سورہ نساء آیت نمبر 142
| آیت کی خصوصیات | |
|---|---|
| سورہ | نساء |
| آیت نمبر | 142 |
| پارہ | 5 |
| موضوع | نفاق |
| مضمون | منافقین کی خصوصیات |
| مربوط آیات | سورہ بقرہ آیت نمبر 9 اور سورہ توبہ آیت نمبر 54 |
سورہ نساء آیت نمبر 142، منافقین کی بعض خصوصیات جیسے خدا کو دھوکہ دینا اور ریاکاری وغیرہ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ شیعہ مفسرین اس بات کے معتقد ہیں کہ منافقین ظاہری طور پر عبادت انجام دینے کے ذریعے اپنی جان اور مال کی حفاظت کرنے کے ساتھ ساتھ پیغمبر اکرمؐ اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے تھے۔
شیعہ تفاسیر کے مطابق خدا کی جانب سے منافقین کے ساتھ کی جانے والی چالاکی درحقیقت ان کے اعمال کی سزا ہے۔ خدا کی طرف سے یہ چالاکی مختلف صورتوں میں جلوہ گر ہو سکتی ہیں؛ مثلا یہ کہ خدا ان کو اپنے لطف و کرم سے دور کرے لیکن ان کی ریاکاری میں کوئی مانع نہ ہو، یا بعض اوقات انہیں کثیر نعمتوں سے نوازا جاتا ہے پھر اچانک ان نعمتوں کو واپس لے کر انہیں سزا دی جاتی ہے۔
اجمالی تعارف
سورہ نساء کی آیت نمبر 142 میں منافقین کی چار خصوصیات ذکر ہوئی ہیں: خدا کو دھوکہ دینا، نماز میں سستی کرنا، عبادت میں ریاکاری اور خدا کو بہت کم یاد کرنا۔[1] اسی طرح اس آیت میں کہا گیا ہے کہ خدا بھی منافقین کے دھوکے کے جواب میں ان کے ساتھ چالاکی سے کام لیتا ہے۔[2]
إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَى يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا
بتحقیق منافقین خدا کو دھوکہ دیتے ہیں اور خدا بھی ان کو دھوکہ دیتا ہے اور جب منافقین نماز ادا کرتے ہیں تو سستی کے ساتھ ادا کرتے ہیں، لوگوں کو دکھانے کے لئے نماز ادا کرتے ہیں اور خدا کو بہت ہی کم قلیل یاد کرتے ہیں۔
آیت اللہ جوادی آملی کے مطابق یہ آیت ماقبل آیات جیسے آیت نمبر 139 اور آیت نمبر 141 کی طرح منافقین کا تعارف کرتے ہوئے ان کی چار خصوصیات کو بیان کرتی ہے۔[3] اسی طرح آیت نمبر 143 میں نفاق کے نتیجے کی یوں منظر کشی کی گئی ہے کہ منافقین نہ حقیقی مؤمنین میں شامل ہیں اور نہ آشکار کافرین میں، بلکہ یہ لوگ باطن میں کافروں کے زمرے میں آتے ہیں۔[4] منافقین کی طرف سے خدا کو دھوکہ دئے جانے کے حوالے سے سورہ بقرہ آیت نمبر 9[5] اور نماز میں سستی کرنے کے بارے میں سورہ توبہ آیت نمبر 54 میں بھی اشارہ کیا گیا ہے۔[6]
بعض فقہا اس آیت میں قاموا کسالیٰ کی عبارت کو مد نظر رکھتے ہوئے نماز میں سستی کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔[7] اسی طرح اخلاقی مباحث میں نفاق [8] اور ریاکاری[9] کی مذمت میں قرآنی دلائل کے طور پر بھی اس آیت سے استناد کیا جاتا ہے۔
منافقین کی دھوکہ دہی اور خدا کی چالاکی
بعض شیعہ مفسرین اس بات کے معتقد ہیں کہ منافقین ہمیشہ خدا کی بنسبت خُدعہ اور فریب سے کام لیتے ہیں؛ لیکن چونکہ خدا کو براہ راست فریب اور دھوکہ نہیں دیا جا سکتا،[10] اس بنا پر حقیقت میں منافقین دین،[11] آیات الہی،[12] پیغمبر اکرمؐ اور مؤمنین کو دھوکہ دیتے ہیں۔[13] منافقین ظاہری طور پر عبادات انجام دینے[14] اور ریاکاری[15] کے ذریعے اپنی جان و مال کی حظافت کرنے کے ساتھ ساتل،[16] لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے[17] اور پیغمبر اکرمؐ اور مؤمنین کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے تھے۔[18] البتہ پیغمبر اکرمؐ کو دھوکہ دینا خدا کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔[19] تفسیر عیاشی میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے غیر خدا کی عبادت کو ایک طرح سے خدا کو دھوکہ دینے کا مترادف قرار دیا ہے۔[20]
شیعہ تفاسیر میں خدا کی طرف سے منافقین کے ساتھ کی جانے والی چالاکی کے بارے میں مختلف نظریات بیان ہوئے ہیں:
- خدعہ الہی حقیقت میں منافقین کو دی جانے والی سزا اور عذاب ہے۔[21]
- خدا منافقین کو اپنے لطف و کرم سے دور کرکے انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔[22]
- خدا ان کے مکر و فریب کو کامیاب نہیں ہونے دیتا اور یہ ایک طرح سے ان کے ساتھ دھوکہ اور فریب ہے۔[23]
- خدا انہیں فرصت اور مہلت دیتا ہے تاکہ وہ خدا کی نعمتوں میں غرق ہوں پھر اچانک انہیں ان نعمتوں سے محروم کردیتا ہے۔[24]
منافقین کی خصوصیات
سورہ نساء آیت نمبر 142 میں منافقین کی بعض خصوصیات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن میں خدا کو دھوکہ دینا، عبادت میں ریاکاری، نماز میں سستی و کسالت اور خدا کو بہت کم یاد کرنا شامل ہے۔ بعض شیعہ مفسرین کے مطابق چونکہ منافقین عبادات کو قصد قربت کے ساتھ انجام نہیں دیتے اسی بنا پر وہ سستی اور کسالت کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔[25] حالانکہ یہی افراد لوگوں کی توجہ جلب کرنے[26] اور ریاکاری[27] کی خاطر بعض سخت سے سخت عبادتوں کو بھی بڑے شوق و ذوق سے انجام دیتے ہیں۔[28]
آیت اللہ جوادی آملی اس بات کے معتقد ہیں کہ اس آیت میں منافقین کی طرف سے خدا کو بہت کم یاد کرنے سے مراد نہ ان کے ایمان میں کمی مراد ہے اور نہ یہ ہے کہ وہ بعض اذکار کو خدا کے لئے انجام دیتے ہیں اور بعض غیر خدا کے لئے؛ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ منافقین میں تقوا کے فقدان کی وجہ سے ان کے ذکر کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے اور ان کے اعمال خدا کی بارگاہ میں قبول ہی نہیں ہے۔[29] منافقین چونکہ خدا اور دین پر حقیقی ایمان نہیں رکھتے، اس بنا پر خلوت میں وہ ہرگز خدا کو یاد نہیں کرتے، اگرچہ لوگوں کے سامنے وہ بہت زیادہ خدا کو یاد کرتے ہیں۔[30]
حوالہ جات
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1394شمسی، ج21، ص187۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1389شمسی، ج2، ص255۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1394شمسی، ج21، ص187۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1394شمسی، ج21، ص200۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1389شمسی، ج2، ص252۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، ج34، ص235۔
- ↑ اردبیلى، مجمع الفائدۃ، 1403ھ، ج3، ص104؛ موسوی عاملى، مدارك الأحكام، 1411ھ، ج3، ص470؛ بحرانى، الحدائق الناضرۃ، 1405ھ، ج9، ص58۔
- ↑ مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج69، ص173 و 175۔
- ↑ مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج69، ص265۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1394شمسی، ج21، ص188۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1394شمسی، ج21، ص187۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1394شمسی، ج21، ص188۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج5، ص117.؛ جوادی آملی، تسنیم، 1394شمسی، ج21، ص188۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج5، ص117۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1394شمسی، ج21، ص187۔
- ↑ شیخ طوسى، التبیان، دار احیاء التراث العربى، ج3، ص365؛ طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج3، ص198۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1394شمسی، ج21، ص187۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج5، ص117۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1394شمسی، ج21، ص188۔
- ↑ عیاشى، تفسیر العیاشی،1380ھ، ج1، 283۔
- ↑ قمی، تفسیر القمی، 1363شمسی، ج1، ص157؛ شیخ طوسى، التبیان، دار احیاء التراث العربى، ج3، ص365۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1394شمسی، ج21، ص188۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج5، ص117؛ اسی طرح ملاحظہ کریں: شیخ طوسى، التبیان، دار احیاء التراث العربى، ج3، ص365۔
- ↑ مدرسی، من ہدی القرآن، 1419ھ، ج2، ص229۔
- ↑ شیخ طوسى، التبیان، دار احیاء التراث العربى، ج3، ص365؛ طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج3، ص198۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1394شمسی، ج21، ص187۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسر نمونہ، 1374شمسی، ج4، ص178۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1394شمسی، ج21، ص187۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1394شمسی، ج21، ص194۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1394شمسی، ج21، ص189؛ اسی طرح ملاحظہ کریں: کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص501۔
مآخذ
- اردبیلى، احمد بن محمد، مجمع الفائدۃ و البرہان فی شرح إرشاد الأذہان، تحقیق آقا مجتبى عراقى و علىپناہ اشتہاردى و آقا حسین یزدى اصفہانى، قم، دفتر انتشارات اسلامى، پہلی اشاعت، 1403ھ۔
- بحرانى، یوسف بن احمد، الحدائق الناضرۃ فی أحکام العترۃ الطاہرۃ، تحقیق محمد تقى ایروانى و سید عبد الرزاق مقرم، قم، دفتر انتشارات اسلامى، پہلی اشاعت، 1405ھ۔
- جوادی آملی، عبداللہ، تسنیم، قم، اسراء، چھٹی اشاعت، 1389ہجری شمسی۔
- جوادی آملی، عبداللہ، تسنیم، قم، اسراء، چوتھی اشاعت، پاییز 1394ہجری شمسی۔
- جوادی آملی، عبداللہ، تسنیم، قم، اسراء، پہلی اشاعت، زمستان 1393ہجری شمسی۔
- شیخ طوسى، محمد بن حسن، التبیان فى تفسیر القرآن، تحقیق احمد قصیرعاملى، بیروت، دار احیاء التراث العربى، پہلی اشاعت، بیتا۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، پانچویں اشاعت، 1417ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تحقیقمحمدجواد بلاغی، تہران، ناصرخسرو، تیسری اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
- عیاشى، محمد بن مسعود، تفسیر العیاشی، تحقیق سید ہاشم رسولى محلاتى، تہران، المطبعۃ العلمیۃ، پہلی اشاعت،1380ھ۔
- قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، تحقیق طیب موسوی جزایری، قم، دارالکتاب، تیسری اشاعت، 1363ہجری شمسی۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تحقیق علی اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
- مجلسی، محمدباقر، بحارالانور: الجامعۃ لدرر اخبار الائمۃ الاطہار(ع)، بیروت، دار احیاء التراث العربی، دوسری اشاعت، 1403ھ۔
- مدرسی، سید محمدتقی، من ہدی القرآن، تہران، دار محبی الحسین، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔
- موسوی عاملى، محمد بن علی، مدارك الأحكام في شرح عبادات شرائع الإسلام، تصحیح مؤسسہ آل البيت(ع)، بیروت، مؤسسہ آل البيت(ع)، پہلی اشاعت، 1411ھ۔
- نجفى، محمد حسن، جواہر الکلام فی شرح شرائع الإسلام، تحقیق عباس قوچانی و على آخوندى، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، ساتویں اشاعت، 1404ھ۔