مندرجات کا رخ کریں

سورہ نساء آیت نمبر 102

ویکی شیعہ سے
سورہ نساء آیت نمبر 102
آیت کی خصوصیات
سورہنساء
آیت نمبر102
پارہ5
مضموننماز خوف


سورہ نساء آیت نمبر 102، نماز خوف کے بارے میں ہے جو دشمن کے ساتھ مقابلے کے وقت میدان جنگ میں جماعت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔ پیغمبر اسلامؐ ایک غزوے کے دوران جنگ شروع ہونے سے پہلے لشکر اسلام کے ساتھ نماز قائم کرنے لگے۔ دشمنوں نے موقع مناسب جان کر دوسری نماز میں حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔ دوسری نماز کے موقع پر جبرئیل یہ آیت لے کر پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں نازل ہوئے۔ پیغمبر اکرمؐ نے لشکر اسلام کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک گروہ نماز میں مشغول ہوئے اور دوسرا گروہ ان کی حفاظت کے لئے کھڑے ہوئے۔

سورہ نساء کی آیت نمبر 102 کے مطابق نماز خوف میں امام جماعت صرف دو رکعتی ایک نماز ادا کرتا ہے۔ پہلا گروہ پہلی رکعت کو جماعت کے ساتھ اور دوسری رکعت کو فُرادی پڑھتے ہیں۔ اس کے بعد دوسرا گروہ امام جماعت کی اقتدا کرتے ہیں اور پہلی رکعت امام کے ساتھ جبکہ دوسری رکعت فرادی ادا کرتے ہیں۔

سورہ نساء آیت نمبر 102 میں اس نکتے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ نماز کو حتی کہ میدان جنگ میں بھی اہمیت دیں۔ شیعہ مفسر اور فقیہ آیت اللہ مکارم شیرازی اس آیت کی تفسیر میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ نماز جماعت اگرچہ واجب نہیں ہے لیکن ایک ایسا مستحب عمل ہے جس کی بہت زیادہ تأکید کی گئی ہے اور یہ آیت اسی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔

حالت جنگ میں نماز کے بارے میں نازل ہونے والی آیت

سورہ نساء آیت نمبر 102 نماز خوف کے بارے میں ہے[1] جو جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔[2] یہ آیت اس سے پہلے والی آیات کے ساتھ مربوط ہے جو جہاد کے بارے میں ہیں۔[3] ماقبل آیات کے مطابق نماز کا وجوب سفر اور جہاد کی وجہ سے ختم نہیں ہوتا[4] بلکہ صرف رکعتوں کی تعداد میں کمی کی جاتی ہے۔[5] اس آیت میں نماز خوف پڑھنے کا طریقہ بیان ہوا ہے[6] جس کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے لشکر اسلام کو دو گروہوں میں تقسیم کیا اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کی۔[7]

وَإِذَا كُنْتَ فِيہِمْ فَأَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلَاةَ فَلْتَقُمْ طَائِفَةٌ مِنْہُمْ مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَہُمْ فَإِذَا سَجَدُوا فَلْيَكُونُوا مِنْ وَرَائِكُمْ وَلْتَأْتِ طَائِفَةٌ أُخْرَى لَمْ يُصَلُّوا فَلْيُصَلُّوا مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَہُمْ وَأَسْلِحَتَہُمْ وَدَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَأَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيلُونَ عَلَيْكُمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ مَطَرٍ أَوْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَنْ تَضَعُوا أَسْلِحَتَكُمْ وَخُذُوا حِذْرَكُمْ إِنَّ اللَّہَ أَعَدَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُہِينًا
اور اے رسول جب بھی آپ ان کے درمیان ہوں اور ان کے لئے نماز قائم کریں تو ضروری ہے کہ ان میں سے ایک گروہ اپنے اسلحوں کو ساتھ لے کر آپ کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوں اور جب سجدے میں جائیں اور نماز کو ختم کریں تو یہ گروہ پیچھے کھڑے ہوں اور دوسرا گروہ جنہوں نے نماز ادا نہیں کی آئیں اور آپ کے ساتھ نماز ادا کریں، البتہ احتیاط کی خاطر اپنے جنگی سازو سامان سے عافل نہ ہوں تاکہ دشمن اچانک تم لوگوں پر حملہ نہ کریں اور اگر بارش یا بیماری کی وجہ سے اسلحہ اٹھانے میں تکلیف ہو تو اپنے اسلحے زمین پر رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس صورت میں بھی احتیاط برتیں بے شک خدا نے کافروں کے لئے دردناک عذاب مہیا کیا ہے۔


شأن نزول

تفسیر قمی میں سورہ نساء کی آیت نمبر 102 کے لئے بیان کردہ شأن نزول کے مطابق پیغمبر اسلامؐ مسلمانوں کے ساتھ عمرہ کے لئے مکہ عازم سفر ہوئے۔ قریش نے ایک گروہ کو مسلمانوں کے ساتھ مقابلے کے لئے بھیجا۔ پیغمبر اکرمؐ مسلمانوں کے ساتھ نماز ظہر ادا کرنے میں مشغول ہوئے۔ دشمن نے اس موقع کو غنیمت جان کر دوسری نماز میں مسلمانوں پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جس کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے مسلمانوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا، ایک گروہ نماز پڑھنے لگے اور دوسرا گروہ ان کی حافظت کے لئے کھڑے ہوئے۔[8] بعض شیعہ[9] اور اہل‌‌ سنت مفسرین نے اسی شأن نزول کو مختصر تفاوت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔[10]

بعض شیعہ علماء جیسے شیخ طوسی (متوفی: 460ھ)[11] اور علامہ مجلسی (متوفی: 1110ھ)[12] نیز بعض اہل‌ سنت علماء جیسے تیسری صدی ہجری کے مورخ طبری[13] اور پانچویں صدی ہجری کے عالم دین علی بن احمد واحدی[14] نقل کرتے ہیں کہ یہ شأن نزول غزوہ عُسفان کے بارے میں ہے اور یہ آیت اس جنگ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اسی طرح بعض کہتے ہیں کہ یہی واقعہ خالد بن ولید کے مسلمان ہونے کا موجب بنا ہے؛[15] کیونکہ اس نے سمجھ لیا تھا کہ صرف خدا پیغمبر اسلام کو ان کے ارادے سے مطلع کر سکتا ہے۔[16]

نماز خوف

نماز خوف کا ایک سبب شدید ترس اور وحشت یا دشمن کے ساتھ شدید جنگ اور خون ریزی ہے جس میں نماز کو تمام اجزاء اور شرائط کے ساتھ ادا کرنا ممکن نہ ہو۔[17] جنگ میں مجاہدین نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کرنے کے لئے دو گروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔[18] نماز خوف کو جماعت کے ساتھ دو طریقوں سے ادا کی جاتی ہے:

  • امام جماعت دو رکعتی ایک نماز ادا کرتا ہے۔ پہلا گروہ پہلی رکعت کو امام کی اقتدا میں جماعت کے ساتھ ادا کرتا ہے اور دوسری رکعت میں جب امام قرائت کے لئے کھڑا ہو تو پہلا گروہ دوسری رکعت کو فُرادی ادا کرتا ہے اور نماز کو اختتام تک پہنچاتا ہے۔ اس کے بعد دوسرا گروہ امام کی اقتدا کرتا ہے اور تشہد تک امام جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے اس کے بعد امام تشہد کی حالت میں صبر کرتا ہے یہاں تک کہ دوسرا گروہ اپنی دوسری رکعت ادا کر کے امام کے ساتھ ملحق ہوں پھر ساتھ نماز کو اختتام تک پہنچائیں۔[19] اس نماز کو نما ذات‌ الرقاع بھی کہا جاتا ہے۔[20]
  • امام جماعت دو رکعتی دو نماز ادا کرتا ہے؛ ایک‌ دفعہ اپنی واجب دو رکعت نماز کو پہلے گروہ کے ساتھ ادا کرتا ہے اور دوسری دفعہ دو رکعتی مستحب نماز کو دوسرے گروہ کے ساتھ ادا کرتا ہے۔ یہ نماز ان لوگوں کے مطابق صحیح ہے جو واجب نماز کو مستحب نماز کی اقتداء میں جائز سمجھتے ہیں۔[21]

نماز میں اسلحہ ساتھ رکھنے کی ضرورت

سورہ نساء کی آیت نمبر 102 مسلمانوں کے دونوں گروہوں کو حکم دیتی ہے کہ وہ نماز کے دوران اپنا اسلحہ اپنے ساتھ رکھیں۔[22] اگر بارش یا بیماری کی وجہ سے اسلحہ ساتھ نہ رکھ سکے تو اسلحہ زمین پر رکھنے کی اجازت ہے لیکن احتیاط ترک نہ کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔[23] یہاں پر بعض فقہاء اسلحے سے مراد ہر وہ چیز لیتے ہیں جو انسان کی حفاظت کے لئے ساتھ رکھا جاتا ہے جیسے زرہ اور سپر وغیرہ۔[24]

اس آیت سے یہ مفہوم لیا جاتا ہے کہ مجاہدین کے لئے بہترین کام یہ ہے کہ وہ کسی بھی حالت میں اپنے اسلحے کو اپنے سے جدا نہ کریں اور غفلت کا شکار نہ ہو۔[25]

نماز جماعت کی اہمیت اور قدر و قیمت

سورہ نساء آیت نمبر 102 کو نماز خوف کے فقہی احکام کے بیان سے بالاتر مفاہیم کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔[26] شیعہ مفسر اور فقیہ آیت اللہ مکارم شیرازی اس آیت کی تفسیر میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگرچہ نماز جماعت واجب نہیں لیکن ایک ایسی مستحب عبادت ہے جس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور اس آیت میں میدان جنگ میں بھی نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کرنے پر تصریح کر کے جماعت کی اہمیت کو مزید واضح کیا گیا ہے۔[27] بعض مفسرین اس آیت سے یہ مطلب بھی اخذ کرتے ہیں کہ نماز جماعت حتی میدان جنگ میں بھی اگرچہ ایک رکعت کی حد تک ہی کیوں نہ ہو ادا کی جانی چاہئے جو نماز جماعت کی اہمیت اور قدر و قیمت کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔[28]

حوالہ جات

  1. شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج1، ص463.
  2. مغنیہ، الکاشف، 1424ھ، ج2، ص425.
  3. قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، 1364شمسی، ج5، ص364.
  4. قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، 1364شمسی، ج5، ص364.
  5. فخر رازی، مفاتیج الغیب، 1420ھ، ج11، ص 204.
  6. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج4، ص100.
  7. مغنیہ، الکاشف، 1424ھ، ج2، ص425.
  8. قمی، تفسیر القمی، 1404ھ، ج1، ص 150؛ عروسی حویزی، تفسیر نور الثقلین، 1415ھ، ج1، ص544.
  9. عروسی حویزی، تفسیر نور الثقلین، 1415ھ، ج1، ص544.
  10. ثعلبی نیشابوری، الکشف و البیان، 1422ھ، ج3، ص375.
  11. شیخ طوسی، التبیان فی تفسیر القرآن‏، بیروت، ج3، ص311.
  12. مجلسی، بحار الأنوار، 1403ھ، ج20، ص175.
  13. طبری، جامع البیان فی تفسیر القرآن‏، 1412ھ، ج5، ص164.
  14. واحدی، اسباب نزول القرآن‏، 1411ھ، ص182.
  15. مجلسی، بحار الأنوار، 1403ھ، ج20، ص175.
  16. شیخ طوسی، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، ج3، ص311.
  17. شیخ طوسی، المبسوط، 1387ھ، ج1، ص167،164.
  18. مدرسی، من ہدی القرآن، 1419ق7 ج‏2، ص169.
  19. محقق حلی، شرایع الإسلام، 1408ھ، ج1، ص120،121.
  20. نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ،ج14، ص169.
  21. نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج14، ص163،164.
  22.  طبرسی، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، 1372شمسی، ج3، ص156-157.
  23. طبرسی، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، 1372شمسی، ج3، ص157.
  24. کاشانی‏، منہج الصادقین فی إلزام المخالفین‏، 1336شمسی، ج3، ص103.
  25. قاضی نعمان مغربی، دعائم الإسلام، 1385ھ، ج1، ص371.
  26. سید قطب، فی ظلال القران، 1412ھ، ج2، ص 748.
  27. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج4، ص102-103.
  28. قرائتی، تفسیر نور، 1383شمسی، ج2، ص146.

مآخذ

  • ثعلبی نیشابوری، ابواسحاق احمد بن ابراہیم، الکشف و البیان عن تفسیر القرآن، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، پہلی اشاعت، 1422ھ۔
  • سید قطب، ابراہیم حسین شاذلی، فی ظلال القرآن، بیروت، قاہرہ، دارالشروق، سترویں اشاعت، 1412ھ۔
  • شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، محقق و مصحح: علی‌اکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، دوسری اشاعت، 1413ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، با مقدمہ: شیخ آقابزرگ تہرانی، تحقیق: احمد قصیرعاملی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، المبسوط، تہران، المکتبۃ المرتضویۃ لإحیاء الآثار الجعفریۃ، 1387ھ۔
  • طباطبائی، سید محمدحسین‏، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی‏، پانچویں اشاعت‏، 1417ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ: محمدجواد بلاغی‏، تہران، ناصر خسرو، تیسری اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
  • طبری، محمدبن جریر، جامع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار المعرفہ، 1412ھ۔
  • عروسی حویزی، عبد علی بن جمعہ، تفسیر نور الثقلین، تحقیق: سید ہاشم رسولی محلاتی، قم، انتشارات اسماعیلیان، چوتھی اشاعت، 1415ھ۔
  • فخر رازی، ابوعبداللہ محمد بن عمر، مفاتیح الغیب، بیروت، دار احیاء التراث العربی، تیسری اشاعت، 1420ھ۔
  • قاضی نعمان مغربی، دعائم الإسلام و ذکر الحلال و الحرام و القضایا و الأحکام، محقق و مصحح: آصف فیضی، قم، مؤسسۃ آل البیت علیہم السلام، دوسری اشاعت، 1385ھ۔
  • قرائتی، محسن، تفسیر نور، تہران، مرکز فرہنگی درسہایی از قرآن، گیارہویں اشاعت، 1383ہجری شمسی۔
  • قرطبی، محمد بن احمد، الجامع لأحکام القرآن، تہران، انتشارات ناصر خسرو، پہلی اشاعت، 1364ہجری شمسی۔
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، محقق و مصحح: سید طیب موسوی جزائری،‏ قم، دار الکتاب، تیسری اشاعت، 1404ھ۔
  • کاشانی، ملا فتح‌اللہ، تفسیر منہج الصادقین فی الزام المخالفین، تہران، کتابفروشی محمد حسن علمی، 1336ہجری شمسی۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، دوسری اشاعت، 1403ھ۔
  • محقق حلی، نجم‌الدین جعفر بن حسن، شرایع الإسلام، قم، موسسہ اسماعیلیان، 1408ھ۔
  • مدرسی، سید محمدتقی، من ہدی القرآن، تہران، دار محبی الحسین، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
  • مغنیہ، محمدجواد، تفسیر الکاشف، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1424ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔
  • نجفی، محمدحسن، جَواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دارُ اِحیاء التُّراثِ العربی، ساتویں اشاعت، 1404ھ۔
  • واحدی، علی بن احمد، اسباب نزول القرآن، تحقیق: کمال بسیونی زغلول، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، پہلی اشاعت، 1411ھ۔