مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:سورہ جمعہ آیت نمبر 2

ویکی شیعہ سے
سورہ جمعہ آیت نمبر 2
آیت کی خصوصیات
سورہجمعہ
آیت نمبر2
پارہ28
محل نزولمدینہ
مضموناہداف بعثت پیغمبرؐ
مرتبط موضوعاتسورہ بقرہ آیت نمبر 129


سورہ جمعہ آیت نمبر 2 میں بعثت پیغمبرؐ کے بنیادی اہداف بیان ہوئے ہیں جن میں آیات الہی کی تلاوت، لوگوں کا تزکیہ اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دینا وغیرہ شامل ہیں۔ بعض مفسرین کے مطابق چونکہ اس آیت میں رسول اکرمؐ کے ذریعے مؤمنین کی تربیت کا طریقہ بیان کیا گیا ہے اس لیے تزکیہ کو کتاب و حکمت کی تعلیم پر مقدم رکھا گیا ہے۔ اس آیت میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ رسول اکرمؐ کو ایسے لوگوں میں مبعوث کیا گیا جو پڑھنے لکھنے کی صلاحیت سے عاری اور جن کے پاس کوئی آسمانی کتاب نہیں تھی، نیز اس سے پہلے وہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔

رسول اکرمؐ کی بعثت کا مقصد

سورہ جمعہ کی آیت نمبر 2 میں رسول اکرمؐ کی بعثت کے تین بنیادی مقاصد بیان ہوئے ہیں؛ آیات الہی کی تلاوت، لوگوں کا تزکیہ نفوس اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دینا۔[1] اس آیت میں رسول اکرمؐ کی بعثت کو اُمّیّین کے درمیان قرار دیا گیا ہے اور بعثت سے پہلے ان کی حالت کو کھلی ہوئی گمراہی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین کے مطابق اُمّیّین سے مراد ایسے لوگ ہیں جن کے پاس کوئی آسمانی کتاب نہیں تھی،[2] جبکہ بعض کے نزدیک اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو پڑھنے لکھنے سے ناواقف[3] تھے۔ بعض مفسرین نے ایسے لوگوں کے درمیان رسول خداؐ کی بعثت کو آپؐ کی رسالت کی اہمیت اور عظمت کی نشانی قرار دیا ہے۔[4]

هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ‎﴿٢﴾‏
وہ (اللہ) وہی ہے جس نے اُمّی قوم میں انہیں میں سے ایک رسول(ص) بھیجا جو ان کو اس (اللہ) کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاکیزہ بناتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ اس سے پہلے یہ لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا تھے۔



سورہ جمعہ آیت نمبر 2

بعض مفسرین نے سورہ جمعہ کی آیت نمبر 2 کو حضرت ابراہیمؑ کی اس دعا کی قبولیت قرار دیا ہے جو سورہ بقرہ کی آیت نمبر 129 میں بیان ہوئی ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ ان کی اولاد میں ایک رسول مبعوث فرمائے۔[5]

اس آیت میں حکمت کی مختلف تفسیریں بیان ہوئی ہیں۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد تعلیمات قرآن ہیں،[6] بعض نے اسے شرعی فرائض و احکام قرار دیا ہے،[7] جبکہ بعض مفسرین کے نزدیک حکمت سے مراد عقلی دلائل اور اسلامی احکام کے اسرار و فلسفے ہیں۔[8] آیت کے میں موجود الفاظ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ یعنی کھلی ہوئی گمراہی میں تھے، بعثت سے پہلے عرب معاشرے کی حالت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس معاشرے میں شرک، بت پرستی، جنگ و خونریزی، لوٹ مار اور دیگر غلط افکار و عقائد اور اعمال عام تھے۔ یہاں تک کہ بعض لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔[9]

تزکیہ کی علم پر وجہ تقدم

سورہ جمعہ کی آیت نمبر 2 کا مضمون سورہ بقرہ کی آیت نمبر 129 اور 151 نیز سورہ آل عمران کی آیت نمبر 164 میں بھی بیان ہوا ہے۔[10] ان میں سے بعض آیات میں تزکیہ کو تعلیم سے پہلے اور بعض میں تعلیم کو تزکیہ سے پہلے ذکر کیا گیا ہے۔[11]

شیعہ مفسر علامہ محمد حسین طباطبائی نے سورہ جمعہ کی آیت نمبر 2 میں تزکیہ کو تعلیم پر مقدم کیے جانے کو رسول اکرمؐ کے ذریعے مؤمنین کی تربیت کے طریقہ کار سے مربوط قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق عملی تربیت میں نفس کی پاکیزگی اور تہذیب اخلاق علوم و معارف کی تعلیم پر مقدم ہے۔[12] انہوں نے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 129 میں تعلیم کو تزکیہ پر مقدم کیے جانے کے بارے میں کہا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ تعالیٰ سے اپنی ذریت کو کتاب و حکمت کی تعلیم دینے کی درخواست کی تھی۔ ان کے مطابق انسان کو پہلے اعمالِ صالح اور اچھے اخلاق کو پہچاننا اور ان پر عمل کرنا چاہیے، تاکہ رفتہ رفتہ تزکیہ اور پاکیزگی حاصل ہو۔[13]

شیعہ مفسر قرآن ناصر مکارم شیرازی ان آیات میں تعلیم اور تزکیہ کی تقدیم و تاخیر کو ان دونوں کے باہمی اثر کی علامت قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق صحیح تعلیم، تزکیہ اور اخلاقی نشوونما کا باعث بنتی ہے، جبکہ تزکیہ بھی علم و دانش میں اضافے کے لیے زمینہ ہموار کرتا ہے۔[14]

اُمّی کے معنی اور اُمّیین کے مصادیق

بعض مفسرین نے سورہ جمعہ کی آیت نمبر 2 میں موجود الفاظ "رَسُولًا مِنْہُمْ؛ ان ہی میں سے ایک رسول" کو رسولِ اکرمؐ کے اُمّی ہونے کی طرف اشارہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق رسول اکرمؐ بھی اپنے زمانے کے لوگوں کی طرح پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے، تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ آپؐ نے معارف قرآن کو کسی دوسرے شخص سے حاصل نہیں کیے بلکہ ان کا سرچشمہ وحی الٰہی ہے۔[15] اس کے مقابلے میں شیعہ مفسر سید ہاشم بحرانی نے ایک روایت کی بنیاد پر نقل کیا ہے کہ رسول اکرمؐ 72 یا 73 زبانوں میں پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔[16] انہوں نے ایک دوسری روایت میں اُمّی کو مکہ سے منسوب قرار دیا ہے؛ کیونکہ مکہ کو اُمّ القریٰ (شہروں کی ماں) کہا جاتا ہے، اسی وجہ سے رسول اکرمؐ کو اُمّی کہا گیا ہے۔[17]

اُمّیین کے مصادیق کے بارے میں بھی مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض مفسرین نے اُمّیین سے مراد عرب لیے ہیں؛ کیونکہ ان میں سے اکثر لوگ پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت سے عاری تھے۔[18] بعض دیگر مفسرین کے مطابق اُمّیین سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس آسمانی کتاب اور نبی نہیں تھا اور اسی اعتبار سے وہ معارفِ الٰہیہ کے حوالے سے اُمّی شمار ہوتے تھے، اگرچہ وہ شاید پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔[19] ایک گروہ نے اہلِ مکہ کو اُمّیین کا مصداق قرار دیا ہے۔[20]

حوالہ جات

  1. رضایی اصفہانی، تفسیر قرآن مہر، 1387شمسی، ج21، ص29۔
  2. علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، 1363شمسی، ج2، ص366۔
  3. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج24، ص105۔
  4. دہقان، نسیم رحمت، 1386شمسی، ص488۔
  5. دہقان، با قرآن در مکہ و مدینہ، 1391شمسی، ص39۔
  6. طباطبایی، المیزان، 1390شمسی، ج19، ص265۔
  7. فخر رازی، التفسیر الکبیر، 1420ھ، ج30، ص538۔
  8. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج24، ص107۔
  9. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج24، ص108۔
  10. ہاشمی رفسنجانی، فرہنگ قرآن، 1383شمسی، ج7، ص452۔
  11. مکارم شیرازی، اخلاق در قرآن، 1377شمسی، ج1، ص18۔
  12. طباطبایی، المیزان، 1390شمسی، ج19، ص265۔
  13. طباطبایی، المیزان، 1390شمسی، ج19، ص265۔
  14. مکارم شیرازی، اخلاق در قرآن، 1377شمسی، ج1، ص19۔
  15. مشکینی اردبیلی، تفسیر روان، 1393شمسی، ج8، ص187۔
  16. بحرانی، البرہان، 1415ھ، ج5، ص374۔
  17. بحرانی، البرہان، 1415ھ، ج5، ص374۔
  18. مشہدی قمی، تفسیر کنز الدقایق، 1368شمسی، ج13، ص244۔
  19. علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، 1363شمسی، ج2، ص366۔
  20. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج10، ص428۔

مآخذ

  • بحرانی، سید ہاشم بن سلیمان، البرہان فی تفسیر القرآن، محقق: بنیاد بعثت، واحد تحقیقات اسلامی، قم، موسسۃ البعثۃ، پہلی اشاعت، 1415ھ۔
  • دہقان، اکبر، نسیم رحمت، قم، حرم، 1386ہجری شمسی۔
  • دہقان، علی‌اکبر، با قرآن در مکہ و مدینہ، تہران، مشعر، دوسری اشاعت، 1391ہجری شمسی۔
  • رضایی اصفہانی، محمدعلی، تفسیر قرآن مہر، قم، پژوہش‌ہای تفسیر و علوم قرآن، 1387ہجری شمسی۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، چاپ دوم، 1390ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تصحیح: فضل‌اللہ یزدی طباطبایی، ہاشم رسولی، تہران، ناصر خسرو، تیسری اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
  • علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، قم، دار الکتاب، تیسری اشاعت، 1363ہجری شمسی۔
  • فخر رازی، محمد بن عمر، التفسیر الکبیر، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1420ھ۔
  • قمی مشہدی، محمد بن محمدرضا، تفسیر کنز الدقائق و بحر الغرائب، محقق: حسین درگاہی، تہران، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی. سازمان چاپ و انتشارات‏، پہلی اشاعت، 1368ہجری شمسی۔
  • کاشانی، فتح‌اللہ، منہج الصادقین فی إلزام المخالفین، تہران‏، کتابفروشی اسلامیہ‏، پہلی اشاعت، تاریخ اشاعت درج نہیں۔
  • مشکینی اردبیلی، علی، تفسیر روان، قم، مؤسسہ علمی فرہنگی دار الحديث، 1392ہجری شمسی۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران‏، دار الکتب الإسلامیۃ، دسویں اشاعت، 1371ہجری شمسی۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، اخلاق در قرآن، قم، مدرسہ الامام علی بن ابی‌طالب(ع)، پہلی اشاعت، 1377ہجری شمسی۔
  • ہاشمی رفسنجانی، اکبر، فرہنگ قرآن، کلید راہیابی بہ موضوعات و مفاہیم قرآن کریم، قم، مؤسسہ بوستان کتاب، 1383ہجری شمسی۔