ابراہیم امینی نجف آبادی

ویکی شیعہ سے
(آیت اللہ امینی سے رجوع مکرر)
آیت اللہ ابراہیم امینی
کوائف
تاریخ ولادت1925ء
آبائی شہرنجف آباد
رہائشنجف آباد، قم، اصفہان
تاریخ وفات24 اپریل 2020ء
مدفنحرم حضرت معصومہ
علمی معلومات
مادر علمیقم اور اصفہان
اساتذہآیت‌ اللہ بروجردیامام خمینیعلامہ طباطبائیآیت‌ اللہ گلپایگانی
تالیفاتدروس من الثقافۃ الاسلامیۃ، بررسی مسائل کلی امامت، زن در اسلام و ...
خدمات
سیاسیمجلس خبرگان کے نائب صدر، عضو مجمع تشخیص مصلحت نظام، عضو شورای بازنگری قانون اساسی، اہل بیت عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے رکن
سماجیامام جمعہ قم
ویب سائٹآیت‌ اللہ امینی کی آفیشیل ویب سائٹ


ابراہیم امینی نجف‌ آبادی (1925ء-2020ء) شیعہ مجتہد، انقلاب اسلامی ایران کے فعال رکن، مجلس خبرگان (ماہرین کی کونسل) کے نائب صدر، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم و مجمع تشخیص مصلحت نظام کے رکن، امام جمعہ قم، امام جماعت مسجد اعظم قم اور آیت‌ اللہ بروجردی، امام خمینی و علامہ طباطبائی کے شاگردوں میں سے تھے۔

حوزہ علمیہ قم کی اصلاح کے لئے ایک گروہ کی تشکیل، سنہ 1962ء کو سیاسی احکام کا اجراء، امام خمینی کی مرجعیت کے اعلان پر دستخط اور امام خمینی کی آزادی کے لئے لوگوں کو احتجاج کرنے کی تشویق من جملہ آپ کے اسلامی انقلاب سے پہلے کی سیاسی فعالیتوں میں سے ہیں۔ ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد آپ نے امام خمینی کے نمائندے کی حیثیت سے لوگوں کی مشکلات کی برطرفی کے لئے ایران کے مختلف شہروں کا سفر کیا اور آپ ایران کے آئین کی ترمیم کے لئے بنائے گئے کونسل کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔

آبت اللہ امینی مختلف موضوعات پر متعدد تألیفات کے مالک ہیں۔آپ کے قلمی آثار میں سے کتاب فرہنگ اسلامی و تعلیمات دینی اور داد گستر جہان ایران کے سرکاری اسکولوں اور حوزہ علمیہ قم کے درسی نصاب میں شامل ہیں۔ اسلامی انقلاب کے بعد مذہبی سوالات اور اعتراضات کے جوابات آپ کی ترجیحات میں سے تھے۔ "خود سازى (تزكيہ و تہذيب نفس)"، "جوان اور انتخاب ہمسر‏" اور "شوہر داری" آپ کے قلمی آثار میں سے ہیں۔

سوانح حیات اور تعلیم

آیت اللہ ابراہیم امینی 1925ء کو ایران کے شہر نجف‌ آباد میں پیدا ہوئے اور چھ سال کی عمر میں باپ کی شفقت سے محروم ہوئے۔[1] ابتدائی تعلیم نجف آباد میں حاصل کرنے کے بعد سنہ 1942ء میں اعلی تعلیم کے لئے حوزہ علمیہ قم میں داخلہ لیا لیکن 3 ماه کے بعد حوزہ علمیہ قم میں رہنے کی خواہش کے باوجود مالی مشکلات کے باعث حوزہ علمیہ اصفہان جانے پر مجبور ہوئے۔[2] آپ نے چھ سال کے عرصے میں اصفہان میں سطوح کے دروس کو مدرسہ نوریہ، مدرسہ کاسہ‌ گران اور مدرسہ جدہ بزرگ میں پایہ تکمیل تک پہنچایا اور اس عرصے میں آپ میرزا علی آقا شیرازی کے شاگردوں میں سے تھے۔[3]

سنہ 1947ء کو اعلی تعلیم کے لئے قم چلے گئے۔[4] قم میں آپ آیت اللہ گلپایگانی، آیت اللہ مرعشی نجفی، امام خمینی، علامہ طباطبائی اور حاج ‌آقا رحیم ارباب کے شاگردوں میں سے تھے اور درس اخلاق کے لئے امام خمینی اور آقا حسین قمی کی کلاس میں شرکت کرتے تھے۔[5] آیت اللہ ابراہیم امینی ان بارہ افراد میں سے تھے جنہوں نے آیت‌ اللہ حکیم کی رحلت کے بعد امام خمینی کی مرجعیت کا اعلان کیا۔[6]

وفات

آیت اللہ امینی 24 اپریل سنہ 2020ء بمطابق 30 شعبان 1441ھ کو قم میں وفات پائے[7] اور 26 اپریل کو حرم حضرت معصومہ میں دفن ہوئے۔ آپ کی نماز جنازہ آیت‌ اللہ نوری ہمدانی نے پڑھائی۔[8] کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے احتیاطی تدابیر کے باعث آپ کی تشییع جنازہ اور تدفین کے مراسم عمومی طور پر برگزار نہیں ہوئے۔[9]

علمی اور ثقافتی سرگرمیاں

دینی علوم کا تخصصی‌‌ ہونا ایک ضرورت ہے

نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس چیز کی طرف نہ پہلے توجہ دی گئی اور نہ اس زمانے میں خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ البتہ ان اواخر میں کچھ شعبہ جات وجود میں آگئے ہیں؛ لیکن پھر بھی ان چیزوں کی طرف جدّیت کے ساتھ توجہ نہیں دی جا رہی بلکہ انہیں ایک فرعی کام شمار کیا جاتا ہے

آیت اللہ امینی، «خسارت چند اشتباہ»

آیت اللہ ابراہیم امینی فقہ، اصول، فلسفہ اور کلام کی تدریس کرتے تھے اور مختلف ممالک من جملہ انگلستان، فرانس، شام، پاکستان، چین اور جاپان وغیرہ میں علمی اور ثقافتی سیمیناروں میں شرکت کرتے تھے۔[10]

آیت اللہ امینی نے سنہ 1998ء سے مسجد اعظم قم میں نماز مغرب و عشاء کی امامت کرتے آئے ہیں۔[11] آپ نماز کے بعد لوگوں کے مسائل خاص دینی سوالات کے جواب دیتے تھے۔[12]

آیت اللہ امینی نے اسلامی انقلاب کے بعد اپنی توجہ دینی سوالات اور اعتراضات خاص کر جدید مسائل کی طرف مبذول کیا۔[13] آپ کے مطابق ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بہت سارے علمی شخصیات جدید مسائل کے بارے میں اسلامی نقطہ نگاہ کو ترجیح دینے لگے ہیں؛ اور چونکہ حوزہ علمیہ کے محصلین اپنے درس و بحث میں بہت زیادہ مشغول ہوتے ہیں، آپ نے اس کام کی ذمہ داری اٹھائی۔[14]

آثار

فرہنگ اسلامی و تعلیمات دینی

مختلف اسلامی موضوعات پر آیت اللہ ابراہیم امینی کی 34 جلد کتابیں شایع ہو چکی ہیں۔[15] آپ اپنی تصنیف کا مقصد معاشرے کی ضرورت اور اس موضوع پر مناسب کتابوں کی کمی قرار دیتے ہیں۔[16] قرآن کریم کی تعلیم اور فرہنگ اسلامی و تعلیمات دینی پرائمری اور میڈل سطح کے کلاسوں کی[17] اور "دادگستر جہان" امام مہدی(عج) کے بارے میں لکھی گئی کتاب[18] اور حوزہ علمیہ کے درسی کتاب ہے[19] اس کے علاوہ کچھ اخلاقی موضوعات پر لکھی گئی کتابیں من جملہ "خودسازى (تزكيہ و تہذيب نفس)"، "جوان اور انتخاب ہمسر" اور "ہمسرداری" ان کے آثار میں سے ہیں۔

سیاسی سرگرمیاں

آیت‌ اللہ امینی اسلامی جمہوری ایران کے سیاسی شخصیات میں سے ہیں۔ آپ مجلس خبرگان رہبری کے نائب صدر اور امام جمعہ قم رہ چکے ہیں۔[20] اسلامی انقلاب سے پہلے اور بعد دونوں ادوار میں آپ نے مختلف سیاسی سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

اسلامی انقلاب سے پہلے

آیت اللہ امینی نجف آبادی اسلامی انقلاب کے لئے جد و جہد کرنے والوں میں سے تھے اور اپنے دوستوں اور ہمفکروں من جملہ قدوسی، ربانی شیرازی، مصباح یزدی، آیت اللہ خامنہ‌ای اور ہاشمی رفسنجانی وغیرہ کے ساتھ سنہ 1962ء کو قم میں ایک تنظیم تشکیل دی جو بعد میں جامعہ مدرسین حوزہ قم کے مرکزی ڈھانچے میں تبدیل ہوئی۔[21] اس تنظیم کا بنیادی مقصد حوزہ علمیہ کی اصلاح، امر بہ معروف اور نہی عن المنکر اور سیاسی احکام کا اجراء تھا۔ اسی طرح اسی گروہ کے توسط سے بعثت اور انتقام نامی مجلات بھی شایع ہوتے تھے۔[22]
امام خمینی کی گرفتاری کے واقعے میں آیت اللہ امینی کا شمار ان علماء میں ہوتا ہے جو اس واقعے کی مذمت کرنے کے لئے قم سے تہران چلے گئے۔[23] اسی طرح آپ اس گرفتاری کے خلاف منتشر ہونے والے اعلانات اور اس واقعے کے خلاف لوگوں کو احتجاجات کرنے پر تشویق دینے میں بھی پیش پیش رہتے تھے۔[24] آیت اللہ امینی نے اپنی ڈائری میں سنہ 1963ء سے اسلامی انقلاب کی کامیابی تک کے بعض واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے۔[25] ان واقعات میں سے بعض یہ ہیں: مدرسہ فیضیہ کا واقعہ، امام خمینی کی گرفتاری، 15 خرداد کا واقعہ اور سنہ 1962ء سے اسلامی انقلاب کی کامیابی تک کے واقعات۔[26]

ایران کے اسلامی انقلاب کی بعد

آیت اللہ امینی نجف‌ آبادی اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، امام صادق یونیورسٹی، مجلس خبرگان اور مجمع تشخیص مصلت نظام کے رکن رہ چکے ہیں۔ اسی طرح آپ ایران کے آئین میں ترمیم کے لئے بنائے گئے کونسل کے ممبر بھی رہے اور اسلامی انقلاب کے اوائل میں امام خمینی کے نمائندے کے حیثیت سے ایران کے بعض شہروں میں رفت آمد کرتے رہے۔[27] اسی طرح سنہ 1980ء میں امام خمینی کی طرف سے ترکمن‌ صحرا جا کر وہاں کے لوگوں کے درمیان منافقین کی طرف سے ایجاد کردہ اختلافات کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔[28] آیت اللہ امینی اہل بیت عالمی اسمبلی کے سپریم کونسل کے رکن اور شہر قم کے امام جمعہ کے منصب پر بھی رہ چکے ہیں۔[29]

حوالہ جات

  1. ۔بیو گرافی ؛ «ابراہیم امینی(حاج امینی نجف آبادی»
  2. ۔«زندگینامہ/بیو گرافی» ؛ «ابراہیم امینی(حاج امینی نجف آبادی»
  3. ۔بیو گرافی ؛ «ابراہیم امینی(حاج امینی نجف آبادی»
  4. «ابراہیم امینی(حاج امینی نجف آبادی»؛ «زندگی نامہ آیت‌اللہ ابراہیم امینی»
  5. رجایی، برداشت‌ہایی از سیرہ امام خمینی، ج۵، ص۱۷۶؛ «ابراہیم امینی(حاج امینی نجف آبادی»؛ «زندگی‌نامہ آیت‌اللہ ابراہیم امینی»
  6. «ابراہیم امینی(حاج امینی نجف آبادی»؛ «زندگی‌نامہ آیت‌اللہ ابراہیم امینی»
  7. آیت‌اللہ امینی درگذشت
  8. «پیکر آیت‌اللہ امینی در حرم حضرت معصومہ(س) بہ خاک سپردہ شد»
  9. «تدفین پیکر آیت اللہ امینی»
  10. «ابراہیم امینی(حاج امینی نجف آبادی»
  11. «امامت مسجد اعظم»
  12. عسگری، «در محضر استاد»، ص۱۸۔
  13. «زندگینامہ/تدریس»
  14. «زندگی نامہ آیت‌اللہ ابراہیم امینی»؛ زندگی‌نامہ/تدریس»
  15. «آثار نوشتاری»؛ «ابراہیم امینی(حاج امینی نجف آبادی»
  16. «عالم پارسا درنگی در زندگی‌ و اندیشہ آیت‌اللہ ابراہیم امینی»
  17. «آثار نوشتاری»
  18. «ابراہیم امینی(حاج امینی نجف آبادی»؛ زندگی‌نامہ آیت‌اللہ ابراہیم امینی»
  19. «برنامہ درسی پایہ ششم طلاب تعیین شد»
  20. امینی نجف آبادی، ابراہیم؛ «ابراہیم امینی(حاج امینی نجف آبادی»
  21. امینی نجف آبادی، ابراہیم؛ «ابراہیم امینی(حاج امینی نجف آبادی»
  22. رجائی ‌نژاد، «روز شمار زندگی اجتماعی و سیاسی امام خمینی» ص۱۱۱۔
  23. امینی نجف آبادی، ابراہیم؛ «ابراہیم امینی (حاج امینی نجف آبادی»
  24. امینی نجف آبادی، ابراہیم؛ «ابراہیم امینی (حاج امینی نجف آبادی»
  25. خاطرات آیت‌اللہ امینی
  26. خاطرات آیت‌اللہ امینی
  27. امینی نجف آبادی، ابراہیم؛ «ابراہیم امینی(حاج امینی نجف آبادی»
  28. خمینی، صحیفہ امام، ج۸، ص۱۱۵۔
  29. امینی نجف آبادی، ابراہیم؛ «ابراہیم امینی(حاج امینی نجف آبادی»

مآخذ

  • «ابراہیم امینی (حاج امینی نجف آبادی»، پایگاہ اطلاع رسانی حوزہ، تاریخ درج مطلب: ۲۷ بہمن ۱۳۹۴ش، تاریخ بازدید: ۱۲ دی ۱۳۹۷۔
  • «برنامہ درسی پایہ ششم طلاب تعیین شد»، پایگاہ خبرگزاری مہر، تاریخ درج مطلب: ۲۲ دی ۱۳۹۵ش، تاریخ بازدید: ۲۲ دی ۱۳۹۷ش۔
  • خمینی، روح اللہ، صحیفہ امام، تہران، موسسہ نشر و نتظیم آثار امام خمینی، چاپ پنجم، ۱۳۸۹ش۔
  • رجایی، غلام ‌علی، برداشت‌ہایی از سیرہ امام خمینی، تہران، عروج، ۱۳۹۲ش۔
  • رجائی ‌نژاد، محمد، «روزشمار زندگی اجتماعی و سیاسی امام خمینی»، در مجلہ حضور، ج۶۰، نشر عروج، ۱۳۸۶ش۔
  • «نامہ جعلی اخیر توطئہ‌ای علیہ بندہ بود/ ارادتم بہ رہبر معظم انقلاب دو چندان شدہ است»، خبرگزاری تسنیم، تاریخ درج مطلب: ۱۷ تیر ۱۳۹۶ش، تاریخ بازدید: ۱۶ دی ۱۳۹۷ش۔
  • «پیکر آیت‌اللہ امینی در حرم حضرت معصومہ (س) بہ خاک سپردہ شد»، خبرگزاری حوزہ، درج مطلب ۷ اردیبہشت ۱۳۹۹ش، مشاہدہ ۷ ردیبہشت ۱۳۹۹ش۔
  • «تدفین پیکر آیت اللہ امینی»، خبرگزاری صدا و سیما، درج مطلب ۷ اردیبہشت ۱۳۹۹ش، مشاہدہ ۷ ردیبہشت ۱۳۹۹ش۔
  • «تکذیب ارسال نامہ از سوی آیت‌اللہ امینی بہ رہبر انقلاب»، خبرگراری ایسنا، تاریخ درج مطلب: ۵ تیر ۱۳۹۶ش، تارخ بازدید: ۱۶ دی ۱۳۹۷ش۔
  • «امامت مسجد اعظم»، سایت اطلاع‌رسانی آیت‌اللہ ابراہیم امینی، تاریخ بازدید: ۱۸ دی‌ماہ ۱۳۹۷ش۔
  • عسگری، یاسر، «در محضر استاد»، ہفتہ‌نامہ پنجرہ، شمارہ ۱۴۱، شنبہ ۱۷ تیر ۱۳۹۱ش۔

‏‏