مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:علی شمخانی

ویکی شیعہ سے
علی شمخانی
کوائف
لقب/کنیتبحریہ کا ایڈمرل
تاریخ پیدائش29 ستمبر سنہ 1955ء
آبائی شہراہواز
ملکایران
تاریخ/مقام شہادت28 فروری سنہ 2026ء
دیناسلام
مذہبشیعہ
پیشہعسکری سپہ سالار
سیاسی کوائف
مناصبسپاہ پاسداران کے کمانڈر اِن چیف کے نائب، سپاہ پاسداران کی بری فوج کے کمانڈر، فوج اور سپاہ پاسداران کی بحری افواج کے کمانڈر اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل میں رہبر کے نمائندے
علمی و دینی معلومات
تالیفاتاسلامی جمہوریہ ایران کی بحری دفاعیہ میں حکمت عملی کا نظریہ


علی شمخانی (سنہ 1955ء–2026ء)، اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کے ایڈمرل اور ایران عراق جنگ کے ایرانی کمانڈروں میں سے تھے۔ شمخانی نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی خوزستان کی کمان، سپاہ پاسداران اور اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی بحری افواج کی کمان، وزارتِ دفاع (1997ء تا 2005ء)، قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹری (2013ء تا 2023ء)، مجمع تشخیص مصلحتِ نظام کی رکنیت اور اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر کے مشیر سمیت مختلف سیاسی اور عسکری اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔

شمخانی 28 فروری سنہ 2026ء کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں نشانہ بنے اور شہید ہوئے۔

سوانح حیات اور مناصب

علی شمخانی سنہ 1955ء میں ایران کے شہر اہواز میں پیدا ہوئے،[1] وہ ایران عراق جنگ کے ایرانی کمانڈروں میں شامل تھے۔[2] وہ ایران کی بحریہ کے واحد لیفٹیننٹ جنرل تھے۔[3] شمخانی 13 جون سنہ 2025ء کو اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی بارہ روزہ جنگ کے دوران ایک قاتلانہ حملے کا نشانہ بنے اور شدید زخمی ہوئے۔[4]

شمخانی نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کے اعلیٰ کورسز اور عسکری اسٹریٹجک مطالعات کے کورسز مکمل کیے۔ انہوں نے شہید چمران یونیورسٹی اہواز سے انجینئرنگ کی ڈگری اور مینجمنٹ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔[5] کہا جاتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پہلی بحری حکمتِ عملی (Naval Strategy) اور امریکہ و سوویت یونین کی حکمتِ عملیوں کے تقابلی جائزے کا نظریہ بھی انہوں نے مرتب کیا تھا۔[6]

سنہ 1989ء میں اس وقت کے سپریم لیڈر اسلامی جمہوریہ ایران سید علی خامنہ ای کے حکم پر شمخانی کو سپاہ پاسداران سے اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج میں منتقل کیا گیا[7] اور سنہ 1990ء سے انہوں نے بیک وقت فوج اور سپاہ دونوں کی بحری افواج کی کمان سنبھالی۔[8]

انہیں ایک مرتبہ نشانِ فتح درجہ اول اور دو مرتبہ نشانِ فتح درجہ دوم سے نوازا گیا[9] اور سنہ 1999ء میں انہیں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔[10] اسی طرح سنہ 2000ء میں سعودی عرب کے اُس وقت کے فرمانروا شاہ فہد کی جانب سے سعودی عرب کا اعلیٰ ترین سرکاری اعزاز "تمغہ عبد العزیز" انہیں عطا کیا گیا۔[11]

ایران کے اسلامی انقلاب سے قبل شمخانی نے محمد جہان آرا، غلام علی رشید اور محسن رضائی کے ساتھ مختلف سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا، جن میں منصورین گروپ کی رکنیت بھی شامل تھی۔[12]

حملہ اور شہادت

شمخانی 28 فروری سنہ 2026ء کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے دوران دفاعی کونسل کے اجلاس میں ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف سید عبدالرحیم موسوی، سپاہ پاسداران کے کمانڈر ان چیف محمد پاکپور اور اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع عزیز نصیرزادہ کے ہمراہ شہید ہوئے۔[13] 14 مارچ سنہ 2026ء کو تہران میں ان کی تشییع جنازہ ہوئی اور انہیں امام زادہ صالح تجریش میں سپردِ خاک کیا گیا۔[14]

ذمہ داریاں

علی شمخانی کی عسکری اور سیاسی ذمہ داریاں درج ذیل ہیں:

عسکری ذمہ داریاں

  • ایران عراق جنگ کے دوران سپاہ پاسداران خوزستان کی کمان۔[15]
  • سنہ 1981ء تا 1989ء سپاہ پاسداران کے نائب کمانڈر ان چیف رہے۔[16]
  • سنہ 1986ء سپاہ پاسداران کی بری فوج کے کمانڈر رہے۔[17]
  • سنہ 1986ء تا 1989ء میں سپاہ پاسداران کی بحریہ کے کمانڈر رہے۔
  • سنہ 1989ء تا 1997ء اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی بحریہ کے کمانڈر رہے ۔[18]
  • سنہ 1990ء میں فوج اور سپاہ کی مشترکہ بحری افواج اور بحری خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر کے کمانڈر رہے۔[19]

سیاسی ذمہ داریاں

  • سنہ 1988ء تا 1989ء سپاہ کے وزیرِ رہے۔[20]
  • سنہ 1997ء تا 2005ء سید محمد خاتمی کی حکومت میں وزیرِ دفاع رہے۔
  • سنہ 2005ء میں مسلح افواج کے دفاعی اسٹریٹجک تحقیقاتی مرکز کے سربراہ رہے۔[21]
  • سنہ 2006ء میں ایران کی خارجہ امور کے تعلقات عامہ کی اسٹریٹجک کونسل کے رکن رہے۔[22]
  • سنہ 2013ء میں قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل میں رہبر کے نمائندے کےعہدے پر فائز رہے۔[23]
  • سنہ 2013ء تا 2023ء قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹری رہے۔[24]
  • سنہ 2023ء میں مجمع تشخیص مصلحتِ نظام کے رکن اور اسلامی جمہوریہ ایران کے دوسرے رہبر سید علی حسینی خامنہ ای کے سیاسی مشیر تھے۔[25]

شمخانی نے سنہ 2001ء میں ایران کے صدارتی انتخابات کے آٹھویں دور میں حصہ لیا۔ وہ سید محمد خاتمی اور احمد توکلی کے بعد تیسرے نمبر پر رہے۔[26]

حوالہ جات

  1. «زندگینامہ: علی شمخانی (1334-)»، وبگاہ ہمشہری آنلاین۔
  2. «زندگینامہ: علی شمخانی (1334 -)»، وبگاہ ہمشہری آنلاین۔
  3. «17 سرلشکر جمہوری اسلامی ایران را بشناسید + عکس»، وبگاہ خبرگزاری میزان۔
  4. «بدون تعارف با شمخانی؛ از لحظہ حملہ رژیم صہیونیستی تا لحظہ نجات از زیر آوار+ فیلم»، وبگاہ مشرق‌نیوز۔
  5. «زندگینامہ: علی شمخانی (1334 -)»، وبگاہ ہمشہری آنلاین۔
  6. «زندگینامہ علی شمخانی»، وبگاہ جماران۔
  7. «حکم انتصاب فرماندہ نیروى دریایى ارتش جمہورى اسلامى ایران»، وبگاہ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت‌اللہ خامنہ‌ای۔
  8. «حکم انتصاب فرماندہ نیروى دریایى سپاہ پاسداران انقلاب اسلامى»، وبگاہ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت‌اللہ خامنہ‌ای۔
  9. «سہ نشان فتح بر سینہ دریابان شمخانی»، وبگاہ خبرگزاری دفاع مقدس۔
  10. «زندگینامہ علی شمخانی»، وبگاہ جماران۔
  11. «عالی‌ترین نشان دولتی عربستان بہ وزیر دفاع ایران اعطا شد»، وبگاہ ایرنا۔
  12. عزیزی و دیگران، «منصورون، از تشکیل تا ائتلاف»، ص69۔
  13. «علی شمخانی بہ شہادت رسید»، خبرگزاری ایلنا۔
  14. «تشییع و تدفین دریاسالار شہید علی شمخانی در امامزادہ صالح(ع)»، خبرگزاری دفاع مقدس۔
  15. «زندگینامہ: علی شمخانی (1334 -)»، وبگاہ ہمشہری آنلاین۔
  16. «زندگینامہ علی شمخانی»، وبگاہ جماران۔
  17. «نامہ شمخانی فرماندہ نیروی زمینی سپاہ بہ رزمندگان، قبل از عملیات کربلای 1»، وبگاہ مرکز اسناد، تحقیقات و نشر معارف دفاع مقدس و مجاہدت‌ہای سپاہ۔
  18. «زندگینامہ علی شمخانی»، وبگاہ جماران۔
  19. «زندگینامہ: علی شمخانی (1334-)»، وبگاہ ہمشہری آنلاین۔
  20. «زندگینامہ علی شمخانی»، وبگاہ جماران۔
  21. «انتصاب ریاست مرکز تحقیقات راہبردی دفاعی و معاون بازرسی ستاد کل نیروہای مسلح»، وبگاہ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت‌اللہ خامنہ‌ای۔
  22. «آنچہ دربارہ شورای راہبردی روابط خارجی ایران باید بدانید | 7 ہدف راہبردی برای شورا»، وبگاہ ہمشہری آنلاین۔
  23. «انتصاب آقای علی شمخانی بہ نمایندگی رہبری در شورای عالی امنیت ملی»، وبگاہ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت‌اللہ خامنہ‌ای۔
  24. «زندگینامہ: علی شمخانی (1334 -)»، وبگاہ ہمشہری آنلاین۔
  25. «انتصاب آقای علی شمخانی بہ عضویت در مجمع تشخیص مصلحت نظام و مشاورت سیاسی رہبری»، وبگاہ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت‌اللہ خامنہ‌ای۔
  26. «زندگینامہ: علی شمخانی (1334 -)»، وبگاہ ہمشہری آنلاین۔

مآخذ