شیطانی آیات (کتاب)

ویکی شیعہ سے
(شیطانی آیات سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیطانی آیات
The Satanic Verses.jpg
مؤلف: سلمان رشدی
زبان: انگریزی
موضوع: ناول
اشاعت: 26 ستمبر 1988 ء
ناشر: وایکینگ
محل نشر: انگلینڈ


شیطانی آیات (The Satanic Verses) بھارتی نژاد برطانوی ناول نگار سلمان رشدی کا لکھا ہوا ایک ناول ہے۔ اس ناول کے عنوان میں غرانیق کی روایت کی طرف اشارہ ہے جو مسلمانوں کے ہاں غیر معتبر ہے اور اسے غرانیق کا افسانہ کہا جاتا ہے۔ اس نقل کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے سورہ نجم کی 19ویں اور 20ویں آیت کی تلاوت کے دوران ایسا مضمون زبان پر جاری کیا ہے جو شیطانی وسوسہ تھا۔ شیطانی آیات کا ناول بہت سارے ناقدین اور پڑھنے والوں کی نظر میں پیغمبر اکرمؐ کو «ماہوند» کے توہین آمیز عنوان سے یاد کرنے کے علاوہ قرآن کریم کو بھی داستان، افسانے، شیطانی خیالات پر مشتمل قرار دیتے ہوئے پیغمبر اکرمؐ کے بعض اصحاب کو بھی توہین آمیز القاب سے یاد کیا ہے اور ازواج پیغمبر اکرمؐ پر اخلاقی برائیوں کا الزام لگایا ہے۔

26 ستمبر سنہ 1988ء کو شیطانی آیات نامی ناول نشر ہونے پر مسلمان، عیسائی اور یہودیوں میں کی طرف سے بہت سارے اعتراضات ہوئے، جبکہ بھارت، پاکستان، اٹلی، کینیڈا اور مصر میں سلمان رشدی اور اس کے ناول کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ اور اس کتاب کو بیچنے والی بعض دکانوں کو نذر آتش کیا گیا۔ اسی طرح ویٹیکن کے سرکاری اخبار میں سلمان رشدی اور اس کی کتاب کی مذمت کی گئی۔ افرام شابیرا اور اشکنازی یہودی خاخام نے اسرائیل میں اس کتاب کی نشر و اشاعت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔ 14 فروری سنہ 1989 کو ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی اور رہبر امام خمینی نے اس کتاب کی مذمت کی اور اس کے لکھنے والے کو پھانسی کا مستحق قرار دیا اور سلمان رشدی کو قتل کرنے میں اگر کسی کی جان چلی جائے تو اسے شہید کہا۔ جبکہ دوسرے پیغام میں سلمان رشدی کے توبہ کو بھی غیر قابل قبول قرار دیا۔ امام خمینی کے فتوے کے بعد سلمان رشدی مخفی زندگی کرنے پر مجبور ہوگیا اور مسلمانوں کے احساسات کو ٹھیس پہنچانے کے بعد پھر معذرت خواہی بھی اس کے پھانسی کے حکم سے جان چھڑانے میں کار آمد ثابت نہیں ہوئی۔

اس کتاب کے نقد میں فارسی زبان میں عطاء اللہ مہاجرانی کی کتاب «نقد توطئہ آیات شیطانی»، نصراللہ پورجوادی کا ایک مقالہ اور محمد صادقی تہرانی و مصطفی حسینی طباطبایی، کے دو کتابچے موجود ہیں۔ عطاءاللہ مہاجرانی نے چار مشہور مستشرقین جیسے نولدکہ کی طرح سلمان رشدی کو قرآن کریم کی اصالت کا انکار کرنے والوں میں سے قرار دیا ہے۔

ناول نگار

سلمان رشدی سنہ1947ء کو ہندوستان کے شہر بمبئ میں پیدا ہوا۔[1] ابتدائی تعلیم عیسائیوں کے ایک انگلش سکول میں حاصل کی۔ ان کی فیملی کا انگلستان کی طرف سفر کے بعد کیمبرج کالج میں داخلہ لیا۔ رشدی 1968ء میں پاکستان چلا گیا اور ٹی وی چینل پر کام کرنے لگا، لیکن ایک سال کے بعد دوبارہ انگلستان لوٹ آیا اور برطانیہ کی شہریت انتخاب کیا۔[2]

سلمان رشدی ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہوا اور شیطانی آیات سے پہلے تین دیگر ناولز: "مڈ نائٹس چلڈرن" (آدھی رات کے بچے)، «شرم» (Shame)اور «مور کی آخری آہ» (The Moor's Last Sigh) لکھ چکا تھا۔[3] چاروں آثار کو برصغیر کے کلچر سے مربوط جانا گیا ہے۔[4]امام خمینی کی طرف سے سلمان رشدی کے واجب القتل ہونے کے فتوے کے بعد سلمان رشدی اپنے گھرانے سے دور مخفی زندگی بسر کرنے لگا۔[5]

کتاب کی اشاعت

شیطانی آیات نامی کتاب پہلی بار 547 صفحات پر مشتمل، 26 ستمبر سنہ 1988ء کو پنگوئن پبلشرز انگلستان سے انگریزی زبان میں چھپی[6]اور اب تک 140 سے زیاد مرتبہ دنیا کے مختلف خطے اور مختلف زبانوں میں چھپ چکی ہے۔ زبانوں میں عربی، اسپانیایی، جرمنی، چینی، روسی اور فارسی سر فہرست ہیں۔[7] آیات شیطانی، در همان سال برنده جایزه ادبی کاستا شد.[8] یہ ناول ادبی بوکر انعام کے لیے 1988ء میں منتخب ہوئی لیکن انعام اپنے نام نہ کر سکی۔[9] لہذا اشپیگل میگزین کے مطابق سلمان رشدی نے کتاب کی نشر و اشاعت سے پہلے 15 لاکھ مارک کتاب کے ناشر سے ایڈوانس دریافت کیا تھا جو اس دن تک ایک خطیر رقم سمجھی جاتی تھی۔[10]

مضمون

شیطانی آیات نامی کتاب کا نام غرانیق کے افسانے کی طرف اشارہ ہے۔ مذکورہ روایات کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے سورہ نجم کی 19ویں اور 20ویں آیت کی تلاوت کے دوران ایسی آیات کی تلاوت کی جن میں بتوں کی شفاعت کا تذکرہ تھا اور اسی رات جبرئیل پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہوئے اور آپ کو تذکر دیا کہ وہ آیات شیطانی وسوسے تھے۔[11]اکثر شیعہ اور اہل سنت علما غرانیق کی روایات کو افسانہ سمجھتے ہیں۔[12]

شیطانی آیات کی نو فصلیں ہیں؛ 1- جبرئیل فرشتہ، 2- ماہوند، 3- الوون دئوون، 4- عائشہ، 5- آشکار اور مخفی شہر، 6- دور جاہلیت کی طرف بازگشت، ۷- عزرائیل فرشتہ، ۸- بحر عرب کو دو حصوں میں تقسیم کرنا، ۹- تعجب آور چراغ۔[13] اس ناول میں پیغمبر اکرمؐ کو ماہوند سے یاد کیا ہے؛ جو شیطان کے تجسم کا ایک نام ہے کہ جو قرون وسطی میں اسلام دشمن عناصر کی طرف سے پیغمبر اکرمؐ پر جھوٹے الزامات لگانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔[14]اسی طرح شیطانی آیات میں رشدی قرآن مجید کو بھی ایک داستان، افسانہ اور شیطانی خیالات پر مشتمل کتاب خیال کرتا ہے[15] شیطانی آیات کے دیگر حصے میں پیغمبر اکرم کی ازواج پر غیر اخلاقی تہمت لگائی گئی ہے۔[16] مصنف کعبہ کے گرد طواف کو ایک لمبی قطار کی شکل میں پیش کرتا ہے جس میں لوگ فحاشی کے اڈے میں جانے کی انتظار کر رہے ہیں۔[17]اس کتاب میں پیغمبر اکرمؐ کے بعض اصحاب جیسے بلال حبشی اور سلمان فارسی کو سیاہ فام دیو اور انسانی دنیا کی پست موجود سے تعبیر کیا ہے۔[18]

رد عمل

شیطانی آیات کی اشاعت پر بہت شدید رد عمل سامنے آیا، مختلف ممالک میں مسلمانوں کے اعتراض آمیز مظاہرے، کتاب کی نشر پر پابندی یا دھمکی، ترجمہ کرنے والوں کو قتل کی دھمکی یہاں تک کہ نیویارک کے اسقف، ویٹیکن سیٹی کے سرکاری اخبار اور یہودی بلند پایہ خاخام کی طرف سے سلمان رشدی کی مذمت، امام خمینی کی طرف سے واجب القتل قرار دے کر فتوی اور 15 خرداد فاونڈیشن کی طرف سے سلمان رشدی کے سر کی قیمت کا اعلان نیز اس ناول کے نقد میں مختلف آثار لکھ دینا ان تمام اعتراضات اور عکس العمل میں سے کچھ ہیں۔

مسلمانوں کے اعتراضات

5 اکتوبر سنہ 1988ء کو بھارت میں شیطانی آیات کی اشاعت پر پابندی لگی اور انڈیا کی حکومت نے اس کتاب کے مضمون کو مذہب کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے خطرناک کتابوں میں سے قرار دیا۔[19]

امام خمینی کے فتوے کے بعد سلمان رشدی کے خلاف لبنان میں مظاہرے

پاکستان، ہندوستان، تھائی لینڈ، جرمنی، کینیڈا، اٹلی، سوڈان، اور مصر جیسے دنیا کے مختلف ممالک مسلمانوں نے سلمان رشدی کے خلاف مظاہرے کیا اور شیطانی آیات بیچنے والی بعض دکانوں کو نذر آتش کیا[20] ان مظاہروں میں بعض لوگ زخمی اور بعض مارے گئے۔[21]

شیطانی آیات کے ترجمے پر مختلف ممالک میں مسلمانوں نے عکس العمل دکھایا؛ جیسے کردی زبان میں ترجمہ کرنے والے مترجم؛ برمک بہداد قتل کی دھمکی کے بارے میں کہتا ہے اور عراق کا علاقہ سلیمانیہ کردستان کے خلق نامی میگزین نے شیطانی آیات کے کردی ترجمہ کا پہلا حصہ نشر کرنے کے بعد باقی حصے کو نشر کرنے سے معذرت کر لی[22] ترکی زبان میں ترجمہ کرنے والا عزیز نسین، جاپانی زبان کا مترجم، ہیتوشی ایگاریشی، اور فارسی ترجمہ کو نشر کرنے والے داوود نعمتی کو جرمنی میں دھمکی ملی یا مارے گئے۔[23]

عیسائیوں اور یہودیوں کی طرف سے مذمت

امریکہ نیوبورک میں کیتھولک اسقف، کاردینال اوکونر نے شیطانی آیات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس ناول کو نہ پڑھا ہے اور نہ ہی پڑھے گا۔[24] ویٹیکن کے سرکاری اخبار نے بھی، سلمان رشدی اور ناول کی مذمت کی۔[25] ہارتلی شوکرس،(Hartley Shawcross)انگلستان کے مشہور حقوقدان نے سلمان رشدی پر آزادی سے غلط فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا ہے۔[26] افرام شابیرا، اسرائیل میں یہودی اشکنازی خاخام نے شیطانی آیات کو دینی اور غیر دینی دونوں اعتبار سے محکوم کیا اور ملک کے اندر اس کی اشاعت پر پابندی کا مطالبہ کیا۔[27]

اسی طرح عبرانی طائفوں کے خاخام امانوئل ژاکوبو ویتز ایسے قانون بنانے کا مطالبہ کر گئے جس میں عقائد کی توہین ممنوع ہو۔[28] اس کے علاوہ امریکہ کے کیتھولیک اسقفوں کے سالانہ اجلاس، جنوبی امریکہ کے تعمیدی کلیساوں کے اجلاس، متحدہ میتھوڈسٹ کلیسا امریکہ، پروٹسٹنٹ کلیسا امریکہ، امریکہ میں اخلاقی اکثریتی طرفدار تحریک کے سربراہ وگری و الویل وغیرہ نے شیطانی آیات نامی کتاب کی مذمت کی۔[29]


امام خمینی کا سلمان رشدی کے خلاف قتل کا فتوی

بسمہ تعالی

انا للہ و انا اليہ راجعون

پورے عالم کے غیور مسلمانوں کو اعلان کرتا ہوں کہ کتاب «شیطانی آیات» جو اسلام، قرآن اور پیغمبر اسلامؐ کے خلاف تدوین اور شائع ہوئی ہے، کا مؤلف سمیت اس کے متن اور مضمون سے آگاہ و مطلع ناشرین واجب القتل ہیں. میں تمام غیور مسلمانوں سے چاہتا ہوں کہ ان افراد کو جہاں بھی پائیں، معدوم کردیں تا کہ اس کے بعد کوئی بھی مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کی جرأت نہ کرسکے اور جو بھی اس راہ میں مارا جائے وہ شہید ہے ان شاء اللہ. اگر کتاب کا مؤلف کسی کی دسترس میں ہے مگر وہ اس کو قتل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کا فرض ہے کہ دوسرے مسلمانوں کو بتادے تا کہ وہ اپنے عمل کی سزا پائے۔والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.[30]

پھانسی کا حکم

امام خمینی نے 8 رجب 1409ھ بمطابق 14 فروری سنہ 1989ء کو ایک پیغام میں شیطانی آیات نامی کتاب کے مصنف کو اسلام، پیغمبر اکرمؐ اور قرآن کے خلاف کتاب لکھنے اور شائع کرنے پر واجب القتل قرار دیا۔[31]امام خمینی نے کتاب کے مضمون کے بارے میں آگاہی رکھتے ہوئے کتاب کو چھاپنے والے کے خلاف بھی پھانسی کا حکم سنایا اور غیرتمند مسلمانوں سے درخواست کی کہ یہ لوگ جہاں کہیں ملیں ان کا سر قلم کردو تاکہ کوئی اور اس طرح سے اسلامی مقدسات کی توہین کی جسارت نہ کر سکے۔[32]اس راہ میں مر جانے والے کو امام خمینی نے شہید قرار دیا۔[33]

اسی سال 18 فروری کو امام خمینی کے دفتر سے ایک بیان جاری ہوا جس میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی طرف سے امام خمینی کا حکم سلمان رشدی کے توبہ کرنے پر لغو ہونے کی خبر کی تکذیب کی گئی۔ اور اس بات پر زور دیا گیا کہ «سلمان رشدی اگر توبہ بھی کرے اور زمانے کا سب سے بڑا زاہد بھی بنے تب بھی ہر مسلمان پر واجب ہے کہ جانی اور مالی تمام کوششوں کو بروے کار لاتے ہوئے اسے واصل جہنم کریں»[34]اس بیانیہ کے دوسرے حصے میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی غیر مسلم کو سلمان رشدی کی جگہ کا پتہ چلے اور اسے قتل کرے تو مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس شخص کو انعام اور اجرت دیں۔[35]

امام خمینی کا سلمان رشدی کے واجب القتل ہونے کے حکم پر مختلف ممالک میں وسیع پیمانے پر استقبال کیا گیا؛ جیسے ایران، لبنان، انگلستان کے مسلمان،[36] اور ترکی میں اس حکم کی حمایت سامنے آئی۔[37]اسی طرح لبنان کے 21 سالہ جوان مصطفی محمود مازح، نے امام خمینی کے اس حکم کے بعد سلمان رشدی کو قتل کرنے کی کوشش کری اور اپنے بدن پر دھماکہ خیز مواد باندھ کر اس ہوٹل میں گیا جہاں سلمان رشدی تھا لیکن سلمان رشدی تک پہنچنے سے پہلے دھماکہ ہوا اور خود مر گیا۔[38]امام خمینی کی طرف سے سلمان رشدی کے خلاف قتل کا حکم سامنے آنے کے بعد سلمان رشدی مخفی زندگی کرنے پر مجبور ہوا یہاں تک کہ گھر والوں سے رابطہ بھی اس حکم کی وجہ سے متاثر ہوا[39] یہاں تک کہ لوگوں کو غصہ دلانے پر معذرت خواہی بھی کسی کام نہ آسکی۔[40]

لیکن مکہ میں «رابطۃ العالم الاسلامی» کے مرکز نے شیطانی آیات کو کفر پر مشتمل ایک کتاب قرار دیا لیکن سلمان رشدی کے پھانسی کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔[41]اسی طرح جامع الازہر کے ہیئت فتوی کے صدر عبداللہ مرشدی نے بھی ایک بیانیے میں آیات شیطانی نامی کتاب کو اسلامی اصول اور ضوابط کے منافی جانا۔[42]شیخ محمد سید طنطاوی نے سلمان رشدی کی کتاب کے مقابلے میں بہترین راستہ یہ ہے کہ اس کا مطالعہ کیا جائے اور اس کے نقد میں لکھا جائے تاکہ اس کی غلطیوں کا پتہ چل سکے۔[43]

سر کی قیمت

امام خمینی کی طرف سے شیطانی آیات کے مصنف سلمان رشدی کے خلاف قتل کا حکم آنے کے بعد 15 خرداد فاونڈیشن نے سلمان رشدی کو قتل کرنے والے کو دو میلین ڈالر انعام کا اعلان کیا۔[44] 15 خرداد فاونڈیشن کے سربراہ اور نمایندہ ولی فقیہ، حسن صانعی، نے ستمبر 2012 میں پیغمبر اکرمؐ کے خلاف بننے والی توہین آمیز فیلم کو محکوم کرنے کے ساتھ ساتھ سلمان رشدی کے سر کی قیمت کو بڑھا کر 33 لاکھ ڈالر قرار دیا۔[45]ان کا کہنا ہے کہ سلمان رشدی کی پھانسی سے اسلام اور پیغمبر اکرمؐ کے خلاف بننے والے کارٹون، مقالات اور فیلمیں رک سکتی ہیں۔[46]

ایران اور انگلستان کے سفارتی تعلقات ختم

امام خمینی کے حکم کے بعد انگلستان کی حکومت نے اس بہانے سے کہ اس کے ایک شہری کے خلاف یہ حکم آیا ہے، اپنے سفیر کو تہران سے واپس بلایا ہے ساتھ میں پورپی اقتصادی یونین کے ممبر 12 ممالک؛ جیسے اسپین، فرانس اور اٹلی نے بھی اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا۔ اسی طرح ایران کی پارلیمنٹ نے بھی مارچ 1989 میں انگلستان سے سیاسی رابطہ ختم کرنے کا بل پاس کیا۔[47]

لیکن 27 ستمبر سنہ 1990 کو انگلستان کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے دین اسلام کے احترام کی تصریح کی اور اسی بنا پر دوبارہ روابط برقرار ہوگئے۔[48]

انتقادی آثار

شیطانی آیات کے نقد میں لکھی جانے والی کتابوں میں عطاءاللہ مہاجرانی کی فارسی زبان میں لکھی گئی کتاب «نقد توطئہ آیات شیطانی» سب سے مفصل اور سب سے زیادہ چھپنے والی کتاب ہے۔[49]یہ کتاب 1989ء میں انتشارات مؤسسہ اطلاعات نے چھاپ دیا[50]اور سنہ 2007ء تک 25 مرتبہ چھپ گئی۔[51] کتاب نقد توطئہ آیات شیطانی، اور سنہ 1992ء میں اس کتاب کا انگریزی ترجمہ بھی ہوگیا۔[52] مہاجرانی کا کہنا ہے کہ سلمان رشدی نے مشہور چار مستشرقین؛تئودور نولدکہ، ویلیام موئر، مونتگمری وات و گلدزیہر کی طرح حدیث غرانیق کو مان کر قرآن کریم کی حقانیت پر سوال اٹھایا ہے[53]

ایران میں فلسفہ کے استاد نصراللہ پورجوادی نے سنہ 1990ء میں شیطانی آیات کے ناول کو تکلیف دہ اور رنج آور قرار دیا اور اسے فرشتوں کی توہین، انبیاء الہی کے خلاف ناسزا گوئی، پیغمبر اکرمؐ، صحابہ اور ازواج نبی کے خلاف ناسزا قرار دیا۔[54] پورجوادی شیطانی آیات کے بعض مطالب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کتاب میں ایران کے اسلامی نقلاب کے خلاف بھی اشارے کنایوں میں تحقیر کی ہے۔[55]

محمد صادقی تہرانی نے 26 رمضان المبارک سنہ 1409ھ کو 40 صفحوں پر مشتمل ایک کتابچہ لکھا جس میں سلمان رشدی کو عصر کا شیطان قرار دیا۔[56] صادقی تہرانی کہ کہنا ہے کہ سلمان رشدی نے نہ فقط پیغمبر اکرمؐ بلکہ جبرئیل امین، صحابہ، اور ازواج پیغمبر کے خلاف ناروا کہا ہے اور ان پر تہمت لگایا ہے۔[57]

مصطفی حسینی طباطبایی نے بھی 1368 ہجری شمسی کو 40 صفحوں پر مشتمل ایک کتابچہ «حقارت سلمان رشدی» نشر کیا جس میں سلمان رشدی کے کام کو سیاسی سازش قرار دیتے ہوئے اسے علمی اور تحقیقی میدان سے اجنبی قرار دیا۔[58] حسینی طباطبایی، شیطانی آیات کو صلیبی جنگوں کے بعد والی قدیم اسلام دشمنی کا تسلسل قرار دیا جس میں عیسائیوں نے پیغمبر اکرمؐ کے خلاف جھوٹے اور غیر اخلاقی افسانے بنایا تاکہ اسلام کا چہرہ اور اسلامی کلچر کو بدنام کرے۔[59]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. اسپراکمن، «آیہ ہای شیطانی و ترجمہ ہای فارسی آن در ایران»، ص۸۱۰.
  2. واعظ‌زاده خراسانی، «سمینار مقدماتی تبیین حکم امام...»، ص۱.
  3. اسپراکمن، «آیہ ہای شیطانی و ترجمہ ہای فارسی آن در ایران»، ص۸۱۰.
  4. اسپراکمن، «آیہ ہای شیطانی و ترجمہ ہای فارسی آن در ایران»، ص۸۱۰.
  5. اسپراکمن، «آیہ ہای شیطانی و ترجمہ ہای فارسی آن در ایران»، ص۸۱۱.
  6. .«The Satanic Verses»
  7. .«The Satanic Verses > Editions»
  8. «Rushdie's Banned Novel Gets Whitbread Prize».
  9. «The Man Booker Prize».
  10. ابو حسین، آزادی ابراز عقیده، ۱۳۷۱ش، ص۲۱.
  11. مکارم شیرازی، یکصد و هشتاد پرسش و پاسخ، ۱۳۸۶ش، ص۶۷۹.
  12. آلوسی، تفسیر روح‌ المعانی، ۱۴۱۵ق، ج