مسودہ:سقر
سَقَر ایک قرآنی اصطلاح ہے، جس کے معنی کے بارے میں مختلف آراء بیان ہوئی ہیں۔ بعض کے نزدیک سَقَر دوزخ کا ایک نام ہے،[1] بعض کے نزدیک یہ دوزخ کے درجات میں سے ایک درجہ ہے،[2] جبکہ بعض اسے دوزخ کے دروازوں میں سے ایک دروازہ قرار دیتے ہیں۔[3] ایک قول کے مطابق سَقَر دوزخ کے ایک ایسے مقام کا نام ہے جس کے سانس لینے سے جہنم بھڑک اٹھتی ہے۔[4]
کہا گیا ہے کہ سَقَر کے بنیادی معنی جلانا، جلد کو تبدیل کر دینا اور سورج کی حرارت سے کسی چیز کا پگھل جانا ہے۔[5] اسی مناسبت سے دوزخ کو سَقَر کہا گیا ہے، کیونکہ وہ انسان کے جسم کو جلا کر اس کی جلد کو تبدیل کر دیتی ہے۔[6]
لفظ سَقَر قرآن مجید میں چار مرتبہ آیا ہے؛ تین مرتبہ سورہ مدثر میں اور ایک مرتبہ سورہ قمر میں۔[7] سورہ مدثر کی آیات 27 تا 30 میں سَقَر کو ایک ایسے سخت عذاب کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس کی حقیقت کا انسان مکمل طور پر ادراک نہیں کرسکتا،[8] جو انسان کو مکمل تباہ کر دیتا ہے،[9] اس کے گوشت اور جلد کو جلا دیتا ہے،[10] اور اس پر عذاب دینے اور اس کی نگرانی کے لیے انیس فرشتے مقرر ہیں۔[11] اسی طرح سورہ مدثر کی آیت 48 سے استدلال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اہلِ سَقَر کے لیے شفاعت بھی سودمند نہیں ہوگی۔[12]
سورہ مدثر کی آیات 42 تا 46 کی روشنی میں سَقَر ایسے لوگوں کا ٹھکانہ ہے جو نماز نہیں پڑھتے، ضرورت مندوں کی مدد نہیں کرتے (زکوٰۃ نہیں دیتے)، اہلِ باطل کے ساتھ بے ہودہ کاموں میں شریک رہتے ہیں اور روزِ جزا کو جھٹلاتے ہیں۔[13]
بعض مفسرین نے اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ سورہ مدثر مکی سورت ہے اور اس زمانے میں نماز و زکوٰۃ اپنے موجودہ فقہی مفہوم کے ساتھ ابھی فرض نہیں ہوئی تھیں، ان تعبیرات کو عبادت کے بنیادی تصور اور ضرورت مندوں کی مدد کے معنی میں قرار دیا ہے۔[14]
اسی طرح بعض روایات میں سَقَر کو متکبرین[15] اور اہل بیتؑ کے دشمنوں کا ٹھکانہ قرار دیا گیا ہے۔[16]
حوالہ جات
- ↑ راغب اصفہانی، مفردات الفاظ القرآن، 1412ھ، ص414۔
- ↑ حسینی شاہعبدالعظیمی، تفسیر اثنی عشری، 1363شمسی، ج13، ص379۔
- ↑ طیب، اطیب البیان، 1378شمسی، ج17، ص277۔
- ↑ طریحی، مجمع البحرین، 1416ھ، ج3، ص334۔
- ↑ راغب اصفہانی، مفردات الفاظ القرآن، 1412ھ، ص414۔
- ↑ محمدی ریشہری، بہشت و دوزخ از نگاہ قرآن و حدیث، 1389شمسی، ج2، ص53۔
- ↑ محمدی ریشہری، بہشت و دوزخ از نگاہ قرآن و حدیث، 1389شمسی، ج2، ص53۔
- ↑ طیب، اطیب البیان، 1378شمسی، ج17، ص277۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج20، ص88۔
- ↑ حسینی شاہعبدالعظیمی، تفسیر اثنی عشری، 1363ش، ج13، ص379۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج20، ص88؛ حسینی شاہعبدالعظیمی، تفسیر اثنی عشری، 1363شمسی، ج13، ص379۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج20، ص97۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج25، ص253۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج1، ص169 و ج20، ص97۔
- ↑ قمی، تفسیر القمی، 1404ھ، ج2، ص251۔
- ↑ قمی، تفسیر القمی، 1404ھ، ج2، ص395؛ برقی، المحاسن، 1371ھ، ج1، ص90۔
مآخذ
- برقی، احمد بن محمد، المحاسن، قم، دار الکتب الاسلامیہ، 1371ھ۔
- حسینی شاہعبدالعظیمی، حسین، تفسیر اثنی عشری، تہران، انتشارات میقات، 1363ہجری شمسی۔
- راغب اصفہانی، حسین بن محمد، مفردات الفاظ القرآن، لبنان - سوریہ، دار العلم - دار الشامیہ، 1412ھ۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1417ھ۔
- طریحی، فخرالدین، مجمع البحرین، تہران، کتابفروشی مرتضوی، 1416ھ۔
- طیب، سید عبدالحسین، اطیب البیان فی تفسیر القرآن، تہران، انتشارات اسلام، 1378ہجری شمسی۔
- قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، قم، دار الکتاب، 1404ھ۔
- محمدی ریشہری، محمد، بہشت و دوزخ از نگاہ قرآن و حدیث، قم، دارالحدیث، 1389ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1374ہجری شمسی۔