مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:جوہری ہتھیار

ویکی شیعہ سے
ناگاساکی پر ایٹمی دھماکے سے پیدا ہونے والا مشروم نما بادل

جوہری ہتھیار یا ایٹم بم، کا ان اجتماعی تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں میں شمار ہوتا ہے جس کا استعمال شیعہ فقہ کے مطابق حرام ہے۔ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے سنہ 2010ء میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال کی حرمت کا فتویٰ صادر کیا۔ اسی بنیاد پر ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیاں پُرامن مقاصد کے لیے ہیں۔ اس کے باوجود ایران کو بین الاقوامی پابندیوں اور جوہری سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

سنہ 2025ء کو اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے امکان کو جواز بنا کر ایران کے جوہری تنصیبات پر بمباری کی۔ ان حملوں کی بین الاقوامی سطح پر وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی۔

تعارف و اہمیت

جوہری ہتھیار یا ایٹم بم، ایٹمی مرکز کے انشطار (Fission) یا انشطار و انضمام (Fusion) کے امتزاج سے پیدا ہونے والی توانائی پر مبنی ہتھیار ہے۔[1] یہ انبوہ تباہی اور بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے ضیاع کی صلاحیت رکھتا ہے۔[2] بعض ماہرین کے نزدیک جوہری ہتھیار بیرونی جارحیت کے روک تھام اور قومی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ شمار ہوتے ہیں۔[3] امریکہ واحد ملک ہے جس نے عملی طور پر جوہری ہتھیار استعمال کیا۔ سنہ 1945ء کو دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان کے شہر، ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکہ نے دو ایٹم بم گرائے، جس کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ تیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔[4]

جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کا معاہدہ (NPT)

جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کا معاہدہ (NPT) کے تحت وہ ممالک جو جوہری ہتھیار نہیں رکھتے، اس بات کے پابند ہیں کہ وہ ایسے ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے؛ جبکہ جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کو انہیں برقرار رکھنے کی اجازت ہے، البتہ وہ دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے فروغ میں تعاون فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ یہ معاہدہ 1968ء میں ممالک کے لئے پیش کیا گیا اور 2024ء تک ایران سمیت 186 ممالک اس میں شامل ہو گئے۔ بعد ازاں شمالی کوریا اس معاہدے سے الگ ہو گیا، جبکہ پاکستان، بھارت، کیوبا اور اسرائیل نے اس کی رکنیت اختیار نہیں کی۔[5]

اسلامی ممالک میں صرف پاکستان نے 28 مئی 1998ء کو کامیاب ایٹمی دھماکہ کر کے ایٹمی طاقتوں کی فہرست میں جگہ بنائی۔[6] پاکستان میں اس دن کو یومِ تکبیر کے نام سے منایا جاتا ہے۔[7] امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، چین، بھارت، اسرائیل اور شمالی کوریا بھی جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک شمار ہوتے ہیں۔[8]

جوہری ہتھیار کے استعمال کی حرمت

ایٹمی ہتھیار کو انبوہ تباہی مچانے والے ہتھیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔[9]ایک تحقیق کے مطابق تمام شیعہ فقہا ابتدائی طور پر ایسے ہتھیاروں کے استعمال کو حرام سمجھتے ہیں۔[10] ایران پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے اسرائیلی دعوؤں کے جواب میں آیت اللہ خامنہ ای نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور ان کے استعمال کی حرمت کا فتویٰ دیا۔[11] بعض دیگر مراجعِ تقلید جیسے مکارم شیرازی، نوری ہمدانی، جعفر سبحانی اور جوادی آملی کا بھی اسی نظریے کے قائل ہیں۔[12]

ایٹمی ہتھیار کی حرمت کے دلائل

ایٹمی ہتھیار کے استعمال کی حرمت کے لئے، انبوہ تباہی ہتھیار کے استعمال کی حرمت پر موجود دلائل سے استدلال کیا گیا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق اس قسم کے ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال حرام ہونے کی دلیل یہ ہے کہ یہ ہتھیار اسلامی عقائد اور تعلیمات کے منافی ہیں۔ ان کے نزدیک ایسے ہتھیاروں کا استعمال، زراعت اور انسانی نسل کی تباہی کا باعث بنتا ہے جس کی مذمت سورہ بقرہ آیت نمبر 205 کی گئی ہے۔[13] شیعہ عالم دین ابو القاسم علی دوست کے مطابق شریعت کے مقاصد میں انسانوں کے حالات کی اصلاح اور ان کے باہمی تعلقات کی بہتری شامل ہے، جبکہ اجتماعی تباہی کے ہتھیار فساد اور تباہی کو فروغ دیتے ہیں، اس لئے یہ شریعت کے اہداف و مقاصد سے متصادم ہیں۔[14]

فقہاء نے اس سلسلے میں قرآن کی متعدد آیات، جیسے سورہ بقرہ آیت نمبر 190 و 205 اور سورہ مائدہ آیت نمبر 8 و 32 سے استدلال کیا ہے۔[15] اسی طرح فقہی قواعد جیسے قاعدۂ وزر، قاعدۂ اثم، قاعدۂ حرمت سعی بر فساد[16] اور ایسی روایات[17] سے بھی استناد کیا گیا ہے جو دشمن کے پانی میں زہر ملانے کی ممانعت پر دلالت کرتی ہیں۔

مجبوری کی حالت میں اجتماعی قتل کے ہتھیار کا حکم

بعض شیعہ فقہاء، جیسے محقق حلی (متوفی 676ھ)، شیخ طوسی (متوفی 460ھ) اور شہید ثانی (متوفی 955 یا 965ھ)، اس بات کے قائل ہیں کہ اگر مسلمانوں کی فتح یا بقا مکمل طور پر ایسے ہتھیاروں کے استعمال پر موقوف ہو تو مجبوری کی حالت میں ان کا استعمال جائز ہو سکتا ہے۔[18] تاہم آقا ضیاء عراقی (متوفی 1361ھ) نے اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ زہر جیسے اجتماعی تباہی کے ذرائع کا استعمال، خواہ فتح اسی پر موقوف کیوں نہ ہو، جائز نہیں ہے۔[19]

ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ

ایران کا ایٹمی توانائی ادارہ سنہ 1974ء میں قائم کیا گیا۔ ایران میں اسلامی انقلاب سے قبل یہ ادارہ جوہری بجلی گھروں کی تعمیر اور جوہری توانائی کے استعمال کے حوالے سے سرگرم تھا۔ انقلاب کے بعد بھی اسلامی جمہوریہ ایران نے مختلف وجوہات کی بنا پر جوہری توانائی کے شعبے میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں، جن میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے توانائی کی ضرورت، جدید ٹیکنالوجی کا حصول، توانائی کے ذرائع میں تنوع اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانا، صاف اور ماحول دوست توانائی کی پیداوار، ماحولیاتی تقاضے اور جوہری توانائی کے فنی و اقتصادی فوائد شامل ہیں۔[20]

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم جوہری توانائی کے مسئلے میں نرمی دکھائیں تو امریکہ کی دشمنی ختم ہوجائے گی، وہ اصل حقیقت سے غافل ہیں۔ امریکہ کا مسئلہ ایران کا جوہری ہتھیار یا جوہری صنعت نہیں ہے۔ ایسے ممالک موجود ہیں جو جوہری ہتھیار رکھتے ہیں، حتیٰ کہ ہمارے خطے میں بھی ایسے ممالک ہیں، لیکن ان کے بارے میں انہیں کوئی تشویش نہیں ہے۔ مسئلہ، جوہری ہتھیار یا جوہری صنعت کا نہیں، نہ ہی انسانی حقوق کا ہے؛ اصل مسئلہ اسلامی جمہوریہ ایران ہے، جو ان کے مقابلے میں شیر کی طرح ڈٹا ہوا ہے۔ اگر اسلامی جمہوریہ بھی خطے کی بعض حکومتوں کی طرح اپنی قوم سے خیانت کرنے اور استعماری قوتوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے پر آمادہ ہوجاتی تو انہیں اس سے کوئی مسئلہ نہ ہوتا۔ ان کا اصل مسئلہ استکباری طاقتوں کی توسیع پسندانہ خواہشات ہیں اور یہی ملت ایران سے ان کی دشمنی کا سبب ہے۔[21]

انقلاب کے بعد ایران نے سنہ 1995ء کو NPT کی رکنیت اور اس کے ساتھ تعاون کو دوبارہ جاری رکھا۔ اس کے باوجود جوہری ٹیکنالوجی رکھنے والے ممالک اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) میں سے کسی نے بھی ایران کی جوہری صنعت کی ترقی کے لیے مؤثر تعاون نہیں کیا۔[22] ایران کے اعلان کے مطابق یہ ملک سنہ 2003ء کے موسمِ خزاں میں جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے بعد یورپی ممالک اور مغربی طاقتوں کی جانب سے ایران کے خلاف وسیع تبلیغاتی مہم شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں ایران کا جوہری معاملہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے سامنے پیش کیا گیا اور ایران کے خلاف قراردادیں منظور کی گئیں۔[23] بعد کے برسوں میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی مختلف رپورٹوں میں ایران پر بعض ایٹمی سرگرمیوں میں انحراف کے الزامات عائد کئے گئے، ایران پر متعدد بین الاقوامی پابندیاں نافذ کی گئیں۔[24] ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:

پابندیاں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، یورپی یونین اور امریکہ نے ایران کی پرامن جوہری سرگرمیوں میں انحراف کے دعوے کے ردِّعمل میں اقتصادی اور جوہری شعبوں سے متعلق مختلف پابندیاں عائد کیں۔ یہ پابندیاں جوہری ٹیکنالوجی، تجارت اور مختلف اقتصادی شعبوں کے علاوہ بعض حقیقی افراد اور قانونی اداروں (کمپنیوں اور تنظیموں) کو بھی شامل کرتی ہیں۔[24] ان پابندیوں میں ایرانی کمپنیوں کے اثاثوں کا انجماد، سلامتی کونسل کی جانب سے 2007ء سے ایران کو بھاری ہتھیاروں کی برآمد و درآمد پر پابندی، اور سنہ 2012ء سے یورپ کی جانب سے ایران سے تیل کی درآمد پر پابندی شامل ہیں۔[25]

ایرانی ایٹمی سائنسدانوں کا قتل

اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے دعوے کے تحت 2009ء سے 2020ء تک ایران کے پانچ جوہری سائنس دانوں کو قتل کیا ہے۔[26] اسی طرح 2025ء میں ایران کے خلاف جنگ کے دوران اسرائیل نے جوہری صنعت سے وابستہ 13 ایرانی سائنسدانوں اور ماہرین کو بھی نشانہ بنایا، جن میں فریدون عباسی، محمد مہدی طہرانچی، امیر حسین فقہی اور منصور عسکری شامل تھے۔[27]

ایران کے خلاف اسرائیل کی جنگ کا جواز

اسرائیل نے سنہ 2025ء کو ایران پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے امکان کے دعوے[28] اور ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لئے[29] ایران کی بعض جوہری تنصیبات پر حملہ کیا اور اس کے متعدد جوہری سائنس دانوں کو قتل کیا۔[30] ان حملوں کے جواب میں ایران نے ردِّعمل ظاہر کیا، جس کے نتیجے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہوگئی۔[31] امریکہ نے بھی اسرائیل کی حمایت میں ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کی۔[32] اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی اہم یورینیم افزودگی (Enrichment) کی تنصیبات مکمل طور پر تباہ کردی گئی ہیں۔[33] اس اقدام کے ردِّعمل میں ایران کی مسلح افواج نے «بشارتِ فتح آپریشن» کے تحت قطر میں واقع امریکی فضائی اڈے العدید کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔[34] اسی طرح 28 فروری سنہ 2026ء کو امریکہ اور اسرائیل نے اسی جواز کے تحت دوبارہ ایران پر حملہ کیا، جسے جنگِ رمضان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

کتاب «ایٹمی فقہ» کی تصویر

تصنیف

«ایٹمی فقہ» کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب جسے ابوالقاسم علی دوست نے مرتب کیا ہے، جوہری اور اجتماعی تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال کی حرمت کے موضوع پر مشتمل دس فقہی مقالات پر مشتمل ہے، جو سن 1392 ہجری شمسی میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کے مضامین ایٹمی فقہ کانفرنس میں پیش کئے گئے مقالات اور تقریروں کا مجموعہ ہے۔ یہ کانفرنس سن 1392 ہجری شمسی میں تہران اور قم میں منعقد ہوئی تھی۔[35]

حوالہ جات

  1. «جوہری ہتھیار بنانے کے علمی پس منظر سے آشنائی»، سایٹ ہمشہری آنلاین۔
  2. احسانی فر و علیدوست، «جنگی حالات میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی فقہی ممانعت »، ص120۔
  3. ایزدی، «جوہری ہتھیاروں کے میدان میں بازدارندگی»، ص64 ـ 65۔
  4. «ہیروشیما اور ناگاساکی پر بمباری کا واقعہ؛ امریکہ نے ایٹم بم کے ذریعے ہزاروں افراد کو کیسے ہلاک کیا؟؟»، میزان نیوز ایجنسی۔
  5. «این پی ٹی: تعارف اور اس سے انخلا کے ممکنہ نتائج؟»، فرارو سائٹ۔
  6. «ایٹمی بمب رکھنے والا واحد اسلامی ملک »، پایداری ملی سائٹ۔
  7. «ایٹمی بمب رکھنے والا واحد اسلامی ملک »، پایداری ملی سائٹ۔
  8. «ایٹمی بمب رکھنے والا واحد اسلامی ملک »، پایداری ملی سائٹ۔
  9. « اسلامی فقہ کی نگاہ میں اجتماعی تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری اور ان کا استعمال»، سائٹ مرکز فقہی ائمہ اطہار۔
  10. رستمی و دیگران، «فقہی نقطہ نگا سے بشریت کے خلاف جوہری اسلحے کے استعمال کا جرم ہونا»، ص110۔
  11. «رہبر انقلاب کے پیغام کا اقوام متحدہ میں بطور سند اندراج»، دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ خامنہ ای۔
  12. «تاریخ تشیع میں اجتماعی تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی حرمت»، ایسنا نیوز ایجنسی۔
  13. «جماران جنگی بحری جہاز کے منصوبے کے منتظمین اور ماہرین سے ملاقات کے موقع پر ارشادات»، دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ خامنہ ای۔
  14. جمعی از نویسندگان، فقہ ہستہ ای، 1397شمسی، ص113۔
  15. جمعی از نویسندگان، فقہ ہستہ ای، 1397شمسی، ص182-184۔
  16. «ایٹمی ہتھیاروں کی حرمت پر فقہی دلائل»، دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ خامنہ ای۔
  17. جمعی از نویسندگان، فقہ ہستہ ای، 1397شمسی، ص87 و 112۔
  18. محقق حلّی، شرائع الاسلام، 1418ھ، ج1، ص283؛ طوسی، المبسوط، ج2، ص11؛ شہید ثانی، مسالک الافہام، 1413ھ، ج3، ص25۔
  19. آقاضیاء عراقی، شرح تبصرۃ المتعلمین، 1414ھ، ج4، ص404۔
  20. «ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کا مختصر تعارف»، سازمان انرژی اتمی ایران۔
  21. «شمسی سال 1391 ہجری کے آغاز پر حرم رضوی میں خطاب»، دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ خامنہ ای.
  22. اشکوری و روزبہانی، ایران و انرژی ہستہ ای، 1384شمسی، ص124۔
  23. اشکوری و روزبہانی، ایران و انرژی ہستہ ای، 1384شمسی، ص125۔
  24. 24.0 24.1 «جوہری پابندیاں آغاز سے انجام تک»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
  25. «جوہری پابندیاں آغاز سے انجام تک»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
  26. «ایران کے شہید جوہری سائنس دانوں پر خصوصی اشاعت»، حوزہ آفیشل ویب سائٹ۔
  27. ای-ایران-در-جنگ-12-روزہ «بارہ روزہ جنگ میں شہید ہونے والے ایرانی جوہری سائنس دان»، میزان نیوز ایجنسی۔
  28. «ایران پر اسرائیلی حملے کی اصل وجوہات/نتن یاہو سالوں سال سے ایسے حملے کی تیاری کر رہا تھا»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
  29. «اکسیوس: اسرائيل نے امریکہ سے ایران کے خلاف حملوں میں شامل ہونے کی درخواست کی»، یورونیوز۔
  30. «گذشتہ رات سے اب تک اسرائیل پر ایران کی طرف سے میزائیل حملوں کی 5 لہر + تصاویر»، نورنیوز۔
  31. «وعدۂ صادق 3؛ ایرانی میزائلوں کا تل ابیب اور حیفا میں اپنے اہداف پر کامیاب وار»، تسنیم نیوز ایجنسی۔
  32. «امریکہ کا ایران کے جوہری تنصیبات پر حملہ؛ ٹرامپ: یا صلح ہوگی یا شدید ترعمل کریں گے»، یورونیوز۔
  33. «امریکہ کا ایران کے جوہری تنصیبات پر حملہ؛ ٹرامپ: یا صلح ہوگی یا شدید ترعمل کریں گے»، یورونیوز۔
  34. «آپریشن بشارتِ فتح؛ ایران کی سرزمین پر امریکی جارحیت کے جواب میں سپاہ کا طاقتور اور فیصلہ کن ردِّعمل؛ قطر میں واقع العدید فوجی اڈے پر حملہ، جو خطے میں امریکی دہشت گرد فوج کا سب سے بڑا تزویراتی اثاثہ شمار ہوتا ہے»، جہان نیوز۔
  35. «بتیسویں بین الاقوامی کتاب میلے میں کتاب ’’فقہِ جوہری‘‘ کی رونمائی»، اسلامی فکر و ثقافت تحقیقی ادارے کی ویب سائٹ۔

مآخذ