مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:سورہ محمد آیت نمبر 35

ویکی شیعہ سے
سورہ محمد آیت نمبر 35
آیت کی خصوصیات
سورہمحمد
آیت نمبر35
پارہپہلا
محل نزولمدینہ
موضوعجنگ میں سستی دکھانے کی ممانعت


سورہ محمد آیت 35 مسلمانوں کو مشرکین کے ساتھ جنگ میں سستی و کمزوری دکھانے نیز جب وہ الٰہی برتری کی حالت اور نصرت سے ہمکنار ہوں تو مشرکین کے ساتھ صلح کی پیشکش کرنے سے منع کرتی ہے۔[1] تفسیر المیزان کے مصنف علامہ طباطبائی کے مطابق یہ آیت سورہ آل عمران کی آیت نمبر 139 کی طرح مؤمنین کو خدا اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کی صورت میں فتح و نصرت کا وعدہ دیتی ہے۔[2] ایک اور تفسیر میں سید علی خامنہ‌ ای کا کہنا ہے کہ یہ آیت دراصل جہاد میں کمزوری و سستی سے منع کرتی ہے؛ کیونکہ ایسی حالت مسلمانوں کو کمزوری و زبوں حالی کی حالت میں صلح کی درخواست کرنے پر مجبور کر دے گی۔ نتیجتاً، یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ صلح کی وہ درخواست جو کمزوری و سستی سے پیدا ہو ناقابلِ اعتبار ہے۔ سید علی خامنہ ای اس معنی کو آیت میں موجود جملہ «وَ أَنتُمُ الأَعلَونَ» (اور تم ہی بالاتر ہو) کے ساتھ ہم آہنگ سمجھتے ہیں جو مسلمانوں کی برتری ظاہر کرتی ہے۔[3]

فَلَا تَهِنُوا وَتَدْعُوا إِلَى السَّلْمِ وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ وَاللَّهُ مَعَكُمْ وَلَن يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ
"پس تم کمزور نہ پڑو (اور ہمت نہ ہارو) اور (دشمن کو) صلح کی دعوت نہ دو حالانکہ تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمہارے اعمال (کے ثوا ب) میں ہرگز کمی نہیں کرے گا۔"



سورہ محمد آیت نمبر 35


بعض علما نے اس آیت کو سورہ انفال کی آیت 61 کے مقابلے میں رکھ کر بحث کی ہے کہ کون سی آیت دوسری کی ناسخ ہے۔[4] لیکن سید محمد تقی مدرسی اور ناصر مکارم شیرازی نے اس نظریے کو رد کرتے ہوئے خیال ظاہر کیا ہے کہ سورہ انفال کی آیت نمبر 61 کمزوری کی حالت میں صلح قبول کرنے کے بارے میں ہے، جبکہ سورہ محمد کی آیت نمبر 35 مسلمانوں کی طرف سے خوف یا کمزوری کی بنا پر صلح کی پیشکش کرنے سے منع کرتی ہے۔[5]

اس آیت کے آخر میں موجود جملہ «وَلَنْ يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ» کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے اعمال کا اجر (ثواب) پوری طرح محفوظ رکھے گا اور اسے ضائع نہیں ہونے دے گا۔[6] سید محمد تقی مدرسی (پیدائش: 1945ء) اس وعدہ کو کافروں کے اعمال کے حبط کے وعید کے مقابلے میں قرار دیتے ہیں،[7] اور تفسیر نمونہ میں اسے خدا کی ہم نشینی اور مؤمنین کے اجر کی مکمل عطا کی طرف کنایہ قرار دی گئی ہے۔[8] بعض دیگر مفسرین نے اس عبارت کے سلسلے میں یہ تفسیر کی ہے کہ خدا مسلمانوں پر ظلم نہیں کرے گا۔[9] اسی تناظر میں امام علیؑ نے جنگ صفین کے دوران اپنے ساتھیوں کو استقامت کی دعوت دیتے ہوئے اس آیت کا ایک حصہ تلاوت کیا تھا۔[10]

شیعہ فقیہ علامہ حلی نے مذکوہ آیت سے استناد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مسلمان جنگ میں برتری رکھتے ہوں اور مشرکین کمزور ہوں تو دشمن کی صلح کی درخواست کو قبول نہیں کرنا چاہیے اور جنگ جاری رکھنی چاہیے؛ یہاں تک کہ وہ یا تو مسلمان ہو جائیں یا جزیہ ادا کریں۔[11] بعض فقہاء کا ماننا ہے کہ مسلمان حالتِ برتری میں دشمنوں کے ساتھ ایک سال سے زائد مدت کی صلح نہیں کر سکتے، اس سلسلے میں فقہاء سورہ محمد کی آیت نمبر 35 کے عام معنی سے استدلال کرتے ہیں۔[12] لیکن سید علی حسینی خامنہ ای نے اس نظریے پر نقد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آیت دشمن کی صلح قبول کرنے سے نہیں روکتی، بلکہ مسلمانوں کو خود صلح کی پیشکش کرنے سے منع کرتی ہے۔[13] نیز بعض فقہاء کا خیال ہے کہ اگر مسلمانوں میں دشمن پر غلبہ پانے کی صلاحیت ہو تو عارضی جنگ بندی جائز نہیں ہے۔[14]

حوالہ جات

  1. شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج9، ص308؛ طباطبایی، المیزان، 1352شمسی، ج18، ص248؛ طبرسی، مجمع‌البیان، 1367شمسی، ج9، ص162؛ شبر، تفسیر شبر، 1425ھ، ص510۔
  2. طباطبایی، المیزان، 1352شمسی، ج18، ص249۔
  3. خامنہ‌ای، قرارداد ترک مخاصمہ و آتش‌بس، 1418ھ، ص108 ـ 109؛ شبر، تفسیر شبر، 1425ھ، ص510۔
  4. قمی، تفسیر قمی، 1363شمسی، ج1، ص279؛ قرطبی، الجامع لاحکام القران، 1364شمسی، ج16، ص256۔
  5. مدرسی، من ہدی القرآن، 1419ھ، ج13، ص273 ـ 274؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1386شمسی، ج21، ص509 ـ 510۔
  6. ملاحظہ کیجیے: طبرسی، مجمع‌البیان، 1367شمسی، ج9، ص162؛ شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج9، ص308۔
  7. مدرسی، من ہدی القرآن، 1419ھ، ج13، ص274۔
  8. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1386شمسی، ج21، ص509۔
  9. شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج9، ص308۔
  10. سید رضی، نہج‌البلاغہ (صبحی صالح)، 1414ھ، خطبہ 67۔
  11. علامہ حلی، تذکرۃ الفقہاء، 1414ھ، ج9، ص353۔
  12. علامہ حلی، منتہی المطلب، 1412ھ، ج15، ص118۔
  13. خامنہ‌ای، قرارداد ترک مخاصمہ و آتش‌بس، 1418ھ ص29۔
  14. نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص312؛ فضل‌اللہ، کتاب الجہاد، 1418ھ، ص351؛ روحانی، فقہ الصادق، 1392شمسی، ج19، ص114-115۔

مآخذ

  • خامنہ‌ای، سید علی، قرارداد ترک مخاصمہ و آتش‌بس، مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامى، قم، پہلی اشاعت، 1418ھ۔
  • روحانی، سید محمدصادق، فقہ الصادق، قم، آیین دانش، 1392ہجری شمسی۔
  • شریف الرضی، محمد بن حسین، نہج البلاغۃ (للصبحی صالح)، قم، نشر ہجرت،‌ پہلی اشاعت، 1414ھ۔
  • شبر، عبداللہ، تفسیر شبر، قم، دار‌الہجرہ، ساتویں اشاعت، 1425ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القران، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، 1352ہجری شمسی۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار‌المعرفہ، 1367ہجری شمسی۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، تذکرۃ الفقہاء، قم، مؤسسہ آل‌البیت(ع)، پہلی اشاعت، 1414ھ۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، منتہی المطلب فی تحقیق المذہب، مشہد، مجمع البحوث الاسلامیہ، پہلی اشاعت، 1412ھ۔
  • فضل‌اللہ، سید محمدحسین، کتاب الجہاد، بیروت، دار الملاک للطباعۃ و النشر و التوزیع، 1418ھ۔
  • قرطبی، محمد بن احمد، الجامع لاحکام القران، تہران، ناصر خسرو، 1364ہجری شمسی۔
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر قمی، قم، دار الکتاب، تیسری اشاعت، 1363ہجری شمسی۔
  • مدرسی، محمدتقی، من ہدی القرآن، تہران، دار محبی‌الحسین، پہلی اشاعت، 1419ھ/1999ء۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1386ہجری شمسی۔
  • نجفی، محمدحسن، جَواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دارُ اِحیاء التُّراثِ العربی، ساتویں اشاعت، 1362ہجری شمسی۔