مسودہ:گراں فروشی
گراں فروشی، کسی شے یا خدمت کو مقررہ نرخوں سے زیادہ قیمت پر فروخت کرنا[1] یا ایسی قیمت وصول کرنے کو کہا جاتا ہے جو متعارف اور منصفانہ حد سے زیادہ ہو۔[2] نیز ہر وہ اقدام جو خریدار پر عائد ہونے والی لاگت میں غیر معمولی اضافہ کا سبب بنے، گراں فروشی کے مصادیق میں شمار ہوتا ہے۔[3]
اسلامی فقہ میں خیار غبن کے ذیل میں گراں فروشی سے بحث کی جاتی ہے۔[4] اس بنیاد پر اگر فروخت کرنے والا کسی چیز کو اس کی حقیقی قیمت سے زیادہ پر فروخت کرے اور خریدار اصل قیمت سے آگاہ نہ ہو تو غبن تحقق پاتا ہے اور خریدار کے لئے خیارِ غبن ثابت ہو جاتا ہے۔[5]
حدیثی منابع میں گراں فروشی کی مذمت کی گئی ہے۔ رسول اکرمؐ سے منقول ہے کہ مسلمانوں کے بازار میں گرانی پیدا کرنا عذاب الٰہی کا باعث بنتا ہے۔[6] اسی طرح بعض روایات میں ارزانی کو رضائے الٰہی اور گرانی کو غضبِ الٰہی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔[7] امام صادقؑ سے منقول ایک روایت میں بھی غیر متعارف منافع حاصل کرنے کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔[8]
فقہا نے گراں فروشی کے شرعی حکم کے بارے میں مختلف آرا پیش کی ہیں۔ بعض فقہا نے بعض روایات، بالخصوص روایت: «غَبْنُ المُسْتَرْسِلِ سُحْتٌ؛ اعتماد کرنے والے شخص کو دھوکا دے کر حاصل کیا گیا مال حرام ہے»،[9] سے استدلال کرتے ہوئے گراں فروشی کو حرام قرار دیا ہے۔[10] محمد محسن فیض کاشانی کے مطابق مسترسل اس شخص کو کہا جاتا ہے جو قیمت کے تعین میں فروخت کنندہ پر اعتماد کرتا ہے؛[11] لہٰذا ایسے شخص کو دھوکا دینا غبن کا مصداق ہے[12] اور اس بنیاد پر ہونے والا معاملہ حرام اور باطل ہوگا۔[13] اس کے مقابلے میں بعض فقہا نے اصل معاملے کو صحیح قرار دیتے ہوئے مغبون شخص کے لئے فسخ کا حق تسلیم کیا ہے۔[14]
مراجعِ تقلید نے بھی گراں فروشی کے بارے میں مختلف نظریات پیش کئے ہیں۔ امام خمینی[15] اور سید علی خامنہ ای[16] کے نزدیک اگر گراں فروشی صارفین پر ظلم و زیادتی کا سبب بنے یا اسلامی حکومت کے قوانین کے خلاف ہو تو جائز نہیں۔ آیت اللہ سیستانی کے مطابق اگر یہ عرف اور حکومتی ضوابط کے خلاف نہ ہو تو فقہی اعتبار سے جائز، لیکن اخلاقی لحاظ سے ناپسندیدہ ہے۔[17] آیت اللہ مکارم شیرازی منافع کی مقدار کو فریقین کی رضامندی کے تابع قرار دیتے ہیں، البتہ جہاں سرکاری نرخ مقرر ہوں وہاں ان کی پابندی ضروری ہے؛ تاہم وہ انصاف کی رعایت پر زور دیتے ہیں۔[18] آیت اللہ صافی گلپایگانی بھی اصل معاملے کو فریقین کی رضامندی کے تابع قرار دیتے ہیں، لیکن غبن کی صورت میں خریدار کے لئے حق فسخ کے قائل ہیں اور ظلم و زیادتی اور ناانصافی سے اجتناب پر تاکید کرتے ہیں۔[19]
علم کلام میں گرانی اور ارزانی کا مسئلہ اِسعار (قیمت گذاری) کی بحث کے ذیل میں اس اعتبار سے زیرِ بحث آتا ہے کہ آیا گرانی اور ارزانی خدا کا فعل ہے یا انسان کا۔[20] اشاعرہ افعالِ بندگان کے مخلوق خدا ہونے کے نظریے کی بنا پر گرانی اور ارزانی کو بھی خداوند متعال کی طرف منسوب کرتے ہیں؛[21] جبکہ شیعہ متکلمین کے نزدیک جب گرانی انسانی اعمال و رویوں کا نتیجہ ہو تو اس کی نسبت انسانوں ہی کی طرف ہوگی۔[22]
گراں فروشی کو معاشرے کے کمزور اور نادار طبقات کی معاشی مشکلات میں اضافے کے اہم عوامل میں شمار کیا گیا ہے۔[23] نیز اسلامی جمہوریۂ ایران کے بانی امام خمینی نے سرکاری نرخوں سے زیادہ قیمت وصول کرنے کو ظلم و ناانصافی اور شرعی و اخلاقی اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔[24] اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر اعلی سید علی خامنہ ای نے اسے ظالمانہ طرزِ عمل قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف جدوجہد کو ظلم کے مقابلے کی ایک صورت قرار دیا ہے۔[25]
حوالہ جات
- ↑ قانون تعزیرات حکومتی، مصوب 1367شمسی، مادہ 2۔
- ↑ حقیقی، «گراں فروشی اور احتکار کے پس پردہ حقائق»، ص25۔
- ↑ قانون تعزیرات حکومتی، مصوب 1367شمسی، مادہ 2۔
- ↑ حلی، تبصرۃ المتعلمین، 1368شمسی، ص123؛ خمینی، تحریر الوسیلہ، 1390ھ، ج1، ص522۔
- ↑ شیخ انصاری، کتاب المکاسب، 1415ھ، ج5، ص157۔
- ↑ نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، 1411ھ، ج2، ص15۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1387شمسی، ج5، ص162۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1430ھ، ج10، ص48-50۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1430ھ، ج10، ص24۔
- ↑ فیض کاشانی، الوافی، 1406ھ، ج17، ص456۔
- ↑ فیض کاشانی، الوافی، 1406ھ، ج17، ص456۔
- ↑ فیض کاشانی، الوافی، 1406ھ، ج17، ص456۔
- ↑ فیض کاشانی، الوافی، 1406ھ، ج17، ص456۔
- ↑ فیض کاشانی، الوافی، 1406ھ، ج17، ص457۔
- ↑ خمینی، استفتاءات، 1372شمسی، ج2، ص62۔
- ↑ «استفتاءات جدید»، دفتر مقام معظم رہبری کی ویب سائٹ۔
- ↑ «کیا گراں فروشی حرام ہے؟»، ویب سائٹ ہدانا۔
- ↑ «معاملۂ سلف»، آیت اللہ مکارم شیرازی کی ویب سائٹ۔
- ↑ «اجناس کو اصل قیمت سے مہنگا اور موجودہ قیمت پر فروخت کرنے کے حوالے سے آیت اللہ صافی گلپایگانی کا فتوا »، شیعہ نیوز۔
- ↑ حلی، کشف المراد، 1413ھ، ج1، ص342۔
- ↑ تفتازانی، شرح المقاصد، 1409ھ، ج4، ص320۔
- ↑ حلی، کشف المراد، 1413ھ، ج1، ص342۔
- ↑ «گراں فروشی کی جڑ کیا ہے؟/ معاشی مسائل میں سے ایک اہم مسئلے پر غور و فکر»، جوان صحافیوں کی ویب سائٹ۔
- ↑ امام خمینی، صحیفۂ نور، 1378شمسی، ج6، ص510۔
- ↑ «گراں فروشی کے روک تھام کے حوالے سے صدر مملکت کو پیغام»، آیت اللہ خامنہ ای کی ویب سائٹ۔
مآخذ
- «استفتائات جدید»، دفتر مقام معظم رہبری کی آفیشل ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 30 ستمبر 2018ء، تاریخ مشاہدہ: 6 نومبر 2020ء۔
- انصاری، شیخ مرتضی، کتاب المکاسب، قم، مجمع الفکر الاسلامی، 1415ھ۔
- ایجی، سید میر شریف، شرح المواقف، قم، الشریف الرضی، پہلی اشاعت، 1325ھ۔
- «کیا گراں فروشی حرام ہے؟»، سایت ہدانا، تاریخ درج مطلب: 8 اپریل 2017ء، تاریخ مشاہدہ: 16 نومبر 2020ء۔
- «معاملہ سلف»، آیت اللہ مکارم شیرازی کی آفیشل ویب سائٹ، تاریخ مشاہدہ: 6 نومبر 2020ء۔
- «گراں فروشی کے روک تھام کے حوالے سے صدر مملکت کو پیغام»، سائت khamenei.ir، تاریخ درج مطلب: 7 اکتوبر 1994ء، تاریخ مشاہدہ: 6 نومبر 2020ء۔
- تفتازانی، سعد الدین، شرح المقاصد، قم، الشریف الرضی، پہلی اشاعت، 1409ھ۔
- حقیقی، مجید، «گراں فروشی اور احتکار کے پس پردہ حقائق»، مجلہ گزارش، شمارہ 47، دسمبر 1994ء و جنوری 1995ء۔
- حلی، حسن بن یوسف، تبصرہ المتعلمین، تہران، انتشارات فقیہ، پہلی اشاعت، 1368ہجری شمسی۔
- حلی، حسن بن یوسف، کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد، قم، مؤسسہ النشر الاسلامی، 1413ھ۔
- خمینی، سید روح اللہ، تحریر الوسیلہ، نجف، دار الکتب العلمیہ، 1390ھ۔
- خمینی، سید روح اللہ، استفتائات، قم، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، پہلی اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
- خمینی، سید روح اللہ، صحیفہ نور، قم، مؤسسہ نظیم و نشر آثار امام خمینی، 1378ہجری شمسی۔
- «گراں فروشی کی جڑ کیا ہے؟/ معاشی مسائل میں سے ایک اہم مسئلے پر غور و فکر»، نوجوان صحافیوں کی ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 29 ستمبر 2017ء، تاریخ مشاہدہ: 16 نومبر 2020ء۔
- «اجناس کو اصل قیمت سے مہنگا اور موجودہ قیمت پر فروخت کرنے کے حوالے سے آیت اللہ صافی گلپایگانی کا فتوا »، سائت شیعہ نیوز، تاریخ درج مطلب: 29 اگست 2013ء، تاریخ مشاہدہ:6 نومبر 2020ء۔
- فیض کاشانی، الوافی، اصفہان، کتابخانہ امام أمیرالمؤمنین علی (علیہ السلام )، 1406ھ۔
- قانون تعزیرات حکومتی، مصوب 1367شمسی، مادہ 2۔
- قانون نظام صنفی کشور، مصوب 1392شمسی، مادہ57۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، قم، انتشارات دار الحدیث، 1430ھ۔
- نیشابوری، ابو عبداللہ الحاکم، المستدرک علی الصحیحین، بیروت، دار الکتب العلمیہ، پہلی اشاعت، 1411ھ۔