مسودہ:سورہ انفال آیت نمبر 16
| آیت کی خصوصیات | |
|---|---|
| سورہ | انفال |
| آیت نمبر | 16 |
| پارہ | 9 |
| محل نزول | مدینہ |
| موضوع | فرار رزمندہ مسلمان از میدان جنگ |
| مربوط آیات | سورہ انفال آیت نمبر 15 |
سورہ انفال کی آیت 16، کافروں کے خلاف میدان جنگ سے فرار ہونے والوں کے انجام اور اس کے مستثنیات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ شیعہ روایات میں میدان جنگ سے فرار اختیار کرنے کو گناہان کبیرہ میں شمار کیا گیا ہے۔ البتہ یہ حکم اس صورت میں لاگو نہیں ہوگا جب دشمنوں کی تعداد مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ ہو۔
شیعہ مرجع تقلید اور اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اس آیت سے استناد کرتے ہوئے دشمن کے فوجی، تبلیغاتی اور معاشی حملوں کے مقابلے غیر حکمت عملی پر مبنی پسپائی اختیار کرنے کو بھی الٰہی غضب کا سبب قرار دیا ہے۔ بعض مفسرین اس آیت میں مذکور حکم میں تمام جنگوں کو شامل قرار دیتے ہیں۔ اس کے برعکس بعض مفسرین اس بات کے معتقد ہیں کہ یہ آیت صرف غزوہ بدر کے ساتھ مختص ہے۔
شیعہ فقیہ شیخ طوسی نے اس آیت سے استناد کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ میدان جنگ میں موجود فرد کے قرض خواہ اور اس کے والدین بھی اسے جنگ واپس لوٹنے کا مطالبہ کرنے یا جنگ میں اس کی موجودگی پر ناراضگی ظاہر کرنے کا حق نہیں رکھتے۔
میدان جہاد سے فرار اختیار کرنے کا انجام
سورہ انفال کی 16ویں آیت کے مطابق کافروں کے ساتھ لڑی جانے والی جنگ سے فرار اختیار کرنا خدا کے غضب اور جہنم کے عذاب کا سبب بنتا ہے۔[1] جیسا کہ اسی سورے کی پچھلی آیت (سورہ انفال آیت نمبر 15) میں بھی مسلمانوں کو کافروں کے خلاف جہاد سے فرار اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے[2] اور شیعہ روایات میں میدان جنگ سے فرار اختیار کرنے کو گناہان کبیرہ میں شمار کیا گیا ہے۔[3]
چھٹی صدی ہجری کے شیعہ فقیہ اور مفسر قطب راوندی نے ایک یا دو دشمنوں کے مقابلے میں ایک مجاہد کے فرار اختیار کرنے کو گناہ اور حرام قرار دیا ہے جبکہ دو سے زیادہ دشمنوں کے مقابلے میں لڑی جانے والی جنگ سے بھاگنے کو جائز سمجھا ہے۔[4] شیخ طوسی نے اس آیت کے دو مستثنیات کے علاوہ جنگ سے فرار اختیار کرنے والے کو فاسق اور گناہ کبیرہ کا مرتکب قرار دیا ہے۔[5] شیعہ مرجع تقلید اور اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اس آیت سے استناد کرتے ہوئے دشمن کے فوجی، تبلیغاتی اور معاشی حملوں کے مقابلے میں غیر حکمت عملی پر مبنی پسپائی اختیار کرنے کو بھی الٰہی غضب کا سبب قرار دیا ہے۔[6]
وَمَن يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَىٰ فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ﴿١٦﴾
اور جو آج کے دن پیٹھ دکھائے گا وہ غضب الٰہی کا حق دار ہوگا اور اس کا ٹھکانا جہّنم ہوگا جو بدترین انجام ہے علاوہ ان لوگوں کے جو جنگی حکمت علمی کی بنا پر پیچھے ہٹ جائیں یا کسی دوسرے گروہ کی پناہ لینے کے لئے اپنی جگہ چھوڑ دیں۔
سورہ انفال آیت نمبر 16
مُستَثنیات
سورہ انفال کی 16ویں آیت میں دو مواقع پر جنگ سے پیچھے ہٹنے کو جنگ سے فرار اختیار کرنے کے حکم سے مستثنی قرار دیا گیا ہے ان میں سے ایک جنگی حکمت عملی کے تحت پسپائی اختیار کرنا اور دوسرا اپنے دیگر گروہوں کے ساتھ ملحق ہونے یا جنگی ساز و سامان مہیا کرنے کے لئے پیچھے ہٹنا۔[7] فاضل مقداد نے کسی دوسرے گروہ سے ملحق ہونے کے مورد میں اس گروہ میں مدد کرنے کی صلاحیت موجود ہونے کو بھی شرط قرار دیا ہے۔[8] اس کے مقابل بعض فقہاء نے آیت کے عموم سے استناد کرتے ہوئے اس شرط کو قبول نہیں کیا ہے۔[9]
تفسیر قمی میں "مُتَحَیِّزاً إِلی فِئَۃٍ" کی تعبیر سے وہ مجاہد مراد لیا ہے جو میدان جنگ سے اپنے صاحب اختیار یعنی پیغمبر یا امام کی طرف لوٹ آئے۔ نیز کہا گیا ہے کہ جو شخص دشمن سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے گویا اس نے کفر اختیار کیا ہے۔[10]
حکمت عملی پر مبنی پسپائی کی مثالیں
13ویں صدی ہجری کے شیعہ فقیہ صاحب جواہر کے مطابق شیعہ مفسرین اور فقہاء کے ایک گروہ نے میدان جنگ میں حکمت عملی پر مبنی پسپائی کی مثالیں بیان کی ہیں۔ ان میں شامل ہیں: زرہ پہننے یا اسے ٹھیک کرنے کے لئے، بھوک اور پیاس بجھانے کے لئے، سورج کی براہ راست روشنی یا ہوا سے بچنے کے لیے جگہ تبدیل کرنا، تنگ جگہ سے وسیع یا برعکس جگہ کی طرف منتقل ہونا اور دشمن پر قابو پانے کے لئے بلند مقام کی طرف حرکت کرنا۔ انہوں نے دشمن سے پیٹھ پھیرنے کو فرار کے معنی میں استعارہ قرار دیا ہے۔[11]
کیا فرار کا حکم صرف غزوہ بدر سے مختص ہے؟
شیخ طوسی کے مطابق امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ سے ایسی احادیث منقول ہیں جن کے مطابق مذکورہ آیت میں جہنم کی جو وعید (دھمکی) دی گئی ہے وہ تمام جنگوں اور ہر اس مجاہد کے لئے ہے جو دشمن کی فوج کے مقابلے میں فرار اختیار کرے۔[12] علامہ طباطبائی، [13]، معتزلی مفسر جُبّائی اور دیگر مفسرین[14] نے بھی یہی نظریہ اختیار کیا ہے۔ اس کے برعکس طبرسی کے مطابق بعض مفسرین نے اس آیت کو صرف غزوہ بدر سے فرار اختیار کرنے والوں سے متعلق قرار دیا ہے۔[15]
فقہی استناد
شیخ طوسی کے مطابق مسلمانوں اور دشمنوں کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد مسلمان مجاہدین کے والدین اور قرض خواہ کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ ان مجاہدین کو جنگ سے واپسی کا مطالبہ کریں یا جنگ میں اس کی موجودگی پر ناراضگی کا اظہار کریں۔ انہوں نے اس حکم کے لئے سورہ انفال کی 16ویں آیت میں دشمن سے پیٹھ پھیرنے اور جنگ سے فرار اختیار کرنے کی ممانعت کے عموم سے استناد کیا ہے۔[16]
حوالہ جات
- ↑ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 1401شمسی، ج32، ص192 ـ 193؛ طبرسی، مجمع البیان، 1367شمسی، ج4، ص813 ـ 814؛ مدرسی، من ہدی القرآن، 1419ھ، ج4، ص28۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج7، ص111۔
- ↑ برای نمونہ نگاہ کنید بہ: کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص276ـ278 و 280۔
- ↑ قطب راوندی، فقہ القرآن، 1405ھ، ج1، ص340۔
- ↑ شیخ طوسی، المبسوط، 1387ھ، ج2، ص10۔
- ↑ خامنہای، «بیانات آیتاللہ خامنہای در دیدار دستاندرکاران کنگرہ ملی شہدای استان کہگیلویہ و بویر احمد»، دفتر حفظ و نشر آثار آیتاللہ خامنہای۔
- ↑ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 1401شمسی، ج32، ص192ـ193؛ طبرسی، مجمع البیان، 1367شمسی، ج4، ص813ـ814؛ مدرسی، من ہدی القرآن، 1419ھ، ج4، ص28۔
- ↑ حلی، کنز العرفان، 1425ھ، ج1، ص357۔
- ↑ فاضل کاظمی، مسالک الافہام، بیتا، ج2، ص333۔
- ↑ قمی، تفسیر قمی، 1363شمسی، ج1، ص270۔
- ↑ نجفی، جواہرالکلام، 1404ھ، ج21، ص58ـ59۔
- ↑ شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج5، ص92۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1352شمسی، ج9، ص37۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1367شمسی، ج4، ص814۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1367شمسی، ج4، ص814۔
- ↑ شیخ طوسی، المبسوط، 1387ھ، ج2، ص6ـ7۔
مآخذ
- جوادی آملی، عبداللہ، تفسیر تسنیم، قم، مرکز نشر اسراء، 1401ہجری شمسی۔
- حلی، مقداد بن عبداللہ، کنز العرفان فی فقہ القرآن، قم، انتشارات مرتضوی، پہلی اشاعت، 1425ھ۔
- خامنہای، سید علی، «صوبہ کہگیلویہ و بویر احمد کے شہداء کے سالانہ مجلس کے منتظمین سے خطاب»، دفتر حفظ و نشر آثار آیتاللہ خامنہای، تاریخ انتشار؛ 24 مرداد 1403شمسی، تاریخ اخذ: 30 شہریور 1404ہجری شمسی۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بیتا۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی فقہ الامامیہ، تحقیق: سید محمدتقی کشفی، تہران، المکتبۃ المرتضویہ، تیسری اشاعت، 1387ھ۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القران، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، 1352ہجری شمسی۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دارالمعرفہ، 1367ہجری شمسی۔
- فاضل کاظمی، محمد، مسالک الأفہام إلی آیات الأحکام، مقدمہ آیتاللہ مرعشی نجفی، تہران، مرتضوی، بیتا۔
- قطب راوندی، سمطابقعید بن ہبۃاللہ، فقہ القرآن، قم، انتشارات کتابخانہ آیتاللہ مرعشی نجفی، دوسری اشاعت، 1405ھ۔
- قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر قمی، قم، دارالکتاب، 1363ہجری شمسی/1404ھ۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
- مدرسی، محمدتقی، من ہدی القرآن، تہران، دار محبیالحسین، پہلی اشاعت، 1419ھ/1999ء۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، 1374ہجری شمسی۔
- نجفی، محمدحسن، جواہر الکلام فی شرائع الاسلام، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ساتویں اشاعت، 1404ھ۔