زید بن رقاد جنبی

ویکی شیعہ سے
(زید بن رقاد حینی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
زید بن رقاد
ذاتی کوائف
نام زید بن رقاد
نسب/قبیلہ قبیلہ جنب
کیفیت وفات مختار کے حکم سے اس پر تیراندازی کی گئی اور نیم جان بدن کو جلایا گیا۔
واقعہ کربلا میں کردار
اقدامات عباس بن علیؑ اور سوید بن عمرو بن ابی مطاع نیز (بعض مآخذ کے مطابق)عبداللہ بن مسلم کی شہادت میں شریک
نمایاں کردار لشکر عمر بن سعد کا تیرانداز

زید بن رقاد جنبی، واقعہ کربلا میں عمر بن سعد کی لشکر کے تیراندازوں میں سے ایک تھا جو عباس بن علیؑ اور سوید بن عمرو بن ابی مطاع کی شہادت میں شریک تھا۔ بعض مآخذ میں اسے عبداللہ بن مسلم کا قاتل کہا گیا ہے۔ وہ قیام مختار میں مارا گیا۔

واقعہ عاشورا

زید بن رقاد کا تعلق جنب قبیلہ سے تھا۔[1] بعض مآخذ میں اسے زید بن ورقاء حنفی،[2] زید بن ورقاء جہنی،[3] زید بن رقاد حینی،[4] یزید بن ورقاء[5] اور یزید بن رقاد جہنی[6] کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔

عاشورا کے دن لشکر عمر بن سعد میں تھا اور عباس بن علیؑ[7] اور سوید بن عمرو بن ابی مطاع (عاشورا کے دن کا آخری شہید)[8] کو شہید کرنے میں ملوث تھا۔

بعض مآخذ میں اسے عبداللہ بن مسلم کا قاتل قرار دیا گیا ہے۔[9] لیکن بعض مآخذ میں عبداللہ بن مسلم کا قاتل اسید بن مالک حضرمی[10] اور عمرو بن صبیح صیداوی کو قرار دیا ہے۔[11] بلاذری نے عمرو بن صبیح نقل کیا ہے کہ اس نے ایک تیر کے ذریعے عبداللہ بن مسلم کے ہاتھ کو اپنی پیشانی سے پیوست کر دیا اور پھر زید بن رقاد نے ان کا دل پھاڑ دیا۔[12] کسی اور جگہ وہ کہتا ہے کہ عمرو کا تیر عبداللہ کی پیشانی پر لگنے کے بعد بعض لوگوں نے انہیں قتل کیا۔[13] شیخ مفید نے بھی کہا ہے کہ عمرو کے تیر نے جب عبداللہ کا ہاتھ پیشانی سے پیوست کردیا تو کسی اور نے آپ کے دل پر ایک نیزہ مار کر شہید کردیا۔[14]

انجام

مختار نے اپنے قیام کے بعد عبداللہ بن کامل کو اس کی جانب بھیجا۔ جب گھیرے میں آگیا تو ابن کامل نے اسے تلوار اور نیزوں کے بجائے تیروں اور پتھروں سے مارنے کا حکم دیا۔[15]ابھی بدن میں رمق باقی تھی تو اس کا بدن جلایا گیا۔[16]

حوالہ جات

  1. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۶، ص۶۴.
  2. مفید، الارشاد، ج۲، ص۱۱۰؛ مجلسی، بحار الانوار، ج۴۵، ص۵۰.
  3. ابن شہر آشوب، مناقب، ص۱۰۸.
  4. بلاذری، انساب‌ الاشراف، ج۶، ص۴۵۰.
  5. ابن‌کثیر، البدایہ و النہایہ، ج۸، ص۲۷۲.
  6. خوارزمی، مقتل الحسین، ج۲، ۲۶۹.
  7. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۴۶۸؛ ابن‌ سعد، الطبقات، ج۵، ص۴۷۵؛ ابن‌ اثیر، الکامل، ج۴، ص۹۲؛ اصفہانی، مقاتل‌ الطالبیین، ص۹۰؛ مفید، الارشاد، ج۲، ص۱۱۰؛ ابن شہر آشوب، مناقب، ص۱۰۸.
  8. بلاذری، انساب‌ الاشراف، ج۳، ص۲۰۴؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۴۵۳.
  9. بلاذری، انساب‌الاشراف، ج۶، ص۴۰۸؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۶، ص۶۴؛ ابن‌ اثیر، الکامل، ج۴، ص۲۴۳؛ ابن‌کثیر، البدایہ و النہایہ، ج۸، ص۲۷۲؛ خوارزمی، مقتل الحسین، ج۲، ۲۶۹.
  10. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۴۶۹.
  11. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۴۴۷؛ ابن‌ اثیر، الکامل، ج۴، ص۷۴.
  12. بلاذری، انساب‌ الاشراف، ج۶، ص۴۰۸.
  13. بلاذری، انساب‌ الاشراف، ج۳، ص۲۰۰؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۴۴۷.
  14. مفید، الارشاد، ج۲، ص۱۰۷.
  15. طبری، تاریخ، ج۶، ص۶۴.
  16. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۶، ص۶۵؛ ابن‌اثیر، الکامل، ج۴، ص۲۴۳؛ ابن‌ نما، ذوب‌ النضار، ص۱۲۰؛ مجلسی، بحار الانوار، ج۴۵، ص۳۷۴.


مآخذ

  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق: محمد أبوالفضل ابراہیم، دار التراث، بیروت، ۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷ء۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، جمل من انساب‌الأشراف، تحقیق: سہیل زکار و ریاض زرکلی، دار الفکر، بیروت، ۱۴۱۷ھ/۱۹۹۶ء۔
  • ابن‌ اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، دار صادر، بیروت، ۱۳۸۵ھ/۱۹۶۵ء۔
  • ابن‌ کثیر دمشقی، اسماعیل بن عمر، البدایہ و النہایہ، دار الفکر، بیروت، ۱۴۰۷ھ/۱۹۸۶ء۔
  • مفید، الإرشاد، انتشارات کنگرہ جہانی شیخ مفید، قم، ۱۴۱۳ھ۔
  • ابن‌ نما حلی، جعفر بن محمد، ذوب النضار فی شرح الثار، مؤسسہ النشر الاسلامی، قم، ۱۴۱۶ھ۔
  • ابن‌ شہرآشوب مازندرانی، مناقب آل أبی طالب (ع)، مؤسسہ انتشارات علامہ، قم، ۱۳۷۹ھ۔
  • مجلسی، بحار الأنوار، مؤسسة الوفاء، بیروت، ۱۴۰۴ھ۔
  • خوارزمی، موفق بن احمد، مقتل الحسین علیہ‌السلام، انوار الہدی، قم، ۱۴۲۳ھ۔
  • ابو الفرج اصفہانی، علی بن حسین، مقاتل الطالبیین، تحقیق: سید احمد صقر، دار المعرفہ، بیروت، بی‌تا.