مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:عقبہ بن عمرو سہمی

ویکی شیعہ سے
عقبہ بن عمرو
کوائف
شہرتامام حسینؑ کی مرثیہ سرائی
تاریخ پیدائشپہلی صدی ہجری کے اواخر
علمی معلومات
دیگر معلومات
فعالیتشاعری


عُقبَۃ بن عَمرو سَہمی وہ پہلے شاعر ہیں جنہوں نے امام حسینؑ کی شہادت پر مرثیہ کہا۔[1] وہ قبیلہ بنی سَہم بن عَون سے تعلق رکھنے والے شاعر تھے۔ پہلی صدی ہجری کے اواخر میں وہ امام حسینؑ کی زیارت کے لیے کربلا گئے اور امامؑ کے غم میں مرثیے کے اشعار کہے۔[2] کتاب ادب الطف و شعراء الحسینؑ میں ان کے اشعار کا آغاز ان اشعار سے ہوتا ہے:

مَرَرْتُ عَلَى قَبْرِ الْحُسَيْنِ بِكَرْبَلَاءَ
فَفَاضَ عَلَيْهِ مِنْ دُمُوعِي غَزِيرُهَا
وَ ما زِلْتُ ابْکیه وَ ارْثي لِشَجْوِهِ
وَ يَسْعَدُ عَيْنى‌ دَمْعُها وَ زَفيرُها[3]

ان کے اشعار کا بنیادی مضمون امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی عزاداری، ان کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار اور اہل بیتؑ سے اظہارمحبت و عقیدت ہے۔[4] انہوں نے اپنے اشعار میں کربلا سے دوری پر حسرت کا اظہار کیا ہے اور اس سرزمین اور اس کے زائرین کی خدمت میں اپنا سلام پیش کیا ہے۔[5]

تاریخی مصادر میں اس شاعر کا نام مختلف صورتوں میں نقل ہوا ہے، جن میں عُقبہ بن عَمیق سہمی[6] اور عُقبہ بن عَمرو عَبسی[7] بھی شامل ہیں۔

حوالہ جات

  1. شیخ مفید، امالی، 1413ھ، ص324۔
  2. شُبّر، ادب الطف او شعراء الحسین(ع)، 1409ھ، ج1، ص52۔
  3. شبّر، ادب الطف او شعراء الحسین(ع)، 1409ھ، ج1، ص52۔
  4. شُبّر، ادب الطف او شعراء الحسین(ع)، 1409ھ، ج1، ص52۔
  5. شُبّر، ادب الطف او شعراء الحسین(ع)، 1409ھ، ج1، ص52۔
  6. اخطب خوارزم، مقتل الحسین، 1381شمسی، ج2، ص171۔
  7. ابن‌جوزی، تذكرۃ الخواص، 1426ھ، ج2، ص222۔

مآخذ

  • ابن‌جوزی، یوسف بن قزاوغلى‌، تذكرۃ الخواص من الأمۃ بذكر خصائص الأئمۃ، محقق: حسین تقی‌زادہ، قم،المجمع العالمي لاہل البيت عليہم‌السلام، مركز الطباعۃ و النشر، 1426ھ۔
  • اخطب خوارزم، موفق بن احمد، مقتل الحسین علیہ‌السلام، محقق: محمد سماوی، قم، انوار الہدی، 1381ہجری شمسی۔
  • شیخ مفید، امالی، مصحح: استادولی و علی‌اکبر غفاری، قم، کنگرہ شیخ مفید، پہلی اشاعت، 1413ھ۔
  • شُبّر، جواد، ادب الطف او شعراء الحسین(ع)، بیروت، دار المرتضی، پہلی اشاعت، 1409ھ۔