مندرجات کا رخ کریں

الحسین فی الفکر المسیحی (کتاب)

ویکی شیعہ سے
الحسین فی الفکر المسیحی
مشخصات
مصنفاینٹین بارا
سنہ تصنیفسنہ 1978ء
موضوعامام حسین کی زندگی اور سیرت کا جائزہ
زبانعربی
تعداد جلد1
صفحات567
ترجمہاردو، فارسی وغیرہ
طباعت اور اشاعت
مقام اشاعتکویت
سنہ اشاعتسنہ 1978ء
طبعاول
اردو ترجمہ
نام کتابامام حسین عیسائی افکار میں / امام حسین ایک عیسائی کی نظر میں
مترجممحمد کاظم شہیدی


الحسین فی الفکر المسیحی (عیسائی افکار میں امام حسینؑ کی منزلت) اینٹین بارا (پیدائش: 1943) ایک شامی عیسائی مصنف کی کتاب ہے، جنہوں نے امام حسین علیہ السلام کی شخصیت اور ان کے قیام کا مذہبی نقطۂ نظر سے بالاتر ہوکر جائزہ لیا ہے۔ یہ کتاب امام حسینؑ کو ایک عالمی شخصیت کے طور پر متعارف کرواتی ہے، جن کا قیام، اسلام کی حقانیت کے دفاع کے لیے ضروری تھا۔ مصنف نے اس کتاب میں انجیل اور واقعۂ کربلا کے درمیان ربط قائم کیا ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کو سید محمد شیرازی جیسے شیعہ علماء کی طرف سے پذیرائی ملی جنہوں نے اس پر مقدمہ بھی لکھا، اگرچہ بعض علما نے اس پر تنقید بھی کی، جیسے کہ خلیفہ سوم عثمان بن عفان کی شان میں مبینہ گستاخی اور تاریخی و دینی حوالہ جات میں بعض اشکالات اس پر کی جانے والی تنقیدوں میں سے ہیں۔

کتاب الحسین فی الفکر المسیحی پہلی بار سنہ 1978ء میں کویت سے شائع ہوئی اور اب تک سترہ زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہے۔ اردو میں اس کا ایک ترجمہ "امام حسین ایک عیسائی محقق کی نظر میں" کے عنوان سے معروف ہے۔

کتاب کی اہمیت اور پس منظر

اینٹین بارا کتاب کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ یہ کتاب شروع میں مصنف کے پراکندہ کچھ نوٹس اور یادداشتوں کا مجموعہ تھی، جنہیں سید محمد شیرازی کی حوصلہ افزائی سے باقاعدہ کتاب کی شکل میں مدون کردیا گیا۔[1] سید محمد شیرازی نے اس کتاب پر لکھے گئے مقدمے میں بارا کو امام حسینؑ کی شخصیت کا شیدائی قرار دیا ہے۔[2] سید محمد صدر نے بھی اپنی کتاب اضواء علی ثورۃ الحسینؑ میں اس کتاب کا حوالہ دیا ہے۔[3]

مصنف کا تعارف

اینٹین بارا (پیدائش: سنہ 1943ء) شام کے ایک مسیحی مصنف و محقق ہیں، جو عاشورہ کے واقعے کو نوجوان نسل کے لیے ایک نئے زاویے سے فراہم کرنے میں پیش پیش رہے ہیں۔ لبنان میں سابق ایرانی ثقافتی کونسلر عباس خامہ یار کے مطابق، بارا نے حماسی اندازِ بیان میں ایک منفرد اسلوب اختیار کیا ہے۔[4]

کتاب پر نقد

کتاب کی اشاعت کے بعد، کویت میں اس پر خلیفہ سوم کی توہین کا الزام لگا گیا تاہم عدالت نے بارا کو بری کردیا۔[5] مزید برآں، بعض انجیل اور شیعہ مصادر سے ان کے استناد پر علمی تنقید بھی کی گئی۔[6]

کتاب کا فارسی ترجمہ

امام حسینؑ کے بارے میں مصنف کا نظریہ

اینٹین بارا، امام حسینؑ کو "مذہب سے بالاتر شخصیت مانتے ہیں، جن کا پیغام پوری انسانیت کے لیے ہے۔[7] ان کا کہنا ہے کہ اگر امام حسینؑ قیام نہ کرتے تو اسلام گمراہی کے اندھیروں میں ڈوب جاتا۔ وہ اس وقت کے بحرانی حالات کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ امام کے پاس اسلام کی حقانیت کی حفاظت کے لیے اپنے اور اپنے خاندان کی قربانی کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔[8] اسی طرح بارا نے امام حسینؑ کے سلسلہ میں حضرت عیسیٰؑ کی بشارتوں کا بھی ذکر کیا ہے اور انجیل و واقعہ کربلا کے درمیان معنوی رابطہ قائم کیا ہے۔[9]

مصنف کا کہنا ہے کہ یہ کتاب ان کی ذاتی صلاحیت سے بالاتر ہے اور اس کی تالیف کو وہ امام حسینؑ کی خاص عنایت قرار دیتے ہیں۔[10]

کتاب کے مضامین اور ڈھانچے

الحسین فی الفکر المسیحی کا اردو ترجمہ

یہ کتاب آٹھ ابواب پر مشتمل ہے:

  • امام حسینؑ کی شخصیت اور قیام کے سلسلہ میں مسیحیت کی نظر
  • قیام امام حسینؑ کی نوعیت
  • مدینہ سے کربلا تک امام حسینؑ کے سفر اور شہادت کا تاریخی تجزیہ
  • اموی حکومت کے زوال کی وجوہات
  • شہادت امام حسینؑ کے جمالیاتی و فنی پہلو کا تجزیہ
  • ادیانِ آسمانی کا مشترکہ ہدف
  • پہلی اشاعت پر ردعمل
  • تصاویر اور دستاویزی مواد۔[11]

اشاعت اور ترجمے

یہ کتاب پہلی بار سنہ 1978ء میں کویت میں شائع ہوئی، اور چوتھے ایڈیشن تک پہنچی۔ پانچواں ایڈیشن سنہ 2009ء میں بیروت سے شائع ہوا۔ اس کا عربی نسخہ بھی ایران میں سنہ 1979ء میں عروۃ الوثقی پبلشرز نے شائع کیا، اور بعد میں سنہ 2004ء میں فاروس پبلشرز نے دوبارہ شائع کیا۔[12]

اس کتاب کا 17 زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے،[13] اس کتاب کا اردو ترجمہ محمد کاظم شہیدی نے "امام حسین ایک عیسائی محقق کی نظر میں" کے عنوان سے کیا ہے۔[14] اور فارسی میں بھی اس کے متعدد ترجمے ہوچکے ہیں جن میں "امام حسین در اندیشہ مسیحیت"، [15] "امام حسین از دیدگاہ یک مسیحی"[16] اور "حسین در اندیشہ مسیحیت" شامل ہیں۔[17]

حوالہ جات

  1. زائری، آشنایی با «آنطوان بارا» نویسندہ مسیحی کتاب «حسین در اندیشہ مسیحیت»، خبرگزاری ابنا۔
  2. بارا، الحسین فی الفکر المسیحی، 2009م، ص7۔
  3. صدر، اضواء علی ثورۃ الحسین، 1430ھ، ص229-231۔
  4. خامہ یار، عاشورا و آنتوان بارا؛ امام حسین(ع) در اندیشہ یک اندیشمند مسیحی»، خبرگزاری ایکنا۔
  5. بارا، الحسین فی الفکر المسیحی، 2009م، ص407-408۔
  6. بارا، الحسین فی الفکر المسیحی، 2009م، ص408-409۔
  7. بارا، الحسین فی الفکر المسیحی، 2009م، ص343 و 271۔
  8. بارا، الحسین فی الفکر المسیحی، 2009، ص69
  9. بارا، الحسین فی الفکر المسیحی، 2009م، ص31۔
  10. بارا، الحسین فی الفکر المسیحی، 2009م، ص343۔
  11. بارا، الحسین فی الفکر المسیحی، 2009م، فہرست کتاب۔
  12. بارا، الحسین فی الفکر المسیحی، 2009م، ص405۔
  13. «گفتگو با آنتوان بارا نویسندہ مسیحی کتاب الحسین فی الفکر المسیحی»، ص305۔
  14. امام حسین ایک عیسائی محقق کی نظر میں، الفاظ ویب سائٹ۔
  15. بارا، امام حسین در اندیشہ مسیحیت، ترجمہ فرامرز میرزایی و علی باقر طاہرنیا، 1381شمسی، ص2۔
  16. بارا، امام حسین(ع) از دیدگاہ یک مسیحی، ترجمہ احمد بانپور، 1395شمسی، ص2۔
  17. بارا، حسین در اندیشہ مسیحیت، ترجمہ غلامحسین انصاری، 1398شمسی، ص2۔

مآخذ