این میری شمل

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

}}

این میری شمل
آنه‌ماری شیمل.jpg
کوائف
نام میری شمل
پورا نام این میری شمل
نام مستعار شمل
مذہب عیسائی
شہرت جرمنی
تاریخ پیدائش 1922 ء
جائے پیدائش ارفورٹ جرمنی
سکونت ارفورٹ جرمنی
وفات 2003ء
آرامگاہ جرمن
علمی معلومات
آثار مقدمہ اسلام، عرفانی اسلامی کی جہتیں، عالم اسلام، آثار اسلام
دیگر معلومات
تخصص عرفان ،شرق شناسی
مہارت مستشرق
پیشہ مستشرق، محقق
سماجی خدمات غرب میں دین اسلام کا تعارف
ایوارڈ پیس پرائز آف دی جرمن بک ٹریڈ،ستارہ امتیاز

این میری شمل، (انگریزی میں:Annemarie Schimmel) (1922-2003 ء)، جرمن کی ایک ماہر عرفانیات، ماہر اسلامیات اور مستشرق خاتون تھی جو دین اسلام سے اور عالم مشرق سے ایک خاص دلچسپی رکھتی تھیں ان کی کاوشیں الٰھیات، عرفان اور تمدن اسلامی کے سلسلہ میں مختلف زبانوں میں کتابی صورت میں موجود ہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ قرون وسطی میں مسلمان، اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصویر کو یورپ میں الٹ کے پیش کیا گیا ہے۔ این میری شمل نے سلمان رشدی اور «بدون دخترم ہرگز» نامی کتاب کے خلاف محاذ کھولا اور ان کے خلاف سخت اقدامات کئے۔ ان سب کے باوجود بعض صاحب نظر افراد کا کہناہے کہ این میری شمل اسلام اور مذہب شیعہ کے بارے میں کامل معلومات نہیں رکھتی تھی اور ان کی سوچ اس سلسلہ میں پوری طرح سے حقیقت کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔ ان کی تحریروں کا ایران کی سرزمین پر بہت استقبال ہوا اور ان کے اعزاز میں کئی جلسے رکھے گئے۔

زندگی نامہ اور تحصیل علم

این میری شمل، سات اپریل 1922ء میں جرمن کے ارفوت (Erfurt) نامی شہر میں پیدا ہوئیں۔ ان کا تعلق ایک پروتستانی خاندان سے تھا۔[1] ان کو بچپن سے ہی سر زمین مشرق اور دین اسلام سے خاص دلچسپی تھی انھوں نے عربی زبان سیکھنے کی ابتدا اپنی عمر کے ۱۵ ویں سال سے ہی کردی اور قرآن کا ایک پارہ حفظ بھی کرلیا۔ اور کچھ سالوں کے بعد فارسی اور ترکی زبان پر بھی عبور حاصل کر لیا۔[2]این میری شمل نے اپنی عمر کے ۱۹ ویں سال میں ہی برلین کی یونیورسٹی سے مشرقی زبانوں اور ہنر اسلامی کے رشتہ سے فارغ التحصیل ہوئیں۔ انھوں نے سال 1951 ء کو تاریخ ادیان کے موضوع میں ماربوگ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔[3]

خصوصیات اور تعلیمی ذمہ داریاں

این میری شمل نے 1952 ء کو ٹرکی کا سفر کیا اور وہاں آپ نے انقرہ (Ankara) کی الہیات یونیورسٹی میں تاریخ اور اصول ادیان کے شعبہ کی سربراہی کی اور سال 1965 ء میں ہندوستان کے تمدن اسلامی کی کرسی صدارت ہاروارد یونیورسٹی میں قبول کی۔[4] انھوں نے سالہا سال جرمن، ترکی اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں الہیات اسلامی، تاریخ ادیان اور تصوف کا موضوع پڑھایا۔[5] میری شمل جرمنی، انگلش، ترکی، عربی، فارسی، فرانسوی اور اردو زبانوں سے واقف تھیں ان میں سے کچھ زبانوں میں آپ کی تحریریں بھی موجود ہیں۔ [6] 26 جنوری 2003 ء میں جرمنی کے شہر بُن میں آپ نے انکھیں بند کیں جہاں مختلف شہروں کے تقریبا سات سو مسلمان اور عیسائی لوگوں نے آپ کے جنازے میں شرکت کی اور ان کی موجودگی میں آپ کو سپرد خاک کیا گیا۔[7] ان کے سنگ قبر پر خط نستعلیق میں یہ عبارت کندہ ہے:
النّاس نِیامٌ فَإذا ماتوا انتَبَهوا
ترجمہ: لوگ سوئے ہوئے ہیں جب مریں گے تو بیدار ہو جائیں گے۔ یہ جملہ پیغمبر اسلام[8] اور امام علی ٰعلیہ السلام سے منسوب[9] ہے۔

جرمن کے بُن نامی شہر کے ایک قبرستان میں این میری شمل کی قبر کا کتبہ

نظریات

اسلام اور شیعہ فرقے کی الٹی تصویر:خطائے اسکرپٹ: "Break" کے نام کا ماڈیول موجود نہیں۔ این میری شیمل کا ماننا تھا کہ قرون وسطی کے غرب میں مسلمانوں اور اسلام کی الٹی اور مخدوش تصویر پیش کی گئی ہے۔[10] ان کا کہنا تھا کہ اسلام اور مسلمانوں کے تمدن کے سلسلہ میں میرے اور بہت سارے دوسری شرق سناسوں کے نظریات بڑے متفاوت ہیں۔ کیوں کہ وہ قریہ قریہ گاوں گاوں گئی تھی اور مسلمانوں کے درمیان ان کا اٹھنا بیٹھنا اور رہن سہن رہا اور اس سلسلہ میں انھوں نے بڑی معلومات حاصل کیں۔[11] اسی طرح سے انھوں نے شیعوں کے دفاع میں کہا کہ شیعوں کے خلاف جس طرح سے دعوی کیا جاتا کہ وہ سنت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یعنی ان کے قول اور کردار کو نہیں مانتے بالکل غلط ہے بلکہ وہ بعض جگہوں پہ اہل‌ سنت حضرات سے بڑھ کر سنت پیغمبر کی تصدیق کرتے ہیں۔[12]

دین کے بارے میں تحقیق کا طریقہ:خطائے اسکرپٹ: "Break" کے نام کا ماڈیول موجود نہیں۔ این میری شمل کے مطابق، فینومولوجی، اسلام کو سمجھنے کا سب سے بہترین راستہ ہے اور یہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعہ ادیان کے نکات اشتراک تک پہچا جا سکتا ہے۔[13] ان کی تحریروں سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلامی فرقوں کے سلسلہ میں ہانری کربن جیسے محققین کے نظریات کلاسکل مآخذ اور ان فرقوں کے بڑے بڑے علماء کی کتابوں سے ماخوذ ہیں لیکن این میری شمل نے اس سلسلہ میں اپنے نظریات کی بنیاد لوگوں سے گفتگو اور ان کے درمیان رائج رسم و رواج کے ذاتی مشاہدے پر رکھی۔[14]

سلمان رشدی کے خلاف محاذ آرائی:خطائے اسکرپٹ: "Break" کے نام کا ماڈیول موجود نہیں۔ این میری شمل ان لوگوں میں سے تھیں جنھوں نے سلمان رشدی کے خلاف ارتداد کا فتوی کے دوران اس کی کتاب آیات شیطانی اور خود اس کے خلاف سخت تنقید کی اور انھوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ سلمان رشدی کی کتاب مسلمانوں کے احساسات مجروح ہونے کا سبب ہے ان کا یہ بیان امام خمینی کے فتوی کی مخالفت کرنے والوں کے لئے گراں گذرا اور انھوں نے این میری شمل کی سخت مخالفت کی اور ان کو شدید الزامات کا نشانہ بنایا یہاں تک کہ بعض لوگوں نے ان کو جمہوری اسلامی ایران کا کارندہ اور ان کا عامل قرار دے دیا۔[15] انھوں نے ایک جگہ بیان کیا ہے کہ:

«میں ایسی بیہودہ باتوں اور ان پست نظریات کو مرتے دم تک مورد انتقاد قرار دوں گی اور ان کی مذمت کرتی رہوں گی سلمان رشدی سے تعلق رکھنے والے سارے گروہ چاہے میری کتنی بھی مخالفت کریں اور میرے خلاف چاہے جتنا بھی ماحول بنائیں مگر میں اپنے موقف سے ہٹنے والی نہیں ہوں۔ میں یہ کہتی رہوں گی کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت مغربی سرزمینوں پہ صحیح طریقے سے پیش نہیں کی گئی ہے۔»

ہاں یہ الگ بات ہے کہ انھوں نے سلمان رشدی کے متعلق امام خمینی کے قتل کے فتوی کی حمایت نہیں کی۔[16]

بدون دخترم ہرگز نامی کتاب کے خلاف محاذ آرائی :خطائے اسکرپٹ: "Break" کے نام کا ماڈیول موجود نہیں۔ این میری شمل نے «بدون دخترم ہرگز» نامی کتاب کے خلاف بھی بہت سخت اور واضح تنقیدیں کیں۔ یہ کتاب «بتی محمودی» نامی مصنف کی ہے۔ اس کتاب میں ایرانی تھذیب و تمدن کو سخت اور بے جا تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جو کہ ایران کی ایک بہت ہی خراب تصویر پیش کرتی ہے۔ مغرب اور امریکہ میں اس کتاب کو بڑے پیمانہ پر نشر کیا گیا۔ این یری شمل اس سلسلہ میں کہتی ہیں:

«میں نے مسلسل اس کتاب میں بیان کئے گئے مطالب کے خلاف اپنے نظریات کا اظہار کیا ہے ۔۔۔ میں ادبیات ایران سے متعلق اپنی معلومات اور اس سے متعلق اپ نے عشق و علاقہ کی بنیاد پر بہت سونچ سمجھ کر نہایت واضح طور پر اس کتاب کی مخالفت کرتی ہوں ۔۔۔ بڑے افسوس کے ساتھ یہ بات کہی جا رہی ہے کہ ادھر چند سالوں میں غرب کی شرق اور اسلام کے سلسلہ میں ظالمانہ اور بے رحمانہ تبیلغات اپنے عروج پہ پہچ چکی ہے۔ میں ایک مشرق شناس ہونے کے عنوان سے اپنا فریضہ سمجھتی ہوں کہ میں مشرق کے تمدن اور اس کی تھذیب کا دفاع کروں، اس کی حمایت کروں اور اس سلسلہ میں حق کی طرفداری کروں »[17]

اسلامی دعائیں:خطائے اسکرپٹ: "Break" کے نام کا ماڈیول موجود نہیں۔ این میری شمل نے اپنے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ وہ اسلامی ادعیہ یعنی اسلامی دعاوں کو ترجموں کی احتیاج کے بغیر پڑھتی ہیں اور انھوں نے صحیفہ سجادیہ کی بعض دعاوں کا جاپانی زبان میں ترجمہ بھی کیا ہے اور اس کو چھپوایا بھی ہے۔ انھوں نے صحیفہ سجادیہ کی دعاوں کا ایک متعصب اور کیتھولک شخص پر اثر انداز ہونے کا ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے کہا کہ صحیفہ سجادیہ کی دعائیں مغرب زمین لوگوں کے لئے بڑی کارساز ہیں۔[18]

پسندیدہ موضوعات اور متاثر کرنے والی شخصیات:خطائے اسکرپٹ: "Break" کے نام کا ماڈیول موجود نہیں۔ این میری شمل بچپن سے ہی عرفان و تصوف کی طرف رجحان رکھتی تھیں۔ اسی لئے یہ موضوع ان کی تحقیقات کا بنیادی ترین موضوع قرار پایا۔ یہاں تک کہ میری شمل نے ایک جگہ اعتراف کیا کہ انھوں نے اپنی پوری زندگی تصوف کے لئے وقف کر دی ہے۔[19] علامہ اقبال اور مولوی جیسی دو شخصیتیں میری شمل کے لئے بڑی متاثر کن شخصیت ثابت ہوئیں۔ انھوں نے جوانی میں ہی ان دونوں شخصتیوں کو پڑھنا شروع کردیا تھا اور آج ان دونوں شخصیتوں کے سلسلہ میں ان کی متعدد تصانیف موجود ہیں اس کے علاوہ ان کی دوسری بہت سی کتابوں میں بھی جا بجا مناسبت سے ان دونوں شخصیتوں کے نظریات دیکھنے کو ملتے ہیں۔[20]

شیعوں کے بارے میں این میری شمل کے نظریات پر تنقید

این میری شمل اپنی کتاب «مقدمہ‌ای بر معرفی اسلام» میں ـ‌ جو ایران میں اسلام اور این میری شمل کے نظریات کے عنوان سے زینت اشاعت قرار پائی، اسلامی تاریخ اور اس کی تعلیمات کا خلاصہ بیان کرتی ہیں اور اس کے ایک حصّہ میں مذھب تشیع کے عقائد اور اس کے فرقے کی تاریخ انشعاب پر اظہار نظر کرتی ہیں جس میں بہت سی باتیں شیعوں کے عمومی عقائد کے برخلاف ہیں وہ شیعوں کے کلامی نظریات کی بنیاد امام علی علیہ السلام اور امامان حسنین علیہما السلام کو قرار نہیں دیتیں بلکہ اس کے لئے وہ محمد بن حنفیہ کو شیعوں کے اعتقاد کا محور و مرکز بتاتی ہیں۔[21]

بعض لوگوں کے نظریات کے مطابق، این میری شمل کبھی کبھی فرقوں اور مذاہب اسلامی کے اعتقاد کے سلسلہ میں ایسی باتوں سے استناد کرتی ہیں جو موثق اور معتبر نہیں ہیں انھوں نے صرف اس کو گاہے بگاہے ادھر ادھر کے لوگوں سے سن سنا کے بیان کر دیا ہے۔[22] وہ کبھی کبھی لوگوں کے رسم و رواج کو بھی شریعت اور آداب اسلامی سے خلط کردیتی ہیں مثلا انھوں نے ایک جگہ لکھا ہے کہ عورتوں کا حمل کے دوران زیارت گاہوں پہ جانا منع ہے یا اسی طرح سے ان کا ماننا ہے کہ ذوالجناح جو روز عاشور سجایا جاتا ہے وہ امام مہدی(عج) کے سفید گھوڑے کی شبیہ ہے۔[23]

این میری شمل قرآن میں اساطیر اخروی کو بعض داستانوں کا منبع قرار دینے کے ساتھ ساتھ مہدویت کے سلسلہ میں بھی بعض مسائل کو اسطورہ‌ گرایی کا مصداق بتاتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ نظریات اور اس طرح کی فکریں مسلمانوں کی نفسیات اور ان کی فردی اور سماجی افسانوں کی دین ہے۔[24]

این میری شمل ایران میں

این میری شمل نے انقلاب اسلامی کے قبل و بعد متعدد بار ایران کا سفر کیا۔ ایران میں این میری شمل کے لئے ان کے اعزاز میں دو جلسہ کئے گئے جن میں سے ایک سنہ 1380 شمسی ہجری میں تہران یونیورسٹی میں منعقد ہوا اور دوسرا سنہ 1381 شمسی ہجری میں بین‌ المللی کتاب میلہ تہران کے سولہویں دورے میں منعقد کیا گیا۔[25]

ایوارڈ اور اعزازات

این میری شمل نے اپنی پوری زندگی میں بہت سارے ایوارڈ اور اعزازات حاصل کئے جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں:

  • مختلف یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند حاصل کی مثلا قائد اعظم اسلام‌ آباد، اوپسالای سوئد، سلجوق قونیہ، تہران یونیورسٹی اور الزہراء یونیورسٹی۔
  • پیس پرائز آف دی جرمن بک ٹریڈ
  • صلیب دولتی بزرگ لیاقت
  • حکومت پاکستان نے انھیں 1983 ء میں ہلال امتیاز اور بعد میں ستارہ امتیاز دیا۔[26]

تصنیفات

کتاب: راز اعداد

بعض ناقدین اور تجزیہ نگاروں کو ماننا ہے کہ: این میری شمل نے اپنی تصنیفات کے ذریعہ شرق و غرب کے طالب علموں اور محققین کے درمیان ایک عدل و انصاف کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے ہمشیہ اس بات کی تاکید کی ہے کہ کبھی بغیر تحقیق کے پہلے سے ہی ہوا میں فیصلہ نہیں کرنا چاہئے۔ کتاب، مقالہ، ترجمہ، گزارش، مصاحبہ اور مقدمہ کی صورت میں ان کے سو سے زیادہ نقوش و اثرات موجود ہیں جن کی صحیح صحیح تعداد وہ خود بھی نہیں جانتی تھیں۔[27]

ان اہم ترین کتابوں میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں:

  • تاریخ ادیان‌
  • بال جبرئیل‌۔ اقبال لاہوری‌ کے دینی نظریات کے بارے میں ایک تحقیق۔
  • حلاج‌، عشق الہی‌ کی راہ کا شہید
  • ہندوستان کی اسلامی ادبیات
  • عرفانی اسلامی‌ کی جہتیں
  • میں بادہ اور تو آتش
  • شکوہ شمس‌
  • اسلام ہندوستان اور پاکستان‌ میں
  • راز اعداد
  • محمد اقبال‌، شاعر اور فلسفی
  • عالم اسلام‌
  • آثار اسلام
  • میری روح عورت ہے
  • تصوف‌، عرفان اسلامی‌ کا تعارف
  • جرمنی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ
  • اسلام پر ایک مقدمہ [28]

مزید مطالعہ

  • افق کے اس طرف کی آشنائی (این میری شمل کے اعزازات میں کی گئی تقاریر کا مجموعہ)
  • عرفان و تصوت، تمام تمدنوں کے درمیان کا تعلق (پروفیسر این میری شمل کے اعزاز منعقد جلسوں میں پڑھے گئے مقالوں کا مجموعہ‌)
  • عرفان کے افسانے خوان (پروفیسر این میری شمل کے افکار انکی تصانیف اور ان کے نظریات پر ایک تحقیقی نظر)

حوالہ جات

  1. خندق‌ آبادی، افسانہ‌ خوان عرفان، ۱۳۸۱ شمسی ہجری۔ ص۱۷ و شونبورن، ۱۳۸۵شمسی ہجری، ص۱۳۔
  2. خندق‌ آبادی، افسانہ‌ خوان عرفان، ۱۳۸۱شمسی ہجری، ص۱۸۔
  3. موسوی گیلانی، شرق‌شناسی و مہدویت، ۱۳۸۹ شمسی ہجری، ص۱۹۶۔
  4. خندق‌ آبادی، افسانہ‌ خوان عرفان، ۱۳۸۱ شمسی ہجری، ص۱۹ و ۲۱۔
  5. شو۔نبورن، بازتاب اسلام، ۱۳۸۵ شمسی ہجری، ص۱۴۔
  6. شونبورن، بازتاب اسلام، ۱۳۸۵شمسی ہجری، ص۱۶۰۔
  7. وایدنر، اشتفان، آشنایی از آن سوی افق، ۱۳۸۲ شمسی ہجری، ص۲۳ و ۲۴۔
  8. ورام، مسعود ابن عیسی، تنبیہ الخواطر و نزہہ النواظر، بی‌تا، ج۱، ص۱۵۰۔
  9. شریف الرضی، محمد ابن حسین، خصائص الائمہ، ۱۴۰۶ھ، ص۱۱۲۔
  10. وایدنر، اشتفان، آشنایی از آن سوی افق، ۱۳۸۲ شمسی ہجری، ص۴۱۔
  11. خندق‌ آبادی، افسانہ‌ خوان عرفان، ۱۳۸۱ شمسی ہجری، ص۲۰۔
  12. شیمل، اسلام از دیدگاہ آن ماری شیمل، ۱۳۸۷شمسی ہجری، ص۱۶۱۔
  13. شیمل، تبیین آیات خداوند، ۱۳۷۶، ص۳۱۔
  14. موسوی گیلانی، شرق‌ شناسی و مہدویت، ۱۳۸۹شمسی ہجری، ص۲۰۱ و ۲۰۸۔
  15. شونبورن، بازتاب اسلام، ۱۳۸۵شمسی ہجری، ص۴۱ و ۴۲۔
  16. خندق‌ آبادی، افسانہ‌ خوان عرفان، ۱۳۸۱شمسی ہجری، ص۲۹۔
  17. خندق‌ آبادی، افسانہ‌ خوان عرفان، ۱۳۸۱شمسی ہجری، ص۳۰۔
  18. ماہنامہ پیام زن، ۱۳۸۱ شمسی ہجری، شمارہ ۱۲۱۔
  19. خندق‌ آبادی، افسانہ‌ خوان عرفان، ۱۳۸۱ شمسی ہجری، ص۳۶۔
  20. خندق‌ آبادی، افسانہ‌ خوان عرفان، ۱۳۸۱ شمسی ہجری، ص۳۷–۴۳۔
  21. شیمل، اسلام از دیدگاہ آن ماری شیمل، ۱۳۸۷ شمسی ہجری، ص۱۵۹۔
  22. موسوی گیلانی، شرق‌شناسی و مہدویت، ۱۳۸۹ شمسی ہجری، ص۲۰۱۔
  23. موسوی گیلانی، شرق‌شناسی و مہدویت، ۱۳۸۹شمسی ہجری، ص۲۰۳۔
  24. موسوی گیلانی، شرق‌ شناسی و مہدویت، ۱۳۸۹ شمسی ہجری، ص۲۰۵۔
  25. موسوی گیلانی، شرق‌ شناسی و مہدویت، ۱۳۸۹ شمسی ہجری، ص۱۹۷۔
  26. خندق‌ آبادی، افسانہ‌خوان عرفان، ۱۳۸۱ شمسی ہجری، ص۲۳ و شونبورن، بازتاب اسلام، ۱۳۸۵ شمسی ہجری، ص۳۰۱، ۳۰۲۔
  27. ناقد، خسرو، فرزانہ بانوئی دلباختہ شرق، ۱۳۷۱ شمسی ہجری، ص۱۲۷۔
  28. ناقد، خسرو، کتاب‌ شناسی آثار پروفسور آنہ ماری شیمل، ۱۳۷۱ شمسی ہجری ص۱۳۶۔


مآخذ

  • خندق‌ آبادی، حسین، افسانہ‌ خوان عرفان، تہران، مؤسسہ توسعہ دانش و پژوہش ایران، ۱۳۸۱ شمسی ہجری۔
  • شریف الرضی، محمد بن حسین، خصائص الأئمہ علیہم السلام، مشہد، آستانہ الرضویہ المقدسہ، مجمع البحوث الإسلامیہ، ۱۴۰۶ھ۔
  • شونبورن، فلیسیتاس فون، بازتاب اسلام، ترجمہ بہاءالدین بازرگانی گیلانی، تہران، نشر شور، ۱۳۸۵ شمسی ہجری۔
  • شیمل، آنہ‌ ماری، اسلام از دیدگاہ آن ماری شیمل، ترجمہ عبدالرحیم گواہی، تہران، نشر علم، ۱۳۸۷ شمسی ہجری۔
  • شیمل، آنہ‌ ماری، تبیین آیات خداوند: نگاہی پدیدارشناسانہ بہ اسلام، ترجمہ عبدالرحیم گواہی، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، ۱۳۷۶ شمسی ہجری۔
  • مجموعہ سخنرانان، آشنایی از آن سوی افق، تہران، انتشارات باز، ۱۳۸۲ شمسی ہجری۔
  • موسوی گیلانی، سید رضی، شرق‌ شناسی و مہدویت، تہران، مرکز تخصصی مہدویت، بنیاد فرہنگی حضرت مہدی موعود(عج)، ۱۳۸۹ شمسی ہجری۔
  • ناقد، خسرو، فرزانہ بانوئی دلباختہ شرق، مجلہ کلک، شمارہ ۲۸، ۱۳۷۱ شمسی ہجری۔
  • ناقد، خسرو، کتاب‌ شناسی آثار پروفسور آنہ ماری شیمل، مجلہ کلک، شمارہ ۲۸، ۱۳۷۱ شمسی ہجری۔
  • ورام، مسعود بن عیسی، تنبیہ الخواطر و نزہہ النواظر المعروف بمجموعہ ورّام، قم، مکتبہ الفقیہ، بے تا۔