ابوبصیر (ضد ابہام)

wikishia سے

اَبو بَصیر، مندرجہ ذیل چند راویوں کی مشترک کنیت ذکر ہوئی ہے:

ابو بصیر روایات میں

اصحاب اجماع

اصحاب امام باقرؑ
1. زُرارَۃ بن اَعین
2. مَعروفِ بنِ خَرَّبوذ
3. بُرَید بن معاویہ
4. ابوبصیر اَسَدی یا (ابوبصیر مرادی)
5. فُضَیل بن یسار
6. محمد بن مُسلِم

اصحاب امام صادقؑ
1. جَمیل بن دَرّاج
2. عبداللہ بن مُسکان
3. عبداللہ بن بُکَیر
4. حَمّاد بن عثمان
5. حماد بن عیسی
6. اَبان بن عثمان

اصحاب امام کاظمؑ و امام رضاؑ
1. یونس بن عبد الرحمن
2. صَفوان بن یحیی
3. اِبن اَبی عُمَیر
4. عبداللہ بن مُغَیرِہ
5. حسن بن محبوب یا (حسن بن علی بن فَضّال، فَضالَۃ بن ایوب و عثمان بن عیسی)
6. احمد بن ابی نصر بزنطی

بہت ساری امامیہ روایات میں ابو بصیر کا نام کسی سابقہ یا لاحقہ کے بغیر اسناد کے سلسلے میں استعمال ہوا ہے اور دوسرے قرائن سے ہی اس کی شناخت ممکن ہے کہ کون سے ابو بصیر مراد ہیں؛ لیکن ابو بصیر صفت کے ساتھ ذکر ہونے والے اسانید کی تعداد انگشت شمار ہے اور بعض دفعہ تو جو صفت یا قید ذکر ہوئی ہے وہ بھی اتنی مضبوط نہیں کہ اس پر اعتماد کیا جائے بلکہ اس میں بھی دوسرے سے اشتباہ ہونے کا خدشہ کیا ج اسکتا ہے۔ «‌ابو بصیر‌» کا عنوان یحیی اسدی اور لیث مرادی میں مشترک ہونے کی وجہ سے یہ سبب بنا ہے کہ ابو بصیر کی شناخت کے بارے میں تقریبا ابتدائی صدیوں سے ہی شیعہ محدثین اور رجالی علما کے مابین بحث و گفتگو ہو جائے جو آج تک جاری ہے۔ اسی لئے یہ دو ہم عصر اشخاص، جو کہ دونوں کوفہ میں رہتے تھے، کے بارے میں یقینی طور پر بعض موارد میں اب بھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔

ابو بصیر

شیعہ رجالی اور حدیثی منابع میں یحیی بن ابی‌ القاسم اسدی اور لیث بن بختری مرادی کے علاوہ دوسرے بعض افراد بھی «‌ابو بصیر‌» کے نام سے جانے جاتے ہیں:

ابو بصیر عبداللہ بن محمد اسدی کوفی، امام باقرؑ کے اصحاب میں سے ہیں۔[1]؛ ابو بصیر یوسف بن حارث امام باقرؑ کے بتری مذہب (وہ لوگ جو زیدی مذہب کے ماننے والے ہیں لیکن خلفاء ثلاثہ کو بھی مانتے ہیں) اصحاب میں سے ہے۔[2] نیز ابو بصیر ثقفی بھی ان میں سے ایک ہیں۔[3]

ابو بصیر کے بارے میں تالیفات

گذشتہ چند صدیوں میں ابو بصیر کی شخصیت کے بارے میں بہت ساری مستقل کتابیں لکھی گئی جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:

  1. ترجمہ ابی بصیر، بقلم سید محمد مہدی بن حسن خوانساری (م 1246 ھ)، یہ کتاب، الجوامع الفقہیہ کے ساتھ 1276 ھ سنگی چاپ ہو چکی ہے؛
  2. ترجمۃ ابی بصیر و تحقیق احوالہ، بقلم محمد باقر شفتی (م 1260 ھ)، یہ کتاب مؤلف کے بعض رجالی رسالوں کے ساتھ 1314 ھ کو چھپ گئی ہے؛
  3. ترجمۃ ابی بصیر، بقلم محمد ہاشم خوانساری (م 1318 ھ)، جو مجمع الفوائد کے ساتھ 1317 ھ کو چھپ گئی ہے؛
  4. ترجمۃ ابی بصیر و اسحاق بن عمار، بقلم ابو تراب خوانساری (م 1346 ھ)؛
  5. الرسالۃ المبصرۃ فی احوال ابی بصیر، بقلم محمد تقی شوشتری جو مولف کی قاموس الرجالِ میں ملحق ہو کر درج نمبر 11 میں چھپ گئی ہے؛[4]
  6. اسانید ابی بصیر بقلم موسی شبیری زنجانی جس کے خطی نسخے ابھی لائبریری میں موجود ہیں۔

حوالہ جات

  1. کشی، محمد، معرفہ الرجال، اختیار طوسی، ج۱، ص۱۷۴؛ طوسی، محمد بن حسن، رجال، ج۱، ص۱۲۹
  2. طوسی، محمد بن حسن، رجال، ج۱، ص۱۴۱،
  3. خصیبی، حسین بن حمدان، الہدایہ الکبری، ج۱، ص۳۹
  4. ملاحظہ ہو: آقابزرگ، الذریعہ، ج۴، ص۱۴۷-۱۴۸. آقا بزرگ، الذریعہ، ج۱۱، ص۲۲۳


مآخذ

  • آقا بزرگ، الذریعہ.
  • کشی، محمد، معرفہ الرجال، اختیار طوسی، بہ کوشش حسن مصطفوی، مشہد، ۱۳۴۸ش.
  • طوسی، محمد بن حسن، رجال، بہ کوشش محمد صادق بحر العلوم، نجف، ۱۳۸۱ق/۱۹۶۱ع

بیرونی روابط