مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:سورہ نساء آیت نمبر 75

ویکی شیعہ سے
سورہ نساء آیت نمبر 75
آیت کی خصوصیات
سورہسورہ نساء
آیت نمبر75
پارہ5
محل نزولمدینہ
موضوعمظلوموں کی نجات کے لئے راہ خدا میں جہاد


سورہ نساء آیت نمبر 75، میں ان مسلمانوں کی سرزنش کی گئی ہے[1] جو "مستعضفین" کی نجات کے لئے اللہ کی راہ میں جہاد نہیں کرتے جو ظالموں کے ظلم کے شکار ہیں۔[2] مفسرین کے مطابق یہاں مستضعفین سے مراد وہ مسلمان ہیں جو مکہ میں ایمان لا چکے تھے، لیکن مشرکین مکہ انہیں مدینہ ہجرت کرنے نہیں دے رہے تھے اور مختلف اذیتوں میں مبتلا کر رکھا تھا۔ اسی لیے وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے کہ انہیں مشرکین کے ظلم سے نجات عطا فرمائے۔[3] "مستضعف" اس شخص کو کہا جاتا ہے جسے ظالموں کے جبر و ستم نے کمزور بنا دیا ہو جبکہ "ضعیف" اس شخص کو کہتے ہیں جو فطری طور پر کمزور ہو۔[4]

اس آیت میں بیان ہوا ہے کہ یہ مظلوم لوگ دعا کرتے ہوئے اللہ سے درخواست کرتے ہیں کہ انہیں اس بستی سے نکال دے جس کے باشندے ظالم ہیں۔[5] نیز وہ اللہ سے یہ بھی مانگتے ہیں کہ ان کے لئے اپنی جانب سے کوئی سرپرست اور مددگار مقرر فرمائے جو ان کی حمایت اور نصرت کرے۔[6]

وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا ‎﴿٧٥﴾‏‏
آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ کہ تم جنگ نہیں کرتے راہ خدا میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر جو فریاد کر رہے ہیں۔ پروردگار! ہمیں اس بستی سے نکال دے۔ جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارے لئے کوئی سرپرست اور حامی و مددگار بنا۔



سورہ نساء آیت نمبر 75

علامہ طباطبائی تفسیر المیزان میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو متحرک کرنے کے لئے صرف اللہ کی راہ میں جہاد کا ذکر کیا جبکہ ناقص ایمان کے حامل افراد کے جذبات کو بیدار کرنے کے لئے مظلوم عورتوں اور بچوں کی حالت زار کا ذکر کیا گیا تاکہ ان کی غیرت اور انسانی ہمدردی جوش میں آئے۔[7] یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے والی آیت میں مؤمنوں کو اللہ اور روز قیامت پر ایمان کی بنیاد پر جہاد کی دعوت دی گئی تھی جبکہ اس آیت میں انسانی جذبات اور احساسِ ہمدردی کو متحرک کرکے جہاد کی ترغیب دی گئی ہے۔[8]

سوره نساء کی ۷۵ ویں آیت سے دو اہم احکام لئے جاتے ہیں: پہلا یہ کہ جو مسلمان دار الکفر میں رہتے ہیں اور ہجرت کی قدرت رکھتے ہیں ان پر ہجرت کرنا واجب ہے۔ دوسرا یہ کہ ایسے مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنا بھی واجب ہے جو ظلم کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتے۔[9] بعض مفسرین کے نزدیک آیت کا ظاہری مفہوم یہ بھی بتاتا ہے کہ مظلوموں کی حمایت واجب ہونے میں مسلمان اور غیر مسلم کی کوئی شرط نہیں ہے؛ اصل معیار مظلومیت ہے۔[10]

تفسیری منابع میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مظلوموں کی حمایت اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے اور دین اسلام نے اس پر خصوصی توجہ دی ہے۔[11] اسی طرح اس آیت میں جہاد سے مراد ظاہرا ابتدائی جہاد معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ دفاعی اور آزادی بخش جہاد ہے کیونکہ اس کا مقصد پامال شدہ حقوق کا دفاع اور مظلوموں کو ظالموں کے چنگل سے نجات دلانا ہے۔[12]

اس آیت کا بنیادی مقصد مؤمنوں کو اللہ کی راہ میں جہاد، بے سہارا اور مظلوم افراد کی نجات اور عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کی ترغیب دینا ہے۔[13] اسی طرح یہ آیت دعا کی اہمیت کو بھی واضح کرتی ہے کیونکہ اس میں مستضعفین کی دعا نقل کی گئی ہے اور اس کے قبول ہونے کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے۔[14]

حوالہ جات

  1. قرائتی، تفسیر نور، 1388شمسی، ج2، ص107۔
  2. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، 1371شمسی، ج4، ص9۔
  3. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج3، ص117؛ طبرسی، جوامع الجامع، 1372شمسی، ج1، ص270۔
  4. سبحانی، منشور جاوید، قم، ج14، ص38۔
  5. قرائتی، تفسیر نور، 1388شمسی، ج2، ص106۔
  6. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، 1371شمسی، ج4، ص10۔
  7. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج4، ص419۔
  8. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، 1371شمسی، ج4، ص9۔
  9. شهابی، ادوار فقه، 1387شمسی، ج2، ص69؛ طباطبایی، المیزان‏، 1390ھ، ج4، ص419؛ قرشی بنابی، تفسیر احسن الحدیث، 1375شمسی، ج2، ص403۔
  10. مکارم شیرازی، پیام قرآن، 1386شمسی، ج8، ص381۔
  11. مکارم شیرازی، پیام قرآن، 1386شمسی، ج8، ص381۔
  12. سبحانی، منشور جاوید، 1390شمسی، قم، ج14، ص22۔
  13. قرشی بنابی، تفسیر احسن الحدیث، 1375شمسی، ج2، ص403۔
  14. طبرسی‏، مجمع البیان، 1372شمسی، ج3، ص117۔

مآخذ

  • سبحانی، جعفر، منشور جاوید، قم، مؤسسہ امام صادق(ع)، بی تا۔
  • شہابی، محمود، ادوار فقہ، تہران، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، 1387ہجری شمسی۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات‏، 1390ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، تفسیر جوامع الجامع، تہران، ناصر خسرو، 1372ہجری شمسی۔
  • طبرسی، فضل بن حسن‏، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصر خسرو، 1372ہجری شمسی۔
  • قرائتی، محسن، تفسیر نور، تہران، مرکز فرہنگی درس ہایی از قرآن‏، 1388ہجری شمسی۔
  • قرشی بنابی، علی اکبر، تفسیر احسن الحدیث، تہران، بنیاد بعثت‏، 1375ہجری شمسی۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، پیام قرآن، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، 1386ہجری شمسی۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، 1371ہجری شمسی۔