مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:غیبی امداد

ویکی شیعہ سے

غیبی امداد سے مراد خدا کی وہ خاص مدد اور نصرت ہے جو مخصوص حالات اور طریقے سے بندوں تک پہنچتی ہے۔ غیبی امداد حاصل کرنے کے لئے ایمان، توکل، پرہیزگاری، دین خدا کی نصرت، جہاد، بردباری، اخلاص اور مادی اسباب سے ناامیدی جیسے شرائط ضروری قرار دئے گئے ہیں۔ قرآن کریم میں غیبی امداد کو اللہ کی کی ایک اہم سنت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ دنیوی نعمتوں میں اضافہ، صالحین کو حکومت دینا، ہدایت بخشنا، فرشتوں کے ذریعے مدد کرنا غیبی امداد کی قرآنی مثالیں ہیں۔

امام خمینی قرآنی آیات کی روشنی میں نصرت الہی اور غیبی امداد کے حتمی ہونے پر یقین رکھتے تھے۔ آپ اسلامی انقلاب کی کامیابی کو الہی غیبی تائیدات کا نتیجہ سمجھتے تھے۔ امام خمینی کے نزدیک اسلامی انقلاب اور عوام کی جدوجہد ایک الہی تحفہ اور غیبی امداد تھی جو اللہ کی طرف سے ایران کے عوام کو عطا ہوئی۔ امام خمینی طبس کے واقعے میں امریکہ کی ناکامی کو بھی ایک غیبی امداد مانتے تھے۔

تعارف

غیبی امداد سے مراد وہ مخصوص مدد اور نصرت ہے جو غیب سے بھیجی جاتی ہے۔ [1] اس لفظ کے لغوی معنی کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ کائنات اور اس کا نظام، حیات، توانائی اور کائنات میں موجود تمام نعمتوں کو عالم غیب سے ماخوذ اور غیبی امداد کی مثالیں شمار کی جا سکتی ہیں؛ لیکن اصطلاح میں یہ لفظ ان مخصوص امدادوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو زندگی کے مختلف مراحل میں خاص حالات اور مناسب ماحول کے تحت انسان کے لئے فراہم ہوتی ہے۔ [2] یہ الہی سنت کائنات میں موجود مخفی علل و اسباب کے مطابق اور حالات و مواقع کے تناسب سے نازل ہوتی ہے۔ [3] غیبی امدادیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اگر انسان عام الہی امداد کا صحیح استعمال کرے اور اپنے اندر معنوی صلاحیتوں کو مضبوط کرے تو علت و معلول کا نظام بھی اس کی حمایت کے لئے تیار ہوتا ہے اور اسے اپنی مخصوص نصرت سے نوازتا ہے۔ [4]

غیبی امداد کبھی کامیابی کے حالات فراہم کرنے کی صورت میں ہوتی ہے اور کبھی الہامات، ہدایات، بصیرتوں اور روشن خیالی کی صورت میں۔ [5] الہی امداد حاصل کرنے کے لئے ایمان، توکل، پرہیزگاری، دین خدا کی مدد، جہاد، بردباری، اخلاص اور مادی اسباب سے چشم پوشی جیسے شرائط کو لازمی قرار دئے گئے ہیں۔ [6] کہا گیا ہے کہ اگر انسان کی زندگی حق طلبی اور اخلاص کے راستے پر گامزن ہو تو پوشیدہ اور مخفی راستوں سے اس کی غیبی مدد کی جاتی ہے۔ انسان کمزوروں کی مدد یا والدین کے ساتھ احسان جیسے خدمت خلق کا راستہ اختیار کر کے کم و بیش خدا کی عنایت کے آثار محسوس کر سکتا ہے۔[7] غیبی امداد علمی مسائل کے ادراک، حقیقت کی پہچان اور عقیدے کی پاکیزگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ [8] شہید مطہری کا ماننا ہے کہ زندگی کے مختلف مراحل میں انسان کو طرح طرح کی غیبی امدادیں میسر ہوتی ہیں؛ جیسے دل اور ارادے کا مضبوط ہونا، دنیوی امور کے لئے مادی علل و اسباب کا میسر آنا، ہدایت اور بصیرت، علمی افکار کا الہام ہونا۔ اس وجہ سے شہید مطہری کہتے ہیں کہ انسان اپنے حال پر نہیں چھوڑا گیا ہے بلکہ پروردگار کا ہاتھ اور عنایت، خاص حالات میں اس کی مدد کرتی ہے اور اسے گمراہی، کمزوری اور بے بسی سے نجات دلاتی ہے۔ [9]

مصادیق

قرآن کریم میں غیبی امداد کو ایک اہم الہی سنت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ [10] اگرچہ کسی آیت میں صراحت کے ساتھ "غیبی امداد" کا ذکر نہیں ہے، لیکن متعدد آیات غیبی امداد کی طرف اشارہ کرتی ہیں؛ جیسے "غیبی لشکر بھیجنا"، "فرشتوں کے ذریعے مدد کرنا"، "مومنوں کے دلوں میں اطمینان پیدا کرنا"، "دشمنوں کے دلوں میں خوف ڈالنا"، "تباہ کن طوفان اور آندھیوں کو بھیجنا"، "دشمن کے لشکر کو قلیل دکھانا"، "پرندوں کے لشکر بھیجنا" اور "دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانا"۔ [11] نیز مومنین کی حفاظت و صیانت، دنیوی نعمتوں میں اضافہ، صالحین کو حکومت دینا اور ہدایت بخشنا اور قلبی سکون بھی غیبی امدادوں کی مثالیں ہیں۔ [12]

صدر اسلام کی جنگوں میں خدا کی طرف سے رسول اکرمؐ اور مومنین کی مدد اور نصرت "غیبی امداد" کی اہم مثالوں میں سے ہے؛ یہاں تک کہ قرآن کی چالیس آیات میں اس کا تذکرہ آیا ہے۔[13] رسول اکرمؐ کی تأسیس کردہ اسلامی حکومت کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں ان جنگوں کا اہم کردار رہا ہے۔ ان میں سب سے حیرت انگیز "غیبی امداد"، ان جنگوں میں فرشتوں کا نازل ہونا ہے۔ [14]

امام خمینی کی نظر میں غیبی امدادیں

امام خمینی کی سیرت اور اقوال پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ آپ قرآنی آیات کی روشنی میں نصرت الہی اور غیبی امداد کے حتمی طور پر محقق ہونے پر یقین رکھتے تھے۔ امام خمینی ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کو الہی غیبی تائیدات کا نتیجہ سمجھتے تھے۔ آپ کا ماننا تھا کہ یہ خدا ہی تھا جس نے ایران کے عوام کو اسلام اور علماء کے خلاف ہونے والے وسیع پروپیگنڈے کے باوجود خاص طور پر گزشتہ سو سال میں اور بے حساب تفرقہ انگیزیوں اور اسلام اور قوم و ملت کے خلاف ہونے والی نشستوں کے باوجود ایک مستبد حکومت پر فتح عطا کی۔ ان کے نزدیک اسلامی انقلاب کی کامیابی، عوام میں ہم آہنگی اور اتحاد ایک الہی تحفہ اور غیبی ہدیہ تھا جو خدا کی طرف سے ایران کے عوام کو عطا ہوا۔ [15]

ان کا عقیدہ تھا کہ انقلاب کے دوران خدا نے ایک غیبی رکاوٹ کے ذریعے دشمن کو عوامی قتل عام سے باز رکھا اور ان کے دلوں میں ایسا خوف پیدا کر دیا تھا کہ ان میں عوام کے ساتھ مقابلہ کرنے کی جرأت ختم ہو گئی تھی۔[16] امام خمینی انقلابی جدوجہد کے دوران غیبی امداد کی بات کرتے تھے جس کی وجہ سے عوام کو کامیابی نصیب ہوئی اور یہی چیزیں عوام کو انقلاب کی کامیابی کا یقین دلاتی تھیں۔[17]

امام خمینی سورہ بقرہ کی آیت نمبر 249 [18] سے الہام لیتے ہوئے اسلامی انقلاب کی کامیابی میں غیبی امداد کے کردار اور ہاتھ خالی ہونے کے باوجود کامیابی ملنے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ انقلابی جد و جہد کی ابتداء سے آخر تک، بہت سارے معجزات اور غبیب امداد ظاہر ہوئی ہے۔ ان کے نزدیک شاہی حکومت جسے عالمی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل تھی، کے خلاف اسلامی انقلابی تحریک اور آٹھ سالہ ایران عراق جنگ کے دوران جنگی محاذوں پر الہی اور غیبی امداد کی وجہ سے ایرانی عوام کامیابی حاصل کر سکیں۔[19] امام خمینی نے دفاع مقدس کے دوران ہمیشہ الہی نصرت اور غیبی امداد کا ذکر کیا اور محاذ پر مجاہدین کی کامیابیوں، جیسے خرمشہر کی آزادی کو خدا کی نصرت اور غیبی امداد کی مثالیں قرار دیا۔ [20]

اسی طرح امام خمینی طبس کے واقعے میں امریکہ کی ناکامی کو بھی غیبی امداد سمجھتے تھے۔ وہ ریت اور ہواؤں کو جو ہیلی کاپٹروں کے گرنے کا سبب بنیں، خدا کے مامور قرار دیتے تھے اور اس بات کی طرف توجہ دلاتے تھے کہ جو لوگ معنویات کی طرف توجہ نہیں دیتے، وہ اس غیب پر ایمان کیوں نہیں لاتے۔ [21]

حوالہ جات

  1. ناصحی، غیبی امداد قرآن کی رو سے، ص17؛ ابراہیمیان، و دیگران، «قرآنی آیات کی روشنی میں مؤمنین پر غیبی امداد نازل ہونے کے طریقے»، ص159۔
  2. ناصحی، غیبی امداد قرآن کی رو سے، ص17۔
  3. سید حسین، ابراہیمیان؛ ربیعی، زہرہ؛ بسمل، محبوبہ، «قرآنی آیات کی روشنی میں مؤمنین پر غیبی امداد نازل ہونے کے طریقے»، مطالعات تفسیری، شمارہ24، زمستان 1394شمسی، ص159۔
  4. ابراہیمیان، و دیگران، «قرآنی آیات کی روشنی میں مؤمنین پر غیبی امداد نازل ہونے کے طریقے»، ص157۔
  5. مطہری، انسانی زندگی میں غیبی امدادیں، ص76۔
  6. ناصحی، غیبی امداد قرآن کی رو سے، ص104 تا ص113۔
  7. ناصحی، غیبی امداد قرآن کی رو سے، ص103۔
  8. محمدی ری‌شہری، دانشنامہ عقايد اسلامی، ج1، ص98۔
  9. مطہری، انسانی زندگی میں غیبی امدادیں، ص89۔
  10. ابراہیمیان، و دیگران، «قرآنی آیات کی روشنی میں مؤمنین پر غیبی امداد نازل ہونے کے طریقے»، ص157۔
  11. ناصحی، غیبی امداد قرآن کی رو سے، ص18؛ ابراہیمیان، و دیگران، «قرآنی آیات کی روشنی میں مؤمنین پر غیبی امداد نازل ہونے کے طریقے»، ص157۔
  12. ابراہیمیان، و دیگران، «قرآنی آیات کی روشنی میں مؤمنین پر غیبی امداد نازل ہونے کے طریقے»، ص157۔
  13. ناصحی، غیبی امداد قرآن کی رو سے، ص19۔
  14. ناصحی، غیبی امداد قرآن کی رو سے، ص19؛ سبحانى، منشور جاويد، ج3، ص512۔
  15. خمینی، صحیفہ امام، ج21، ص 401–402۔
  16. خمینی، صحیفہ امام ج. 11، ص. 349۔
  17. خمینی، صحیفہ امام؛ ج. 6، ص. 489–490۔
  18. "کتنے ہی چھوٹے گروہ ہیں جنہوں نے خدا کے حکم سے بڑے گروہ پر فتح پائی۔"
  19. صحیفہ امام، ج. 16، ص. 275۔
  20. «آٹھ سالہ دفاع مقدس میں غیبی امداد سے متعلق امام خمینی کی بشارت»، خبرگزاری رسا۔
  21. خمینی، صحیفہ امام، ج12.، ص380۔

مآخذ

  • سید حسین، ابراہیمیان؛ ربیعی، زہرہ؛ بسمل، محبوبہ، «قرآنی آیات کی روشنی میں مؤمنین پر غیبی امداد نازل ہونے کے طریقے»، مطالعات تفسیری، شمارہ24، زمستان 1394ہجری شمسی۔
  • سید روح‌اللہ، خمینی، صحیفہ امام، تہران، موسسہ تنظيم و نشر آثار امام خمينى، 1389ہجری شمسی۔
  • جعفر، سبحانى، منشور جاويد، قم، مؤسسہ امام صادق(ع) قم، بی‌تا۔
  • محمد، محمدی ری‌شہری، دانشنامہ عقايد اسلامی، قم، مؤسسہ علمی فرہنگی دار الحديث، بی‌تا۔
  • «آٹھ سالہ دفاع مقدس میں غیبی امداد سے متعلق امام خمینی کی بشارت»، رسا نیوز ایجنسی، انتشار: 24 مئی 2022ء،‌ تاریخ اخذ:14 اکتوبر 2025ء۔
  • مرتضی، مطہری، انسانی زندگی میں غیبی امدادیں، تہران، صدرا، 1402ہجری شمسی۔
  • محمدحسن، ناصحی، غیبی امداد قرآن کی رو سے، قم، مؤسسہ بوستان کتاب، 1387ہجری شمسی۔