مسودہ:مجلس خبرگان رہبری
| کوائف | |
|---|---|
| دیگر اسامی | خبرگای رہبری |
| تأسیس | سنہ 1983ء |
| وابستہ | اسلامی جمہوریہ ایران |
| نوعیت | نگرانی |
| ذمہ داری | جمہوریہ اسلامی ایران کے رہبر کا انتخاب اور نگرانی |
| سربراہ | محمد علی موحدی کرمانی |
| جانشین | سید ہاشم حسینی بوشہری اور علی رضا اعرافی بالترتیب نائب صدر اول و نائب صدردوم |
| دیگر معلومات | |
| ساختار | مجلس عاملہ (صدر اور نائب صدور پر مشتمل)، مختلف کمیٹیز |
| وضعیت | فعال |
| متعلقہ ادارے | مجلس خبرگان رہبری کا دفترِ سکریٹریٹ |
| ویب سائٹ | http://www.majma.ir |
مجلس خبرگان رہبری (قیام: 1983ء)، جمہوری اسلامی ایران کے نظام میں ایک سیاسی و مذہبی ادارہ ہے، جس کی بنیادی ذمہ داری جمہوری اسلامی ایران کے رہبر کا انتخاب اور ان کی کارکردگی کی نگرانی کرنا ہے۔
اس مجلس کے اراکین کا انتخاب عوام براہِ راست اپنے ووٹوں سے کرتے ہیں۔ نمائندگی کی بنیادی شرائط میں سے ایک اجتہاد کا درجہ رکھنا ہے۔ مجلس میں اراکین کی تعداد ہر صوبے کی آبادی کے تناسب سے مقرر کی جاتی ہے۔
اس مجلس نے جون 1989ء میں سید علی حسینی خامنہ ای کو جمہوری اسلامی ایران کا دوسرا رہبر منتخب کیا، جبکہ مارچ 2026ء میں سید مجتبی حسینی خامنہ ای کو جمہوری اسلامی ایران کا تیسرا رہبر منتخب کیا۔
قانونی حیثیت
مجلس خبرگان رہبری، جمہوری اسلامی ایران کا ایک سیاسی و مذہبی ادارہ ہے، جو آئین کی دفعات 107، 108 اور 111 کے تحت جمہوری اسلامی ایران کے رہبر کے انتخاب اور ان کی کارکردگی کی نگرانی کی ذمہ داری کے فرائض انجام دیتا ہے۔ اس مجلس کا قیام سنہ 1983ء میں عمل میں آیا۔
مجلس خبرگان ایک الٰہی نعمت تھی جو اللہ تعالیٰ نے جمہوری اسلامی کے نظام کو عطا فرمائی۔[1]
آئین کی دفعہ 108 کے مطابق مجلس خبرگان کے ارکان کی تعداد، ان کی شرائط اور ان کے انتخاب کا طریقہ کار خود مجلسِ خبرگان کے اختیار میں ہے۔ تاہم مجلس خبرگان کے انتخابات سے متعلق پہلا قانون، جس میں ارکان کی تعداد اور امیدواروں کی شرائط مقرر کی گئی تھیں، 2 اکتوبر سنہ 1980ء کو شورائے نگہبان نے مرتب کیا اور اسے ایران کے اُس وقت کے رہبر امام خمینی نے منظور کیا۔[2] اس قانون میں آخری ترمیم 3 ستمبر سنہ 2015ء کو کی گئی۔
مجلس خبرگان رہبری کے نمائندوں کی شرائط
اس مجلس کے نمائندے عوام کے براہِ راست ووٹوں سے صوبائی بنیادوں پر آٹھ سالہ مدت کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ مجلسِ خبرگان کے انتخابی قانون کی دفعہ 3 کے مطابق، ارکان کے لیے درج ذیل شرائط کا حامل ہونا ضروری ہے: اجتہاد کے حوالے سے کم از کم اجتہاد تجزّی کی حد تک صلاحیت رکھتا ہو، یعنی فقہ کے بعض ابواب میں احکام کے استنباط کی صلاحیت کا حامل ہو؛ دینی وابستگی اور اچھی شہرتِ اخلاقی رکھتا ہو؛ سیاسی و سماجی بصیرت؛ نظام جمہوری اسلامی پر اعتقاد رکھتا ہو اور سیاسی و سماجی اعتبار سے سابقہ نامناسب رویہ سے مبرا ہو۔[3]
دوسرے اور تیسرے رہبر کا انتخاب
پہلے دور میں دوسرے رہبر کا انتخاب
امام خمینی کے انتقال کے بعد، 4 جون سنہ 1989ء کو مجلس خبرگان رہبری نے سید علی حسینی خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا دوسرا رہبر منتخب کیا۔ یہ انتخاب عارضی نوعیت کا تھا۔ بعد ازاں آئینِ اساسی میں ترمیم اور اس سے متعلق عوامی ریفرنڈم کے انعقاد کے بعد، 6 اگست سنہ 1989ء کو اسی مجلس نے آیت اللہ خامنہ ای کو دوبارہ اسلامی جمہوریہ ایران کا مستقل رہبر منتخب کیا۔

پہلے دور میں رہبر کے جانشین کا انتخاب
مجلسِ خبرگانِ رہبری کے پہلے دور نے سنہ 1985ء میں حسین علی منتظری کو قائم مقامِ رہبری منتخب کیا گیا، تاکہ امام خمینی کے انتقال کی صورت میں وہ ان کے جانشین ہوں۔ تاہم، سنہ 1989ء میں امام خمینی کے انتقال سے دو ماہ قبل انہوں نے اپنے منصب سے استعفا دے دیا[4] اور 4 جون 1989ء کو مجلس خبرگان نے ان کا استعفا منظور کر لیا۔
چھٹے دور میں تیسرے رہبر کا انتخاب
سید علی حسینی خامنہ ای کی [[شہادت] کے بعد، مجلس خبرگانِ رہبری نے 8 مارچ سنہ 2026ء کو سید مجتبی حسینی خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا تیسرا رہبر منتخب کیا۔[5]
امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں مجلس خبرگان کی عمارتوں کی مسماری
27 فروری سنہ 2026ء کو آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد، امریکہ اور اسرائیل نے نئے رہبر کے انتخاب کے لیے مجلسِ خبرگان کے اجلاس کو روکنے کی غرض سے تہران اور قم میں مجلس خبرگان کی عمارتوں پر حملہ کر کے انہیں مسمار کر دیا۔[6] ان حملوں میں مجلسِ خبرگان کے متعدد ملازمین شہید ہوئے۔ مزید یہ کہ امریکہ اور اسرائیل دونوں نے مجلسِ خبرگان کے ارکان کو دھمکیاں دیں اور سید مجتبی خامنہ ای کو ایران کا تیسرا رہبر منتخب کرنے کے خلاف خبردار کیا۔ اس کے باوجود 8 مارچ 2026ء کو مجلس خبرگان کا اجلاس منعقد ہوا اور ایران کے تیسرے رہبر کا انتخاب عمل میں آیا۔[7]
مختلف ادوار کی تفصیلات

مجلسِ خبرگانِ رہبری کے ایک اجلاس کی تصویر
- پہلے دور کے انتخابات 10 دسمبر سنہ 1982ء کو منعقد ہوئے۔ اس کا پہلا اجلاس 14 جولائی سنہ 1983ء کو منعقد ہوا اور اس دور کے سربراہ علی مشکینی تھے۔[8]
- دوسرے دور کے انتخابات 8 اکتوبر سنہ 1990ء کو ہوئے۔ اس کا پہلا اجلاس 21 فروری سنہ 1991ء کو منعقد ہوا اور اس دور کی صدارت بھی علی مشکینی کے پاس رہی۔
- تیسرے دور کے انتخابات نومبر سنہ 1998ء میں منعقد ہوئے۔ اس کا پہلا اجلاس 23 فروری سنہ 1999ء کو ہوا اور اس دور کے صدر بھی علی مشکینی تھے۔
- چوتھے دور کے انتخابات دسمبر سنہ 2006ء میں منعقد ہوئے۔ انتخابات کو یکجا کرنے کے فیصلے کے باعث اس دور کی مدت دس سال رہی۔ ابتدا میں علی مشکینی صدر منتخب ہوئے، ان کے انتقال کے بعد بالترتیب اکبر ہاشمی رفسنجانی، محمد رضا مہدوی کنی اور محمد یزدی اس منصب پر منتخب ہوئے۔
- پانچویں دور کے انتخابات 26 فروری سنہ 2016ء کو منعقد ہوئے۔ اس کا پہلا اجلاس 24 مئی سنہ 2016ء کو ہوا اور احمد جنتی مجلس کے صدر منتخب ہوئے۔[9]
- چھٹے دور کے انتخابات 1 مارچ سنہ 2024ء کو منعقد ہوئے۔ اس کا پہلا اجلاس 21 مئی سنہ 2024ء کو تشکیل پایا۔[10] اس اجلاس میں محمد علی موحدی کرمانی کو مجلس کا صدر منتخب کیا گیا۔[11]
| مجلس خبرگان کے دورہ جات/دورانیہ/تعداد اجلاس | مجلس عاملہ | اہم اتفاقات |
|---|---|---|
| پہلا دورہ سال 1982-1990 11 اجلاس |
علی مشکینی (صدر) اکبر ہاشمی رفسنجانی (نائب صدر) محمد مؤمن قمی اور سید حسن طاہری خرم آبادی (سیکرٹری) |
قائم مقام کے طور پر حسین علی منتظری کا انتخاب 4 جون سنہ 1989ء کو سید علی حسینی خامنہ ای ایران کے دوسرے رہبر منتخب ہوئے۔ |
| دوسرا دورہ سنہ 1998- 1990 |
علی مشکینی (صدر) اکبر ہاشمی رفسنجانی اور ابراہیم امینی (نائب صدر) سید حسن طاہری خرم آبادی اور محمد مومن (سیکرٹری) |
چند معروف امیدواروں کو، جن میں پہلے دور کے بعض نمائندے بھی شامل تھے، نااہل قرار دے دیا گیا۔ |
| تیسرا دورہ سنہ 2006ء- 1998ء 16 اجلاس |
علی مشکینی (صدر) اکبر ہاشمی رفسنجانی اور ابراہیم امینی (نائب صدر) سید حسن طاہری خرمآبادی اور قربان علی دری نجف آبادی]] (سیکرٹری) |
|
| چوتھا دورہ سال 2015ء-2006ء 16 اجلاس |
پہلا سال: علی مشکینی (صدر)، اکبر ہاشمی رفسنجانی اور محمد یزدی (نائب صدر)، قربان علی دری نجف آبادی اور سید احمد خاتمی (سیکرٹری) سال 2007ء تا 2010ء: اکبر ہاشمی رفسنجانی (صدر)، محمد مؤمن اور محمد یزدی (نائب صدر)، سید احمد خاتمی اور قربان علی دری نجف آبادی (سیکرٹری) 2010ء تا2014ء: محمد رضا مہدوی کنی (صدر)، محمد یزدی اور سید محمود ہاشمی شاہرودی (نائب صدر)، سید احمد خاتمی اور قربان علی دری نجف آبادی (سیکرٹری) دسمبر2014ء تا آخر: محمد یزدی (صدر)، سید محمود ہاشمی شاہرودی اور محمد علی موحدی کرمانی (نائب صدر)، سید احمد خاتمی اور قربان علی دری نجف آبادی (سیکرٹری) |
پہلی مرتبہ ایک غیرمعمم شخصیت (محسن اسماعیلی) کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اہل قرار دیا گیا۔ یہ دورہ 10 سالہ تھا اس وقت کے صدر علی مشکینی کی وفات اس دورے کے تیسرے صدر محمد رضا مہدوی کنی کی وفات مجلس کے ارکان کی تعداد 86 سے بڑھا کر 88 کرنے کی منظوری دی گئی[12] |
| پانچواں دورہ سنہ 2016ء تا 2024ء |
احمد جنتی (صدر)، محمدعلی موحدی کرمانی اور سید محمود ہاشمی شاہرودی (نائب صدر) قربان علی دری نجف آبادی اور سید احمد خاتمی (سیکرٹری)[13] | پہلی مرتبہ ایک غیرمعمم شخصیت (محسن اسماعیلی) کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اہل قرار دیا گیا۔ |
| چھٹا دورہ |
محمد علی موحدی کرمانی (صدر)، سید ہاشم حسینی بوشہری اور علی رضا اعرافی (نائب صدر)، محسن اراکی اور عباس کعبی (سیکرٹری) |
اراکینِ مجلسِ خبرگان
مجلسِ خبرگانِ رہبری کے ارکان کی تعداد صوبوں کی آبادی کی بنیاد پر مقرر کی جاتی ہے۔ مجموعی طور پر اس مجلس میں 88 نمائندے ہوتے ہیں۔[14]
- صوبۂ تہران: 16 نمائندے؛
- صوبہ خراسانِ رضوی اور خوزستان: ہر ایک کے 6 نمائندے؛
- صوبہ اصفہان، مشرقی آذربائیجان اور فارس: ہر ایک کے 5 نمائندے؛
- صوبہ گیلان اور مازندران: ہر ایک کے 4 نمائندے؛
- صوبہ مغربی آذربائیجان اور کرمان: ہر ایک کے 3 نمائندے؛
- صوبہ اردبیل، البرز، سیستان و بلوچستان، قزوین، کردستان، کرمانشاہ، گلستان، لرستان، مرکزی اور ہمدان: ہر ایک کے 2 نمائندے؛
- صوبہ ایلام، بوشہر، چہارمحال و بختیاری، جنوبی خراسان، شمالی خراسان، زنجان، سمنان، قم، کہگیلویہ و بویراحمد، ہرمزگان اور یزد: ہر ایک کا 1 نمائندہ۔
حوالہ جات
- ↑ «بیانات در دیدار رئیس و اعضای مجلس خبرگان رہبری»، سایت دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتاللہ خامنہای۔
- ↑ ہاشمی، حقوق اساسی، 1386، ص44۔
- ↑ قانون انتخابات مجلس خبرگان رہبری، سایت اطلاعرسانی شورای نگہبان۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: امام خمینی، صحیفہ امام، 1389شمسی، ج21، ص333-335۔
- ↑ «رہبر جدید انقلاب اسلامی توسط مجلس خبرگان رہبری تعیین و معرفی شد»، دبیرخانہ مجلس خبرگان رہبری۔
- ↑ «حملہ موشکی جنایتکاران آمریکایی-صہیونی بہ دفتر مجلس خبرگان در قم»، خبرگزاری تسنیم۔
- ↑ نگاہ کنید بہ «رہبر جدید انقلاب اسلامی توسط مجلس خبرگان رہبری تعیین و معرفی شد»، دبیرخانہ مجلس خبرگان رہبری۔
- ↑ «آغاز بہ كار نخستین دورہ مجلس خبرگان رہبری»، وبگاہ مرکز دائرةالمعارف بزرگ اسلامی۔
- ↑ آیتاللہ جنتی رئیس مجلس خبرگان شد، خبرگزاری ایرنا۔
- ↑ «دورہ ششم مجلس خبرگان رہبری آغاز شد»، تابناک۔
- ↑ «آیتاللہ موحدی کرمانی رئیس مجلس خبرگان شد»، خبرگزاری تسنیم۔
- ↑ «متن و حاشیہ 4 دورہ مجلس خبرگان رہبری...»، سایت خبرآنلاین۔
- ↑ ہیئت رئیسہ خبرگان پنجم، خبرگزاری ایرنا۔
- ↑ قانون انتخابات و آییننامہ داخلی مجلس خبرگان رہبری۔
مآخذ
- دفتر سکٹریٹ مجلس خبرگان رہبری، خبرگان ملت: شرححال نمایندگان مجلس خبرگان رہبری، دفتر اول، 1379ہجری شمسی۔
- ہاشمی، سید محمد، حقوق اساسی جمہوری اسلامی ایران، 1386ہجری شمسی۔
- «رہبر جدید انقلاب اسلامی توسط مجلس خبرگان رہبری تعیین و معرفی شد»(مجلسِ خبرگانِ رہبری نے اسلامی انقلاب کے نئے رہبر کا انتخاب کرکے ان کا تعارف کرایا)، دفتر سکٹریٹ مجلس خبرگان رہبری، تاریخ درج مطلب: 6 مارچ 2026ء، تاریخ مشاہدہ: 16 مارچ 2026ء۔
- «آغاز بہ كار نخستین دورہ مجلس خبرگان رہبری»(مجلسِ خبرگانِ رہبری کے پہلے دور کا آغازِ کار)، مرکز دائرةالمعارف بزرگ اسلامی ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 14 جون 2014ء، تاریخ مشاہدہ: 16 مارچ 2026ء۔
- آیتاللہ جنتی رئیس مجلس خبرگان شد(آیت اللہ جنتی مجلس خبرگان کے صدر منتخب ہوئے)، ایرنا خبر رساں ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 24 مارچ 2016ء، تاریخ مشاہدہ: 16 مارچ 2026ء۔
- دورہ ششم مجلس خبرگان رہبری آغاز شد، تابناک، تاریخ درج مطلب: 21 مارچ 2024ء، تاریخ مشاہدہ: 16 مارچ 2026ء۔
- «آیتاللہ موحدی کرمانی رئیس مجلس خبرگان شد»(آیت اللہ موحدی کرمانی مجلس خبرگان کے صدر منتخب ہوئے)، تسنیم خبر رساں ایجنسی۔
- «بیانات آیتاللہ سید علی خامنہای در دیدار رئیس و اعضای مجلس خبرگان رہبری»(آیت اللہ سید علی خامنہای کے مجلسِ خبرگانِ رہبری کے صدر اور ارکان سے ملاقات میں خطاب)، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتاللہ خامنہای ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 24 اگست 2016ء، تاریخ مشاہدہ: 16 مارچ 2026ء۔
- «اعلام نتایج انتخابات مجلس خبرگان رہبری»(مجلس خبرگان کے انتخابات کے نتائج کا اعلان)، مہر خبر رساں ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 2 مارچ 2024ء، تاریخ مشاہدہ: 3 مارچ 2024ء۔
- قانون انتخابات مجلس خبرگان رہبری(مجلس خبرگان کے انتخابات کے قوانین)، شورائے نگہبان کا اطلاعاتی مرکز، تاریخ مشاہدہ: 16 مارچ 2026ء۔
- چہ کسانی در این چہار دورہ بر صندلیہای قرمز مجلس خبرگان تکیہ زدہاند؟(ان چار ادوار میں مجلسِ خبرگان کی سرخ نشستوں پر کون کون براجمان رہا ہے؟)، خبرآنلاین ویب سائٹ۔
- متن و حاشیہ 4 دورہ مجلس خبرگان رہبری؛ از انتخاب جانشین امام(رہ) تا رقابت آیات ہاشمی و یزدی(مجلسِ خبرگانِ رہبری کے چار ادوار: پسِ منظر اور اہم واقعات — امام خمینی کے جانشین کے انتخاب سے ہاشمی و یزدی کی رقابت تک)، خبرآنلاین ویب سائٹ۔
- ہیئت رئیسہ خبرگان پنجم، ایرنا خبر رساں ایجنسی۔
- «حملہ موشکی جنایتکاران آمریکایی-صہیونی بہ دفتر مجلس خبرگان در قم»، تسنیم خبر رساں ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 2 مارچ 2024ء، تاریخ مشاہدہ: 7 اپریل 2026ء۔