. جاحظ، المختار فی الرد علی النصاری، 1411ھ، ص61۔
  29. طبری، تاریخ الطبری، 1387ش، ج‏2، ص652-653؛ ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج‏1، ص198؛ یوسفی غروی، موسوعۃ التاریخ الاسلامی، 1417ھ، ج2، ص654-657۔
  30. صدوق، الخصال، 1362ش، ج2، ص360؛ قطب‌الدین راوندی، الخرائج و الجرائح، 1409ھ، ج1، ص64۔
  31. برای نمونہ نگاہ کنید بہ: علامہ حلّی، منتہی المطلب، 1412ھ، ج7، ص 296؛ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1419ھ، ج2، ص100۔
  32. مجلسی، بحار الأنوار، 1403ھ، ج78، ص347۔
  33. مجلسی، بحار الأنوار، 1403ھ، ج78، ص347۔
  34. مجلسی، بحار الأنوار، 1403ھ، ج78، ص347۔
  35. مغنیہ، الفقہ علی المذاہب الخمسۃ، 1421ھ، ج1، ص60۔
  36. رحیمی، «اسلامی فقہ میں عائبانہ نماز میت کی مشروعیت کا تجزیہ»، ص147۔
  37. شہید ثانی، تمہید القواعد، 1416ھ، ص174۔
  38. «اتیوپی نجاشی سے منسوب تاریخی مسجد کی مرمت کرتا ہے.»، ایکنا۔
  39. «بازسازی قدیمی‌ترین مسجد آفریقا در اتیوپی»، ایکنا۔
  40. «مسجد نجاشی کی تعمیر ہوئی.»، پایگاہ تخصصی مسجد۔

مآخذ

  • ابن‌اثیر، علی ابن ابی‌الکرم، اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1415ھ۔
  • ابوالسعود، محمد بن محمد، تفسیر ابی‌السعود، بیروت، دار احیا التراث العربی، بی‌تا۔
  • ابوحیان توحیدی، علی بن محمد، الإمتاع و الموانسۃ، تحقیق: ہیثم خلیفۃ طعیمی، بیروت، المکتبۃ العصریۃ، 1424ھ۔
  • ابن‌سعد، محمد بن سعد، الطبقات الكبری تحقیق: محمد عبدالقادر عطا، بیروت، دار الكتب العلمیۃ، چاپ اول، 1410ھ۔
  • ابن‌قیم جوزیۃ، محمد بن ابی‌بکر، زاد المعاد فی ہدی خیر العباد، تحقیق: شعیب ارنووط و عبدالقادر ارنووط، بیروت، موسسۃ الرسالۃ، 1415ھ۔
  • بستانی، قاسم و مینا شمخی و علی مطوری و عیسی محمودی مرزعاوی، «نجاشی حبشہ کے بادشاہ سے متعلق آیات کی شأن نزول میں وارد ہونے والی احادیث کا تجزیہ»، فصلنامہ مطالعات فہم حدیث، شمارہ 18، 2023 عیسوی۔
  • بستانی، قاسم و مینا شمخی و عیسی محمودی مرزعاوی، «واکاوی روایی-تاریخی گزارش‌ہای اسلام آوردن نجاشی پادشاہ حبشہ»، فصلنامہ تاریخ اسلام، دورہ 26، شمارہ 1، 2025 عیسوی۔
  • بیہقی، احمد بن حسین، دلائل النبوۃ و معرفی أحوال صاحب الشریعۃ، تحقیق: عبدالمعطی قلعجی، بیروت، دارالكتب العلمیۃ، چاپ اول، 1405ھ۔
  • «مسجد نجاشی کی تعمیر ہوئی.»، سایت تخصصی مسجد، تاریخ اخذ 22 ستمبر 2025 عیسوی۔
  • جاحظ، عمرو بن بحر، المختار فی الرد علی النصاری، بیروت، دارالجیل، 1411ھ۔
  • «اتیوپی نجاشی سے منسوب تاریخی مسجد کی مرمت کرتا ہے.»، ایکنا، تاریخ درج: 31 اکتوبر 2018 عیسوی، تاریخ اخذ: 22 ستمبر 2025 عیسوی۔
  • «بازسازی قدیمی‌ترین مسجد آفریقا در اتیوپی»، ایکنا، تاریخ درج: 5 جنوری 2021 عیسوی، تاریخ اخذ: 22 ستمبر 2025 عیسوی۔
  • رحیمی، مرتضی، «اسلامی فقہ میں عائبانہ نماز میت کی مشروعیت کا تجزیہ»، دو فصلنامہ تخصصی مطالعات فقہ و اصول مذاہب، سال پنجم، شمارہ اول، بہار و تابستان 2022 عیسوی۔
  • شہید ثانی، زین‌الدین بن علی، تمہید القواعد الأصولیۃ و العربیۃ، قم، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی، چاپ اول، 1416ھ۔
  • صدوق، محمد بن علی، الخصال، محقق و مصحح: علی‌اکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ اول، 1983 عیسوی۔
  • طباطبایی یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی (المحشّٰی)، مرتّب: احمد محسنی سبزواری‌، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ اول، 1419ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بعض محققین کی کوششوں سے، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1415ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری(نشر تاریخ الأمم و الملوك)، تحقیق: محمد أبو الفضل ابراہیم، بیروت، دار التراث، چاپ دوم، 1968 عیسوی۔
  • طبری، محمد بن جریر، جامع البیان، تحقیق احمد محمد شاکر، بیروت، موسسۃ الرسالۃ، 1420ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، تحقیق احمد حبیب قصیر، بی‌جا، مکتبۃ الاعلام الاسلامی، 1409ھ۔
  • عاملی، سید جعفر مرتضی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم، قم، دارالحدیث کی اشاعت و طباعت کا ادارہ، 2006 عیسوی۔
  • علامہ حلّی، حسن بن یوسف، منتہی المطلب فی تحقیق المذہب، مشہد، مجمع البحوث الإسلامیۃ، چاپ اول، 1412ھ۔
  • قطب‌الدین راوندی، سعید بن عبد اللّٰہ، الخرائج و الجرائح، قم، مؤسسہ امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ، چاپ اول، 1409ھ۔
  • مجلسی، محمدباقر، بِحارُ الاَنوارِ الجامعۃُ لِدُرَرِ اَخبارِ الاَئمۃِ الاَطہار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، چاپ دوم، 1403ھ۔
  • مغنیہ، محمدجواد‌، الفقہ علی المذاہب الخمسۃ، بیروت، دارالتیار الجدید، دار الجواد، چاپ دہم، 1421ھ۔
  • واحدی، علی بن احمد، اسباب نزول القرآن، تحقیق عصام بن عبدالمحسن، الدمام السعودیۃ، دار الاصلاح، 1412ھ۔
  • یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ الیعقوبی، بیروت، دار صادر، بی‌تا۔
  • یوسفی غروی، محمدہادی، موسوعۃ التاریخ الاسلامی، قم، مجمع الفکر الاسلامی، 1417ھ۔