سورہ تحریم آیت نمبر 1
| آیت کی خصوصیات | |
|---|---|
| سورہ | تحریم |
| آیت نمبر | 1 |
| پارہ | 28 |
| شان نزول | پیغمبر اکرمؐ کا اپنے اوپر کچھ چیزوں کا ممنوع قرار دینا |
| محل نزول | مدینہ |
| موضوع | جہاد کا وجوب، علم مطلق خدا، انسانی علوم کی محدودیت اور انبیاء کی بعثت |
| مربوط آیات | سورہ تحریم آیت نمبر 2، سورہ تحریم آیت نمبر 3، سورہ تحریم آیت نمبر 4، سورہ تحریم آیت نمبر 5 |
سورہ تحریم آیت نمبر 1 ایک سرزنش آمیز لہجے میں نبی اکرمؐ کو مخاطب کرتی ہے اور پوچھتی ہے کہ آپؐ اپنی بیویوں کی خوشنودی کے لیے اُس چیز کو اپنے اوپر کیوں حرام کرتے ہیں جسے اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے۔
روایات کے مطابق، یہ آیت دو واقعات سے متعلق ہو سکتی ہے: پہلا، جب نبی اکرمؐ نے حَفصہ کی رضامندی کی خاطر ماریہ قِبطیہ کے ساتھ جنسی تعلق کو اپنے اوپر حرام کر لیا، اور دوسرا، جب آپؐ نے بعض ازواج کے گھروں میں شہد کی ضیافت کی وجہ سے زیادہ قیام کیا تو اس پر آپ نے شہد کھانے کو اپنے اوپر حرام کر لیا۔
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
اے نبیؐ! جو چیز اللہ نے آپ کیلئے حلال قرار دی ہے آپ اسے اپنی بیویوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے (اپنے اوپر) کیوں حرام ٹھہراتے ہیں اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
[سورہ تحریم:1]
آیت کا تعارف
سورۂ تحریم کی پہلی آیت میں رسول اللہؐ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ آپ نے کیوں ایسی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لیا جسے اللہ نے آپ کے لیے حلال قرار دیا تھا؟[1] بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ آیت تنبیہ (سرزنش) پر مشتمل ہے، جبکہ بعض دیگر نے اس خطاب کو اللہ کی محبت اور توجہ کا اظہار سمجھا ہے۔[2] علامہ طباطبائی کی رائے ہے کہ آیت میں موجود سرزنش براہِ راست نبی اکرمؐ کی نہیں بلکہ ان ازواج کی ہے جن کے رویے نے نبی کو یہ فیصلہ لینے پر مجبور کیا، کیونکہ اسی سورہ کی چوتھی آیت میں دو ازواج کو توبہ کی تلقین کی گئی ہے۔[3]
اس آیت کا محلِ نزول مدینہ قرار دیا گیا ہے۔[4]
شأن نزول
مفسرین نے اس آیت کے شأن نزول بارے میں دو مشہور واقعات نقل کیے ہیں۔ اور دونوں واقعات شیعہ اور اہل سنت تفاسیر میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ ذکر ہوئے ہیں۔[5]
شہد کا ترک کرنا
بعض روایات کے مطابق نبی اکرمؐ کو شہد پسند تھا اور اس کی وجہ سے آپ بعض ازواج کے گھروں میں کچھ زیادہ وقت گزارا کرتے تھے۔ یہی بات عائشہ اور حفصہ کی ناراضگی کا باعث بنی اور ان دونوں نے آپ کے منہ سے بدبو (مغافیر) آنے کا ادعا کر کے آپ کو شہد کھانے سے منصرف کردیا۔ اس پر آپؐ نے قسم کھائی کہ اب شہد نہیں کھائیں گے۔[6]
ماریہ قبطیہ سے علیحدگی
بعض دیگر روایات کے مطابق، پیغمبر اکرمؐ نے حفصہ کے گھر میں اُس کی غیر موجودگی میں ماریہ قبطیہ کے ساتھ خلوت فرمائی۔ جب حفصہ کو علم ہوا تو وہ ناراض ہو گئی، اور آپؐ نے اس کی دلجوئی کے لیے قسم کھا لی کہ آئندہ ماریہ سے خلوت نہیں ہوگی، اور اسے تاکید کی کہ یہ راز کسی کو نہ بتائے۔ مگر حفصہ نے یہ بات عائشہ اور دیگر ازواج سے کہہ دی، جس کے نتیجے میں قرآن کی بعض آیتیں نازل ہوئیں۔[7] تفسیر نمونہ میں پہلا واقعہ (شہد کا ترک کرنے) کو زیادہ مشہور اور قابلِ قبول قرار دیا گیا ہے۔[8]
علامہ طباطبائی کا کہنا ہے کہ ان دونوں روایات کو قطعیت سے سورہ تحریم کی ابتدائی آیات پر منطبق نہیں کیا جا سکتا ہے، اگرچہ انہوں نے تفسیر قمی سے ماریہ کے واقعہ سے مربوط امام صادقؑ کی بعض روایات نقل کی ہیں۔[9]
حوالہ جات
- ↑ شیخ طوسی، التبیان،دار احیاء التراث العربی، ج10، ص44۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج24، ص273۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، منشورات اسماعیلیان، ج19، ص330۔
- ↑ معرفت، آموزش علوم قرآن، 1371شمسی، ج2، ص168۔
- ↑ ملاحظہ کریں: طبرسی، مجمع البیان، 1382شمسی، ج10، ص471؛ زمخشری، الکشاف، 1407ھ، ج4، ص562–563؛ سیوطی، الدر المنثور، 1404ھ، ج6، ص239؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج24، ص271۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1382شمسی، ج10، ص471۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1382شمسی، ج10، ص471–472۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج24، ص271۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج19، ص337۔
مآخذ
- زمخشری، محمود، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، دار الکتاب العربی، بیروت، چاپ سوم، 1407ھ۔
- سیوطی، عبدالرحمن، الدر المنثور فی التفسیر بالماثور، کتابخانہ عمومی حضرت آیت اللہ مرعشی نجفی(رہ)، قم، چاپ اول، 1404ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، تحقیق: احمد قصیر عاملی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بیتا.
- طباطبایی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، 1417ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، با مقدمۂ محمد جواد بلاغی، ، تہران، ناصر خسرو، چاپ سوم، 1382ہجری شمسی۔
- معرفت، محمد ہادی، آموزش علوم قرآن، قم، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چاپ اول، 1371ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چاپ اول، 1374ہجری شمسی۔