تاریخ یعقوبی (کتاب)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
تاریخ یعقوبی
تاریخ یعقوبی.jpg
مؤلف: احمد بن ابی یعقوب
زبان: عربی
موضوع: عالمی تاریخ
تعداد مجلد: 2جلد
اشاعت: مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات (بیروت)

تاریخ الیعقوبی عربی زبان میں لکھی گئی ایک عمومی تاریخ کی کتاب جس کے مصنف کا نام احمد بن ابی یعقوب (متوفا: ۲۸۴ یا ۲۹۲ق) ہے۔ یہ کتاب ابتدا سے لے کر تیسری صدی ہجری قمری کے وسط تک کی تاریخ جہان کا خلاصہ ہے۔ یہ دو حصوں: اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعد کی تاریخ پر مشتمل ہے۔ دوسرے حصے میں رسول خدا (ص) اور آئمہ معصومین میں سے امام ہادی(ع) تک کی تاریخ مذکور ہے۔ اسی طرح یہ ایران کی قدیمی اور ساسانیوں کی تاریخ کا مصدر سمجھی جاتی ہے۔

مصنف

احمد بن ابی یعقوب بن جعفربن وَہْب بن واضح یعقوبی تیسری صدی ہجری قمری کا مؤرخ اور جغرافیہ دان ہے۔ اس کے دیگر آثار میں سے البلدان اور مشاکلۃ الناس لزمانہم ہیں۔ وہ اپنے اجداد کی مانند شیعیت کی جانب رجحان رکھتا تھا اور بنو عباس کے دربار کا کاتب تھا۔ اسکی وفات کا سال ۲۸۴ یا ۲۹۲ق کہا جاتا ہے۔

تعارف کتاب

یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے:

پہلا حصہ

مضامین

پہلا حصہ اسلام سے پہلے کی تاریخ پر مشتمل ہے۔ اس حصے میں ایک مقدمہ تھا لیکن اس وقت وہ دسترس میں نہیں ہے۔

موجودہ کتاب خلقت کے آغاز سے شروع ہوئی ہے جس میں حضرت آدم سے لے کر عیسی تک کی تاریخ ذکر ہے نیز دنیا میں آباد مختلف قوموں اور بادشاہوں کا تاریخچہ ذکر ہوا ہے۔

یعقوبی نے فارس بادشاہوں کی فصل میں قدیمی ایران کی تاریخ ذکر کی اور ملک کے دفتری نظام اور ساسانی بادشاہوں کے حکومتی مراتب کے بارے میں قیمتی معلومات ذکر کی ہیں۔[1]

پہلے حصے کے مصادر

  • عمومی مصادر: یعقوبی پیغمبروں کی تاریخ میں قرآن مجید، اسلامی ماخذوں، یہودیوں اور عیسائیوں کی مقدس کتابیں اور چار انجیلوں سے نقل کرتا ہے۔[2]
  • تاریخ بنی اسرائیل کا مآخذ: بنی اسرائیل سے مربوط عمدہ مطالب کتاب مقدس اور کتاب بنام غار گنجینہ‌ ہا سے نقل کرتا ہے۔[3]
  • قدیمی ایرانی تاریخ کے مخصوص مآخذ: قدیمی ایران اور ساسانیوں کی تاریخ کیلئے درج ذیل کتابوں سے استفادہ کرتا ہے:
  1. گاہنامگ پہلوی ہے کہ جو خود آئین نامگ سے بڑی ہے۔
  2. خوذای نامگ جو ساسانیوں کی حکومتی تاریخ ہے جو یعقوبی کے مآخذوں میں سے ہے۔[4]

اصلی مآخذوں سے تاریخ مرتب کرنے کی وجہ سے ساسانیوں کے دور حکومت کی شناخت کیلئے تاریخ یعقوبی قدیمی‌ ترین اور اہم‌ ترین مآخذ سمجھی جاتی ہے۔[5]

نقل مطالب اور روش تحریر

یعقوبی تاریخ نگاری میں معتدل رویے کا حامل ہے اور خطبے، اخلاقی اور سیاسی وصایا اور حکومتی خطوط[6] نقل کرنے میں یعقوبی نے نہایت باریک بینی سے کام لیا ہے۔[7]

اس نے نقل مطالب میں دو عمدہ کام انجام دئے ہیں۔ اسلامی اصول عقائد سے غیر موافق چیزوں کو ذکر نہیں کیا خاص طور پر بنی اسرائیل کی توصیف میں جو مطالب کتاب غار گنجینہ‌ ہا کئے ہیں۔[8]

اسی طرح جب اقوام کی سیاسی تاریخ کے متعلق معلومات نہیں تھیں تو ان کی تہذیبی تاریخ کو ذکر کرتا ہے۔[9]

یعقوبی نے اپنی تصنیف میں جغرافیہ سے مربوط ابحاث بھی ذکر کی ہیں۔[10] نیز اس نے ایران اور روم کی تاریخ میں ہر روز کے رونام ہونے والے واقعات پر بھی توجہ دی ہے۔[11] اس نے ولادت عیسی(ع) اور رسول اللہ کی ولادت، بعثت، وفات اسی طرح خلفائے اسلامی کے آغاز خلافت کے متعلق معلومات علم نجوم کی روشنی میں بھی ذکر کی ہیں۔ یہ معلومات محمد بن موسی خوارزمی (متوفا:۲۳۲ق)اور ماشاءاللّہ یہودی (متوفا:۲۰۰ یا ۲۰۵ ق) جیسے منجمین سے حاصل کی ہیں[12]

دوسرا حصہ

مضامین

تاریخ یعقوبی کی دوسری جلد تاریخ اسلام سے مخصوص ہے۔ اس جلد کے آغاز میں حیات طیبہ پیامبر اسلام تا بعثت، ہجرت، عرب سفرا ، کاتب اور ازواج پیغمبر کا ذکر ہے۔

خلفائے راشدین یعنی ابوبکر، عمر، عثمان، امام علی اور امام حسن(ع) کی خلافتوں کے روز کے واقعات اس کے بعد کی بحث ہے۔

اس نے وفات آئمہ کے مناسبت کے حوالے سے ان کی زندگی کا مختصر خاکہ بھی ذکر کیا ہے لہذا اس نے امام ہادی ؑ کی زندگی تک یہی روش رہی ہے۔ [13] یعقوبی نے امام علی(ع) اور انکے مقام و منزلت اور فضائل اہل بیت کے ضمن میں شخصیت ابوطالب، حدیث غدیر اور حدیث ثقلین، نیز سقیفہ بنی ساعدہ کے واقعے، خلفائے راشدین اور امام حسن(ع)، طلحہ و زبیر اور زبیریان کا بھی تذکرہ کیا ہے۔[14].

پھر اموی اور عباسی خلفا کی حکومتوں کی تاریخ خلافت کے لحاظ سے ۲۵۹ہجری قمری تک کے واقعات ذکر کئے ہیں۔یہ کتاب پانچویں حصہ پر محیط ہے جیسا کہ مسعودی[15] نے اپنی تاریخ کی کتاب (مروج الذہب) میں عباسیوں اور ان سے ملحق سلاطین کی اخبار کے عنوان سے ایک باب کیا اور اس میں متعلقہ عنوان کے متعلق اخبار نقل کی ہیں اور احتمال ہے کہ تاریخ یعقوبی میں اسی کتاب کا یہی حصہ اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے۔ [16]

روش

کتاب کے دوسرے حصے میں روایات کی تحقیق اور ان کے انتخاب کی روش پیش نظر ہے۔ اس نے دیگر اخباری رجحان رکھنے والے مؤرخین جیسے محمد بن جریر طبری کی مانند روایات کی اسناد ذکر نہیں کی ہیں بلکہ اس نے احادیث کے راویوں مؤررخین کی روایات کی چھان بین اور ان کے باہمی تفاوت کے بعد ایک جامع تاریخ کو نقل کیا ہے۔[17] یعقوبی نے اس جلد کے مقدمے میں کتاب کے مصادر کے تعارف کے ضمن میں راویوں، مؤرخین، محدثین کی ایک تعداد اور دوسری تیسری صدی کے مشہور نسب شناسوں کے نام ذکر کئے ہیں۔[18]

خصوصیات

اس کتاب کی بعض خصوصیات جسیے آئمہ کے احوال کا بیان کرنا مؤلف کے شیعہ ہونے کی بیان گر ہیں جبکہ بعض اس سے درست نہیں سمجھتے ہیں۔

بنو عباس کے بارے میں اس کا رویہ معتدل رہا ہے اور اس کی نسبت کچھ ناخوشگوار واقعات جیسے قتل ابن ہُبَیرہ، ابومسلم خراسانی و سقوط برمکیان کے بارے میں اس نے مناسب گفتگو کی ہے یہانتک کہ حضرت امام موسی کاظم(ع) کی وفات کے متعلق وبسیوں کی خبر پر اکتفا کیا ہے۔[19] یعقوبی نے اپنے زمانے کے نزیک کے واقعات کے واقعات کو مختصر نقل کیا ہے، جیسے قیام علی بن محمد صاحب الزنج (متوفا:۲۷۰)۔ لیکن یہ اختصار تاریخ یعقوبی کی اہمیت اور علم تاریخ میں افادیت پر مؤثر نہیں ہے۔[20]

اہمیت کتاب

یہ کتاب بعد میں آنے والے مؤرخین کے مورد توجہ رہی جیسا کہ مسعودی (متوفا ۳۴۵ یا ۳۴۶) اسلام سے پہلے کی تاریخ نویسی میں یعقوبی کی پیروی کی ہےاور بہت سے مطالب اس سے لئے ہیں۔[21] چھٹی صدی ہجری میں مجمل التواریخ و القصص کے پاس تاریخ یعقوبی تھی لہذا اس نے اس تاریخ سے مطالب نقل کئے ہیں۔ [22]

چاپ کتاب

تاریخ یعقوبی پہلی مرتبہ ہوتسما کی کوششوں سے کتابخانہ کمبرج کے نسخہ خطی کے مطابق دو جلدوں میں چھپی نیز اس میں انگریزی مقدمہ بھی مذکور ہے جس میں کتاب و مؤلف کا تعارف اور اس کا تنقیدی جائزہ لیا گیا۔[23] اس کتاب کے ایڈیشن میں دقت اور بارک بینی کی رعایت کے باوجود اس میں بعض اشتباہات موجود رہے۔ [24]

لیکن اسکے بعد پھر تحقیق ہوتسما کی تحقیق کے مطابق یہی کتاب نجف ۱۳۵۸ سے تصحیح کے بعد تین جلدوں میں چھپی۔ [25] ہر چند اس چاپ میں بعض تصرفات بھی واقع ہوئے ہیں۔[26]

در ۱۳۳۹ش / ۱۹۶۰ میں پھر چاپ ہوتسما سے دوبارہ دو جلدوں میں بیروت سے چھپی یہی چاپ آجکل رائج ہے۔

تاریخ یعقوبی کو محمدابراہیم آیتی نے فارسی زبان میں ترجمہ کیا جو تہران سے ۱۳۴۱ش میں چاپ ہوا۔

حوالہ جات

  1. رجوع کنید بہ چاپ بیروت، ج۱، ص۱۷۵ـ۱۷۷.
  2. رجوع کنید بہ ترجمہ آیتی، ج۱، حواشی، جاہای متعدد.
  3. یعقوبی، چاپ ہوتسما، ج۱، مقدمہ، صVIII.
  4. کریستن سن، ص۸۰ ـ۸۲، ۹۱.
  5. ہمان، ص۸۸.
  6. دیکھیں: فہارس تاریخ الیعقوبی، ص۴۵۵ـ۴۷۴، ۴۹۱ـ۴۹۲.
  7. دوری، ص۵۲؛ نیز دیکھیں یعقوبی، چاپ بیروت، ج۲، ص۳۹۷ـ ۳۹۸.
  8. یعقوبی، چاپ ہوتسما، ج۱، مقدمہ، صVIII.
  9. روزنتال، ص۱۵۵.
  10. دیکھیں: چاپ بیروت، ج۱، ص۸۴ ـ ۸۵، ۱۷۶ـ۱۷۷، ۱۸۲ـ۱۸۳.
  11. دیکھیں:چاپ بیروت،، ج۱، ص۱۵۶، ۱۷۴ـ ۱۷۵.
  12. چاپ بیروت،، ج۱، ص۶۸، ج۲، ص۶، ۱۱۳.
  13. یعقوبی، ص۲۵۴.
  14. چاپ بیروت، جاہای متعدد؛ نیز رجوع کنید بہ دوری، ص۵۲ ـ۵۳.
  15. مسعودی، ج۱، ص۱۶.
  16. مقائسہ کریں: حاجی خلیفہ، ج۱، ستون ۲۶، ذیل «اخبار بنی العباس».
  17. یعقوبی، چاپ بیروت، ج۲، ص۵.
  18. رجوع کریں: یعقوبی، چاپ بیروت، ج۲، ص۶.
  19. رجوع کریں: یعقوبی، چاپ بیروت، ج۲، ص۴۱۴.
  20. دوری، ص۵۳.
  21. یعقوبی، چاپ ہوتسما، مقدمہ، صVIII.
  22. رجوع کریں: ص۲۲۹، ۲۷۱، ۲۷۸.
  23. لیدن، ۱۸۸۳.
  24. دیکھیں: چاپ ہوتسما، ج۲، ص۴۳ـ۴۴.
  25. بطور نمونہ دیکھیں: ج۲، ص۳۲: دربارہ‌شان نزول آیہ «الیوم اکملت لکم دینکم».
  26. رجوع کریں: ترجمہ آیتی، مقدمہ، صسی وشش ـ سی وہفت.


مآخذ

  • حاجی خلیفہ، کشف الظنون.
  • دوری، عبدالعزیز، بحث فی نشأہ علم التّاریخ عندالعرب، بیروت، بی‌نا، ۱۹۸۳م.
  • روزنتال، فرانتس، تاریخِ تاریخ‌نگاری در اسلام، ترجمہ اسداللّہ آزاد، مشہد، بی‌نا، ۱۳۶۵ش.
  • فہارس تاریخ الیعقوبی، قم، مرکز البحوث الکمبیوتریہ للعلوم الاسلامیہ، ۱۳۷۶ش.
  • آرتور امانوئل کریستن سن، ایران در زمان ساسانیان، ترجمہ رشید یاسمی، تہران، بی‌نا، ۱۳۵۱ش.
  • مجمل التواریخ و القصص، چاپ محمدتقی بہار، تہران، ۱۳۱۸ش.
  • مسعودی، مروج الذہب، بیروت، بی‌نا، بی‌تا.
  • یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ الیعقوبی، چاپ ہوتسما، لیدن ۱۸۸۳، چاپ افست، ۱۹۶۹م.
  • یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ الیعقوبی، نجف، ۱۳۵۸.
  • یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ الیعقوبی، بیروت، بی‌تا.
  • یعقوبی، احمد بن اسحاق، ترجمہ محمدابراہیم آیتی، تہران، ۱۳۶۲ش.

پیوند بہ بیرون