مندرجات کا رخ کریں

"ابراہیم بن ادہم" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
Waziri (تبادلۂ خیال | شراکتیں)
Waziri (تبادلۂ خیال | شراکتیں)
سطر 49: سطر 49:
مختلف تاریخی منابع میں ابراہیم ادہم کی تاریخ وفات مختلف ہے اس بنا پر [[سنہ ۱۶۰ ہجری قمری|۱۶۰ھ]]<ref>خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷۔</ref> [[سنہ ۱۶۱ ہجری قمری|۱۶۱ھ]]<ref>سلمی، طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵؛ ابن الملقن، طبقات الأولیاء، ۱۴۲۷ق، ص۳۹؛ روزبہان ثانی، تحفۃ أہل العرفان، ۱۳۸۲ش، ص۲۱۔</ref>، [[سنہ ۱۶۲ ہجری قمری|۱۶۲ھ]]<ref>ابن عماد حنبلی، شذرات الذہب، ۱۴۰۶ق، ج۲، ص۲۸۲؛ پیرجمال اردستانی، مرآت الأفراد، ۱۳۷۱ش، ص۳۳۲۔</ref>، یا [[سنہ ۱۶۶ ہجری قمری|۱۶۶ھ]]<ref>خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷۔</ref> کو ان کی تاریخ وفات کے طور پر ذکر کئے ہیں۔  آپ طبیعی موت وفات پا گئے؛<ref> خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷ بہ نقل از تذکرہ الاولیا</ref> اگرچہ بعض مورخین اس بات کے معتقد ہیں کہ آپ رومیوں کے ساتھ لڑی گئی کسی غزوہ یا جنگ میں<ref> روزبہان ثانی، تحفۃ أہل العرفان، ۱۳۸۲ش، ص۲۱۔</ref> [[روم]] کے شہر "سوقین" میں مارا گیا۔<ref>زبیدی، تاج العروس من جواہر القاموس،۱۴۱۴ق، ج۱۳، ص۲۳۲؛ خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷۔</ref> ان کے محل دفن کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے اور [[شام]] کے ساحلی شہر منطقہ [[صور]] ان میں سے ایک ہے۔<ref>ابن الملقن، طبقات الأولیاء، ۱۴۲۷ق، ص۳۹؛ مزید معلومات کے لئے ملاحظہ کریں: زرکلی، الاعلام، ۱۹۸۹م، ج۱، ص۳۱۔</ref>
مختلف تاریخی منابع میں ابراہیم ادہم کی تاریخ وفات مختلف ہے اس بنا پر [[سنہ ۱۶۰ ہجری قمری|۱۶۰ھ]]<ref>خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷۔</ref> [[سنہ ۱۶۱ ہجری قمری|۱۶۱ھ]]<ref>سلمی، طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵؛ ابن الملقن، طبقات الأولیاء، ۱۴۲۷ق، ص۳۹؛ روزبہان ثانی، تحفۃ أہل العرفان، ۱۳۸۲ش، ص۲۱۔</ref>، [[سنہ ۱۶۲ ہجری قمری|۱۶۲ھ]]<ref>ابن عماد حنبلی، شذرات الذہب، ۱۴۰۶ق، ج۲، ص۲۸۲؛ پیرجمال اردستانی، مرآت الأفراد، ۱۳۷۱ش، ص۳۳۲۔</ref>، یا [[سنہ ۱۶۶ ہجری قمری|۱۶۶ھ]]<ref>خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷۔</ref> کو ان کی تاریخ وفات کے طور پر ذکر کئے ہیں۔  آپ طبیعی موت وفات پا گئے؛<ref> خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷ بہ نقل از تذکرہ الاولیا</ref> اگرچہ بعض مورخین اس بات کے معتقد ہیں کہ آپ رومیوں کے ساتھ لڑی گئی کسی غزوہ یا جنگ میں<ref> روزبہان ثانی، تحفۃ أہل العرفان، ۱۳۸۲ش، ص۲۱۔</ref> [[روم]] کے شہر "سوقین" میں مارا گیا۔<ref>زبیدی، تاج العروس من جواہر القاموس،۱۴۱۴ق، ج۱۳، ص۲۳۲؛ خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷۔</ref> ان کے محل دفن کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے اور [[شام]] کے ساحلی شہر منطقہ [[صور]] ان میں سے ایک ہے۔<ref>ابن الملقن، طبقات الأولیاء، ۱۴۲۷ق، ص۳۹؛ مزید معلومات کے لئے ملاحظہ کریں: زرکلی، الاعلام، ۱۹۸۹م، ج۱، ص۳۱۔</ref>
==مقام و منزلت==
==مقام و منزلت==
ابراهیم ادهم در کنار [[حسن بصری]] (درگذشته ۱۱۰ق)، مالک دینار، [[رابعه عدویه]]، [[شقیق بلخی]] و [[معروف کرخی]] (درگذشته ۲۰۰ق) از طبقه نخستین عرفان و تصوف در [[اسلام]] بوده است.<ref>احمدپور، کتاب‌شناخت اخلاق اسلامی، گزارش تحلیلی میراث مکاتب اخلاق اسلامی، ۱۳۸۵ش، ص۳۷.</ref> {{یادداشت|هرچند برخی معتقدند که برخی از اصحاب امام علی(ع) چون سلمان فارسی، اویس قرنی، کمیل بن زیاد، رشید هجری و میثم تمار، جز طبقه اول عارفان هستند که عامه عرفا ایشان را پس از امام علی(ع) در راس سلسله‌های خود قرار داده‌اند؛(طباطبایی، شیعه در اسلام، ۱۳۷۸ش، ص۱۱۰.)}} برخی معتقدند که نام [[صوفی]] در زمان ابراهیم ادهم رواج یافت.<ref>احمدپور، کتاب‌شناخت اخلاق اسلامی، گزارش تحلیلی میراث مکاتب اخلاق اسلامی، ۱۳۸۵ش، ص۳۷</ref>
ابراہیم ادہم [[حسن بصری]] (متوفی ۱۱۰ھ)، مالک دینار، [[رابعہ عدویہ]]، [[شقیق بلخی]] اور [[معروف کرخی]] (متوفی ۲۰۰ھ) کے ساتھ [[اسلام|اسلامی]] عرفان و تصوف کے پہلے طبقے میں شامل ہیں۔<ref>احمدپور، کتاب‌شناخت اخلاق اسلامی، گزارش تحلیلی میراث مکاتب اخلاق اسلامی، ۱۳۸۵ش، ص۳۷۔</ref> {{نوٹ|اگرچہ بعض اس بات کے معتقد ہیں کہ امام علیؑ کے بعض اصحاب جیسے سلمان فارسی، اویس قرنی، کمیل بن زیاد، رشید ہجری اور میثم تمار عرفان و تصوف کے پہلے طبقے میں ہیں اور عرفاء نے امام علیؑ کے بعد ان کی پیروی کی ہیں؛(طباطبایی، شیعہ در اسلام، ۱۳۷۸ش، ص۱۱۰۔)}} بعض معتقد ہیں کہ [[صوفی]] کا نام ہی ابراہیم ادہم کے زمانے سے رائج ہوا۔<ref>احمدپور، کتاب‌شناخت اخلاق اسلامی، گزارش تحلیلی میراث مکاتب اخلاق اسلامی، ۱۳۸۵ش، ص۳۷</ref>


صوفیان بلخ، از جمله ابراهیم ادهم، تحت تأثیر مکتب [[بصره]]، ویژگی‌هایی از قبیل مبالغه در [[زهد]]، [[عبادت]]، خوف و التزام به [[فقیر|فقر]] داشته‌اند.<ref>سلمی، مجموعة آثار أبوعبد الرحمن سلمی، ۱۳۶۹ش، ج۲، ص۳۵۸.</ref> ابراهیم ادهم همچنین تحت‌تأثیر چهره‌های برجسته تصوف از جمله حسن بصری و [[سفیان ثوری]] هم بوده است.<ref>کانون نشر و ترویج فرهنگ اسلامی حسنات اصفهان، سیری در سپهر اخلاق، ۱۳۸۹ش، ج۱، ص۱۰۷.</ref> در عین حال، تصوف [[شام]]، تأثیر بسیاری از ابراهیم ادهم گرفته<ref>کانون نشر و ترویج فرهنگ اسلامی حسنات اصفهان، سیری در سپهر اخلاق، ۱۳۸۹ش، ج۱، ص۱۰۷.</ref> و تحول زهد و عبادت‌ورزی و نیز ایجاد ریاضت‌های صوفیانه، نتیجه تأثیرات او قلمداد شده است.<ref>کانون نشر و ترویج فرهنگ اسلامی حسنات اصفهان، سیری در سپهر اخلاق، ۱۳۸۹ش، ج۱، ص۱۰۷.</ref>
بلخ کے صوفی من جملہ ابراہیم ادہم مکتب [[بصرہ]] سے متأثر تھے اس بنا پر [[زہد]]، [[عبادت]]، خوف اور [[فقیر|فقر]] میں بہت زیادہ شدت اختیار کرتے تھے۔<ref>سلمی، مجموعۃ آثار أبوعبد الرحمن سلمی، ۱۳۶۹ش، ج۲، ص۳۵۸۔</ref> ابراہیم ادہم اسی طرح تصوف و عرفان کے چیدہ اشخاص من جملہ حسن بصری اور [[سفیان ثوری]] سے بھی متأثر تھے۔<ref>کانون نشر و ترویج فرہنگ اسلامی حسنات اصفہان، سیری در سپہر اخلاق، ۱۳۸۹ش، ج۱، ص۱۰۷۔</ref> لیکن [[شام]] کا مکتب تصوف کافی حد تک خود ابراہیم ادہم سے متأثر تھے<ref>کانون نشر و ترویج فرہنگ اسلامی حسنات اصفہان، سیری در سپہر اخلاق، ۱۳۸۹ش، ج۱، ص۱۰۷۔</ref> اور زہد اور عبادت‌ نیز صوفیانہ ریاضتوں میں ابراہیم ادہم سے متأثر تھے۔<ref>کانون نشر و ترویج فرہنگ اسلامی حسنات اصفہان، سیری در سپہر اخلاق، ۱۳۸۹ش، ج۱، ص۱۰۷۔</ref>


ابراهیم ادهم، از جمله [[محدثین]] به شمار آمده<ref>دائره المعارف بزرگ اسلامی، ج۱، ذیل واژه ابراهیم ادهم، ص۴۰۵</ref> و در کتب رجالی اهل سنت، بسیار مدح شده و از اصحاب [[ابوحنیفه]] و [[سفیان ثوری]] دانسته شده است.<ref>شیروانی، ریاض السیاحة، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۱۲.</ref> ابوحنیفه، امام مذهب [[حنفیان|حنفی]] در [[اهل سنت]]<ref>عطار نیشابوری، تذکره الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۸۶.</ref> و [[جنید بغدادی]]، از او با القابی احترام‌آمیز یاد کرده‌اند؛<ref>عطار نیشابوری، تذکره الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۸۵.</ref> به طوری که این القاب در شعر [[عارفان]] نیز بازتاب داشته است.<ref>اسیری لاهیجی، أسرار الشهود فی معرفه الحق المعبود، بی‌تا، ص۱۸۲.</ref> به گفته زین العابدین شیروانی (۱۱۹۴-۱۲۵۳ق)، نویسنده و شاعر صوفی، نامی از ابراهیم ادهم در کتب رجالی متقدم [[شیعه]] ذکر نشده است.<ref>شیروانی، ریاض السیاحه، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۱۱.</ref> سید محسن اعرجی کاظمی (۱۱۳۰-۱۲۲۷ق)، فقیه [[شیعه]]، ابراهیم ادهم را در کنار [[کمیل بن زیاد]]، [[بشر بن حارث مروزی]] و [[بایزید بسطامی]]، از رجال شیعی [[صوفی]] دانسته است.<ref>اعرجی کاظمی، عدة الرجال، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۶۰.</ref>
ابراہیم ادہم من جملہ [[محدثین]] میں بھی شمار ہوتے ہیں<ref>دائرہ المعارف بزرگ اسلامی، ج۱، ذیل واژہ ابراہیم ادہم، ص۴۰۵</ref> اور [[اہل سنت]]  کتب رجال میں ان کی بہت زیادہ مدح کی گئی ہے اور انہیں [[ابوحنیفہ]] اور [[سفیان ثوری]] کے اصحاب میں شمار کرتے ہیں۔<ref>شیروانی، ریاض السیاحۃ، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۱۲۔</ref> مذہب [[حنفی|حنفیہ]] کے امام ابوحنیفہ <ref>عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۸۶۔</ref> اور [[جنید بغدادی]] انہیں نہایت قابل احترام القاب کے ساتھ یاد کرتے ہیں؛<ref>عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۸۵۔</ref> یہاں تک کہ یہ یالقاب عرفانی اشعار میں بھی استعمال ہوئے ہیں۔<ref>اسیری لاہیجی، أسرار الشہود فی معرفہ الحق المعبود، بی‌تا، ص۱۸۲۔</ref> صوفی شاعر اور قلم کار زین العابدین شیروانی (۱۱۹۴-۱۲۵۳ھ) کے مطابق متقدم [[شیعہ]] کتب رجال میں ابراہیم ادہم کا نام ذکر نہیں ہوا ہے۔<ref>شیروانی، ریاض السیاحہ، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۱۱۔</ref> شیعہ فقیہ سید محسن اعرجی کاظمی (۱۱۳۰-۱۲۲۷ھ) ابراہیم ادہم کو [[کمیل بن زیاد]]، [[بشر بن حارث مروزی]] اور [[بایزید بسطامی]] کے ساتھ شیعہ [[صوفی|صوفیوں]] میں سے قرار دیتے ہیں۔<ref>اعرجی کاظمی، عدۃ الرجال، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۶۰۔</ref>


وی سرسلسله برخی از طریقت‌های صوفی دانسته شده است؛<ref>شیروانی، ریاض السیاحه، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۷؛ میرزا شیرازی، مناهج أنوار المعرفة فی شرح مصباح الشریعة، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۶۴۵.</ref> بر این اساس، طریقت [[ادهمیه]]<ref>گولپینارلی، مولانا جلال الدین، ۱۳۶۳ش، ص۲۴۶؛ مشکور، فرهنگ فرق اسلامی، ۱۳۷۲ش، ص۳۰۹.</ref> و [[نقشبندیه]]، خود را به واسطه ابراهیم ادهم متصل به [[امام سجاد علیه‌السلام|امام سجاد(ع)]] می‌دانند.<ref>میرزا شیرازی، مناهج أنوار المعرفة فی شرح مصباح الشریعة، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۶۴۵.</ref> {{یادداشت|برخی نیز معتقدند رشته انتساب ابراهیم ادهم در طریقت از جانب فضیل عیاض و او از جانب عبدالواحد بن زید و او از جانب کمیل بن زیاد و او از امیرالمومنین(ع) است.(شیروانی، ریاض السیاحه، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۳۸.) سلسله چشتیه این سلسله را پذیرفته‌اند؛(شیروانی، ریاض السیاحه، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۴۰.) هرچند برخی معتقدند که ادهمیه و چشتیه به واسطه ابراهیم ادهم به امام باقر(ع) متصل می‌شوند(شیروانی، ریاض السیاحة، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۳۸؛ شیروانی، بستان السیاحه، ۱۳۱۵ش، ص۳۴۷.) و همچنین سلسله حسینیه نیز به واسطه ابراهیم ادهم به امام باقر(ع) می‌رسند.( شیروانی، بستان السیاحه، ۱۳۱۵ش، ص۳۴۶.)}}
آپ کو بعض صوفی طریقت کے سربراہ مانے جاتے ہیں؛<ref>شیروانی، ریاض السیاحہ، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۷؛ میرزا شیرازی، مناہج أنوار المعرفۃ فی شرح مصباح الشریعۃ، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۶۴۵۔</ref> اس بنا پر طریقت [[ادہمیہ]]<ref>گولپینارلی، مولانا جلال الدین، ۱۳۶۳ش، ص۲۴۶؛ مشکور، فرہنگ فرق اسلامی، ۱۳۷۲ش، ص۳۰۹۔</ref> اور [[نقشبندیہ]] خود کو ابراہیم ادہم کے توسط سے [[امام سجاد علیہ‌السلام|امام سجادؑ]] سے متصل قرار دیتے ہیں۔<ref>میرزا شیرازی، مناہج أنوار المعرفۃ فی شرح مصباح الشریعۃ، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۶۴۵۔</ref> {{نوٹ|بعض اس بات کے معتقد ہیں کہ ابراہیم ادہم طریقت میں فضیل عیاض کے توسط سے اور وہ عبدالواحد بن زید کے توسط سے اور وہ کمیل بن زیاد کے توسط سے امیرالمومنینؑ سے متصل ہیں۔(شیروانی، ریاض السیاحہ، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۳۸۔) سلسلہ چشتیہ اس سلسلہ کو مانتے ہیں؛(شیروانی، ریاض السیاحہ، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۴۰۔) اگرچہ بعض معتقد ہیں کہ ادہمیہ اور چشتیہ ابراہیم ادہم کے توسط سے امام باقرؑ سے متصل ہیں(شیروانی، ریاض السیاحۃ، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۳۸؛ شیروانی، بستان السیاحہ، ۱۳۱۵ش، ص۳۴۷۔) اسی طرح سلسلہ حسینیہ بھی ابراہیم ادہم کے توسط سے امام باقرؑ تک پہنچتے ہیں۔( شیروانی، بستان السیاحہ، ۱۳۱۵ش، ص۳۴۶۔)}}


== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==

نسخہ بمطابق 11:23، 12 فروری 2020ء

ابراہیم بن ادہم
ذاتی کوائف
نام:ابراہیم بن ادہم
تاریخ پیدائش:۸۰ یا ۱۰۰ھ
محل زندگی:بلخ، نیشاپور، مکہ اور شام
وفات:۱۶۰ھ
مدفن:شام
صحابی:امام سجادؑ، امام باقرؑ و امام صادقؑ
حدیثی معلومات
نقل حدیث:امام باقرؑ
مشایخ:محمد بن زیاد جمحی، ابی اسحاق، مالک بن دینار، اعمش
شہرت:عرفان و زہد


اِبراہیم بن اَدہَم (۸۰-۱۶۱ھ) تین شیعہ ائمہؑ، یعنی امام سجادؑ، امام باقرؑ اور امام صادقؑ کے ہم عصر عرفاء میں سے تھے۔ ان کا نام متقدم شیعہ کتب رجال میں ذکر نہیں ہوا ہے، لیکن بعض انہیں شیعہ اور صوفی مذہب قرار دیتے ہیں۔

آپ کا تعلق بلخ کے اشراف اور حکمران خاندان سے تھا، لیکن اچانک زہد کی طرف مائل ہو گئے۔ ابراہیم توبہ کرنے کے بعد مکہ کی طرف چلا گیا اور وہاں پہنچ کر سفیان ثوری اور فضیل عیاض جیسے عرفاء کی ہم نشینی اختیار کی۔ کچھ عرصہ بعد شام چلا گیا اور آخر عمر تک وہیں مقیم رہے۔ انہیں بعض صوفی طریقت‌ جیسے طریقت ادہمیہ اور نقشبندیہ کا سربراہ مانا جاتا ہے۔

آپ کی زندگی، نصایح اور کردار و گفتار کا تذکرہ بہت سارے عرفانی آثار میں ملتا ہے۔ شادی اور صاحب فرزند ہونے کو زہد کے ساتھ ناسازگار مانتے تھے۔ شقیق بلخی آپ کے اہم ترین شاگردوں میں جانا گیا ہے۔

زندگی‌نامہ

ابراہیم بن ادہم بن سلیمان بن منصور بلخی دوسری صدی ہجری کے زاہد[1] اور عرفاء میں سے تھے۔[2] آپ کی کنیت ابواسحاق[3] اور آپ کو "العجلی" نیز کہا جاتا تھا۔[4] ابراہیم ادہم ۸۰ھ[5] یا ۱۰۰ھ[6] کو شہر بلخ کہ اس وقت خراسان کا حصہ تھا میں ایک ایرانی [7] یا عرب خاندان بنی‌ تمیم[8] میں پیدا ہوئے۔[9] کتاب تاریخ اسلام کے مولف ذہبی اس بات کے معتقد ہیں کہ ابراہیم ادہم ان کے والدین کے سفر حج کے دوران مکہ میں پیدا ہوئے تھے۔[10]

ابراہیم اور ان کے باپ دادا شہر بلخ کے امراء[11] حاکم[12] اور اشراف میں سے تھے،[13] لیکن تاریخی منابع کے مطابق انہوں نے تاج و تخت اور زرق و برق کی زندگی کو خیرباد کہہ کر زہد اور فقر کی زندگی گزارنی شروع کی اور عرفان و سلوک اور صوفی طرز زندگی اپنائی۔[14]

مختلف کتابوں من جملہ عرفانی آثار میں ان کی زندگی‌نامہ، کردار و گفتار اور نصایح سے متعلق مختلف مطالب ذکر کرتے ہیں۔[15]بعد منابع مانند تذکرۃ الاولیای عطار نیشابوری میں ان کی خضر نبی کے ساتھ ملاقات اور خدا کے اسم اعظم سے ان کی آگاہی کے بارے میں بھی لکھتے ہیں۔[16]

زہد اختیار کرنا

مختلف اسلامی، منابع میں ابراہیم ادہم کی زہد کی طرف مائل ہونے اور ترک دنیا کے مختلف دلائل بیان کئے ہیں؛ من جملہ ان میں شکار کے دوران کسی غیبی آواز کا سننا،[17] یا کسی ہرن کا گویا ہونا،[18] یا کسی مزدور کو دیکھنا جو کم ترین سہولیات زندگی کے ساتھ زندگی سے لطف اندوز ہونا۔[19] چنانچہ خود انہی کی زبانی نقل ہوا ہے کہ زہد کی طرف مائل ہونا اور ترک دنیا کے دلائل کو درج ذیل موراد بیان کرتے ہیں: قبر کی وحشت اور تنہائی سے خوف، قیامت کا طولانی سفر اور زاد راہ کا نہ ہونا، خدا کی جباریت اور کسی غذر کا نہ ہونا۔[20] [یادداشت 1]

ان کے مطابق زہد کی دنیا میں وارد ہونا اور صالحین کے مقام تک پہنچنے کے کچھ شرائط ہیں؛‌ من جملہ یہ کہ:نعمتوں کا دروازہ بند کرنا اور سختیوں کا دروازہ کھولنا، عزت کا دروازہ بند کرنا اور ذلت کا دروازہ کھولنا، آرام و راحت کا دروازہ بند کرنا اور جد و جہد کا دروازہ کھولنا، نیند کا دروازہ بند کرنا اور بیداری کا دروازہ کھولنا، بے نیازی کا دروازہ بند کرنا اور فقر و تندستی کا دروازہ کھولنا، آرزوؤں کا دروازہ بند کرنا اور موت کا دروازہ کھولنا۔[21]

معاصر قلم کار محسن قرائتی ابراہیم ادہم کے مورد نظر زہد کو اسلام کے منافی قرار دیتے ہیں[22] اور کہتے ہیں کہ اس طرح کی زہد سے پیغمبر اسلامؐ نے منع کیا ہے۔[23] ابراہیم ادہم شادی اور صاحب اولاد ہونے کو زہد کے منافی[24] اور گوشہ نشینی کو ضروری سمجھتے ہیں۔[25]

مکہ اور شام کی طرف ہجرت

ابراہیم ادہم توبہ کرنے کے بعد نیشاپور چلا گیا اور 9 سلا تک "البثراء" نامی پہاڑ کے کسی غار میں زندگی بسر کی[26] اور اس کے بعد انہوں نے مکہ ہجرت کی۔ [27] اہل سنت کے مورخ اور محدیث ذہبی کے مطابق انہوں نے ابومسلم خراسانی کے خوف سے بلخ سے باہر جانے کا ارادہ کیا تھا۔[28] ابراہیم ادہم مکہ میں سفیان ثوری اور فضیل بن عیاض جیسے عرفاء سے آشنا ہو گئے[29] اس کے بعد انہوں نے شام کا سفر کیا۔[30] ابراہیم ادہم کو شام میں زہد و عرفان کے رواج کا سبب قرار دیتے ہیں۔[31]

وفات

مختلف تاریخی منابع میں ابراہیم ادہم کی تاریخ وفات مختلف ہے اس بنا پر ۱۶۰ھ[32] ۱۶۱ھ[33]، ۱۶۲ھ[34]، یا ۱۶۶ھ[35] کو ان کی تاریخ وفات کے طور پر ذکر کئے ہیں۔ آپ طبیعی موت وفات پا گئے؛[36] اگرچہ بعض مورخین اس بات کے معتقد ہیں کہ آپ رومیوں کے ساتھ لڑی گئی کسی غزوہ یا جنگ میں[37] روم کے شہر "سوقین" میں مارا گیا۔[38] ان کے محل دفن کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے اور شام کے ساحلی شہر منطقہ صور ان میں سے ایک ہے۔[39]

مقام و منزلت

ابراہیم ادہم حسن بصری (متوفی ۱۱۰ھ)، مالک دینار، رابعہ عدویہ، شقیق بلخی اور معروف کرخی (متوفی ۲۰۰ھ) کے ساتھ اسلامی عرفان و تصوف کے پہلے طبقے میں شامل ہیں۔[40] [یادداشت 2] بعض معتقد ہیں کہ صوفی کا نام ہی ابراہیم ادہم کے زمانے سے رائج ہوا۔[41]

بلخ کے صوفی من جملہ ابراہیم ادہم مکتب بصرہ سے متأثر تھے اس بنا پر زہد، عبادت، خوف اور فقر میں بہت زیادہ شدت اختیار کرتے تھے۔[42] ابراہیم ادہم اسی طرح تصوف و عرفان کے چیدہ اشخاص من جملہ حسن بصری اور سفیان ثوری سے بھی متأثر تھے۔[43] لیکن شام کا مکتب تصوف کافی حد تک خود ابراہیم ادہم سے متأثر تھے[44] اور زہد اور عبادت‌ نیز صوفیانہ ریاضتوں میں ابراہیم ادہم سے متأثر تھے۔[45]

ابراہیم ادہم من جملہ محدثین میں بھی شمار ہوتے ہیں[46] اور اہل سنت کتب رجال میں ان کی بہت زیادہ مدح کی گئی ہے اور انہیں ابوحنیفہ اور سفیان ثوری کے اصحاب میں شمار کرتے ہیں۔[47] مذہب حنفیہ کے امام ابوحنیفہ [48] اور جنید بغدادی انہیں نہایت قابل احترام القاب کے ساتھ یاد کرتے ہیں؛[49] یہاں تک کہ یہ یالقاب عرفانی اشعار میں بھی استعمال ہوئے ہیں۔[50] صوفی شاعر اور قلم کار زین العابدین شیروانی (۱۱۹۴-۱۲۵۳ھ) کے مطابق متقدم شیعہ کتب رجال میں ابراہیم ادہم کا نام ذکر نہیں ہوا ہے۔[51] شیعہ فقیہ سید محسن اعرجی کاظمی (۱۱۳۰-۱۲۲۷ھ) ابراہیم ادہم کو کمیل بن زیاد، بشر بن حارث مروزی اور بایزید بسطامی کے ساتھ شیعہ صوفیوں میں سے قرار دیتے ہیں۔[52]

آپ کو بعض صوفی طریقت کے سربراہ مانے جاتے ہیں؛[53] اس بنا پر طریقت ادہمیہ[54] اور نقشبندیہ خود کو ابراہیم ادہم کے توسط سے امام سجادؑ سے متصل قرار دیتے ہیں۔[55] [یادداشت 3]

حوالہ جات

  1. سہرودی، عوارف المعارف، ۱۳۷۵ش، ص۴۔
  2. طباطبایی، شیعہ در اسلام، ۱۳۷۸ش، ص۱۱۰۔
  3. سلمی، طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵؛ ہجویری، کشف المحجوب، ۱۳۷۵ش، ص۱۲۸۔
  4. ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ۱۴۰۷، ج۱۰، ص۱۳۵۔
  5. فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۱۲۹۔
  6. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ۱۴۰۶ق، ج۷، ص۳۸۷-۳۸۸۔
  7. پیرجمال اردستانی، مرآت الأفراد، ۱۳۷۱ش، ص۳۳۲۔
  8. ذہبی، تاریخ الإسلام، ۱۴۱۳ق، ج۱۰، ص۴۴؛ فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۱۲۹۔
  9. سلمی، طبقات الصوفیہ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵۔
  10. ذہبی، تاریخ الإسلام، ۱۴۱۳ق، ج۱۰، ص۴۵۔
  11. سلمی، طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵۔
  12. مطہری، مجموعہ آثار، ۱۳۷۷ش، ص۴۸۔
  13. ذہبی، تاریخ الإسلام، ۱۴۱۳ق، ج۱۰، ص۴۵؛ خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷۔
  14. سجادی، فرہنگ معارف اسلامی، ۱۳۷۳ش، ج۱، ص۱۲۶؛ مطہری، مجموعہ آثار، ۱۳۷۷ش، ص۲۳۷۔
  15. نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۹۴؛ قشیری، رسالہ قشیریہ، ۱۳۷۴ش، ص۳۴۵، ۴۳۰، ۴۵۵؛ ہجویری، کشف المحجوب، ۱۳۷۵ش، ص۱۲۹؛ مستملی بخاریی، شرح التعرف لمذہب التصوف، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۲۲۶؛ نسفی، راز ربانی اسرار الوحی سبحانی، ۱۳۷۸ش، ص۱۲۷، ۱۶۳؛ سہروردی، عوارف المعارف، ۱۳۷۵ش، ص۳؛ غزالی، ترجمہ احیاء علوم الدین، ۱۳۸۶ش، ج۳، ص۱۸۵؛ سلمی، مجموعۃ آثار السلمی، ۱۳۶۹ش، ج۱، ص۳۶۶؛ غزالی، کیمیای سعادت، ۱۳۸۳ش، ج۱، ص۳۶۳؛ میبدی، کشف الأسرار و عدۃ الأبرار، ۱۳۷۱ش، ج۵، ص۴۵۱؛ سمعانی، روح الأرواح فی شرح أسماء الملک الفتاح، ۱۳۸۴ش، ص۱۶۹، ۵۱۳؛ انصاریان، عرفان اسلامی، ۱۳۸۶ش، ج۲، ص۴۶۲؛ مشکینی، نصایح و سخنان چہاردہ معصوم(ع) و ہزار و یک سخن، ۱۳۸۲ش، ص۱۶۵؛ فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۹۲؛ فیض کاشانی، راہ روشن، ۱۳۷۲ش، ج۵، ص۲۲۰؛ دیلمی، ترجمہ إرشاد القلوب دیلمی، ۱۳۴۹ش، ج۲، ص۲۷۷؛ کراجکی، نزہۃ النواظر در ترجمہ معدن الجواہر، تہران، ص۷۷؛ جامی، نفحات الأنس، ۱۸۵۸م، ص۴
  16. عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۸۸؛ شیروانی، ریاض السیاحہ، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۱۱؛ ابن خمیس الموصلی، مناقب الأبرار و محاسن الأخیار فی طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۷ق، ج۱، ص۵۱۔
  17. ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ۱۴۰۷ق، ج۱۰، ص۱۳۵؛ سلمی، طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵؛ ابن الملقن، طبقات الأولیاء، ۱۴۲۷ق، ص۳۷؛ مناوی، الکواکب الدریۃ فی تراجم السادۃ الصوفیۃ، ۱۹۹۹م، ج۱، ص۱۹۵؛ زقزوق، موسوعۃ التصوف الاسلامی، ۱۴۳۰ق، ص۲۰۲؛ ابن خمیس الموصلی، مناقب الأبرار و محاسن الأخیار فی طبقات الصوفیہ، ۱۴۲۷ق، ج۱، ص۵۱۔
  18. ہجویری، کشف المحجوب، ۱۳۷۵ش، ص۱۲۸۔
  19. مظاہری، اخلاق و جوان، ۱۳۸۷ش، ج۱، ص۱۰۳۔
  20. مشکینی، نصایح و سخنان چہاردہ معصوم(ع) و ہزار و یک سخن، ۱۳۸۲ش، ص۱۶۵۔
  21. سہروردی، عوارف المعارف، ۱۳۷۵ش، ص۳۔
  22. قرائتی، گناہ‌شناسی، ۱۳۸۶ش، ص۱۹۷۔
  23. قرائتی، گناہ‌شناسی، ۱۳۸۶ش، ص۱۹۷۔
  24. عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۹۳؛ کاشانی، مجموعہ رسائل و مصنفات کاشانی، ۱۳۸۰ش، ص۵۴؛ شہید ثانی، منیۃ المرید، ۱۴۰۹ق، ص۲۲۸؛ فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۹۲۔
  25. فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۹۲۔
  26. زبیدی، تاج العروس من جواہر القاموس، ۱۴۱۴ق، ج۶، ص۴۷۔
  27. عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۸۷۔
  28. ذہبی، تاریخ الإسلام، ۱۴۱۳ق، ج۱۰،ص۴۴۔
  29. سلمی، طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵؛ فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۱۲۹۔
  30. ابن الملقن، طبقات الأولیاء، ۱۴۲۷ق، ص۳۷۔
  31. کانون نشر و ترویج فرہنگ اسلامی حسنات اصفہان، سیری در سپہر اخلاق، ۱۳۸۹ش، ۱۳۸۹ش، ج۱، ص۱۰۷۔
  32. خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷۔
  33. سلمی، طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵؛ ابن الملقن، طبقات الأولیاء، ۱۴۲۷ق، ص۳۹؛ روزبہان ثانی، تحفۃ أہل العرفان، ۱۳۸۲ش، ص۲۱۔
  34. ابن عماد حنبلی، شذرات الذہب، ۱۴۰۶ق، ج۲، ص۲۸۲؛ پیرجمال اردستانی، مرآت الأفراد، ۱۳۷۱ش، ص۳۳۲۔
  35. خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷۔
  36. خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷ بہ نقل از تذکرہ الاولیا
  37. روزبہان ثانی، تحفۃ أہل العرفان، ۱۳۸۲ش، ص۲۱۔
  38. زبیدی، تاج العروس من جواہر القاموس،۱۴۱۴ق، ج۱۳، ص۲۳۲؛ خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷۔
  39. ابن الملقن، طبقات الأولیاء، ۱۴۲۷ق، ص۳۹؛ مزید معلومات کے لئے ملاحظہ کریں: زرکلی، الاعلام، ۱۹۸۹م، ج۱، ص۳۱۔
  40. احمدپور، کتاب‌شناخت اخلاق اسلامی، گزارش تحلیلی میراث مکاتب اخلاق اسلامی، ۱۳۸۵ش، ص۳۷۔
  41. احمدپور، کتاب‌شناخت اخلاق اسلامی، گزارش تحلیلی میراث مکاتب اخلاق اسلامی، ۱۳۸۵ش، ص۳۷
  42. سلمی، مجموعۃ آثار أبوعبد الرحمن سلمی، ۱۳۶۹ش، ج۲، ص۳۵۸۔
  43. کانون نشر و ترویج فرہنگ اسلامی حسنات اصفہان، سیری در سپہر اخلاق، ۱۳۸۹ش، ج۱، ص۱۰۷۔
  44. کانون نشر و ترویج فرہنگ اسلامی حسنات اصفہان، سیری در سپہر اخلاق، ۱۳۸۹ش، ج۱، ص۱۰۷۔
  45. کانون نشر و ترویج فرہنگ اسلامی حسنات اصفہان، سیری در سپہر اخلاق، ۱۳۸۹ش، ج۱، ص۱۰۷۔
  46. دائرہ المعارف بزرگ اسلامی، ج۱، ذیل واژہ ابراہیم ادہم، ص۴۰۵
  47. شیروانی، ریاض السیاحۃ، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۱۲۔
  48. عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۸۶۔
  49. عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۸۵۔
  50. اسیری لاہیجی، أسرار الشہود فی معرفہ الحق المعبود، بی‌تا، ص۱۸۲۔
  51. شیروانی، ریاض السیاحہ، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۱۱۔
  52. اعرجی کاظمی، عدۃ الرجال، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۶۰۔
  53. شیروانی، ریاض السیاحہ، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۷؛ میرزا شیرازی، مناہج أنوار المعرفۃ فی شرح مصباح الشریعۃ، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۶۴۵۔
  54. گولپینارلی، مولانا جلال الدین، ۱۳۶۳ش، ص۲۴۶؛ مشکور، فرہنگ فرق اسلامی، ۱۳۷۲ش، ص۳۰۹۔
  55. میرزا شیرازی، مناہج أنوار المعرفۃ فی شرح مصباح الشریعۃ، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۶۴۵۔


خطا در حوالہ: "یادداشت" نام کے حوالے کے لیے ٹیگ <ref> ہیں، لیکن مماثل ٹیگ <references group="یادداشت"/> نہیں ملا یا پھر بند- ٹیگ </ref> ناموجود ہے