مندرجات کا رخ کریں

سورہ قمر آیت نمبر 1

ویکی شیعہ سے
سورہ قمر آیت نمبر 1
آیت کی خصوصیات
سورہقمر
آیت نمبر1
پارہ27
شان نزولپیغمبر اکرمؐ کی دعا سے چاند کا شق ہونا
محل نزولمکہ
موضوعشق القمر کا معجزہ
مربوط آیاتسورہ قمر کی آیت نمبر 2، 3 اور 4


سورہ قمر آیت نمبر 1 بہت سے شیعہ[1] اور اہل سنت مفسرین[2] کے نزدیک شقُّ القمر کے واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔[3] یہ واقعہ رسول اکرمؐ کے معجزات میں شمار ہوتا ہے۔[4]

اسی طرح یہ آیت روز قیامت کے قریب ہونے کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے[5] اور چونکہ رسولِ اکرمؐ اللہ کے آخری نبی ہیں، اس لیے آپؐ کی بعثت کو قیامت کی نشانیوں میں سے قرار دیا گیا ہے۔[6] ان دونوں واقعات کا ایک ساتھ ذکر ہونا اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ چاند کا شق ہونا منظومہ شمسی میں آنے والی ممکنہ تبدیلیوں کی علامت اور قیامت کے قریب پیش آنے والے عظیم واقعات کی ایک جھلک ہے۔[7]

تفسیر قمی میں منقول ایک روایت کے مطابق، «اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ» سے مراد امام مہدی علیہ السلام کے قیام کا قریب آنا ہے۔[8] یہ آیت اور سورہ قمر کی دیگر آیات مکی آیات میں شمار ہوتی ہیں۔[9]

اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ
(قیامت کی) گھڑی قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔

تفسیری منابع کے مطابق مشرکین کے ایک گروہ نے رسول خداؐ سے کہا: “اگر تم سچے ہو اور اللہ کے نبی ہو تو ہمارے لیے چاند کو دو ٹکڑے کر دو!” رسولِ خداؐنے فرمایا: “اگر میں ایسا کر دوں تو کیا تم ایمان لے آؤ گے؟” انہوں نے کہا: “ہاں۔” اسی رات (یعنی سنہ 5 بعثت 14 ذی الحجہ کی رات)[10] رسولِ خداؐ نے اللہ سے دعا کی کہ ان کی خواہش پوری ہو۔ اچانک چاند دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ رسولِ خداؐ نے مشرکین کو ایک ایک کر کے بلایا اور فرمایا: “دیکھو!”[11] پھر انہوں نے مطالبہ کیا کہ چاند دوبارہ اپنی پہلی حالت میں واپس آ جائے، چنانچہ ایسا ہو گیا۔ یہ واقعہ ان کی خواہش پر ایک اور دفعہ بھی پیش آیا۔[12]

شیخ طوسی کے مطاب قشقُّ القمر کے واقعے کے رونما ہونے کے بارے میں مسلمانوں کا اجماع ہے۔[13] اسی طرح قاضی عبدالرحمن ایجی اس واقعے سے متعلق روایات کو احادیث متواتر قرار دیتے ہیں۔[14] اس واقعے کی تفصیلات دیگر منابع جیسے البدایۃ و النہایۃ،[15] الفتن،[16] اور الخرائج و الجرائح[17] میں بھی نقل ہوئی ہیں۔[18]

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ چاند کا شق ہونا سورج کے غروب ہونے اور چاند نکلنے کے وقت پیش آیا اور اس کے شق ہونے اور دوبارہ جڑنے کے درمیان فاصلہ بہت کم تھا۔ اسی وجہ سے ممکن ہے کہ اسے دیکھنے والوں کی تعداد محدود رہی ہو، خصوصاً دنیا کے مختلف علاقوں کے افق کے فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے۔[19]

حوالہ جات

  1. نمونہ کے لئے رجوع کریں: قمی، تفسیر القمی، 1404ھ، ج2، ص340؛ طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج9، ص281۔
  2. نمونہ کے لئے رجوع کریں: عبدالرزاق صنعانی، تفسیر عبدالرزاق، 1411ھ، ج2، ص207؛ سیوطی، الدر المنثور، 1404ھ، ج6، ص427۔
  3. مکارم شیرازی، معراج - شق القمر - عبادت در قطبین، 1385شمسی، ص95؛ بہرامی،‌ «شق القمر در ترازو»، ص33۔
  4. نمونہ کے لئے رجوع کریں: شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج9، ص443۔
  5. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج23، ص7۔
  6. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج23، ص8۔
  7. دہقان، تفسیر نسیم رحمت، 1392شمسی، ج13، ص9۔
  8. قمی، تفسیر القمی، 1404ھ، ج2، ص340۔
  9. ابن‌عباس، تنویر المقباس، 1425ھ، ج6، ص564۔
  10. طباطبائی، المیزان، 1391ھ، ج19، ص65۔
  11. نمونہ کے لئے رجوع کریں: قمی، تفسیر القمی، 1404ھ، ج2، ص341؛ طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج9، ص282۔
  12. قمی، تفسیر القمی، 1404ھ، ج2، ص341۔
  13. شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج9، ص443۔
  14. الایجی، المواقف، الشریف الرضی، ج8، ص256۔
  15. ابن‌کثیر، البدایۃ و النہایۃ، 1408ھ، ج3، ص146؛ ج6، ص82۔
  16. المروزی، کتاب الفتن، 1414ھ، ص367۔
  17. الراوندی، الخرائج و الجرائح، 1409ھ، ج1، ص31۔
  18. حاکم نیشابوری، المستدرک، 1411ھ، ج2، ص512؛ ابن‌کثیر، البدایۃ و النہایۃ، 1408ھ، ج3، ص146۔
  19. طباطبائی، المیزان، 1391ھ، ج19، ص64–65۔

مآخذ

  • عبداللہ بن عباس، ابن‌عباس، تنویر المقباس من تفسیر إبن عباس، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، دوسری اشاعت، 1425ھ۔
  • اسماعیل بن عمر، ابن‌کثیر، البدایۃ و النہایۃ، تحقیق علی شیری، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، پہلی اشاعت، 1408ھ۔
  • عبدالرحمن بن احمد، الایجی، المواقف، شرح علی بن محمد جرجانی، قم، الشریف الرضی، بی‌تا۔
  • قطب الدین، الراوندی، الخرائج و الجرائح، قم، موسسۃ الامام المہدی، 1409ھ۔
  • نعیم بن حماد، المروزی، کتاب الفتن، تحقیق سہیل زکار، بیروت، دار الفکر للطباعۃ و النشر، 1414ھ۔
  • محمد، بہرامی،‌ «شق القمر ترازو میں»، در مجلہ مطالعات اسلامی، علوم قرآن و حدیث، شمارہ 92، بہار و تابستان 1393ہجری شمسی۔
  • محمد بن عبداللہ، حاکم النیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، تحقیق مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیہ، پہلی اشاعت، 1411ھ۔
  • اکبر، دہقان، تفسیر نسیم رحمت، قم، حرم، دوسری اشاعت، 1392ہجری شمسی۔
  • جلال الدین، سیوطی، الدر المنثور فی تفسیر المأثور، قم، کتابخانہ آیۃ اللہ مرعشی نجفی، 1404ھ۔
  • محمد بن حسن، شیخ طوسی، التبیان فی تفسیر القرآن، تصحیح احمد حبیب عاملی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا۔
  • سید محمد حسین، طباطبائی، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات، 1391ھ۔
  • فضل بن حسن، طبرسی، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ: بلاغی‏، محمد جواد، تہران، ناصر خسرو، تیسری اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
  • ابوبکر، عبدالرزاق صنعانی، تفسیر عبدالرزاق الصنعانی، مصحح: قلعجی، عبدالمعطی امین، بیروت، دار المعرفۃ، پہلی اشاعت، 1411ھ۔
  • علی بن ابراہیم، قمی، تفسیر القمی، محقق و مصحح: موسوی جزائری، سید طیب،‏ قم، دار الکتاب، تیسری اشاعت، 1404ھ۔
  • ناصر، مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔
  • ناصر، مکارم شیرازی، معراج - شق القمر - عبادت در قطبین، قم، نسل جوان، 1385ہجری شمسی۔