مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:حروف یرملون

ویکی شیعہ سے

حروف یَرْمَلون علم تجوید میں چھ حروف «یاء»، «راء»، «میم»، «لام»، «واو» اور «نون» کو کہتے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی حرف، نون ساکن یا تنوین کے بعد آجائے تو قاعدہ یرملون جاری ہوتا ہے۔ یعنی تنوین یا نون ساکن پڑھا نہیں جاتا اور حرف یرملون کو تشدید کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔ اس ادغام کی وجہ ان کا قریب المخرج ہونا اور تلفظ میں آسانی بتائی جاتی ہے۔ بعض شیعہ فقہاء نماز میں ادغام یرملون کی رعایت کرنے کو ضروری نہیں سمجھتے؛ جبکہ فقہاء کا ایک گروہ اسے احتیاط واجب قرار دیتے ہیں اور بعض حتیٰ کہ جہالت یا عمداً ترک کرنے کی صورت میں نماز کے باطل ہونے کے قائل ہیں۔

تعریف

حروف یرملون یا قاعدہ یرملون[1] علم تجوید کی اصطلاح ہے اور نون ساکن و تنوین کے احکام میں اس کا ذکر آتا ہے۔[2] اگر نون ساکن یا تنوین کے بعد اگلے لفظ کے شروع میں حروف یرملون (ی، ر، م، ل، و، ن)[3] میں سے کوئی آجائے تو نون ساکن یا تنوین ان حروف میں ادغام ہو جاتا ہے۔[4] یعنی نون ساکن یا تنوین نہیں پڑھی جاتی اور اگلا حرف مشدّد ادا کیا جاتا ہے۔[5] جیسے: مَنْ یقُول، مَنْ رَحِم، مَنْ مَعِی، مِنْ لَدُن، مِنْ وَلَد اور إِنْ نَشَأ۔

کامل اور ناقص ادغام

ادغام یرملون میں کبھی ادغام کامل ہوتا ہے[6] اور حروف بغیر غُنَّہ کے ادا کئے جاتے ہیں۔[7] یہ ادغام صرف دو حروف «راء» اور «لام» کے ساتھ ہوتا ہے کیونکہ ان کا مخرج زیادہ قریب ہے۔[8] جیسے: ہُدی لِلْمُتَّقین کو ہُدَ لِّلْمُتَّقین پڑھا جاتا ہے، یا مِنْ رَسُول کو مِرَّسُول پڑھا جاتا ہے۔ باقی حروف یرملون (ی، ن، م، و)[9] میں ادغام غُنَّہ (ناک سے نکلنے والی آواز) کے ساتھ ہوتا ہے۔[10] اس ادغام کو، مکمل طور پر ادغام نہ ہونے اور پہلے حرف کی بعض صفات باقی رہنے کی وجہ سے، ناقص ادغام کہتے ہیں۔[11] بعض علماء نون ساکن اور تنوین کے ادغام کو تین اقسام میں تقسیم کرتے ہیں: ادغام کامل بغیر غنہ، ادغام کامل غنہ کے ساتھ اور ادغام ناقص غنہ کے ساتھ۔[12] نون ساکن اور تنوین سے متعلق چار احکام درج ذیل دو شعری ابیات میں بیان کیے گئے ہیں:

تنوین و نون ساکنہ، حُکمش بدان ای ہوشیار
کز حکم آن زینت بود اندر کلام کردگار
تنوین اور نون ساکن کا حکم جان لیں اے ہوشیار
کیونکہ یہ خدا کے کلام کو زینت عطا کرتا ہے
در یرملون ادغام کن، در حرف حلق اظہار کن
در نزد (باء) قلب بہ میم، در (مابقی) اخفا بیار [13]
یرملون میں ادغام کریں، حروف حلق کے ساتھ اظہار کریں
باء کے ساتھ میم میں تبدیل کریں اور بقیہ حروف کے ساتھ اخفاء کریں


نماز میں تجوید کا حکم

بعض فقہا نماز میں تجوید کے قواعد مثلاً تنوین اور نون ساکن کے قواعد کا لحاظ رکھنا واجب نہیں سمجھتے،[14] اگرچہ اسے سزاوار،[15] مستحب،[16] یا احتیاط مستحب[17] قرار دیتے ہیں۔

بعض شیعہ فقہا نماز میں ادغام یرملون کی رعایت کرنے کو احتیاط واجب قرار دیتے ہیں[18] اور خاص طور پر «واو» اور «یاء» میں غنہ کے ساتھ ادغام کرنے پر زیادہ تاکید کرتے ہیں،[19] یہاں تک کہ مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے یا عمداً ترک کرنے کی صورت میں نماز کے باطل ہونے کے قائل ہیں۔[20] آیت اللہ مکارم شیرازی کے مطابق نماز میں صرف اس حد تک تجویدی قواعد کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ اس پر صحیح عربی صدق آئے۔[21]

ادغام کی دلیل

نون ساکن اور تنوین کا حروف یرملون میں ادغام ہونے کی وجہ ان کے مخارج کا قریب ہونا بتایا گیا ہے[22] اور یہ ادغام تلفظ میں آسانی کے لئے انجام دیا جاتا ہے۔[23] نون ساکن اور تنوین کا مخرج حروف یرملون میں سے تین حروف «یاء»، «راء» اور «لام» کے ساتھ قریب المخرج ہیں جبکہ دو حروف «م» اور «و» کے ساتھ مخرج کے لحاظ سے تو زیادہ قریب نہیں لیکن اکثر اصلی صفات جیسے جہر میں مشترک ہیں۔[24]

علم تجوید کے ماہرین یہاں ادغام کی شرط یہ بتاتے ہیں کہ نون ساکن اور حروف یرملون دو الگ کلمات میں واقع ہوں۔ لہٰذا اگر نون ساکن اور حروف یرملون ایک ہی لفظ میں واقع ہوں تو ادغام نہیں ہوتا۔ جیسے: صِنْوان، قِنْوان، دُنْیا اور بُنْیان۔[25] اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ اس صورت میں ادغام کرنے سے لفظ کے معنی میں خلل واقع ہوتا ہے۔[26] البتہ بعض کا کہنا ہے کہ صرف ان چار الفاظ میں اظہار واجب ہے۔[27]

قرآن کے رسم الخط میں طرز تحریر

قرآن کے بعض نسخوں میں نون ساکن پر سکون کی علامت کے بغیر اور تنوین کو غیر مساوی طور پر لکھا جاتا ہے، اور چار حروف «راء»، «لام»، «میم» اور «نون» پر تشدید لگائی جاتی ہے تاکہ ادغام کامل کی طرف اشارہ ہو۔ نیز دو حروف «واو» اور «یاء» بغیر تشدید کے لکھے جاتے ہیں تاکہ ادغام ناقص کی طرف اشارہ ہو۔[28]

بعض رسم الخط میں نون ساکن اور تنوین کو حروف یرملون میں ادغام کر کے صرف دوسرا حرف لکھا جاتا ہے۔ جیسے «فَإِنْ لَمْ یسْتَجیبُوا» کو «فَإِ لَّمْ یسْتَجیبُوا» اور «أَن لَّنْ نَجْمَع» کو «أَلَّنْ نَجْمَع» لکھا جاتا ہے۔[29]

حوالہ جات

  1. «نماز میں یرملون کے قواعد کی رعایت»، آفیشل ویب سائٹ دفتر آیت اللہ مکارم شیرازی۔
  2. حبیبی، شہیدی، روانخوانی و تجوید قرآن، 1384شمسی، ص149؛ الصراف، الجدید فی علم التجوید، 1428ھ، ص40؛ بیگلری، سرالبیان فی علم القرآن، 1363شمسی، ص191-195۔
  3. زکریا العبد، المیزان فی احکام تجوید القرآن، 2010م، ص116؛ الصراف، الجدید فی علم التجوید، 1428ھ، ص51۔
  4. ابن جزری، النشر فی القرائات العشر، ج2، ص22-27؛ حبیبی، شہیدی، روانخوانی و تجوید قرآن، 1384شمسی، ص150؛ زکریا العبد، فریال، المیزان فی احکام تجوید القرآن، 2010م، ص116۔
  5. ابن جزری، النشر فی القرائات العشر، انتشارات جعفری، ج1، ص274-275؛ الصراف، الجدید فی علم التجوید، 1428ھ، ص51۔
  6. زکریا العبد، المیزان فی احکام تجوید القرآن، 2010م، ص117۔
  7. حیدری، حسن القرائہ، 1389شمسی، ص53۔
  8. بیگلری، سرالبیان، 1363شمسی، ص193۔
  9. بیگلری، سرالبیان، 1363شمسی، ص193۔
  10. ابن جزری، النشر فی القرائات العشر، بی تا. ج2، ص22-27؛ حبیبی، شہیدی، روانخوانی و تجوید قرآن، 1384شمسی، ص150؛ حیدری، حسن القرائہ، 1389، ص53۔
  11. الصراف، الجدید فی علم التجوید، 1428ھ، ص52۔
  12. زکریا العبد، المیزان فی احکام تجوید القرآن، 2010م، ص118۔
  13. «تنوین و نون ساکن»، سایت احسن الحدیث۔
  14. مثال کے لئے ملاحظہ کریں: نراقی، رسائل و مسائل، 1422ھ، ج1، ص116؛ صافی گلپایگانی، ہدیۃ العباد، 1416ھ، ج1، ص131؛ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1419ھ، ج1، ص656، امام خمینی، تحریر الوسیلہ، تہران، ج1، ص167۔
  15. فیاض کابلی، تعالیق مبسوطۃ علی العروۃ الوثقی، قم، ج3، ص242؛ محدث قمی، الغایۃ القصوی، 1423ھ، ج1، ص414۔
  16. صدر، سیدمحمد، ماوراء فقہ، 1420ھ، ج1، ص298-301، نراقی، رسائل و مسانل، 1422ھ، ج1، ص116۔
  17. «نماز میں تجوید کے احکام کی رعایت»، آفیشل ویب سائٹ دفتر مقام معظم رہبری؛ خویی، منہاج الصالحین، 1410ھ، ج1، ص165۔
  18. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی ، 1419ھ، ج2، ص519؛ اصفہانی، رسالہ صلاتیہ، 1425ھ، ص215۔
  19. انصاری، صراط النجات، 1415ھ، ص128؛ نجفی، مجمع الرسائل، 1415ھ، ص258۔
  20. اصفہانی، رسالہ صلاتیہ، 1425ھ، ص215۔
  21. مکارم شیرازی، استفتاءات جدید، 1427ھ، ج3، ص80۔
  22. حیدری، حسن القرائہ، 1389شمسی، ص53؛ گیلانی شفتی، تحفۃ الأبرار، 1409ھ، ج 2، ص162۔
  23. حبیبی، شہیدی، روانخوانی و تجوید قرآن، 1384شمسی، ص136۔
  24. بیگلری، سرالبیان فی علم القرآن، 1363شمسی، ص193۔
  25. میرتقی، تجوید و آواشناسی، 1389شمسی، ص150؛ حبیبی، شہیدی، روانخوانی و تجوید قرآن، 1384شمسی، ص151؛ الصراف، الجدید فی علم التجوید، 1428ھ، ص53۔
  26. الصراف، الجدید فی علم التجوید، 1428ھ، ص53۔
  27. زکریا العبد، المیزان فی احکام تجوید القرآن، 2010م، ص116۔
  28. حبیبی، شہیدی، روانخوانی و تجوید قرآن، 1384شمسی، ص150
  29. بیگلری، سرالبیان، 1363شمسی، ص194۔

مآخذ

  • «تنوین و نون ساکن»، سایت احسن الحدیث، تاریخ اخذ: 3 جون سنہ 2023ء۔
  • ابن جزری، محمد، النشر فی القرائات العشر، تصحیح علی محمد ضباع، انتشارات جعفری، بی تا۔
  • اصفہانی، محمدتقی، رسالہ صلاتیہ، قم، انتشارات ذوی القربی، 1425ھ۔
  • الصراف، الحاج مصطفی، الجدید فی علم التجوید، کربلا، مکتبۃ العلامہ ابن الفہد الحلی، آٹھویں اشاعت، 1428ھ۔
  • امام خمینی، روح اللہ، تحریر الوسیلہ، تہران، موسسہ مطبوعات دارالعلم، بی تا۔
  • انصاری، مرتضی بن محمد امین، صراط النجاۃ (محشّی)، قم، کنگرہ جہانی بزرگداشت شیخ اعظم انصاری، 1415ھ۔
  • بیگلری، حسن، سرالبیان فی علم القرآن، تہران، انتشارات سنایی، آٹھویں اشاعت، 1363ہجری شمسی۔
  • حبیبی، علی و محمدرضا شہیدی، روانخوانی و تجوید قرآن، تہران، سازمان تبلیغات اسلامی، 1384ہجری شمسی۔
  • حیدری، محمدرضا، حسن القرائہ، قم، نشر نصایح، 1389۔
  • «نماز میں یرملون کے قواعد کی رعایت»، آفیشل ویب سائٹ دفتر آیت اللہ مکارم شیرازی. تاریخ اخذ: 10 مئی سنہ 2023ء۔
  • «نماز میں تجوید کے احکام کی رعایت»، آفیشل ویب سائٹ دفتر مقام معظم رہبری، تاریخ اخذ: 11 مئی سنہ 2023ء۔
  • زکریا العبد، فریال، المیزان فی احکام تجوید القرآن، اسکندریہ، دارالایمان، 2010ء، ص116۔
  • صافی گلپایگانی، لطف اللہ، ہدایۃ العباد، قم، دارالقرآن الکریم، 1416ھ۔
  • صدر، سیدمحمد، ماوراء فقہ، بیروت، دار الاضواء، 1420ھ۔
  • طباطبایی یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی ، قم، مؤسسۃ النشر الإسلامی، 1419ھ۔
  • فیاض کابلی، محمد اسحاق، تعالیق مبسوطۃ علی العروۃ الوثقی، قم، انتشارات محلاتی، بی تا۔
  • گیلانی شفتی، سید محمدباقر، تحفۃ الأبرار الملتقط من آثار الأئمۃ الأطہار، اصفہان، انتشارات کتابخانہ مسجد سید، 1409ھ۔
  • محدث قمی، شیخ عباس، الغایۃ القصوی فی ترجمۃ العروۃ الوثقی، قم، منشورات صبح پیروزی، 1423ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، استفتاءات جدید، قم، انتشارات مدرسہ امام علی بن ابی طالب(ع)، 1427ھ۔
  • میرتقی، سیدحسین، تجوید و آواشناسی، قم، مشہور، 1389ہجری شمسی۔
  • نجفی، محمدحسن، مجمع الرسائل (محشّٰی)، مشہد، مؤسسہ صاحب الزمان(ع)، 1415ھ۔
  • نراقی، احمد بن محمدمہدی، رسائل و مسائل، قم، کنگرہ نراقیین، 1422ھ۔