مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:عاقبت بخیری

ویکی شیعہ سے

عاقبت بخیری یا حُسنِ عاقبت سے مراد انجام اچھا ہونا یا زندگی کا اختتام اللہ تعالیٰ پر ایمان کے ساتھ ہونا ہے۔ یہ تصور قرآن مجید کی آیات، احادیث مبارکہ اور معصومینؑ کی دعاؤں میں بیان ہوا ہے۔ بعض علماء کے نزدیک انسان کے اعمال کی قدر و قیمت اس کے انجام پر موقوف ہے؛ یعنی اگر کوئی شخص اپنی عمر کے آخری حصے میں عمل صالح کا پابند اور نیک کردار کا حامل ہو تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔

دینی منابع میں تقویٰ کی پابندی، دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک خصوصاً والدین پر احسان، تفکر، علم و معرفت، اہل بیتؑ سے محبت، صبر، توبہ، نیک دوستوں کی رفاقت اور بعض اذکار و دعاؤں کی تلاوت کو عاقبت بخیری کے مؤثر اسباب میں سے قرار دیا گیا ہے۔ اس کے برخلاف اہل بیتؑ سے دشمنی، ظلم و ناانصافی، قطع رحمی، والدین کی نافرمانی، اہل خانہ کے حقوق کی پامالی، برے دوستوں کے ساتھ نشست و برخاست اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ترک کرنا نیک انجام کی راہ میں رکاوٹیں شمار کی گئی ہیں۔

مفہوم شناسی اور اہمیت

عاقبت بخیری، نیک انجام یا حُسنِ عاقبت سے مراد اللہ تعالیٰ پر ایمان اور انسانی کرامت کو برقرار رکھتے ہوئے زندگی کا اختتام ہونا ہے اور اس کے مد مقابل مفہوم کو نا عاقبتی یا بد عاقبتی کہا جاتا ہے۔[1]

نیک انجام تک پہنچنا اور برے انجام سے دوری اختیار کرنا دینی تعلیمات کا حصہ ہے۔[2] مفسرین نے قرآن کی بعض آیات جیسے سورہ قصص آیت نمبر 83، سورہ بقرہ کی آیت 132 اور 193، سورہ آل عمران کی آیت 8 اور 102، سورہ اعراف کی آیت 126 اور 128 اور سورہ یوسف کی آیت 101 اور 109 کے تحت اس سے متعلق مباحث بیان کیے ہیں۔[3] موضوعات جیسے عمر بھر تقوا کا لحاظ رکھنا، انبیاء کا اپنی اولاد کو زندگی بھر دین پر قائم رہنے کی وصیت، ہدایت اور گمراہی سے بچنے کی دعا اور دنیا و آخرت کی بھلائی کی طلب۔[4]

عاقبت بخیری کی درخواست صحیفۂ سجادیہ کی گیارہویں دعا کے بنیادی مضامین میں سے ہے،[5] اور یہ دعا اسی عنوان سے بھی معروف ہے۔[6] اسی طرح بعض حدیثی کتب میں حسنِ عاقبت سے متعلق احادیث کے لئے مستقل ابواب قائم کئے گئے ہیں، جیسے بحار الانوار میں باب «حُسْنُ الْعاقِبَۃ وَإصْلاحُ السَّریرَۃِ»۔[7]

اسی طرح رسول اللہؐ اور ائمۂ اہل بیتؑ کی سیرت اور ارشادات میں حسنِ عاقبت کے لئے دعا کرنے اور برے انجام کے بارے میں اظہار تشویش کا سبق بھی ملتا ہے۔[8] منجملہ ان میں عہدنامۂ مالک اشتر کے اختتام پر امام علیؑ کی جانب سے اپنے اور مالک اشتر کے لیے دعا،[9] تعقیباتِ نماز میں امام صادقؑ سے منقول دعا،[10] پیغمبر خداؐ کی اپنے انجام سے متعلق تشویش پر مبنی روایت،[11] اور خطبۂ شعبانیہ کے بعد امام علیؑ کا رسول اللہؐ سے پوچھے گئے سوالات شامل ہیں۔[12]

آیت اللہ مکارم شیرازی احادیث کی روشنی میں ہر عمل کے انجام کو اس کی قدر و قیمت کا معیار قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی باقی ماندہ زندگی میں نیک اعمال اختیار کر لے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔[13]

اسباب

محققین نے دینی منابع کی روشنی میں حسنِ عاقبت کے حصول کے لئے متعدد اسباب وعوامل بیان کئے ہیں، جن میں ایمان، عمل صالح، تقویٰ، دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک خصوصاً والدین سے نیکی، تفکر، علم آموزی، اہل بیتؑ سے محبت، صبر، توبہ، نیک ہم نشین کی رفاقت اور بعض اذکار و دعاؤں کی تلاوت شامل ہیں۔[14]

ایمان، عملِ صالح اور تقویٰ

مفسرین قرآن کریم کی ان آیات کی تفسیر میں جن میں «وَاَلْعَاقِبَۃُ لِلتَّقْوَىٰ»[15] یا «وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِينَ»[16] جیسے الفاظ وارد ہوئے ہیں، یہ بیان کرتے ہیں کہ تقویٰ کے منافی اعمال جیسے تکبر، برتری جتانا اور فساد وغیرہ سے اجتناب کرنا،[17] اور نماز کی پابندی اور مشکلات پر صبر جیسے اعمالِ صالح کی انجام دہی[18] دنیا اور آخرت دونوں میں حسنِ عاقبت کے اسباب میں شمار ہوتے ہیں۔[19] اسی طرح سورہ بقرہ آیت نمبر 132 میں حضرت ابراہیمؑ کی اپنے فرزندوں کو زندگی کے آخری لمحے تک ایمان پر قائم رہنے کی وصیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انسان کو اپنی اولاد کے انجام اور حسنِ عاقبت کی بھی فکر کرنی چاہئے۔[20] نیز امام صادقؑ سے منقول ایک روایت کی بنیاد پر[21] اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو گناہ کے راستے میں استعمال نہ کرنا بھی حسنِ عاقبت کا ایک اہم سبب قرار دیا گیا ہے۔[22]

دعا اور امدادِ الٰہی

تفسیر راہنما کے مصنف ہاشمی رفسنجانی سورہ اعراف آیت نمبر 126 اور سورہ آل عمران آیت نمبر 193 میں مذکور فقروں «وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ» اور «وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ» کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ حسنِ عاقبت دعا اور امدادِ الٰہی کا محتاج ہے۔[23] حضرت موسی پر فرعون کے جادوگروں کے ایمان لانے کی داستان میں بھی مذکور ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ انہیں صبر عطا فرمائے تاکہ وہ ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوں اور حسنِ عاقبت کے ساتھ ان کی زندگی کا اختتام ہو۔[24]

توبہ

توبہ کو حسنِ عاقبت کے اہم ترین اسباب میں شمار کیا گیا ہے۔[25] آیت اللہ مکارم شیرازی سورہ تحریم آیت نمبر 8 کی تفسیر میں جہنم سے نجات پانے کا پہلا قدم توبہ نصوح کو قرار دیتے ہیں؛ یعنی ایسی خالص توبہ جو انسان کو ہمیشہ کے لئے گناہ سے پرہیز کرنے اور دوبارہ اس کی طرف پلٹنے سے باز رکھے۔[26] دینی منابع میں متعدد ایسے افراد کا تذکرہ ملتا ہے جو توبہ کے ذریعے حسنِ عاقبت سے ہمکنار ہوئے ہیں، جن میں فضیل بن عیاض کا نام بھی ملتا ہے جو امام صادقؑ کے دور کا ایک مشہور راہزن تھا، مگر توبہ کے بعد عبادت گزاروں اور عرفاء میں شمار کیا گیا۔[27] اسی طرح حر بن یزید ریاحی نے روز عاشورا امام حسینؑ کی خدمت میں توبہ کی اور آپؑ کے ہمراہ شہادت کا شرف حاصل کرکے حسنِ عاقبت سے سرفراز ہوئے۔[28]

موانع

محققین نے دینی منابع کی روشنی میں ان عوامل کا بھی ذکر کیا ہے جو انسان کو حسنِ عاقبت سے محروم کر دیتے ہیں۔ ان میں اہل بیتؑ سے دشمنی، دنیا سے حد سے زیادہ دل بستگی، حق کو پہچان لینے کے باوجود اس کی حمایت نہ کرنا، تکبر، ظلم و ناانصافی، صلۂ رحمی کو ترک کرنا، والدین کی نافرمانی، اہلِ خانہ کے حقوق کی پامالی، برے دوست اور برے ہم نشین کی صحبت، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ترک کرنا اور معاشرے میں فتنہ و فساد کو فروغ دینے کا سبب بننا شامل ہیں۔[29]

حوالہ جات

  1. حسینی، عاقبت بہ خیری، 1384شمسی، ص10۔
  2. صمدی یزدی، «آیات و روایات کی روشنی میں حسن عاقبت»، ص189؛ علّینی، «اسلامی تعلیمات میں عاقبت بخیری»، ص219۔
  3. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج16، ص81؛ ہاشمی رفسنجانی، تفسیر راہنما، 1386شمسی، ج3، ص195 و ج6، ص135؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج16، ص178؛ مکارم شیرازی، پیام امام امیرالمومنین(ع)، 1386شمسی، ج13، ص260۔
  4. دانیاری، «آیات، روایات اور دعاوں میں حسن عاقبت کی اہمیت»، ص53-56۔
  5. انصاریان، دیار عاشقان، 1372شمسی، ج5، ص101-122؛ ممدوحی، شہود و شناخت، 1388شمسی، ج1، ص485-500۔
  6. صحیفہ سجادیہ، دعای یازدہم، عنوان دعا۔
  7. مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج68، ص361۔
  8. مکارم شیرازی، پیام امام امیرالمومنین(ع)، 1386شمسی، ج13، ص262؛ صمدی یزدی، «آیات و روایات کی روشنی میں عاقبت بخیری»، ص191-194۔
  9. نہج البلاغہ، (تصحیح صبحی صالح)، نامہ 53، ص302۔
  10. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج3، ص346۔
  11. قمی، تفسیر القمی، 1404، ج2، ص75۔
  12. صدوھ، عیون اخبار الرضا(ع)، منشورات جہان، ج2، ص297۔
  13. مکارم شیرازی، پیام امام امیرالمومنین(ع)، 1386شمسی، ج13، ص262۔
  14. حسینی، عاقبت بہ خیری، 1384شمسی، ص13-45؛ حسینی، «اسلام میں عاقبت بخیری کی اہمیت اور مقام»، ص35-36۔
  15. سورۂ ہود، آیت 49۔
  16. سورۂ قصص، آیت 83؛ سورۂ اعراف، آیت 128؛ سورۂ طٰہٰ، آیت 132۔
  17. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج7، ص420؛ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج16، ص81؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج16، ص177۔
  18. مغنیہ، الکاشف، 1424ھ، ج5، ص255۔
  19. رضایی اصفہانی، تفسیر قرآنی مہر، 1387شمسی، ج7، ص208۔
  20. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج1، ص462؛ مغنیہ، الکاشف، 1424ھ، ج1، ص208۔
  21. صدوھ، عیون اخبار الرضا، نشر جہان، ج2، ص4۔
  22. مکارم شیرازی، مشکات ہدایت، 1385شمسی، ص129۔
  23. ہاشمی رفسنجانی، تفسیر راہنما، ج6، ص137۔
  24. رضایی اصفہانی، تفسیر قرآن مہر، ج7، ص204؛ قرائتی، تفسیر نور، 1383شمسی، ج3، ص144۔
  25. حسینی، عاقبت بہ خیری، 1384شمسی، ص25۔
  26. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج24، ص289۔
  27. ابن خلکان، وفیات الاعیان، دارالثقافہ، ج4، ص47۔
  28. مفید، الارشاد، 1413ھ، ج2، ص100ـ101۔
  29. حسینی، عاقبت بہ خیری، 1384شمسی، ص45-64۔

مآخذ

  • ابن خلکان، احمد بن محمد، وفیات الاعیان، بیروت، دارالثقافہ۔
  • انصاریان، حسین، دیار عاشقان: تفسیر جامع صحیفہ سجادیہ، تہران، پیام آزادی، 1372ہجری شمسی۔
  • حسینی، سید جواد، «اسلام میں عاقبت بخیری کی اہمیت اور اس کا مقام»، نشریہ پاسدار اسلام، شمارہ 317، 2008ء۔
  • حسینی، سید حسین، عاقبت بہ خیری، قم، مرکز پژوہش ہای اسلامی صدا و سیما، 1384ہجری شمسی۔
  • دانیاری، محسن، روایات اور دعاوں میں حسن عاقبت کی اہمیت»، فصلنامہ رہ توشہ، خصوصی ایڈیشن رمضان المبارک، شمارہ 9، 1443ھ۔
  • رضایی اصفہانی، محمدعلی، تفسیر قرآن مہر، قم، پژوہش ہای تفسیر و علوم قرآنی، 1387ہجری شمسی۔
  • شریف رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغۃ (للصبحی صالح)، قم، نشر مشہور، 1379ہجری شمسی۔
  • صدوھ، محمد بن علی، عیون اخبار الرضا(ع)، تہران، منشورات جہان، بےتا۔
  • صمدی یزدی، علی اکبر، «آیات و روایات کی روشنی میں حسن عاقبت»، فصلنامہ رہ توشہ، خصوصی ایڈیشن محرم الحرام 2015ء۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، 1390ھ۔
  • علینی، محمد، «اسلامی تعلیمات میں عاقبت بخیری»، نشریہ رہ توشہ، خصوصی ایڈیشن رمضان المبارک، شمارہ 5، 1442ھ۔
  • قرائتی، محسن، تفسیر نور، تہران، مرکز فرہنگی درس ہایی از قرآن، 1388ہجری شمسی۔
  • قمی، علی بن ابراہیم، تقسیر القمی، قم، دارالکتاب، 1404ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1407ھ۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، 1403ھ۔
  • مغنیہ، محمدجواد، التفسیر الکاشف، قم، دارالکتاب الإسلامی‏، 1424ھ۔
  • مفید، محمد بن محمد، الارشاد فی معرفۃ حجج اللّہ علی العباد، قم، کنگرہ شیخ مفید، 1413ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، پیام امام امیرالمومنین(ع)، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1386ہجری شمسی۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الإسلامیۃ، 1371ہجری شمسی۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، مشکات ہدایت، قم، انتشارات مدرسہ امام علی بن ابی طالب، 1385ہجری شمسی۔
  • ممدوحی کرمانشاہی، حسن، شہود و شناخت، ترجمہ و شرح صحیفہ سجادیہ، مقدمہ آیت اللہ جوادی آملی، قم، بوستان کتاب، 1388ہجری شمسی۔
  • ہاشمی رفسنجانی، اکبر، تفسیر راہنما، قم، بوستان کتاب، 1386ہجری شمسی۔