عبد اللہ بن بدیل

ویکی شیعہ سے
(عبداللہ بن بدیل ورقا سے رجوع مکرر)
عبد اللہ بن بدیل
کوائف
مکمل نامعبداللہ بن بدیل بن ورقا خزاعی
مہاجر/انصارمہاجر
نسب/قبیلہقبیلہ خزاعہ
اقارببدیل بن ورقاء (والد)
شہادت37ھ
کیفیت شہادتامام علیؑ کے رکاب میں جنگ صفین میں
دینی معلومات
اسلام لانافتح مکہ کے دوران
جنگوں میں شرکتجنگ حنین و تبوک اور جنگ جمل و صفین
نمایاں کارنامےیمن میں رسول اللہؐ کا نمائندہ اور جنگ جمل اور صفین میں امام علی کی فوج سے کمانڈر
دیگر فعالیتیںعثمان کو محاصرہ کرنے اور اسے قتل کرنے میں شریک، امام علیؑ کی حقانیت پر خطبہ اور احتجاج


عبد اللہ بن بُدَیل خُزاعی پیغمبر اکرمؐ کے صحابی اور امام علیؑ کے ان اصحاب میں سے ہیں جنہوں نے حدیث غدیر کی گواہی دی تھی۔ آپ فتح مکہ کے دوران اپنے والد کے ہمراہ مسلمان ہوئے اور جنگ تبوک اور جنگ حنین میں شرکت کی۔ پیغمبر اکرمؑ نے آپ کو اپنا نمائندہ بنا کر یمن بھیج دیا تھا۔ آپ نے رسول اللہؐ سے کچھ احادیث بھی نقل کی ہیں۔

عبد اللہ بن بدیل، خلفا کے دور کے فتوحات میں شریک تھے اور ایران کے شہر اصفہان، کرمان اور ہمدان ان کے ہاتھوں فتح ہوئے۔ آپ عثمان کے گھر کو محاصرہ کرنے اور عثمان کے قتل کی تحریک میں شریک تھے۔ عبد اللہ کا شمار امام علیؑ کی بیعت کرنے والے ابتدائی افراد میں ہوتا ہے۔ آپ نے جنگ جمل اور جنگ صفین میں شرکت اور جنگ صفین میں شہید ہوئے۔ عبداللہ بن بدیل نے جنگ جمل میں عائشہ کے ساتھ امام علیؑ کی حقانیت پر مشتمل ایک مکالمہ کیا ہے۔ جنگ صفین میں آپ امام علیؑ کے لشکر کے سپہ سالار تھے۔

شخصیت کا تعارف

عبد اللہ بن بدیل بن ورقاء خزاعی پیغمبر اکرمؐ کے مہاجر[1] صحابی[2] تھے البتہ محمد بن عمر کشی نے انہیں تابعین میں سے قرار دیا ہے۔[3] ان کا شمار امام علیؑ کے بزرگ[4] اور مشہور صحابہ[5] میں ہوتا ہے۔

عبداللہ بن بدیل کو اس دور کے پانچ[6] یا چھ نابغہ عصر میں سے ایک کہا گیا ہے۔[7] آپ کو عرب کے ماہر خطیب [8] اور عظمت،[9] شرافت اور جلال[10] کے مالک سمجھا گیا ہے۔

عبد اللہ کا نسب عدی بن عمرو بن ربیعہ تک نقل ہوا ہے۔[11] ان کی تاریخ پیدائش کہیں ذکر نہیں ہوئی ہے۔[یادداشت 1] آپ سنہ 37ھ کو جنگ صفین میں شہادت پا گئے۔[12]

عبد اللہ کی نسل میں بعض مشہور افرد جیسے؛ عبد الرحمن نیشابوری،[13] دعبل خزاعی[14] اور ابوالفتوح رازی[15] کے نام لئے جاتے ہیں؛ اور بُدَیلی ان افراد کو کہا گیا ہے جن کی نسل عبد اللہ کے باپ بدیل بن ورقاء تک پہنچتی ہے۔[16]

امیر المومنینؑ کی درخواست پر عبد اللہ نے خزیمۃ بن ثابت، قیس بن سعد بن عبادہ اور بعض دیگر افراد کے ساتھ مل کر حدیث غدیر کی شہادت دی[17] اور یہ موضوع یوم الرکبان سے مشہور ہے۔[18]

عصرِ پیغمبر اکرمؐ میں

عبد اللہ بن بدیل قبیلہ خزاعہ کے بزرگوں میں سے تھے[19] آپ اپنے والد بدیل بن ورقاء کے ہمراہ فتح مکہ میں[20] یا اس سے پہلے پیغمبر اکرمؐ کے پاس آکر مسلمان ہوئے[21] اور فتح مکہ کے دوران ان کے والد کا گھر مکہ والوں کی پناہ گاہ تھا۔[22] آپ پیغمبر اکرمؐ کے خط کی حفاظت کے لئے اپنے والد کے وصی بھی تھے[23] جس میں قبیلہ خزاعہ کی تعریف و تمجید ہوئی تھی۔[24]

بعض کا دعوا ہے کہ عبد اللہ نے بیعت رضوان میں شرکت کی ہے۔[25] آپ نے پیغمبر اکرمؐ کے رکاب میں طائف، تبوک اور حُنین کی جنگیں بھی لڑی۔[26] عبد اللہ اپنے بھائی محمد[27] یا عبد الرحمن[28] کے ساتھ یا تینوں ایک ساتھ[29] رسول اللہ کا نمائندہ بن کر یمن گئے۔ آپ نے بالواسطہ رسول اللہؐ سے حدیث نقل کی ہے۔[30]

خلفا کے دور میں

عبد اللہ بن بدیل خلفا کے دور کے فتوحات میں حاضر تھے۔ اور سنہ 29ھ کو اصفہان کی فتح میں عبداللہ بن عامر کے ہراول دستے کے سپہ سالار تھے۔[31] بعض کا کہنا ہے کہ یہ فتح صلح کے ذریعے حاصل ہوگئی۔[32] بلاذری کا کہنا ہے کہ خلیفہ دوم نے عبد اللہ کو اصفہان کی جانب بھیجا اور 23ھ کو یہ شہر ان کے ہاتھوں فتح ہوا؛[33] جیسا کہ یعقوبی نے اصفہان اور ہمدان دونوں کو ابن بدیل کے ہاتھوں سنہ 23 ہجری کو فتح ہونے والے شہر قرار دیا ہے؛[34] اور اسی طرح کرمان[35] اور باب خراسان، طبس کے فتح کو بھی ان کی طرف نسبت دی گئی ہے۔[36] عبد اللہ نے طبس کے فتح کے بعد یہ علاقہ ان کے حوالے کرنے کی خلیفہ سے درخواست کی لیکن خلیفہ نے انکار کیا۔[37]

اہل سنت مورخ بلاذری کے مطابق عبد اللہ ان افراد میں سے ایک تھے جنہوں نے عثمان کے گھر کا محاصرہ کیا تھا، اور ان کو عثمان کے قاتلوں میں شامل کیا ہے۔[38] اہل سنت مورخ ذہبی کے مطابق تیسرے خلیفے کی گردن کی رگیں عبداللہ نے کاٹی تھی۔[39]

امیر المومنینؑ کے دَور میں

عبد اللہ بن بدیل ان مہاجرین میں سے تھے جنہوں نے سب سے پہلے امام علیؑ کی بیعت کی۔[40] آپ امیر المومنینؑ کے دور کی ان ممتاز شخصیات میں سے ایک ہیں جنہوں نے جنگ جمل اور صفین میں شرکت کی۔[41] ان کا بیٹا جنگ جمل میں شہید ہوا۔[42] اس جنگ میں انہوں نے عائشہ سے گفتگو کی اور امیر المومنین کی حقانیت کے بارے میں رسول اللہ سے ایک روایت سننے کا ان سے اقرار لیا۔[43]

ابن بدیل اور ان کے بھائی عبد الرحمن کی امامؑ سے ایک گفتگو بھی نقل ہوئی ہے جس میں امام ان کو معاویہ سے جنگ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔[44] جنگ صفین شروع ہونے سے پہلے امیر المومنین کی طرف سے ان کو الانبار بھیجا گیا اور امام نے ایک خط کے ذریعے ان کو دشمن کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنے اور ان کی اجازت کے بغیر کوئی قدم نہ اٹھانے کی تاکید کی۔[45]

عبد اللہ جنگ صفین میں پیدل فوج[46] یا سوار فوج[47] یا کوفہ کے بعض قبائل[48] یا ان کے قاریوں[49] کے سپہ سالار تھے؛ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ امام علیؑ کے لشکر کے میمنہ کے علمبردار تھے۔[50] انہوں نے امام علیؑ کے لشکر کو جنگ کے لئے تیار کرنے[51] اور معاویہ اور ان کی فوج کا چہرہ بےنقاب کرنے کے لئے خطبے دیا۔[52] بعض محققین کا کہنا ہے کہ عبد اللہ کی باتوں سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وہ اس زمانے کے حالات اور لوگوں پر گرفت رکھتے تھے۔[53] جنگ صفین میں ان کی شجاعت اور دو تلواروں کے ساتھ جنگ کرنے اور دو ڈھال کو استعمال کرنے میں مشہور تھے۔[54]

شہادت

عبداللہ بن بدیل نے جنگ صفین کے ساتویں[55] یا نویں دن[56] اپنے ساتھی زخمی اور شہید ہونے کے بعد اکیلا دشمن پر حملہ کیا؛ اگرچہ مالک اشتر نے ان کو آگے بڑھنے سے منع کیا تھا؛[57] لیکن عبد اللہ معاویہ کو قتل کرنے پر پرعزم تھا[58] اور معاویہ کے قریب تک گیا اور دشمن کے 9 افراد کو قتل بھی کیا[59] جب دشمن ان کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہوئے تو ان پر پتھراؤ کیا اور یوں شہادت پاگئے۔[60] ابن اعثم کوفی نے ان کے جنگی کارناموں اور بہادری کو کچھ تفصیل سے بیان کیا ہے۔[61] قاضی نعمان کا کہنا ہے کہ عبد اللہ اور اس کے تین ہزار ساتھیوں نے دشمن کے 20 ہزار افراد کو ہلاک کیا ہے۔[62]

ابن ابی الحدید کا کہنا ہے کہ عبد اللہ بن بدیل کے آخری لحظات میں امام کا ایک صحابی ان کے سرہانے آیا تو عبد اللہ نے ان کو تقوائے الہی اور امامؑ کی نصرت کی وصیت کی اور ان سے درخواست کی کہ امامؑ کو ان کا سلام دینا۔ امام تک جب عبد اللہ کی یہ بات پہنچی تو آپ نے ان کی تعریف و تمجید کی اور ان کے لئے اللہ کی رحمت طلب کیا۔[63]

یعقوبی کے مطابق عبد اللہ کی لاش کو ان کے بھائی نے امام کے لشکر میں لے آیا اور امام علیؑ نے اس معاملے پر خدا کو گواہ بنایا۔[64] ان کے بھائی عبد الرحمٰن کو بھی جنگ صفین کے شہداء میں شمار کیا جاتا ہے؛[65] البتہ ایک قول کے مطابق وہ جنگ جمل میں شہید ہوئے ہیں۔[66] [یادداشت 2]

عبد اللہ کی شہادت کے بعد معاویہ ان کے بدن کو مُثلہ (ٹکڑے ٹکڑے) کرنا چاہتا تھا لیکن عبد اللہ بن عامر کی سفارش سے منصرف ہوگیا۔[67] کہا گیا ہے کہ معاویہ نے عبد اللہ کی تعریف کی[68] اور کہا: قبیلہ خزاعہ کی علی سے محبت اس قدر ہے کہ مرد تو مرد ہوئے اگر ان کی عورتیں بھی لڑنے کی طاقت رکھتیں تو علی کے دشمنوں سے لڑتیں۔[69] معاویہ نے بعد میں بھی ابن بدیل کی تعریف کی ہے۔[70]

ابن ابی الحدید اپنی کتاب شرح نہج البلاغہ میں لکھتے ہیں کہ جنگ صفین ختم ہونے کے بعد امیر المومنینؑ نے عبد اللہ اور بعض دیگر شہدا کی بعض باتوں کو دہرایا اور ان کے چلے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔[71]

حوالہ جات

  1. طبری، تاریخ طبری، 1387ھ، ج5، ص164؛ ابن حجر، الإصابۃ، 1415ھ، ج4، ص19.
  2. ابن أبی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، 1404ھ، ج9، ص111.
  3. کشی، رجال الکشی، 1409ھ، ص69.
  4. دینوری، الأخبارالطوال، 1368شمسی، ص175.
  5. ابن اثیر، أسد الغابۃ، 1409ھ، ج3، ص80.
  6. ابن حجر، الإصابۃ، 1415ھ، ج4، ص19؛ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، 1407ھ، ج5، ص338.
  7. ابن حبیب، المحبر، بیروت، ص184.
  8. زرکلی، الأعلام، 1989م، ج4، ص73.
  9. ابن عبدالبر، الاستیعاب، 1412ھ، ج3، ص872.
  10. ذہبی، تاریخ الإسلام، 1413ھ، ج3، ص567.
  11. طبری، تاریخ طبری، 1387ھ، ج11، ص511 ؛ تھوڑے اختلاف کے ساتھ: ابن حزم، جمہرۃ أنساب العرب،1403ھ، ص239.
  12. زرکلی، الأعلام، 1989م، ج4، ص221.
  13. ذہبی، تاریخ الإسلام، 1413ھ، ج33، ص151.
  14. طوسی، الأمالی، 1414ھ، ص361؛ نجاشی، رجال النجاشی، 1365شمسی، ص161.
  15. نوری، مستدرک الوسائل، الخاتمۃ، 1408ھ، ج3، ص72.
  16. سمعانی، الأنساب، 1382ھ، ج2، ص116.
  17. کشی، رجال الکشی، 1409ھ، ص45.
  18. بحرانی اصفہانی، عوالم العلوم، 1382شمسی، ص489.
  19. ابن عبدالبر، الاستیعاب، 1412ھ، ج3،ص:872؛ ابن اثیر، أسدالغابۃ، 1409ھ، ج3، ص80.
  20. ابن عبدالبر، الاستیعاب، 1412ھ، ج1، ص150.
  21. ابن اثیر، أسدالغابۃ، 1409ھ، ج3، ص80؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، 1412ھ، ج3، ص872.
  22. ابن حجر، الإصابۃ، 1415ھ، ج1، ص409.
  23. احمدی میانجی، مکاتیب الرسول(ص)، ج3، ص127.
  24. واقدی، المغازی، 1409ھ، جلد2، ص749.
  25. ابن حیون، شرح الأخبار، 1409ھ، ج2، ص32.
  26. ابن عبدالبر، الاستیعاب، 1412ھ، ج1، ص150، ج3، ص872؛ ابن اثیر، أسدالغابۃ، 1409ھ، ج1، ص203.
  27. ابن حجر، الإصابۃ، 1415ھ، ج6، ص5؛ طوسی، رجال الطوسی، 1373شمسی، ص49.
  28. ابن حجر، الإصابۃ، 1415ھ، ج4، ص18؛ صالحی الشامی، سبل الہدی، 1414ھ، ج11، ص363.
  29. طوسی، رجال الطوسی، 1373شمسی، ص70؛ ابن داود، الرجال، 1342شمسی، ص199؛ حلی، رجال العلامۃ الحلی، 1411ھ، ص103.
  30. ابن حجر، الإصابۃ، 1415ھ، ج1، ص409، ج5، ص438؛ ابن اثیر، أسدالغابۃ، 1409ھ، ج4، ص168؛ مجلسی، بحارالأنوار، 1403ھ، ج96، ص308.
  31. ابن خیاط، تاریخ خلیفۃ، 1415ھ، ص93؛ ذہبی، تاریخ الإسلام، 1413ھ، ج3، ص326؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، 1412ھ، ج3، ص872.
  32. ابن اعثم الکوفی، الفتوح، 1411ھ، ج2، ص314؛ ابن العبری، تاریخ مختصر الدول، 1992م،،ص102.
  33. بلاذری، فتوح البلدان، 1988م، ص304.
  34. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، بیروت، ج2، ص157.
  35. ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، 1408ھ، ج2، ص566؛ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، 1407ھ، ج7، ص132.
  36. بلاذری، فتوح البلدان، 1988م، ص390؛ ابن الفقیہ، البلدان، 1416ھ، ص611.
  37. طبری، تاریخ طبری، 1387ھ، ج4، ص180؛ ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، 1408ھ، ج2، ص566.
  38. بلاذری، أنساب الأشراف، 1417ھ، ج8، ص120.
  39. ذہبی، تاریخ الإسلام، 1413ھ، ج3، ص567.
  40. مفید، الجمل و النصرۃ، 1413ھ، ص103.
  41. مفید، الجمل و النصرۃ، 1413ھ، ص481.
  42. مفید، الجمل و النصرۃ، 1413ھ، ص342.
  43. ابن حیون، شرح الأخبار، 1409ھ، ج2، ص525؛ مفید،الکافئۃ، 1372شمسی، ص35؛ مفید، الجمل و النصرۃ، 1413ھ، ص433.
  44. بلاذری، أنساب الأشراف، 1417ھ، ج2، ص331.
  45. احمدی میانجی، مکاتیب الأئمۃ(ع)، 1426ھ، ج1، ص358.
  46. ابن خیاط، تاریخ خلیفۃ، 1415ھ، ص117؛ منقری، وقعۃ صفین، 1382ھ، ص205؛ ذہبی، تاریخ الإسلام، 1413ھ، ج3، ص541.
  47. ابن اعثم الکوفی، الفتوح 1411ھ، ج3، ص25؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل أبی طالب(ع)، 1379ھ، ج3، ص169.
  48. دینوری، الأخبارالطوال، 1368شمسی، ص172؛ طبری، تاریخ طبری، 1387ھ، ج5، ص11.
  49. ابن مسکویہ، تجارب الأمم، 1379شمسی، ج1، ص522.
  50. منقری، وقعۃ صفین، 1382ھ، ص208، 232؛ طبری، تاریخ طبری، 1387ھ، ج5، ص15؛ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، 1407ھ، ج7، ص262، 271، 310.
  51. ابن مسکویہ، تجارب الأمم، 1379شمسی، ج1، ص522؛ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، 1407ھ، ج7، ص262.
  52. منقری، وقعۃ صفین، 1382ھ، ص102، 234؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، 1404ھ، ج3، ص180– 874؛ بلاذری، أنساب الأشراف، 1417ھ، ج2، ص294.
  53. احمدی میانجی، مکاتیب الأئمۃ(ع)، 1426ھ، ج1، ص358.
  54. منقری، وقعۃ صفین، 1382ھ، ص245؛ ذہبی، تاریخ الإسلام، 1413ھ، ج3، ص541.
  55. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، 1404ھ، ج5، ص186؛ احمدی میانجی، مکاتیب الأئمۃ(ع)، 1426ھ، ج1، ص535.
  56. ہاشمی خویی، منہاج البراعۃ، 1400ھ، ج15، ص258.
  57. طبری، تاریخ طبری، 1387ھ، ج5، ص23؛ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، 1407ھ، ج7، ص264.
  58. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، 1404ھ، ج5، ص197.
  59. ابن مسکویہ، تجارب الأمم، 1379شمسی، ج1،ص528.
  60. منقری، وقعۃ صفین، 1382ھ، ص246؛ دینوری، الأخبارالطوال، 1368شمسی، ص176.
  61. ابن اعثم الکوفی، الفتوح، 1411ھ، ج3، ص25.
  62. ابن حیون، شرح الأخبار، 1409ھ، ج2، ص32.ا
  63. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، 1404ھ، ج8، ص92 – 93.
  64. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، بیروت، ج2، ص182.
  65. ابن عبدالبر، الاستیعاب، 1412ھ، ج3، ص872؛ ابن اثیر، أسدالغابۃ، 1409ھ، ج3، ص80؛ مسعودی، مروج الذہب، 1409ھ، ج2، ص384.
  66. ابن حجر، الإصابۃ، 1415ھ، ج4، ص19؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، 1404ھ، ج9، ص111.
  67. منقری، وقعۃ صفین، 1382ھ، ص246؛ مسعودی، مروج الذہب، 1409ھ، ج2، ص388؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، 1412ھ، ج3، ص873.
  68. ابن اثیر، أسدالغابۃ، 1409ھ، ج3، ص81؛ دینوری، الأخبارالطوال، 1368شمسی، ص176؛ طبری، تاریخ طبری، 1387ھ، ج5، ص24.
  69. ابن عبدالبر، الاستیعاب، 1412ھ، ج3، ص873.
  70. ابن اعثم الکوفی، الفتوح، 1411، ج3، ص162.
  71. ابن أبی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، 1404ھ، ج10، ص110.

نوٹ

  1. محمد بن جریر طبری کا کہنا ہے کہ شہادت کے وقت آپ کی عمر 24 سال تھی؛(طبری، تاریخ طبری، 1387ھ، ج4، ص139) لیکن اپنی تاریخ کی کتاب میں کہیں لکھا ہے کہ عبد اللہ فتح مکہ اور غزوہ حنین و تبوک میں بھی حاضر ہوئے تھے۔(طبری، تاریخ طبری، 1387ھ، ج‏11، ص511.)
  2. مسعودی نے عبد الرحمن کا نام لئے بغیر جنگ جمل میں عبد اللہ کے بھائی مارے جانے کا کہا ہے۔(مسعودی، مروج الذہب، 1409ھ، ج2، ص388.)

مآخذ

  • ابن أبی الحدید، عبدالحمید بن ہبۃ اللہ، شرح نہج البلاغۃ، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ المرعشی النجفی، 1404ھ۔
  • ابن أثیر، علی بن محمد الجزری، أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت، دارالفکر، 1409ھ۔
  • ابن اعثم الکوفی، أبو محمد أحمد، کتاب الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء، 1411ھ۔
  • ابن الفقیہ، احمد بن محمد بن اسحاق الہمذانی، کتاب البلدان، تحقیق یوسف الہادی، بیروت، عالم الکتب، 1416ھ۔
  • ابن حبیب، محمد بن حبیب بن امیۃ الہاشمی البغدادی، کتاب المحبر، تحقیق ایلزۃ لیختن شتیتر، بیروت، دارالآفاق الجدیدۃ، بی تا.
  • ابن حجر العسقلانی، احمد بن علی، الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ، تحقیق عادل احمد عبدالموجود و علی محمد معوض، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 1415ھ۔
  • ابن حزم، علی بن احمد بن سعید، جمہرۃ أنساب العرب، تحقیق لجنۃ من العلماء، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 1403ھ۔
  • ابن حیون، نعمان بن محمد، شرح الأخبار فی فضائل الأئمۃ الأطہار(ع)، قم، جامعہ مدرسین، 1409ھ۔
  • ابن خلدون، عبدالرحمن بن محمد، دیوان المبتدأ و الخبر فی تاریخ العرب و البربر و...، تحقیق خلیل شحادۃ، بیروت، دارالفکر، چاپ دوم، 1408ھ۔
  • ابن خیاط، خلیفۃ بن خیاط بن أبی ہبیرۃ اللیثی، تاریخ خلیفۃ بن خیاط، تحقیق فواز، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 1415ھ۔
  • ابن داود، حسن بن علی بن داود، الرجال، تہران، دانشگاہ تہران، 1342ہجری شمسی۔
  • ابن شہر آشوب مازندرانی، محمد بن علی، مناقب آل أبی طالب(ع)، قم، نشر علامہ، 1379ھ۔
  • ابن عبدالبر، یوسف بن عبد اللہ بن محمد، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت، دارالجیل، 1412ھ۔
  • ابن العبری، غریغوریوس الملطی، تاریخ مختصرالدول، تحقیق انطون صالحانی الیسوعی، بیروت، دارالشرق، چاپ دوم، 1992ء۔
  • ابن کثیر، اسماعیل بن عمر، البدایۃ و النہایۃ، بیروت، دارالفکر، 1407ھ۔
  • ابن مسکویہ، ابوعلی مسکویہ الرازی، تجارب الامم، تحقیق ابوالقاسم امامی، تہران، سروش، 1379ہجری شمسی۔
  • احمدی میانجی، علی، مکاتیب الأئمۃ(ع)، قم، دارالحدیث، 1426ھ۔
  • احمدی میانجی، علی، مکاتیب الرسول(ص)، قم، دارالحدیث، 1419ھ۔
  • بحرانی اصفہانی، عبد اللہ بن نور اللہ، عوالم العلوم و المعارف والأحوال من الآیات و الأخبار و الأقوال - الإمام علی بن أبی طالب(ع)، قم، مؤسسۃ الإمام المہدی(عج)، چاپ دوم، 1382ہجری شمسی۔
  • بلاذری، أبو الحسن أحمد بن یحیی، فتوح البلدان، بیروت، دار و مکتبۃ الہلال، 1988ء۔
  • بلاذری، أحمد بن یحیی بن جابر، انساب الاشراف، تحقیق سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت، دارالفکر، 1417ھ۔
  • حلی، حسن بن یوسف، رجال العلامۃ الحلی، نجف، دارالذخائر، چاپ دوم، 1411ھ۔
  • دینوری، ابوحنیفہ احمد بن داود، الأخبار الطوال، تحقیق عبدالمنعم عامر،قم، منشورات الرضی، 1368ہجری شمسی۔
  • ذہبی، شمس الدین محمد بن احمد، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، تحقیق عمر عبدالسلام تدمری، بیروت، دارالکتاب العربی، چاپ دوم، 1413ھ۔
  • زرکلی، خیرالدین، الاعلام، بیروت، دارالعلم للملایین، چاپ ہشتم، 1989م.
  • سمعانی، عبدالکریم بن محمد بن منصور التمیمی، الأنساب، تحقیق عبدالرحمن بن یحیی المعلمی، حیدر آباد، مجلس دائرۃ المعارف العثمانیۃ، 1382ھ۔
  • صالحی الشامی، محمد بن یوسف، سبل الہدی و الرشاد فی سیرۃ خیرالعباد، تحقیق عادل احمد عبدالموجود و علی محمد معوض، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 1414ھ۔
  • طبری، أبو جعفر محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد أبو الفضل ابراہیم، بیروت، دارالتراث، 1387ھ۔
  • طوسی، محمد بن الحسن، الأمالی، قم، دارالثقافۃ، 1414ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، چاپ سوم، 1373ہجری شمسی۔
  • کشی، محمد بن عمر، رجال الکشی - إختیار معرفۃ الرجال، مشہد، مؤسسہ نشر دانشگاہ مشہد، 1409ھ۔
  • مجلسی، محمدباقر بن محمدتقی، بحارالأنوارالجامعۃ لدرر أخبار الأئمۃ الأطہار، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ دوم، 1403ھ۔
  • مسعودی، علی بن الحسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، تحقیق اسعد داغر، قم، دارالہجرۃ، چاپ دوم، 1409ھ۔
  • مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرۃ لسید العترۃ فی حرب البصرۃ، قم، کنگرہ شیخ مفید، 1413ھ۔
  • مفید، محمد بن محمد، الکافئۃ فی إبطال توبۃ الخاطئۃ، قم، کنگرہ شیخ مفید، 1372ہجری شمسی۔
  • منقری، نصر بن مزاحم، وقعۃ صفین، تحقیق عبدالسلام محمد ہارون، القاہرۃ، المؤسسۃ العربیۃ الحدیثۃ، چاپ دوم، 1382ھ۔
  • نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، چاپ ششم، 1365ہجری شمسی۔
  • نوری، حسین بن محمدتقی، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل،قم، مؤسسۃ آل البیت(ع)، 1408ھ۔
  • ہاشمی خویی، میرزا حبیب اللہ، منہاج البراعۃ فی شرح نہج البلاغۃ و تکملۃ منہاج البراعۃ، تہران، مکتبۃ الإسلامیۃ، چاپ چہارم، 1400ھ۔
  • واقدی، محمد بن عمر، کتاب المغازی، تحقیق مارسدن جونس، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی، چاپ دوم، 1409ھ۔
  • یعقوبی، احمد بن أبی یعقوب، تاریخ یعقوبی، بیروت، دار صادر، بی تا.