حسن بن علی حذاء عمانی

ویکی شیعہ سے
(ابن ابی عقیل عمانی سے رجوع مکرر)
ابن ابی عقیل عمانی
کوائف
مکمل نامحسن بن علی حذاء عمانی
لقب/کنیتابن ابی عقیل
تاریخ ولادت؟
تاریخ وفات؟
علمی معلومات
شاگردابن ادريس نے کتاب السرائر، محقق حلی نے کتاب المعتبر فی شرح المختصر و علامہ حلی نے اپنی کتاب مختلف الشیعہ کی تالیف میں ان سے تاثیر قبول کی ہے۔
تالیفاتکتاب المتمسّک، الکرّ و الفَرّ۔
خدمات
سماجیشیعہ فقیہ، محدث و متکلم۔


ابو محمد حسن بن علی حَذّاءِ عُمانی یا عَمّانی، ابن ابی عقیل سے نام سے مشہور چوتھی صدی ہجری کے شیعہ محدث، فقیہ اور متکلم ہیں۔ انہوں نے عصر غیبت صغری (۲۶۰-۳۲۹ ھ /۸۷۹ -۹۴۱ء) کو درک کیا ہے۔ شیعہ علمائے رجال نے ان کے ثقہ ہونے کی تائید کی ہے۔ بعض نے انہیں پہلا شیعہ فقیہ کہا ہے جنہوں نے غیبت کبری کے آغاز میں فقہ کو مدون و مرتب کیا، اجتہادی نظریات سے استفادہ کیا اور اصول کی ابحاث کو فروع سے جدا کیا۔ ابن ابی عقیل کے فقہی نظریات اکثر فقہاء کی تالیفات میں جیسے ابن ادریس کی تالیف کتاب السرائر، محقق حلی کی تالیف کتاب المعتبر فی شرح المختصر اور علامہ حلی کی تالیف کتاب مختلف الشیعہ، قابل توجہ واقع ہوئے ہیں۔

ولادت و نسب

اس بات کے پیش نظر کہ اکثر شیعہ فقہاء و محدثین نے ان کے بارے میں اپنی کتابوں میں کوئی ذکر نہیں کیا ہے لہذا ان کی ولادت و وفات کی تاریخ بھی معلوم نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم ہے کہ ان کا تعلق کس عمان سے ہے۔ اس بات کے مد نظر کہ ابن قولویہ نے ان سے روایت نقل کی ہے،[1] یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ شیخ کلینی کے طبقہ سے ہیں اور انہوں نے عصر غیبت صغری (۲۶۰-۳۲۹ ھ) کو درک کیا ہے۔

سب سے پہلے ابن ابی عقیل اور ان کی تالیفات کا تذکرہ شیخ طوسی نے کیا ہے۔ انہوں نے انہیں حسن بن عیسی کا نام دیا ہے۔[2] البتہ نجاشی جنہوں نے زیادہ تفصیل اور توجہ و دقت کے ساتھ ان کا تذکرہ کیا ہے، ان کے والد کا نام علی تحریر کیا ہے۔[3]

نجاشی و دوسروں کی ان کے سلسلہ میں تعریف

نجاشی نے ابن ابی عقیل کو فقیہ و ثقہ شمار کیا ہے اور ان کی کتاب المتمسک بحبل آل الرسول کا تذکرہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: یہ کتاب امامیہ کے درمیان شہرت تام رکھتی ہے اور خراسان سے جو لوگ سفر حج کے سلسلہ میں عراق سے گذرتے ہیں وہ اسے تلاش کرتے ہیں اور خریدتے ہیں۔[4] نجاشی کی زبان سے ان نکات کا بیان ہونا، اسلامی دنیا میں ابن ابی عقیل کی تحریروں کی اہمیت اور ان کے فقہی متون کی شہرت کو بیان کرتا ہے۔

نجاشی مزید تحریر کرتے ہیں کہ ان کے استاد شیخ مفید ابن ابی عقیل کی بیحد ستائش کی ہے۔ نجاشی دو واسطے سے ابو القاسم جعفر بن محمد (ابن قولویہ) سے نقل کرتے ہیں کہ ابن ابی عقیل نے انہیں اپنی کتاب المتمسک بحبل آل الرسول اور اپنی دیگر کتابوں کے نقل کا اجازہ انہیں عطا کیا ہے۔ اس کے بعد نجاشی ذکر کرتے ہیں کہ انہوں ںے ابن ابی عقیل کی کتاب الکر الفر جس میں امامت کے مباحث ہیں، کو اپنے استاد شیخ مفید کے پاس پڑھا ہے۔[5]

نجاشی کے علاوہ دوسرے شیعہ علمائے رجال نے بھی ابن ابی عقیل کے ثقہ ہونے کی تائید کی ہے۔[6]

اولین شیعہ فقیہ

فقہائے امامیہ نے ابن ابی عقیل اور ابن جنید اسکافی بغدادی (متوفی 381 ھ۔ 991 ع) کو جو تقریبا ان کے معاصر تھے، ان دونوں نے اجتہاد و استنباط کی سنت کو وسیع تر و عمیق تر سطح پر استعمال و استفادہ کیا ہے، قدیمین کے عنوان سے ذکر کیا ہے اور بعض نے انہیں اولین شیعہ فقیہ مانا ہے جس نے غیبت کبری کے آغاز میں فقہ کو مدون و مرتب کیا، اجتہادی نظریات کو پیش کیا اور اصول کے مباحث کو فروع سے جدا کیا۔[7]

فقہی آراء و نظریات

ابن ابی عقیل کے فقہی نظریات اکثر فقہاء کی تالیفات میں جیسے ابن ادریس کی تالیف کتاب السرائر،[8] محقق حلی کی تالیف کتاب المعتبر فی شرح المختصر اور علامہ حلی کی تالیف کتاب مختلف الشیعہ، قابل توجہ واقع ہوئے ہیں۔

ابن ابی عقیل احکام کے سلسلہ میں بعض مخصوص نظریات کے قائل ہیں جن میں سے اس مسئلہ کا ذکر کیا جا سکتا ہے کہ آب قلیل نجاست سے ملنے پر نجس نہیں ہوتا ہے[9] اور متاخر شیعہ فقہاء میں سے بعض نے جن میں ملا محسن فیض کاشانی[10] شامل ہیں، اس مسئلہ میں ان کی پیروی کی ہے۔

حوالہ جات

  1. ن ک: نجاشی، ص۳۶.
  2. طوسی، فہرست، ص۹۶، ۳۶۸؛ رجال، ص۴۷۱.
  3. نجاشی، رجال، ص۳۵.
  4. نجاشی، رجال، ص۳۶.
  5. نجاشی، رجال، ص۳۶.
  6. ابن ادریس، السرائر، ص۹۹؛ علامہ حلّی، خلاصہ الاقوال، ص۲۱؛ و...
  7. بحر العلوم، رجال، ج۲، ص۲۱۱، ۲۲۰.
  8. ابن ادریس، السرائر، ص۲۱۵.
  9. علامه حلی، مختلف الشیعہ، ج۱، ص۲.
  10. فیض کاشانی، الوافی، ج۴، ص۵.

مآخذ

  • ابن ادریس، محمد، السرائر، تہران، ۱۳۹۰ق
  • بحر العلوم، محمد مہدی، رجال، بہ کوشش محمد صادق بحر العلوم و حسین بحر العلوم، تہران، ۱۳۶۳ش
  • طوسی، محمد، رجال، نجف، ۱۳۸۰ق
  • وہی، الفہرست، بہ کوشش محمود رامیار، مشہد، ۱۳۵۱ش
  • علامہ حلّی، حسن بن یوسف، خلاصہ الاقوال فی معرفہ الرجال، تہران، ۱۳۱۰ق
  • وہی، مختلف الشیعہ، ایران، ۱۳۲۳ش
  • فیض کاشانی، ملا محسن، الوافی، قم، ۱۴۰۴ق
  • محقق حلی، جعفر، المعتبر، تہران، ۱۳۱۸ش
  • نجاشی، احمد، رجال نجاشی، قم، ۱۳۸۹ق